Baaghi TV

Tag: mubashar lucman

  • سلمان بٹ آج کی "ریاست مدینہ” میں ہونے والے مظالم پر بول پڑے

    سلمان بٹ آج کی "ریاست مدینہ” میں ہونے والے مظالم پر بول پڑے

    پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر سلمان بٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں قصور کے علاقے چونیاں میں ہونے والے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں بچے مر رہے ہیں، پنجاب میں بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے ، پولیس کی حراست میں لوگ دم توڑ رہے ہیں ، ہسپتالوں میں ادویات نہیں ، طاقتور کیلئے کوئی قانون نہیں ، الزام تراشی کی سیاست جاری ہے لگے رہو ،

  • آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مسلمانوں کو کئی اسلام مخالف طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا چاہے وہ مکہ کے کفار ہوں یا خیبر کے یہود لیکن اسلام اور مسلمانوں نے اپنا لوہا منوایا اور اللہ رب العزت نے اسلام کو سر بلندی عطا فرمائی. جب ہم اسلامی تاریخ میں درج عظیم قربانیوں اور مختلف جنگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو جو دو باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں دو قسم کی معرکہ آرائی ہوئی ہے ایک اسلام اور کفر کے درمیان اور ایک حق اور باطل کے درمیان ہوئی ہے،

    یہ بات سچ ہے کہ جب کربلا میں حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان گروہوں میں بٹے نظر آئے لیکن تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جب جب اسلام اور کفر کے درمیان جنگ ہوئی تو مسلمان متحد تھے، مسلمانوں کے قدم کبھی لڑکھڑائے نہیں، مسلمانوں نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی. ذرا یاد کریں وہ بدر کا واقعہ جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی لیکن ایک ہزار کے لشکر پر حاوی ہو گئے. خندق میں بھوک پیاس برداشت کر کے خندق کھودی اور اپنے دشمنوں کو شکست دی. درِ خیبر کو شیرِ خدا نے ایک ہی لمحے میں اکھاڑ پھینکا. جب بڑے بڑے بادشاہ مسلمانوں کے نام سے کانپتے تھے اور بر صغیر میں یاد کریں 1965 کی جنگ کو جب دشمن فوج کے جرنیل صبح تک لاہور فتح کرنے کے دعوے کر رہے تھے تب اللہ نے ہماری مدد کی ہماری فوج کے جوانوں نے قربانیاں پیش کیں  ہماری عوام ہمارے لوگ دشمن کے خلاف نکلے اور آن کی آن میں جنگ کا نقشہ بدل گیا.

    مانا نہیں ہے ہم نے غلط بندوبست کو
    ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے طاقت تھی جس نے مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ کون سی حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے مسلمان سب پر حاوی ہوگئے؟ وہ طاقت تھی ایمان کی وہ حکمت عملی تھی جہاد کی. آج ایک بار پھر اسلام کے مد مقابل کفر کھڑا ہے اور مسلمانو‍ں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو پھر آج امت مسلمہ میں اتحاد نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا ایمان کی وہ رمق باقی نہیں رہی؟ کیا حکمت عملی کمزور پڑ گئی؟ کیا آپ کو جہاد کا راستہ کارگر نظر نہیں آتا؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے ایک طرف کشمیری ہیں جو 72 سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا اور ایک طرف افغانستان کے لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کا راستہ اپنایا اور دنیا کی ایک بڑی طاقت روس کے ٹکڑے کر دیے اور دوسری طاقت جو اس وقت خود کو سپر پاور کہتی ہے وہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے تو آپ ذرا غور کریں کہ کس عمل سے کس کو کیا ملا؟ احتجاج والے کامیاب ہوئے یا جہاد والے؟

    ہمارے ملک پاکستان میں لوگوں میں آج بھی کفار سے ٹکرا کر ان کو شکست دینے کا عزم، حوصلہ اور ہمت موجود ہے ہم سب اپنے سپہ سالار کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے کہ اب وہ کشمیر لے کر ہی رہے گی کیونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور شیر جب اپنی شہ رگ پر خطرہ محسوس کرے تو اس خطرے کو نیست و نابود کر دیا کرتا ہے اب ساری امت مسلمہ ہمارا ساتھ دے یا نہ دے لیکن ہم سب ایک پیج پر ہیں ہم مسئلہ کشمیر پر اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں. ہماری حکومت سفارتی سطح پر بھارت کا چہرہ بے نقاب کر رہی ہے، ہماری فوج اور عوام جہاد کے لیے ہر دم تیار ہے اور اب یوں لگتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کا وقت آ گیا.

    آ گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا
    فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

    تحریر : محمد ہارون

  • تحریک انصاف زراعت کے شعبے میں بڑی تبدیلی لانے کو تیار

    تحریک انصاف زراعت کے شعبے میں بڑی تبدیلی لانے کو تیار

    وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی زراعت اور کسان کی خوشحالی کی غرض سے چائنہ کے تعاون کیساتھ 13 بڑے زرعی ترقی کے منصوبے شروع کرنے جا رہی ہے،
    وفاقی وزیر نے چائنہ مشینری انجنئرنگ کارپوریشن کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان زراعت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی ترقی نہ ہونے کے باعث اعلیٰ کوالٹی کی فصل پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے ، اور اگر ان منصوبوں کو کامیابی کیساتھ لانچ کر دیا گیا تو وہ قت دور نہیں جب پاکستان ایک بار پھر زراعت کے شعبے سے بڑا زرمبادلہ حاصل کرنے والا ملک بن جائے گا ،

  • وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    جب سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنانے کیلئے لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ عمرؓ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر طبیعت کے بہت سخت ہیں۔ اس بات کو سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، ”عمرؓ اس لیے سخت ہیں کہ میں نرمی کرتا ہوں۔۔۔“
    اکثر جب کچھ لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ طبیعت کے بہت سخت ہیں تو میں ان کو یہی واقعہ سناتا ہوں۔میں منافقوں اور پاکستان کے دشمنوں پر اس لیے سخت ہوں کہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان ان دشمنوں کے معاملے میں خطرناک حد تک نرمی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اگر ریاست پاکستان، حکومت، عدلیہ اور فوج پاکستان کے دشمنوں پر سختی کریں، غداروں اور منافقوں کو سولی چڑھائیں، سازشیوں کے سر وقت پر کچلے جائیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اتنی بے چینی اور جلال کے ساتھ دشمنوں کے خلاف اذان دوں۔۔۔؟
    میں کفار و منافقین و دشمنوں کے خلاف اس لیے جلال دکھاتا ہوں کہ ریاست کا بوسیدہ نظام ان سانپوں کو پالتا ہے۔کیا ریاست پاکستان اجتماعی طور پر ہر فیصلہ درست کررہی ہے؟کیا پاکستان میں عدل و انصاف ہے؟کیا منافقین اور دشمن سزا پا چکے ہیں؟ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ تو پھر اجتماعی فیصلے بھی تو غلط ہی ہورہے ہیں ناں۔۔۔!

    معاملہ پاکستان اور امت رسولﷺ کا ہے۔ اگر کہیں پاکستان اورامت کو حکومتی فیصلوں سے تکلیف پہنچے گی تو پہلے میں نصیحت کروں گا، پھر تنبیہ کروں گا اور پھر بھی اگر وہ ظلم پر اسرار کرتے رہے تو پھر اعلان جنگ ہوگا۔یہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے، سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے۔ اس کے معاملے میں یہ فقیر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔

    میرے بہت سے دوست سرکاری افسران ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے آس پاس خیانت و ظلم ہوتے دیکھتے ہو تو آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ان کا ہر دفعہ ایک ہی جواب ہوتا ہے: ”یار سرکاری نوکری کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔“

    یاد رکھیں، ہم بھی سرکاری نوکری کررہے ہیں۔۔۔ ”سرکارﷺ “ کی نوکری، ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔
    آج اس پاک سرزمین کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اور امت رسولﷺ کے دفاع اور آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں اذان دیتے بیس برس ہوچکے ہیں۔ ہماری”سرکاری نوکری“ کی صرف ایک مجبوری ہے: اور وہ یہ کہ سیدی رسول اللہﷺ سے ہم خیانت نہیں کرسکتے!باقی ہمیں کسی چیز کا لحاظ نہیں کریں گے۔جب معاملہ پاکستان کا ہو، امت رسولﷺ کا ہو، تو ہم کبھی بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، چاہے حکومت ہو، عدلیہ ہو، فوج ہو یا میڈیا۔اللہ نے جو فراست اور تجربہ ہمیں عطا فرمایا ہے اور جو ڈیوٹی ہم سے لے چکا ہے اور لے رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کا نظام چلانے والوں پر گہری نگاہ رکھیں۔

