Baaghi TV

Tag: mubasher lucman

  • پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان

    پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان

    پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا. مبشر لقمان
    سینئر صحافی مبشر لقمان کا اپنے پروگرام کھرا سچ میں کہنا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ہے، اب ہمیں مانگ مانگ کر خود کو بچانا ہے جو ہماری ایک مجبوری ہے اور عادت بن گئی ہے، لیکن یہ بات ہماری اشرافیہ کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔ علاوہ ازیں شو میں شریک اشتر اوصاف نے کہا کہ ہم اپنی توانائیاں فضول ضائع کررہے ہیں جیسے کہ صدر پر بات ہورہی کہ اس کے پاس اختیار ہے بھی یا نہیں اور پھر اشتر اوصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں مثبت سوچنا چاہیئے اور اپنے اداروں کو عزت دینی چاہئے اور ان کے خلاف نہیں جانا چاہئے.


    جبکہ سینئر اینکر مبشر لقمان نے کہا کہ ہماری اشرافیہ کے خرچے ویسے کے ویسے اور آج بھی بجلی کے بل میں اضافہ ہوگیا حالانکہ آئی ایم ایف نے ایسا نہیں کہا تھا بلکہ انہوں تو کہا تھا کہ اپنی ٹیکس وصولی کو صحیح کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ سپریم کورٹ کو ہی دیکھ لیں آج بھی وہاں توشہ خانہ کی رٹ لگی ہوئی ہے جبکہ لاکھوں کیس جو کئی سال سے پینڈنگ ہیں ان کا کیا یا پھر ان کا بھی پی ٹی آئی سے تعلق ہونا لازمی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    انہوں نے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا مجھے ایسے لگا کہ جیسے چیف جسٹس صاحب کہیں گے کہ آو چلو جیل چلتے اور ملزم عمران خان کو رہا کرکے پروٹوکول کے ساتھ گاڑیوں میں بیٹھا کر گھر چھوڑتے ہیں۔ علاوہ ازیں مبشر لقمان نے کہا اگر کوئی غلط درخواست جاتی ہے کسی کے خلاف تو ایسا قانون بھی ہونا چاہئے کہ اس غلط شکایت کرنے والے کو سزا دے اور اگر اس پر عمل ہوجائے تو اس کے بعد 99٪ کیسز تو ادھر ہی ختم ہوجائیں گے۔

  • اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل،مبشر لقمان میدان میں آ گئے

    اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل،مبشر لقمان میدان میں آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا اپنے یوٹیوب چینل پر کہنا تھا کہ میں نے ایک نیا کام شروع کیا ہے پیٹرین کے اوپر،اور شاید آپ کی نظر سے گزرا ہو سوشل میڈیا کے اوپر، یہ پیڈ چینل ہوتا ہے، لوگ مختلف چیزیں آفر کرتے ہیں، لیکن میرا یہ کرنے کی وجہ خاص طور پر اوورسیز پاکستانی اور انکے مسائل ہیں، میں چاہتا ہوں کہ اب انکی آواز اٹھائی جائے پاکستان میں،

    https://www.patreon.com/MubasherLucman

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ہے وہ بڑا واویلا کر رہا ہے، رو رہا ہے کہہ رہا ہے کہ علیم خان کی سوسائٹی میں پیسے دیئے لیکن پلاٹ نہیں ملا، اوورسیز میں انکا نام نہیں ، گارڈ نے اسکو وہاں سے نکالا،میں نے دیکھا تو خیال آیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بڑے مسائل ہیں، وہ سال میں دو ہفتے یا ایک ہفتے کے لئے آ سکتے ہیں، جس کا اپنا کاروبار ہو وہ شاید ایک ہفتے کے لئے آ جائے،

    https://www.youtube.com/watch?v=bumJl8Mhlt0

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا فورم ہونا چاہئے جہاں اوورسیز کی آواز اٹھ سکے اور انکے حقوق کے حصول کے لئے دھکے نہ کھانے پڑیں، اوورسیزپاکستانی سے درخواست ہے کہ آپ کے مسائل پاکستان میں ہوں یا کہیں بھی،ہماری ٹیم آپکی مد کر سکتی ہے، پیٹرین کے ممبر بنیں، اسکو اور لوگوں میں بھی متعارف کروائیں، ہم وکلا کو بھی رکھ رہے ہیں،کیونکہ انکی ضرورت ہے، تاکہ لیگل مسائل کو سمجھ سکیں،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے