Baaghi TV

Tag: MQM

  • پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ،خالد مقبول صدیقی

    پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ،خالد مقبول صدیقی

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان خالد مقبول صدیقی کاکہنا ہے کہ پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ہم مصلحتاً بھی منافقت نہیں کرنا چاہتے-

    باغی ٹی وی: کراچی میں پاکستان ہاؤس میں منعقدہ پروگرام میں شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آپ ارادے کے ساتھ آئے ہیں اور ہم بھی ارادے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں امید ہےکہ آپ سب بھی نئے لوگوں کو تنظیم میں شامل کرائیں گے، ملک کے 4 صوبے ہیں جنکی شناخت لسانی ہے ان صوبوں کی تقسیم انگریز کر کے گیا ہے،آپ کا حکمران چاہتا ہے کہ قوم عقیدے، مذہب اور مسلک کے نام پر تقسیم رہے،تاکہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب 1970ء میں پنجاب کی حمایت سے جیتے تھے اور حکومت بنائی تھی، مگر انہوں نے پنجاب میں کوئی پیکیج نہیں دیا، سندھ میں دیا پنجاب میں شہروں اور دیہات میں پنجابی بولنے والے رہتے ہیں، سندھ میں صورتِ حال مختلف ہے ایم کیو ایم لسانی نہیں قومی فکر رکھتی ہے، پاکستان میں دو قومیں رہتی ہیں ایک ظالم دوسری مظلوم ہے ہم مصلحتاً بھی منافقت نہیں کرنا چاہتے، 1987ء میں بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے 2 شہروں سے حصہ لیا اور کامیاب ہو گئی۔

    ‘یار بلوچ’ مجھے اونچی آواز میں صدر نہ کہو کہیں مولانا نہ سن لیں،آصف زرداری

    یوکرین کا روس پر جوابی حملہ،14 افراد ہلاک

    سال 2023 ایوی ایشن سیکٹر کے لیے تباہ کن رہا

  • بروقت الیکشن کرانا ترجیحات میں شامل. نامزد نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    بروقت الیکشن کرانا ترجیحات میں شامل. نامزد نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    نامزد نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ بروقت الیکشن کرانا اور امن و امان قائم رکھنا ترجیحات میں شامل ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ بروقت الیکشن ہوں گے اور بیورو کریسی یا کوئی اور کام میں رکاوٹ ڈالے گا تو قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

    علاوہ ازیں مقبول باقر کا کہنا تھا کہ کابینہ میں سینئر اور جونیئر ہر طرح کے لوگ ہوں گے، کوشش ہوگی کابینہ مختصر ہو اور پروفیشنل افراد پر مشتمل ہو جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے کوآرڈینیشن کے ذریعے الیکشن کے معاملات ٹھیک کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    دوسری جانب نامزد نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ ان کا نام نگراں وزیر اعظم کے طور پر بھی زیر غور لایا گیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندیوں کا چیلنج ضرور ہے لیکن الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے یہ انہی کا کام ہے، نگراں حکومت کی ذمہ داری تو محض معاونت کرنا ہے تاکہ وہ قانون اور آئین کے تحت بروقت شفاف الیکشن کرواسکیں۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے بھی قوی امید ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مقرر کردہ حدود میں ہی ہوں گے۔ جبکہ اپنی نامزدگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وقت فوقتاً اطلاعات مل رہی تھیں کہ میرے نام پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور مجھے مشاورت سے ہی نامزد کیا گیا۔ یہ لوگ (وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر) آپس میں مطمئن ہوئے اسی لئے مجھے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کیلئے نامزد کیا۔

