Baaghi TV

Tag: mubashar lucman

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • وقار یونس نے نئے بالرز کو تیار کرنے کیلئے کمر کس لی

    وقار یونس نے نئے بالرز کو تیار کرنے کیلئے کمر کس لی

    دورہ آسٹریلیا سے قبل باؤلرز کا کیمپ کل سے قذافی اسٹیڈیم میں شروع ہوگا، قومی کرکٹ ٹیم کے باولنگ کوچ وقار یونس کی زیر نگرانی 2 روزہ کیمپ اتوار تک جاری رہے گا،

    سلیکشن کمیٹی نے قائد اعظم ٹرافی اور نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 13 باولرز کو کیمپ میں مدعو کرلیا،13 کھلاڑیوں کے علاوہ فاسٹ باؤلرز محمد عباس اور شاہین شاہ آفریدی کو بھی کیمپ میں طلب کیا گیا ہے، دورہ آسٹریلیا سے قبل 2 روزہ باؤلنگ کیمپ کا مقصد باولرز کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، قومی کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب صرف کیمپ میں طلب کیے گئے باولرز تک محدود نہیں رہے گا اور سلیکشن کمیٹی آسٹریلیا کی کنڈیشنر اور کھیل کے فارمیٹ کو مدنظر رکھ کر کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گی،

    وقار یونس کے علاوہ قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق اور ٹیسٹ کپتان اظہر علی بھی باولرز کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے، بلال آصف، بلاول بھٹی، عمران خان سنئیر اور کاشف بھٹی کو کیمپ میں طلب کیا گیا ہے ان کے علاوہ محمد عباس، محمد عرفان (اسپنر)، موسی خان، محمد محسن، نسیم شاہ، راحت علی، ثمین گل بھی کیمپ میں طلب ہیں، شاہین شاہ آفریدی، تابش خان، یاسر شاہ اور زاہد محمود بھی کیمپ میں شامل ہیں

    پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

  • پاک سری لنکا میچ کے دوران صدر عارف علوی نئے روپ میں نظر آئے

    پاک سری لنکا میچ کے دوران صدر عارف علوی نئے روپ میں نظر آئے

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا ٹی ٹوئنٹی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ صدر پاکستان کی درخواست پر پی سی بی کی طرف سے بریسٹ کینسر کی اگاہی مہم کے طور پر پنک ڈے سے منسوب کیا گیا ،
    صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے میچ شروع ہونے سے پی سی بی جانب سے منعقدہ کینسر کی آگاہی کیلئے ایک تقریب میں بھی شرکت کی ، اور دونوں کپتانوں کو پنک ربن بازووں پر باندھے،
    اس کے بعد میچ کے دوران صدر پاکستان کمنٹری باکس میں کمنٹیٹر رمیز راجہ کیساتھ کمنٹری کرتے ہوئے بھی نظر آئے ، دوران کمنٹری صدر پاکستان نے بریسٹ کینسر جیسے موضی مرض کی احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالی اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے خوش آئند قرار دیا ، صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں اور ملک میں کرکٹ ہونے سے ان کے چہروں پر خوشیاں لوٹ آئی ہیں،
    مزید پڑھیں
    یہ سیریز ہمارے لیے بہت بڑا دھچکا ہے، مصباح الحق
    سری لنکا نے پاکستان ٹیم کو چاروں شانے چت کردیا

  • دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، سری لنکن ہیڈ کوچ

    دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ملک ہے، سری لنکن ہیڈ کوچ

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا تیسرے ون ڈے میں سری لنکا نے پاکستان کو 13 رنز سے ہرا کر کلین سویپ مکمل کرلی ، میچ کے بعد سری لنکن ہیڈ کوچ رمیش رتنائیکے اور سری لنکن کپتان داسن شناکا نے پریس کانفرنس کی ، رمیش رتنائیکے کا کہنا تھا کہ پاکستان آکر کھیلنے کی بے حد خوشی ہے، پاکستانی عوام نے جتنی محبت دی اس کو ہمیشہ یاد رکھیں گے،

    پاکستان میں ہمیں بہترین سیکیورٹی دی گئی ۔سری لنکن ہیڈ کوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ٹیم نے ٹی ٹونٹی سیریز میں بہترین کرکٹ کھیلی ہے ۔ سری لنکا میں ہمارے پول میں 30 سے 40 کھلاڑی شامل ہیں ۔ ہم نے ٹور کے لئے ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا یہاں آکر بے خوف کرکٹ کھیلیں-
    ہمارے کھلاڑیوں نے پاکستان میں پلان کےمطابق بہترین کرکٹ کھیلی ۔رمیش رتنائیکے
    پاکستان کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں کامیابی سری لنکن کرکٹ کو بہت آگے لے کر جائے گی ۔ یہ کامیابی سری لنکن کرکٹ کے لئے بہت اہم ہے ۔ ہمارے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔ سری لنکن ہیڈ کوچ ، ٹیسٹ کرکٹ میں ماضی قریب میں پاکستان کے خلاف ہمارا ریکارڈ بہت اچھا ہے ۔رمیش رتنائیکے

    مزید پڑھیں
    سری لنکا نے پاکستان ٹیم کو چاروں شانے چت کردیا
    یہ سیریز ہمارے لیے بہت بڑا دھچکا ہے، مصباح الحق

  • قائداعظم ٹرافی، پہلے سیزن کے بعد کونسی ٹیم کہاں کھڑی ہے ؟

    قائداعظم ٹرافی، پہلے سیزن کے بعد کونسی ٹیم کہاں کھڑی ہے ؟

    قائداعظم ٹرافی 2019-20 کے پہلے سیزن کا احتتام ہو گیا اور پواائنٹس ٹیبل پر پنجاب کی دونوں ٹیمیں چھائی ہوئی ہیں ، اظہر علی کی قیادت میں سنٹرل پنجاب کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ ناردرن اور بلوچستان کے خلاف میچ میں فتوحات سمیٹنے والی سنٹرل پنجا ب کی ٹیم اب تک 67 پوائنٹس حاصل کرچکی ہے۔

    سندھ کرکٹ ٹیم کو شکست دینے والی سدرن پنجاب کی ٹیم شان مسعود کی قیادت میں 50 پوائنٹس حاصل کرچکی ہے۔ سدرن پنجاب پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے۔

    تیسری پوزیشن پر موجود خیبرپختونخوا کی ٹیم 42 پوائنٹس حاصل کرچکی ہے۔ ادھر سندھ ، بلوچستان اور ناردرن کی ٹیمیں بالترتیب چوتھی، پانچویں اور چھٹی پوزیشن پر موجود ہیں۔

    چار روزہ ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز 20 روز بعد ہوگا۔اس دوران اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں نیشنل ٹی ٹونٹی کپ جاری رہے گا۔

    قائداعظم ٹرافی کا دوسرا مرحلہ 28 اکتوبر سے شروع ہوگا۔

  • قائداعظم ٹرافی کے پہلے سیزن میں بلے بازوں کا راج رہا

    قائداعظم ٹرافی کے پہلے سیزن میں بلے بازوں کا راج رہا

    قائداعظم ٹرافی فرسٹ الیون کرکٹ ٹورنامنٹ کےپہلے مرحلے میں جہاں 29 سنچریاں اور 3 ڈبل سنچریاں اسکور کی گئی تو وہیں 4 مرتبہ باؤلرز نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

    4 راؤنڈز پر مشتمل مرحلے میں کل 12 میچزکھیلے گئے۔ خیبرپختونخوا کے بیٹسمین اشفاق احمدایونٹ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔انہوں نے 472 رنز اسکور کیے ہیں۔32 سالہ کرکٹر 5 اننگز میں 157 کی اوسط سے 3 سنچریاں اور 1 نصف سنچری اسکور کرچکے ہے۔

    اس موقع پر اشفاق احمد کا کہنا ہےکہ وہ قائداعظم ٹرافی کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے پر بے حد خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز اسکور کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔

    خیبرپختونخوا کے مڈل آرڈربیٹسمین نے کہا کہ وہ ایونٹ میں بہترین نتائج کےحصول کے لیے مثبت کرکٹ کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں بھی رنز کے انبار لگانے کے خواہشمند ہیں۔

    32سالہ کرکٹر نے کہا کہ محمد رضوان، افتخار احمد اور فخرزمان جیسے سنیئر کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری تھی۔ انہوں نے کہ وہ ٹیم کی بہتر کارکردگی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔

    ڈومیسٹک سیزن میں کوکابورا گیند کے استعمال سے ایونٹ میں متوازی کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں عابد علی اور سمیع اسلم نے ڈبل سنچری اسکور کی تھی۔ سندھ کرکٹ ٹیم کے اوپنر عابد علی نےیو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں بلوچستان کے خلاف میچ میں249 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی جبکہ سدرن پنجاب کے اوپنر سمیع اسلم نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں سنٹرل پنجاب کے خلاف 243 رنزاسکور کیے۔

