Baaghi TV

Tag: Maulana Fazal Urrehman

  • اختر مینگل کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اہم امور زیر بحث

    اختر مینگل کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اہم امور زیر بحث

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں ملاقات میں آئندہ انتخابات سمیت دیگر امور پرمشاورت کی گئی ہے اور اس کے علاوہ مزید اہم معاملات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔


    جبکہ بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود اور علامہ راشد سومرو بھی موجود تھے۔ اور اس ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے معاملات پر گفتگو کے علاوہ آئندہ کے انتخابات سمیت دیگر امور پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

  • جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا  مگر  برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لیا ہے، مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کارکنان سے اب بھی کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت سے کام لیں، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سانحہ باجوڑ سے متعلق اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ باجوڑ نے پوری امت کو نڈھال کردیا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا اجتماع تھا ، اس اجتماع سے امن کا پیغام دیا جارہا تھا .

    باجوڑ میں امن کنونشن کے نام سے ورکرز کنونشن منعقد کیا تھا، سفاکوں نے امن کے نام سے ہونے والے مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا
    46 لوگ شہید اور سو سے دوسو کے درمیان زخمی ہیں، باجوڑ سانحہ دل کو دہلا دینے والا کر بناک واقعہ ہے ، یہ حملہ صرف جے یو آئی پر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے. جبکہ جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ امن اور فساد ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے، جے یو آئی کے کارکن امن کی آواز بلند کر ہے تھے اور مفسدین نے فساد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، ہمیں اطمینان ہے کہ ہم امن کے علمبردار ہیں ہم مشیت الہی کے علمبردار ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہماری آواز قرآن اور رسول اللہ کی آواز ہے، اس طرح کے واقعات سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا، ہم پر حملے ہوئے کارکن شہید ہوئے تمام قربانیوں کے باوجود حق کا پرچم بحال رکھا اور کبھی جھکنے نہیں دیا ہے جبکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ایک طرف امن کے علمبردار ہیں اور دوسری طرف فساد کے علمبردار ہیں جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جبکہ حملہ آور جاہل سفاک قاتل اور اسلام کے دشمن ہیں.

    مولانا کا کہنا تھا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ہماری امن کی تحریک جاری رہے گی، ہم امت مسلمہ اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑیں گے اور ان شاء اللہ اس میں سرخرو ہونگے ، تمام شہداء سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں خود مستحق ہوں کہ مجھ سے تعزیت کی جائے، شہید ہونے ولے میرے بھائی ساتھی اور جے یو آئی کے کارکن ہیں، سیاسی محاذ پر جے یو آئی مسلمہ قوت ہے ایسے فساد سے ہمارا راستہ روکا جارہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کے کے مطابق اس طرح کے واقعات سے جےیوآئی کا عوام سے رابطہ توڑا جا رہا ہے، تجربہ ہے کہ یک چند دنوں کی ایک لہر ہے جو اپنا بھیانک اور کالا کردار تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے فارغ ہو جاتا ہے، جے یو آئی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو اپنی جد وجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی ہے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے، ان گھناونے عمل سے نہ پہلے راستہ روک سکے ہو نہ آج روک سکتے ہو.

    جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ چند لوگوں کو حق کس نی دیا ہے سب کو کافر کہنے والے، ان حربوں سے ہمیں اپنی فکر اور نظریے کو نہیں ہٹا سکتے، ہمارا عہد اللہ کے ساتھ ہے اور ہمیں اللہ تعالی اپنے عہد پر پورا اترنے کی توفیق دے، جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کرلیا ہے لیکن اس سے پہلے قبائلی زعماء کا جرگہ بلانے کی تجویز ہے، زعماء اور پختون قیادت بیٹھے اور اس خطے کے بارے میں سوچیں، حال میں خیبر ایجنسی میں دو واقعات ہوئے ،جس میں مسلمانوں کا خون بہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے کورم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے اور اس خطے کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پورا پشتون بیلٹ آج جل رہا ہے بلوچ بیلٹ جل رہا ہے کراچی تک فسادات کی لہر تھم نہیں رہی

    مولانا نے کہا کہ ملک کو کوئے مستحکم کرنا ہے، کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی صاحب کو تھانے میں لے آئی اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی ؟ یہی ان کی صلاحیتیں ہیں، چھبیس ادارے ہیں انٹیلیجنس کے وہ کہاں غائب ہیں، اتنا بڑا انٹیلیجنس فیلئر بے گناہوں کو تنگ کرکے اپنی کاروائی ڈالتے ہیں کاغذی کروائی بھرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کیا اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں یا صرف مجھ سے ٹیکس وصول کریں گے اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کرے گی، مجھے شکایت ہے مجھے کرب ہے میں نے ریاست کو بچانے کے لئے قربانیاں دی ہیں میں نے اس ریاست کے بقاء اور استحکام کے لئے جد وجہد کی ہے ، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کرسکتی ہے ۔پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے جو ریاست جی حفاظت کے ذمہ دار اور مسؤل ہیں اسی کے لئے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کہاں ہیں آج ؟ کب وہ ہمارے شکوں کا ازالہ کریں گے کب وہ ہمارے زخموں کا مرہم بنیں گے کب وہ ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گ جبکہ ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے تمام مکاتب فکر کو بیٹھنا ہے ان شاء اللہ ہم سب کو بلائیں گے پی ڈی ایک کو بھی بلانا پڑے گا سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ عنقریب اس حوالے سے ہمہ جہت رابطے کرونگا ،ذمہ داروں کے ساتھ گفتگو بھی کرونگا، ساری صورتحال سامنے رکھونگا کہ ہم سالہا سال سے جس کرب میں ہیں اور جس کرب کا اظہار لر رہے ہیں، کرب کا اظہار جرم ہوجاتا ہے لیکن ہمیں کرب میں مبتلا کرنے والے دندناتے پھریں، ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے، ہم بری طرح دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہونا چاہیے اس پر تجارت جی اجازت نہیں دی جا سکتی، جرم کا خاتمہ چاہیے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود بہت بڑا جرم ہے