    الیکشن اور حلقہ بندیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے مقبول باقر کا کہنا تھا کہ مشکلات بہت ہیں چیلنجز بھی ہیں، صوبے میں سندھی اور اردو بولنے والوں کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے والے افراد بھی رہتے ہیں، خاص طور پر کراچی اور بڑے شہروں میں۔ حلقہ بندیوں کا چیلنج ضرور ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا ہے میں بخوبی اپنی ذمہ داری انجام دے سکوں۔ جبکہ درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سندھ میں چیلنج ہیں پورے ملک میں ہی چیلنج ہیں۔ الیکشن کے علاوہ معاشی چیلنجز بھی ہیں۔ سندھ کے اندر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی ہے پورے ملک میں ہے لیکن سندھ میں کہیں کہیں یا بعض مقامات پرتھوڑا زیادہ ہے، اعتماد کا بھی فقدان ہے، شکوک و شبہات ہیں ایک دوسرے کے بارے میں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی کی بات کریں تو صرف شہر قائد میں ہی بہت مسائل ہیں اتنا بڑا میٹروپولیٹین شہر ہے۔ اس کے بعد اندرون سندھ میں بھی مسائل ہیں، سیلاب متاثرین کے مسائل ہیں۔ پانی بجلی گیس کا مسئلہ بھی پورے صوبے میں ہے لیکن کراچی میں زیادہ مسائل ہیں۔ نگراں وزیراعلیٰ کیلئے ان کے نام پر مشاورت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ کافی عرصہ سے بات چل رہی تھی مجھے انڈوس بھی کیا ، اتار چڑھاؤ آتا رہا، کچھ پیار محبت کی بات بھی ہوتی ہے ( دھرتی کا) قرض بھی اتارنا پڑتا ہے ملک و قوم کیلئے تو مجھے لگ رہا تھا کہ ذمے داری ملے گی اور لینی پڑے گی۔

    مقبول باقر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم کیلئے بھی آپ کے نام پر کنسیڈر کیا گیا تھا تو اس کے جواب میں انھیں نے کہا کہ ”جی کچھ عرصے یہ بات ضرور ہوئی تھی۔ تاہم واضح رہے کہ گزشتہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اتفاق کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان تین روز تک نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کے ناموں کے لیے مشاورت کی گئی تھی۔ جسٹس (ر) مقبول کا نام حکومت سندھ کی جانب سے اپوزیشن کے سامنے رکھا گیا تھا اور گزشتہ روز اپوزیشن نے اس نام پر اتفاق کر لیا تھا۔

  • مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    مردم شماری میں بے ضابطگیاں؛ حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    کراچی میں مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے کراچی کی گنتی کو پوری اور حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ مردم شماری میں بے ضابطگیوں پر امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کو خط لکھا کہ کراچی کی آبادی کو 2017 کی مردم شماری میں آدھا کردیا گیا تھا، حالیہ مردم شماری میں کراچی میں 63 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں 113 اور 90 فیصد آبادی میں اضافہ دکھایا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں خط میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مردم شماری کے عمل میں حکومت سندھ کا کردار منفی رہا ہے، اور پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ کراچی کی آبادی میں درست اضافہ ہو سکے، وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کراچی کی گنتی پوری کی جائے، حلقہ بندیاں صحیح اعداد و شمار کے مطابق کی جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    خیال رہے کہ گزشتہ مئی میں ادارہ شماریات کے مطابق 22 مئی کے بعد تصدیق کا عمل شروع ہوگا جو 31 مئی تک جاری رہے گا جبکہ ملک بھر میں جاری ساتویں ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری میں 4 روز کے وقفے کے بعد ایک بار پھر توسیع کردی گئی تھی. مردم شماری کا عمل صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف 66 اضلاع میں 22 مئی تک جاری رہنے کا کہا گیا تھا، جبکہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی آبادی 5 کروڑ 75 لاکھ جبکہ کراچی ڈویژن کی ایک کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • وزیراعظم  سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی ایم کیوایم پاکستان کے وفد نے گورنر ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے اور ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ ایم کیوایم کے وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، سینئر ڈپٹی کنوئنرز ایم کیوایم سید مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار شامل تھے جبکہ اس مو قع پر وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر بھی موجود تھے۔


    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو تمام اہم فیصلوں میں ساتھ لیکر چلنے کی یقین دہانی کرائی اورعام انتخابات نئی یا پرانی مردم شماری پر کروانے سے متعلق فیصلے کے بارے میں اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے مشروط کردیا۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے وفد نے کراچی میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ، زائد بلینگ پر وزیراعظم سے شدید احتجاج کیا اورکہا کہ شہری سندھ بلخصوص کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہ سمجھا جائے، ایم کیو ایم وفد نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے عنایت اللہ نے لیٹ برڈ ٹورنامنٹ جیت لیا
    بحیرہ روم کے نو ممالک میں آگ بھڑک اٹھی
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور
    پشاور،محرم الحرام کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں طبی عملہ چوکس
    ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ سب سے بڑے شہر کے شہریوں کو بجلی نہیں ملتی صرف بھاری بل بھیجے جاتے ہیں۔ اس مو قع پروزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر کو سخت ہدایات جاری کردیں۔