    جاہل ہم سے کہتے ہیں کہ حکومت کو آپ سے زیادہ پتہ ہے، وہاں زیادہ بہتر دماغ نظام چلانے کیلئے بیٹھے ہیں۔تو پھر ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر ملک میں اتنا فساد کیوں ہے، ملک میں اتنا ظلم کیوں ہے، ملک میں اتنی جہالت کیوں ہے، ملک میں کفر کا نظام کیوں ہے، مسلمان کی آبرو اور خون اتنا سستا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟

    یہ ہمارے ریاستی اداروں کے اجتماعی گناہ ہی تھے کہ جن کی وجہ سے 1971 ءمیں ہمارا ملک ہی ٹوٹ گیا۔سقوط ڈھاکہ کسی ایک فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے ہر ادارے کی جہالت و حماقت کی وجہ سے ہم پر عذاب بن کر مسلط ہوا۔ اب ہم کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، بلکہ عمل کی گواہی مانگیں گے۔

    براس ٹیکس ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ فقیر اس ادارے کا سربراہ ہے، مگر ہماری ٹیم میں اس ملک کے اعلیٰ ترین محب وطن اور صاحب فراست لوگ شامل ہیں۔ ہم انہیں دشمنوں کے شر اور حاسدوں کے حسد سے بچانے کیلئے پس پردہ رکھتے ہیں، مگر جو بات ہم کرتے ہیں اس میں گہری فراست اور تحقیق شامل ہوتی ہے۔

    حکومت، میڈیا، عدلیہ اورافواج کی ہمیشہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔الحمدللہ، ہماری کوئی مجبوریاں نہیں ہیں، ہم نے کسی سے تمغے نہیں لینے، تنخواہ، پنشن اور مراعات طلب نہیں کرنی، کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔جب یہ زنجیریں پیروں میں نہ ڈلی ہوں تو ظالم کے سامنے حق بات کہنا قدر آسان ہوجاتا ہے۔

    اللہ کے فضل سے ہمیں اب اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ماننے والے تو اللہ اوراسکے رسولﷺ کو نہیں مانتے، اور جن کو اللہ نے زندہ دل عطا کیے ہیں وہ ہمارے مشن کی اہمیت اورقوت کو پہچانتے ہیں۔ہم صرف دربار نبویﷺ سے احکامات لیتے ہیں، اور پاکستان کے معاملے میں دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی۔ ان شاءاللہ۔یہ بات ہم کوا یک بار پھر واضح کردیں کہ پاکستان کے دفاع اور غزوہ ہند میں ہمارا یہ مشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بدترین دشمن مشرک اور منافق اس کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ ہمارے خلاف صرف وہی بات کرے گا جو ازلی بدنصیب ہے، متکبر ہے یا منافق ہے!
    استغفر اللہ، میں تکبر نہیں کررہا، صرف اللہ کا فضل بیان کررہا ہوں۔پچھلے 12 سال سے پاکستان کے میڈیا میں ہوں، ہزاروں اذانیں دی ہیں، کوئی ایک ”یوٹرن“ دکھا دیں، کوئی ایک بات دکھا دیں کہ جو کہی ہو اورغلط ثابت ہوئی ہو؟ کیا پھر بھی آپ کو اللہ کا فضل اور کرم نظر نہیں آتا۔۔۔؟

    ہر معاملے میں یہ فقیر اس قوم پر حجت تمام کرچکا ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ اب باقی نہیں ہے کہ جس پر تفصیلی تجزیہ کرکے فیصلہ کن حل نہ بتا دیا گیا ہو۔ حکومتی نظام کی درستگی ہو، معیشت کی اصلاح ہو، نظام کی تبدیلی ہو، اخلاقی و روحانی تربیت ہو، ملکی دفاع و غزوہ ہند کے معرکے ہوں۔ تمام حجتیں تمام کی جاچکی ہیں۔آج بھی اس ملک میں ہزاروں بے شرم اور بے غیرت ایسے ہیں کہ جن کا کام صرف ہماری اذان کا تمسخر اڑانا ہے، طنز کرنا ہے، حملے کرنا ہے اور اس مشن کوروکنا ہے۔
    آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
    کتوں کے بھونکنے سے فقیرکا رزق کم نہیں ہوجاتا۔۔۔!

    آج پاکستان کی حکو مت، میڈیا اور نظام میں اس فقیر کو ایک دشمن کی طرح دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ خود ملک و قوم و ملت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کفر اور ظلم کے نظام میں کلمہءحق بلند کرنے کی یہ ادنیٰ سی قیمت ہے کہ جو ہم بہت شوق سے دے رہے ہیں۔
    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔۔۔!

