Baaghi TV

Tag: Murder

  • پنجاب میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے 8 دہشتگرد گرفتار

    پنجاب میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے 8 دہشتگرد گرفتار

    لاہور: انسداد دہشتگردی ڈپارٹمنٹ نے پنجاب کے مختلف شہروں میں آپریشن کے دوران 8 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔حکام کے مطابق سی ٹی ڈی نے گزشتہ رات لاہور، سرگودھا اور ملتان سمیت دیگر پانچ اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ سیکورٹی آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش سے تعلق رکھنے والے 8 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    گھر میں سب کیسے ہیں امی کیسی ہیں؟؟ترکیہ زلزلے:261 گھنٹےملبےتلےدبے رہنےوالےکابھائی…

    حکام کا کہنا ہے کہ 36 مشتبہ افراد سے تفتیش میں ملی معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشتگردوں میں مسعود الرحمان ، سبحان اللہ ، ساجد علی ، عزیز خان ، شاہد اعجاز اور شرافت اللہ شامل ہیں۔

    کنڑ: کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دھڑوں میں جھڑپ، 8 دہشتگرد ہلاک

    سیکورٹی آپریشن کے دوران خود کش جیکٹ ،بارودی مواد، اسلحہ اور گولیاں برآمد کی گئیں۔ دہشتگردوں کے خلاف 7 مقدمات درج کرلیے گئے۔ رواں ہفتے 483 کومبنگ آپریشن کیے گئے جس میں 127 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

     

    یاد رہے کہ کل شامکراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    اقوام متحدہ کی ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلئے 1 ارب ڈالر امداد کی اپیل

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

     

     

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • نوجوان نے گرل فرینڈ کو قتل کرکے لاش فریج میں چھپا دی

    نوجوان نے گرل فرینڈ کو قتل کرکے لاش فریج میں چھپا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں گرل فرینڈ کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کر کے فریج میں چھپا دینے کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، یہ واقعہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پیش آیا،پولیس کو ایک چھوٹے ہوٹل ڈھابے کے فریج سے لڑکی کی لاش ملی جو فریج میں رکھی گئی تھی،پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوایا، یہ لاش دہلی کی تھانہ بابا ہریداس نگر کی حدود سے برآمد ہوئی پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ایک ملزمم ساحل گہلوت کو گرفتار کیا ہے جو لڑکی کا دوست بتایا جا رہا ہے

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس وکرم سنگھ نے میڈیا کو تفصیلات آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ لاش برآمد کر کے ملزم ساحل کو گرفتار کیا گیا ہے، ساحل متراوں کا رہنے والا ہے، ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ساحل کی 10 فروری کو شادی تھی جس پر لڑکی نے اعتراض کیا ،دونوں لڑکا لڑکی کافی عرصے سے دوست تھے، جس لڑکی کی لاش ملی وہ ہریانہ کی رہنے والی تھی، لڑکی نے دوست ساحل کو کہا تھا کہ اگر دوسری کسی لڑکی سے شادی کی تو وہ اسکے خلاف قانونی کاروائی کرے گی جس کے بعد ملزم نے اپنی دوست کو قتل کردیا،ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے نو اور دس فروری کی رات اپنی گرل فرینڈ کو قتل کر کے اسکی لاش فریج میں رکھ دی تھی،

    پولیس حکام کے مطابق ملزم ایس ایس سی امتحان کی تیاری کر رہا تھا جبکہ لڑکی میڈیکل میں داخلے کی تیاری کر رہی تھی،دونوں دوست تھے لیکن گھر والوں کو نہیں معلوم تھا اور ساحل کی شادی اسکے گھر والے کہیں اور کر رہے تھے،جب نکی یادو کوپتہ چلا تو دونوں میں لڑائی ہوئی،ملزم نے ڈیٹا کیبل کے ذریعے نکی یادو کا گلا دبایا اور لاش کو فریج میں چھپایا،ملزم نکی یادو سے بھی شادی کرنا چاہتا تھا لیکن گھر والوں کی رضا مندی سے بھی ایک شادی کرنا چاہتا تھا ،نکی اس بات پر راضی نہیں ہوئی تھی

    قبل ازیں شردھا قتل کیس میں بھی ایسا ہوا تھا جہاں ملزم نے اپنی گرل فرینڈ کو 18 مئی کوقتل کیا،لاش کے ٹکڑے کئے اور پھر اسے فریج میں چھپا دیا تھا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    شردھا کو قتل کرنیوالا پولیس آفتاب پولیس کی تحویل میں ہے، گزشتہ روز اس پر تلواروں سے حملے کی بھی کوشش کی گئی

    ملزم آفتاب کے خلاف چارج شیٹ داخل

  • بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب کو گزرے 6 ماہ ہونے کو آرہے ہیں لیکن بلوچستان حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی جامع پلان سامنے نہ لاسکی جس کے باعث متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ سال جون سے اگست کے دوران مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ 700 سے زائد صحت مراکز حکومتی توجہ کے منتظرصوبے میں مجموعی طور پر تین لاکھ 46ہزار مکانات متاثر ہوئے جن میں ڈھائی لاکھ مکانات مکمل طور پر گرگئے تھے جب کہ 96ہزار سے زائد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

    سیلاب سے متاثرہ مکانات کی مرمت کیلئے اخراجات کا تخمینہ 200 ارب روپے کے لگ بھگ بتایاجاتا ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے تخمینہ لگائے جانے کے بعد 2 ماہ کا عرصہ بیت گیا لیکن حکومت متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی واضح روڈ میپ نہیں دے سکی ہے جس کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کا مالی بحران ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت کو وفاق سے سیلاب متاثرین کیلئے رقم نہیں ملی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والی رقم کی عدم فراہمی سے صوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

  • کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس (کے پی او) پر حملے سے متعلق تفتیش جاری ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے وقت تین چوکیوں میں سے کسی میں بھی کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس سے ملحقہ پولیس لائن صدرکوارٹرز میں داخلےکا کوئی سکیورٹی گیٹ نہیں، پولیس لائن کے کوارