نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں لائٹ پول کی فنی خرابی کے باعث میچ کو کچھ وقت کیلئے روک دیا گیا ، دونوں ٹیموں کے کھلاڑی لائٹ پول کے صحیح ہونے کا انتظار کرتے رہے ، کھیل 20 منٹ تک رکا رہا، اس کے بعد لائٹ پول کی فنی خرابی کو ٹھیک کیا گیا اور میچ دوبارہ شروع ہوا ،
Tag: mubashar lucman

قومی انڈر19 کرکٹ ٹورنامنٹ کا اگلے ہفتے سے آغاز
قومی انڈر 19 تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ منگل سے شروع ہوگا قومی انڈر 19 ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغاز ہفتے سے ہوگا ایونٹ کے میچز 7 مخلتف شہروں میں کھیلے جائیں گے دونوں ٹورنامنٹس میں 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں شرکت کریں گی ایونٹ کے میچز راؤنڈ رابن کی بنیاد پر کھیلے جائیں گے ریزرو کھلاڑیوں سمیت ہر اسکواڈ 20 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا قومی انڈر 19 تین روزہ اور ایک روزہ ٹورنامنٹ بیک وقت جاری رہیں گے ہر تین روزہ میچ کے بعد ایک روزہ میچ کھیلا جائے گا، دونوں میچز میں ایک دن کا وقفہ رکھا گیا ہے قومی ایک روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 6 نومبر کو کھیلا جائے گا قومی تین روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل 9 سے 12 نومبر تک جاری رہے گا

جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا
جنوبی افریقہ نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کو 9 وکٹ کے بڑے مارجن سے شکست دے دی ، اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم کا غرور خاک میں ملا دیا ،
بھارت کے شہر بنگلور میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں ، بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، بھارت کے اوپنرز نے اچھا سٹارٹ فراہم کیا اس کے بعد وکٹیں گرنا شروع ہوئیں اور کوئی کھلاڑی جم کر کھیل نہ سکا ، شکھر دھون نے 36 اور رشب پانٹ نے 19 رنز بنائے ، بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز 9 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنا سکی، جنوبی افریقہ کی طرف سے ربادا نے 3 ، ہینڈرکس نے 2 اور فورٹو ان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
جواب میں جنوبی افریقہ نے ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، جنوبی افیقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک نے 52 گیندوں پر 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی ، ریزا ہینڈرکس اور تیمبا بوما نے بھی 27 اور 28 ارنز بنا کر کپتان کا خوب ساتھ دیا ، بھارتی بالرز نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا مگر انہیں وکٹیں نہ مل سکیں اور یوں جنوبی افریقہ نے ہدف سترھویں اوور میں با آسانی پورا کر لیا ، شاندار باولنگ کرنے پر بیورن ہینڈرکس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا اور ٹی ٹوئینٹی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی،
ٹرائنگولر سیریز ، زمبابوے نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی
بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی ٹرائنگولر سیریز کے پانچویں میچ میں زمبابوے نے افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی ، افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے ، جن میں رحمان اللہ کے 61 اور حضرت اللہ زازئی کے 31 رنز نمایاں تھے ، ان کے علاوہ کوئی بلے باز نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا ، زمبابوے کی طرف سے کرسٹوفر موفو نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
جواب میں زمبابوے نے 155 رنز کا ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، زمبابوے کے کپتان اور اوپنر بلے باز مساکڈزا نے 42 گیندوں پر 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، چاکابوا نے ان کا پورا ساتھ دیتے ہوئے 39 رنز اسکور کیے ، شین ولیمز نے 21 رنز کی اننگز کھیلی، افغانستان کے کپتان اور شاندار لیگ اسپنر راشد خان سمیت کوئی افغانی باؤلر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکا، زمبابوے کے کپتان مساکڈزا کو شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی دیا گیا ،
پی سی بی 243 ریجنل کیوریٹرز اور گراؤنڈ سٹاف کو دو ماہ کا نیا کنٹریکٹ دے گا
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 243 ریجنل گراؤنڈز مین اور کیوریٹرز کو کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کردی، پی سی بی گراؤنڈ اسٹاف کو 2 ماہ کے لیے کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کررہا ہے، کنٹریکٹ کا آغاز پی سی بی کے نئے آئین کے نفاذ کے روز سے ہوگا، پی سی بی نے گراؤنڈ اسٹاف کے تمام بقایاجات ادا کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھائے ہیں
اس دوران پی سی بی کا ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ کیوریٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لے گا، ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ وینیوز کے لیے مقررہ اسٹاف کی تفصیلات بھی جمع کرے گا، پی سی بی کی جانب سے پیشکش 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ماتحت کام کرنے والے گراؤنڈ اسٹاف کو کی گئی ، پی سی بی کے نئے آئین کے بعد 16 ریجنل ایسوسی ایشنز 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز میں ضم ہوچکی ہیں
عیسائی کا جھوٹا برتن ، تحریر ابو بکر قدوسی
شاید بیس برس گذرے وہ کسی کتاب کے لیے میرے مکتبے پر آیا ، پڑھا لکھا عیسائی نوجوان تھا – مجھے یاد ہے اس کا نام یونس تھا – باتوں میں بات چلی اور چلتی گئی – جب میں نے اسے کھانے کی پیشکش کی تو وہ کچھ حیران سا ہو گیا ، آخر اسی حیرانی میں بول اٹھا کہ آپ میرے ساتھ کھانا کھائیں گے ؟
میں ہنس دیا ” کیا آپ انسان نہیں ہیں ؟”
ابھی دو دن پہلے جب اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی تو برادر صغیر عمر فاروق قدوسی نے اپنا واقعہ سنایا – کچھ برس گزرے وہ لاہور میں فاطمہ میموریل ہسپتال میں موجود تھے ، اور وہاں پانی کا کولر نصب تھا – پانی پینے لگے تو ایک نوجوان جو ان سے پہلے پانی پینے کو موجود تھا ، جھجک کے پیچھے ہٹ گیا – عمر قدوسی نے کہا کہ پہلے آپ پی لیجئے ، آپ پہلے کھڑے تھے – اس پر اس نے ہولے سے کہا کہ آپ پہلے پی لیجئے …جب "پہلے آپ ، پہلے آپ ” کی تکرار ہوئی تو اس نے کہا :
” جی میں عیسائی ہوں ، آپ پی لیجئے ”
اس پر عمر قدوسی نے وہی کہا جو میں نے بیس برس پہلے کہا تھا کہ کیا تم انسان نہیں ہو ؟
اس نے کہا کہ:
” اصل میں لوگ اس بات سسے نفرت کرتے ہیں کہ اگر ہم پی لیں تو…شاید گلاس پلید ہو جاتا ہے ”
…. اس پر عمر قدوسی بھائی نے اصرار کے ساتھ اس کو پہلے پانی پلایا ، بعد میں خود اسی برتن سے پی لیا ..اور کہا کہ ہمارے مذھب کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے – ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کی یہ تعلیم بھی نہیں — آپ تو غیر مسلموں کے گھر کھانا کھانے بھی چلے جاتے تھے – اس کے چہرے پر حیرانی تھی ، کیونکہ اس کو ہم نے جو "اسلام” پہنچایا تھا ، وہ یہی تھا –
یہ پہلو جس پر بہت سوچتا ہوں مگر عمدہ جواب کم ہی ملا ہے – وہ یہ ہے کہ کیا ہم نے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام کے حقیقی چہرے سے روشناس کروایا ہے ؟؟
اسلام کے اخلاقیات کبھی بیان کیے ہیں ؟
جواب افسوس ناک ہی ہے -افسوس ہم نے تبلیغ نہ کی ، افسوس ہم نے خود ہی اسلام کے ساتھ وفا نہ کی –
افسوس مگر یہ کہ ہم نے محبت سے دلوں کو جیتنے کی بجائے ان کے برتن الگ کر دیے ..یہ برتن الگ نہیں ہوئے دو تہذیبیں الگ الگ ہو گئیں …پھر یہ ہوا کہ وہ ہمارے ہو ہی نہ سکے – ہم نے اپنے دین کو خود تک محدود کر لیا – ایسا محدود کہ خود تو مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پیدا ہو کے دروازہ بند کر لیا ، کہ کوئی اور اندر نہ آ جائے …
پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر
اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔
ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔
میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔
یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے
بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔
بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔
کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔
ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے
یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
"مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔
اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے
قومی ویمن ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں پی سی بی بلاسٹرز کی مسلسل دوسری کامیابی
قومی ویمن ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں پی سی بی بلاسٹرز کی مسلسل دوسری کامیابی. پی سی بی ڈائنامائٹس کو دلچسپ مقابلے کے بعد 7 رنزسے شکست دے دی۔
لاہور جمخانہ کلب گراؤنڈ میں جاری ایونٹ میں پی سی بی بلاسٹرز کرکٹ ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح ہے۔فاتح ٹیم کی جانب سے سدرہ امین 44 رنز بنا کر پلیئر آف دی میچ قرار پائیں۔پی سی بی ڈائنامائٹس کی جانب سے کائنات امتیاز کے 56 رنزاورثناء میر کا 3 وکٹیں حاصل کرنے رائیگاں گیا۔ پی سی بی بلاسٹرز کے 163 رنز کے تعاقب میں پی سی بی ڈائنامائٹس کی پوری ٹیم 155 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ڈائنامائٹس کی جانب سے 7 کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نہیں ہوسکيں۔ کائنات امتیاز 56 کپتان ندا ڈار 33 اور جویریہ خان 27 رنز بناکر نماياں رہيں ۔ پی سی بی بلاسٹرز کی جانب سے عالیہ ریاض اور نشرہ سندھو نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایونٹ کا تیسرا میچ20 ستمبر کو پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنامائٹس کے درمیان کھیلا جائے گا۔
سری لنکا سے سیریز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت 21 ستمبر سے شروع ہو گی
پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز 27 ستمبر سے کراچی میں شروع ہونے جا رہی ہے جس کیلئے ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ 20 ستمبر سے شروع ہوگی، ٹکٹیں 21 ستمبر سے ٹی سی ایس کے مخصوص مراکز میں دستیاب ہوں گی
سری لنکا کے خلاف ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں بھی طے کر لی گئی ہیں،
کراچی میں ہونے والے ایک روزہ میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمت 500 سے 3000 روپے تک مقرر کی گئی ہے ، جبکہ لاہور میں ہونے والے ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمت 500 سے 5000 روپے تک رکھی گئی ہے،
کراچی میں اقبال قاسم، نسیم الغنی، وسیم باری، محمد برادرز اور انتخاب عالم انکلوژرز کا ٹکٹ 500 روپے میں ملے گا،
آصف اقبال، وقار حسن اور ماجد خان انکلوژرز کے ٹکٹ 1000 روپے میں دستیاب ہوں گے، قائد، وسیم اکرم، عمران خان اور ظہیر عباس انکلوژرز کا ٹکٹ 2000 روپے میں ملے گا، حنیف محمد، جاوید میاں داد اور فضل محمود انکلوژرز کے ٹکٹ کی قیمت 3000 روپے مقرر کردی گئی ،لاہور میں ٹی ٹونٹی میچز کے لیے انضمام الحق، نذر، قائد، امتیاز احمد، ظہیر عباس، حنیف محمد، ماجد خان، عبدالقادر، سعید احمد اور سرفراز نواز انکلوژرز کا ٹکٹ 500 روپے میں ملے گا
عبدالحفیظ کاردار، راجاز، جاوید میانداد اور سعید انور انکلوژرز کا ٹکٹ 1500 روپے میں دستیاب ہوگا، عمران خان اور فضل محمود انکلوژرز کا ٹکٹ 3000 جبکہ وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز کا ٹکٹ 5000 روپے میں ملے گا
شائقین کرکٹ کو ایک شناختی کارڈ پر 5 ٹکٹیں خریدنے کی اجازت ہوگی
بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز
بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے مودی حکومت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم جلد آزاد کشمیرپربھی قبضہ حاصل کر کے بھارت کی تکمیل کریں گے‘‘۔
دو روز پہلے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کہا تھا ’’پاکستان آزاد کشمیر کھونے کے لیے تیار رہے‘‘
اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے کہا تھا ’’آزاد کشمیر پر قبضے کے لیے صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے، آرمی کی تیاری مکمل ہے۔
حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آزاد کشمیر پر قبضے کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ماحول بنانے کے بعد ایڈونچر سے دریغ نہیں کرتا۔ کئی ایک واضع مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
1965 میں ہم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کا لال بہادر شاستری کے بیان اور اس طرح کے دیگر بیانات کو نظر انداز کیا۔ پھر ہمیں لاہور اور سیالکورٹ کے محاذ پر اچانک حملہ برداشت کرنا پڑا۔
1971 میں ایک بار پھر ہم بھارتی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھارتی بیانات کا جواب صرف بیانات سے دینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن جب بھارتی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمیں وقت سے پہلے بھرپور تیاری نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ممکنا فوجی تصادم پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت ستمبر یا اکتوبر کے دوران لائن آف کنٹرول پر کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال فروری میں الیکشن کا ماحول بنانے کے لیے پلوامہ دھماکہ اور اُس کے بعد پاکستانی سرحد عبور کر کے بمباری کا ڈرامہ کیا گیا تھا، ایک بار پھر قوی امکانات ہیں کہ ویسا ہی ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی نظر ہٹانے کے لیے کیا جائے۔
غور کیا جائے تو اس طرح کی کسی جنگ کے لیے بھارت طویل عرصے سے تیاریاں کر رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں جنگ کی تربیت (Mountain Warfare Training) کے لیے بھارت کی دہیرادون ملٹری اکیڈمی میں ایک الگ ادارہ بدراج کیمپ (Bhadraj Camp) کے نام سے1999 میں قائم کیا گیا تھا۔ کشمیر کے محاذ پر جنگ کی خصوصی تربیت کے لیے بلندی پر جنگ کا تربیتی ادارہ High Altitude Warfare School (HAWS) گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہے۔ بھارتی فوج پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے اب تک 10مختص پہاڑی ڈویژن (Mountain Division) قائم کرچکی ہے۔ ان میں آٹھ عمومی ڈویژن اور 2 خصوصی حملہ آور ڈیژن ہیں۔ ان 10 ڈویژنز میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی میں جنہیں پہاڑی علاقے میں جنگ کی خصوصی تربیت اور مخصوص اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج حالیہ عرصے میں دو مزید پہاڑی ڈویژن کے قیام کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ان دونوں پہاڑی ڈویژنز کو گن شپ، یوٹیلیٹی اور اٹیک ہیلی کپٹروں کے تعاون سے جنگ کی تربیت دی جارہی ہے، یا تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے امریکہ سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ’اپاچی اے ایچ 64 ای کا سودا کیا ہے۔ مودی کی حکومت نے امریکہ سے 110 کروڑ ڈالر (جو تقریباً 8,000 کروڑ بھارتی روپے بنتے ہیں) کے عوض 22 جنگی اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جن میں سے آٹھ جنگی ہیلی کپٹر انڈیا کو مل چکے ہیں۔ جنہیں ورکنگ باونڈری پر جموں کے قریب پھٹانکورٹ کے ہوائی اڈے پر تعینات کیا گیا ہے۔
(یہاں یہ امر بھی دلچسب ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے نو عدد اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی کپٹر پاکستان کو 2018 میں مل جانا تھے۔ لیکن تاحال امریکہ نے انہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا ہے۔)
جنگوں پر نظر رکھنے والی کئی تنظیمیں آگاہ کر چکی ہیں۔ کہ بھارتی فوج وادی نیلم سے ملحقہ کنٹرول لائین کے دوسری طرف واقع مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں بھاری توپ خانہ اور اسلحہ جمع کر رہا ہے۔
ہندوستان کے انتہائی اہم اور ذمہ دار افراد کے تمام بیانات اور فوجی تیاریوں کو صرف کیدڑ بھبکیاں اور بھڑکیں قرار دے کر نظر انداز کرنا بالکل بھی حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جوابا ہمیں جس طرح کی تیاریاں کرنا چاہیں تھیں وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔
عسکری تیاریاں کیا ہیں ہم اُنہیں پاک افواج پر چھوڑتے ہیں۔
البتہ کسی بھی ممکنا بڑے یا محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں عوام کو جس طرح سول ڈیفنس، فرسٹ ایڈ وغیرہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اُس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو متحرک ہونا چاہیے
تحریر مہتاب عزیز