    مشرکوں سے جنگ اب بہت نزدیک ہے۔ جوہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ یہ بھارت سے جنگ کروانا چاہتے ہیں، جلد ہی وہ ہنسیں گے کم اورروئیں گے زیادہ۔حجت اس حکومت اور نظام پرپوری ہوچکی ہے، ہمیں ان کے طنز اور مذاق سے دھیلا فرق نہیں پڑتا۔ہم جس مالک کی ڈیوٹی کررہے ہیں، الحمدللہ، وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں!
    تحریر سید زید زمان حامد

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512

  • حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    زیر نظر تصویر یقیناً مغلیہ دور کی نہیں جس میں کنیزیں بادشاہ سلامت کے استقبال کے لئے کھڑی ہوں۔ یہ ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس میں ہماری طالبات جناب ایم این اے فرخ حبیب صاحب کا استقبال فرما رہی ہیں۔ اور یہ وہ نمائندہ ہیں جو طلبہ تنظیم کو ہیڈ کرتے رہے۔
    وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب کی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سمن آباد میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی ،میاں فرخ حبیب نے پرچم کشائی کی اور طالبات سے پر جوش خطاب کیا

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • مقبوضہ کشمیر میں مودی کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے ، آصف غفور

    مقبوضہ کشمیر میں مودی کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے ، آصف غفور

    افواج پاکستان کے ادارہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے ایک بھارتی صحافی کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ہندوتوا کا پرچار کرنے والے بھارتی عوام کو احساس ہو گا کہ انہوں نے کس حکومت کا انتحاب کیا ہے ،
    بھارتی صحافی اشوک سوائن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاک فضائیہ کی ایک تقریب کی فوٹیج شئر کی جس میں بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا گیا تھا اور اشوک نے ساتھ لکھا کہ اگر افواج پاکستان کو اس چیز کا علم پہلے سے تھا کہ نریندر مودی الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان کارڈ استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے ایف سولہ کو گرانے کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے تو بھارتی الیکشن سے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا ،
    https://twitter.com/ashoswai/status/1173149984633565184
    جس کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے 5 اپریل 2019 کی اپنی ٹویٹ شیر کی اور کہا کہ ہم نے کئی مواقع پر اس بات کو بھارتی عوام تک پہنچانے کی کوشش کی کہ مودی پاکستان کارڈ کھیل رہا ہے لیکن بھارتی سائڈ پر آپ جیسے سمجھدار لوگ بہت کم تھے جو حالات کو بھانپ لیتے ، بہرحال وقت بتائے گا کہ ہندوتوا کے پیروکاروں نے اپنے ملک کیلئے کن لوگوں کا انتحاب کیا ہے ، ہم پہلے بھی سچ اور حق پر تھے اور آئندہ بھی سچ کے ساتھ رہیں گے ، اور مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے یہ اس کے زوال کا آغاز ہے ،
    https://twitter.com/peaceforchange/status/1173281583522025473?s=08

  • انگلینڈ نے آخری ٹیسٹ جیت کر ایشز سیریز برابر کر دی

    انگلینڈ نے آخری ٹیسٹ جیت کر ایشز سیریز برابر کر دی

    لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے ایشز سیریز 2019 کے آخری اور فیصلہ کن میچ کو جیت کر ایشز سیریز 2-2 سے برابر کر دی ، 1972 کے بعد پہلی دفع ایسا ہوا ہے ایشز سیریز برابری پر حتم ہوئی ہے،
    پانچویں ٹیسٹ کے آخری روز کھیل کا آغاز انگلینڈ نے کیا اور صرف 20 منٹ میں انگلش کھلاڑی 398 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے ، اس کے بعد آسٹریلوی بیٹنگ لائن شدید لڑکھٹراتی نظر آئی، آسٹریلیا کے اوپنرز کو انگلش پیسر سٹورٹ براڈ نے چلتا کیا ، اس کے مارنس لابوس شین جیک لیچ کا شکار ہو گئے، اس کے اسٹیو اسمتھ نے کچھ مزاحمت کی لیکن 23 رنز پر وہ بھی ہمت ہار گئے، اس کے بعد میتھیو ویڈ نے 117 رنز کی شاندار اور زمہ دارانہ اننگز کھیلی اور آسٹریلیا کا کل سکور 240 تک پہنچا دیا لیکن کوئی بلے باز ان کے ساتھ زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہ سکا اور 260 کے آسٹریلوی مجموعے پر ویڈ بھی آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 263 کے مجموعے پر آؤٹ ہو گئی،