Baaghi TV

Tag: Medicine

  • امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی

    امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی

    روئیٹرز کی خبر کے مطابق امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولی تک رسائی محدود کرنے کا حکم دیتے ہوئے ٹیلی میڈیسن کے نسخے اور ڈاک کے ذریعے دوا کی ترسیل پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے تاہم اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ نیو اورلینز میں قائم پانچویں یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے یہ فیصلہ سنانے سے گریز کیا کہ اس دوا کو مارکیٹ سے مکمل طور پر ہٹا دیا جانا چاہیے.

    عالمی ایجنسی کی خبر میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ جیسا کہ ایک نچلی عدالت نے کیا تھا یعنی اپریل میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل کے دوران جوں کا توں برقرار رکھنے کے ایک ہنگامی حکم نامے کے بعد میفیپرسٹون کی دستیابی میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، جس نے اس گولی کی منظوری دی تھی جبکہ اسقاط حمل کے خلاف کام کرنے والے گروپوں کے وکلاء نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    روئیٹرز کے مطابق تین ججوں پر مشتمل پانچویں سرکٹ پینل اپریل میں ٹیکساس کے شہر امریلو میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج میتھیو کاسمارک کے ایک حکم کا جائزہ لیا گیا تھا اگرچہ یہ ایک ابتدائی فیصلہ تھا جو کیس کے زیر التوا ہونے کے دوران لاگو ہوتا تھا لیکن کاسمارک نے کہا کہ وہ بالآخر اسے مستقل کرنے کا امکان رکھتے ہیں تاہم اس کے بجائے ، پینل کی اکثریت نے ایف ڈی اے کے اقدامات کو واپس لے لیا جس نے حالیہ برسوں میں دوا تک رسائی کو آسان بنا دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    خیال رہے کہ ان میں ڈاک کے ذریعے تقسیم کی اجازت دینا، سات ہفتوں کے بجائے حمل کے 10 ہفتوں تک اس کے استعمال کی منظوری دینا، خوراک کو کم کرنا اور مطلوبہ ڈاکٹر کے دوروں کی تعداد کو تین سے کم کرکے ایک کرنا شامل تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پہلے مکمل پانچویں سرکٹ اور پھر امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی جبکہ یاد رہے کہ گزشتہ سال ایسے تاریخی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا کیونکہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے ملک بھر میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دے دی تھی۔

  • کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق
    بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت
    ویب ڈیسک 16 جون 2020

    لندن: برطانوی ماہرین صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کے علاج میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے.
    برطانوی میڈیا رپورٹ کے
    مطابق ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کرونا علاج کے لیے اب تک کی سب سے اہم دوا دریافت ہوگئی، جس سے تشویشناک مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوگا۔
    ماہرین صحت کے مطابق اس دوا کو وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں پر بھی آزمایا گیا، 12 میں سے 11 مریض صحت یاب ہوئے، علاوہ ازیں مجموعی طور پر ایک تہائی مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیکسا میتھاسون نامی دوا کوئی خاص نہیں بلکہ یہ عام ہے اور ماہرین اسے کرونا مرض کے علاج کے لیے مؤثر بھی قرار دے رہے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دوا کی آزمائش کے لیے 2100 مریضوں کا انتخاب کیا جن میں سے تیس فیصد ایسے تھے جو وینٹی لیٹر پر موجود تھے‘۔

    تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ’ڈیکسا میتھاسون کے استعمال سے مریضوں کی موت کی شرح تیس فیصد کم ہوئی جبکہ جو مریض مصنوعی طریقے سے سانس لے رہے تھے اُن کی موت کی شرح نصف حد تک کم ہوگئی‘۔

    آکسفورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں پہلے اس دوا کی افادیت کا علم ہوتا تو برطانیہ کے پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکتی تھیں‘۔

    ماہرین نے تحقیق کا آغاز مارچ میں کیا اور اس ضمن میں 175 اسپتالوں میں داخل ہونے والے گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

    انہوں نے بتایا کہ ’حیران کن طور پر دوا کی کم خوراک بھی مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کی قیمت بھی مناسب ہے اور یہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہے‘۔

    مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’اب ہم تمام اسپتالوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ شام سے ہی مریضوں پر دوا کا استعمال شروع کردیں‘۔

    دوسری جانب برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی اسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