    ایونٹ کی تیسری ڈبل سنچری سنٹرل پنجاب کے اوپنر سلمان بٹ نے اسکور کی۔ 35 سالہ کرکٹر نے بگٹی اسٹیڈیم کوئٹہ میں میزبان بلوچستان کے خلاف 237 رنز کی اننگز کھیلی۔

    باؤلرز خصوصی طور پر اسپنرز نے بھی ایونٹ کےپہلےمرحلے میں کوکابورا کے گیند کابھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اب تک 4 اسپنرز ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ لیگ اسپنر یاسر شاہ اب تک ایونٹ میں 15 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے اسپنر یاسر شاہ نے قائداعظم ٹرافی کے پہلے مرحلے میں 43.80 کی اوسط سے باؤلنگ کی۔ یاسر شاہ کے علاوہ ناردرن کے نعمان علی، سدرن پنجاب کے محمد عرفان اورخیبرپختونخوا کے عادل امین بھی ایک اننگز میں 5،5 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
    یہ بھی پڑھیں
    پی سی بی نے شائقین کو آج کے میچ میں پنک کپڑے پہن کر آنے کو کیوں کہہ دیا؟

  • پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، سری لنکا نے دوسرا ٹی ٹوئنٹی ہرا کر سیریز جیت لی

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا ، سری لنکا نے دوسرا ٹی ٹوئنٹی ہرا کر سیریز جیت لی

    ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے سخت سیکورٹی حصار میں عالمی نمبر ون پاکستان ٹیم کو شکست دیکر ٹی ٹونٹی سیریز جیت لی
    پاکستان کے دورہ پر آئی ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے سخت سیکورٹی حصار میں تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں میزبان پاکستان ٹیم کو 35 رنز سے شکست دیکر پاکستان کے خلاف پہلی مرتبہ ٹی ٹونٹی سیریز اپنے نام کر لی۔
    سری لنکن ٹیم دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 182 رنز سکور کیے تھے جواب میں پاکستان ٹیم 147 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں سری لنکن کپتان ڈوسن شناکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ گونا تھلینکا اور اویشکا فرنینڈو نے اننگز کا آغاز کیا۔ گونا تھلینکا نے پہلے میچ کی طرح دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں بھی جارحانہ اندار اپنایا۔ سری لنکا کا سکور 16 پر پہنجچا تو اس موقع پر تھلینکا 15 رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آوٹ ہو گئے۔ تھلینکا نے 10 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 15 رنز سکور کیے۔ نئے کھلاڑی راجہ پکاسا میدان میں آئے انہوں نے بھی جارحانہ اندار اپنایا اور سکور کو 41 تک پہنچا دیا۔ راجہ پکاسا اور فرنینڈو کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں 25 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ فرنینڈو کی وکٹ کی صورت میں ہوا جب وہ پاکستانی کھلاڑی شاداب خان کی سیدھی تھرو پر رن آوٹ ہو گئے۔ فرنینڈو نے 8 رنز سکور کیے۔ نئے کھلاڑی شیہان جے سوریا میدان میں آئے انہوں نے راجہ پکاسا کے ساتھ ملکر 10 اوورز کے خاتمے تک اپنی ٹیم کے سکور کو 80 پر پہنچا دیا۔ راجہ پکاسا 33 اور جے سوریا 18 کے سکور پر ناٹ آوٹ تھے۔
    سری لنکا سے شکست کے بعد مصباح الحق ٹیم پر برس پڑے
    11واں اوور کرانے کے لیے شاداب خان کو بال دیا گیا لیکن وہ مہنگے ثابت ہوئے انہوں نے 2 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 19 رنز دیکر سری لنکا کا سکور 99 تک پہنچا دیا۔ سری لنکا نے اپنے 100 رنز 11.1 اوورز میں مکمل کیے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 32 گیندوں پر پچاس رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ راجہ پکاسا نے 31 گیندوں 2 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اپنی پہلی نصف سنچری مکمل کی۔ راجہ پکاسا پاکستانی باولرز کے لیے ڈرونا خواب بنا شروع ہو گئے۔ دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 10.2 اوورز میں 94 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی جس کا خاتمہ 135 کے ٹوٹل پر اس وقت ہوا جب شیہان جے سوریا اپنی شاٹ پر رن بنانے کی کوشش میں آصف علی کی تھرو پر رن آوٹ ہو گئے۔ جے سوریا نے 28 گیندروں پر چار چوکوں کی مدد سے 34 رنز سکور کیے۔
    دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز
    دوسری جانب راجہ پکاسا 77 کے سکور پر ناٹ آوٹ کریز پر موجود تھے، نئے کھلاڑی کپتان ڈوسن شناکا میدان میں آئے تاہم میچ کے 17 اوور کی پہلی گیند پر شاداب خان کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں راجہ پکاسا باونڈری لائن پر کھڑے فخر زمان نے کوئی غلطی کیے بغیر ان کا کیچ لیکر اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ راجہ پکاسا نے 48 گیندوں کا سامنا کیا جس میں چھ چھکے اور چار چوکے لگا کر 77 رنز بنائے۔ سری لنکا کی پانچویں وکٹ 145 کے سکور پر اس وقت گری جب بھانوکا بغیر کسی سکور کے رن آوٹ ہو گئے۔ سری لنکا نے اپنے 150 رنز 17.2 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورے کیے۔ 155 کے سکور پر سری لنکا کی چھٹی وکٹ اوڈانا کی گری جنہیں 8 کے انفرادی سکورپر وہاب ریاض نے کلین بولڈ آوٹ کیا۔ سری لنکا کی اننگز کے 20 اوورز مکمل ہوئے تو سری لنکا کا سکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز تھا۔