  • قران کی بے حرمتی کرنے والے نے سرخ لکیر کو کراس کیا. مولانا فضل الرحمان

    قران کی بے حرمتی کرنے والے نے سرخ لکیر کو کراس کیا. مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والا دنیا کے جس حصے میں بھی ہو ہم اس توہین کا بدلہ لیں گے کیونکہ اس ملعون نے ہماری سرخ لکیر کو کراس کیا ہے۔ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں امریکا کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم نے نام نہاد دہشتگرد کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال پیدا کیا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا کے چہرے سے لبرازم کا نقاب اتر چکا ہے، تم مسلمان کو برداشت نہیں کرسکتے، تم نے ہماری سرخ لکیر کو کراس کیا ہے، ہم مزید اس قسم کی حرکات کو برداشت نہیں کریں گے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اسلام بھی رہے گا، قرآن بھی رہے گا اور رسول اللہ کا نام بھی رہے گا، ہم نے دنیا کو اس طرف آگے بڑھنے سے روکنا ہے، اگر تم نہ رکے تو دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو ہم بدلہ لیں گے۔

    علاوہ ازیں اس سے قبل سعودی عرب نے سوئیڈن کے حکام کے غیر ذمے دارانہ اقدامات اور کچھ انتہا پسندوں کو قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش اور بے حرمتی کرنے کی بار بار اجازت دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، نیز عراق کی وزارت خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم سے کہا کہ وہ مسلمانوں کی مقدس چیزوں کے خلاف اس طرح کے مکروہ اعمال کی تکرار کو روکنے کے لیے خصوصی ہنگامی اجلاس بلائے۔

    دوسری جانب عراق کی حزب اللہ تحریک نے مسلمانوں کی مقدسات کی ایک بار پھر توہین کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا: قرآن کریم کی توہین غاصب صیہونی حکومت کے سامنے عرب اور اسلامی ممالک سر تسلیم خم ہونے کا نتیجہ ہے۔ لبنان کی تحریک حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے قرآن کریم کی توہین کی تکرار کی مذمت کرتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا: جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں وہ قرآن کریم اور عراقی پرچم کو جلانا ہے جس کا مقصد سویڈن کی حکومت کی حمایت سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کھلے عام مشتعل کرنا ہے، مسلمانوں کو اس شرمناک اقدام کے خلاف احتجاج کا بھرپور حق حاصل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تورات اور انجیل کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے فیصلے سے بے حرمتی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس شیطانیت کے تدارک کی مشترکہ حکمت عملی اور تمام مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے اس فیصلے کو تبدیل کرنے کی مہم چلائیں گے۔ واضح رہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے گستاخ سیلوان مومیکا نے دوبارہ سویڈش پولیس کی حمایت اور اجازت سے قرآن مجید اور عراقی پرچم کی توہین کی۔

  • اب پی ڈی ایم کی ضرورت باقی نہیں رہی. مولانا فضل الرحمان

    اب پی ڈی ایم کی ضرورت باقی نہیں رہی. مولانا فضل الرحمان

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، جب محسوس ہوا کہ دفاعی نظام میں عدم استحکام آرہا ہے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ہاتھ اٹھا لیا گیا، دبئی میں ہونے والے میٹنگ میں پی ڈی ایم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔

    پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سوال پی ڈی ایم میں موجود ہے کہ مسلم لیگ ن نے اب تک اتحاد میں شامل جماعتوں کو دبئی میں ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ دبئی مذاکرات اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے ہوئے اس لیے سب کواعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ پی پی ہمارے اتحاد کا حصہ نہیں اس لیے دبئی مذاکرات کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے۔پی ڈی ایم ایک تحریک تھی اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے، جلد مرکز، سندھ اوربلوچستان میں نگران حکومتیں قائم آ جائیں گی، ملک میں معیشت بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ جبکہ ایک اور سوال کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین پر تنقید کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان امریکا کوگالی بھی دیتاہے اور اس سے یاری بھی گانٹھی جارہی ہے، عجیب بات ہے کہ وہ عالمی برادری جو قران پاک کی توہین کرتی ہے وہی چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت بھی کرتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی سی پیک اورسرمایہ کاری روکتا ہے اسکے قول وفعل میں تضاد ہے، جب محسوس ہوا کہ دفاعی نظام میں عدم استحکام آرہا ہے تو چیئرمین پی ٹی آئی سے ہاتھ اٹھا لیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو را اور موساد کی سپورٹ حاصل تھی اور آج بھی حاصل ہے۔امید ہے کہ قوم عام انتخابات میں اس فتنے سے ملک کومحفوظ رکھے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور

    علاوہ ازیں امیر جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہم 2018 اتخابات کے بعد اسمبلیوں کی رکنیت کاحلف نہیں اٹھاناچاہتے تھے تاہم اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے ایساکرنا پڑا۔ ہمارے لیے بے شمارمشکلات پیداکی گئیں مگر ہم نے تحمل سے کام لیا۔ ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کونہیں ہٹاناچاہتے تھے تاہم اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ فوج ایک ادارہ ہے جس سے اختلاف ممکن نہیں البتہ شخصیات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