    کپتان ڈوسن شناکا 15 اور ڈی سلوا 2 کے سکور کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ پاکستان کی طرف سے باولنگ میں عماد وسیم نے 27 رنز دیکر ایک، وہاب ریاض نے 31 رنز کے عوض ایک، شاداب خان نے 38 رنز کے عوض ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ 183 رنز کے ہدف کے حصول کے لیے پاکستان کی طرف سے فخر زمان اور بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستان ٹیم کو پہلا نقصان 9 کے ٹوٹل پر اس وقت اٹھانا پڑا جب فخز زمان سری لنکن باولر راجنتھا کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے چار گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 6 رنز سکور کیے۔ پاکستان کو دوسرا نقصان بھی جلد اٹھانا پڑا جب بابر اعظم بھی نوان پردیپ کی گیند پر تین رنز بنا کر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ بابر اعظم نے دس گیندوں کا سامنا کیا۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد خود بیٹنگ کے لیے میدان میں آئے اور آتے ہی جارحانہ اندازر اپنایا۔ پاکستان کا سکور 51 پر پہنچا تو اس موقع پر اوپر تلے احمد شہزاد 13 اور عمر اکمل بغیر کوئی رن بنائے۔ ڈی سلوا کی گیند پر آوٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

    عمر اکمل سیریز میں مسلسل دوسری مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو آوٹ ہوئے۔ اسی اوورز میں ڈی سلوا نے پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو بھی کلین بولڈ کر کے اپنی ٹیم کی کامیابی کو آسان بنا دیا۔ سرفراز احمد نے 16 گیندوں پر تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 26 رنز بنا سکے۔ 52 پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد آصف علی اور عماد وسیم نے محتاط انداز اپنایا اور اگلے دو اوورز میں مزید 16 رنز بنا کر دس اوورز کے خاتمے پر پاکستان کا سکور 68 تک پہنچا دی۔ آصف علی اور عماد وسیم کے درمیان چھٹی وکٹ کی شراکت میں 47 گیندوں پر 75 رنزکی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ 127 کے سکور پر اس وقت ہوا جب عماد وسیم 48 رنز بنانے کے بعد اوڈانا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے 29 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 8 چوکے لگائے۔

    آصف علی 23 رنز پر ناٹ آوٹ کھیل رہے تھے، نئے کھلاڑی وہاب ریاض میدان میں آئے لیکن وہ بھی 7 رنز بنانے کے بعد نوان پردیپ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ پاکستان کا مجموعی سکور 136 رنز تھا۔ پاکستان کی آٹھویں وکٹ شاداب کی گری جو آتے ہی بغیر کوئی سکور بنائے اوڈانا کی گیند پر شناکا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ 145 کے ٹوٹل پر پاکستان کے آصف علی بھی 29 رنز بنانے کے بعد پردیپ کی گیند پر کلین بولڈ آوٹ ہو گئے۔ آصف نے 27 گیندوں کا سامنا کیا جس میں تین چوکے لگائے۔ پاکستان کی آخری وکٹ محمد حسنین کی گری جو ایک سکور بنا کر پریدیپ کی گیند پر ڈی سلوا کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔ محمد عامر 5 رنز کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ سری لنکا کی جانب سے باولنگ میں نوان پردیپ نے 25 رنز کے عوض چار، ڈی سلوا نے 38 رنز دیکر تین، اوڈانا نے 38 رنز دیکر دو جبکہ راجنتھا نے 11 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری میچ 9 اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم کے اسی میدان میں کھیلا جائیگا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز

    دباؤ لیے بغیر کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی، سری لنکن بلے باز

    سری لنکن بلے باز راجہ پکسا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور کھلاڑی میرا کام کارکردگی دکھانا ہے منتخب کرنا سلیکشن کمیٹی کا کام ہے ۔
    راجہ پکسا کا مزید کہنا تھا کہ لاہور آکر بہت اچھا لگا یہاں ملنے والا پیار ہمشیہ یاد رہے گا۔ لوگ ہمیں بی ٹیم کہہ رہے تھے اور ہم نے اپنی کارکردگی سے خود کو منوایا ہے ۔ راجہ پکسا کا کہنا تھا اس سیریز سے پہلے ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا۔
    ہم نے دباو لئے بغیر بہترین کرکٹ کھیلی اور کامیابی ملی ۔

  • محمد حسنین نے اپنے ٹیلنٹ کیساتھ انصاف کر دکھایا

    محمد حسنین نے اپنے ٹیلنٹ کیساتھ انصاف کر دکھایا

    لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ تیز ترین بولر محمد حسنین نے سری لنکا کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ہیٹ ٹرک کر ڈالی ، ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کے محمد حسنین ہیٹ ٹرک کرنے والے دنیا کے 9 ویں جبکہ پاکستان کے دوسرے کھلاڑی بن گئے۔ محمد حسنین نے یہ اعزاز سری لنکا کے خلاف لاہور میں جاری تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں حاصل کیا۔
    اس سے قبل پاکستان کے فہیم اشرف نے 2017ء میں شیخ زید سٹیڈیم میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔ سری لنکا کے مالنگا کو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے علاوہ آسٹریلیا کے بریٹ لی، نیوزی لینڈ کے اورم اور ٹم ساوتھی، سری لنکا کے تسیرا پریرا اور افغانستان کے راشد خان نے بھی ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔

  • کرکٹ کی واپسی پاکستانیوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لے آئی

    کرکٹ کی واپسی پاکستانیوں کے چہروں پر خوشیاں واپس لے آئی

    لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے موقع پر لاہوریوں کے چہروں کی خوشی دیدنی تھی، شائقین کرکٹ سخت سکیورٹی کے باوجود اپنی فیملیوں کے ہمراہ میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے قبل ہی سٹیڈیم پہنچ گئے، سٹیڈیم کے اندر اور باہر قومی پرچموں کی بہار نظر آئی، خواتین، نوجوان اور بچے اپنے چہروں پر قومی پرچم پینٹ کراتے ہوئے نظر آئے، مہمان ٹیم کی سپورٹ کیلئے بھی نعرے لگائے جاتے رہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلاٹی ٹونٹی میچ کو دیکھنے کیلئے شائقین کرکٹ کی بہت بڑی تعداد قذافی سٹیڈیم پہنچی۔ شائقین کرکٹ اپنی فیملیوں کے ہمراہ میچ دیکھنے لئے سٹیڈیم آئے۔ شائقین کرکٹ کو پارکنگ سے شٹل سروس کے ذریعے سٹیڈیم تک پہنچایا گیا۔شائقین کرکٹ پاکستان کے حق میں نعر ے لگاتے رہے جبکہ کئی منچلوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مہمان ٹیم کی سپورٹ کے لئے ان کے حق میں بھی بھرپور نعرے لگائے گئے۔ سٹیڈیم میں داخلے کیلئے طویل قطاریں لگی رہیں اور اس دوران بد نظمی بھی دیکھنے میں آئی۔

    کئی مقامات پر نوجوانوں نے پہلے داخلے کی کوشش میں قطاریں توڑ دیں اور دھکم پیل کی تاہم موقع پر موجود سکیورٹی نے حالات کو قابو کر لیا۔ پاک فوج، رینجرز اور پولیس کی جانب سے میچ کی سکیورٹی کے لئے غیر معمولی انتظامات کئے گئے۔ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ٹیموں کی ہوٹل سے سٹیڈیم آمد کے روٹ کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی جبکہ میچ کے دوران بھی اسٹیڈیم کے اوپر اور اطراف کی آبادیوں کی فضائی نگرانی جاری رہی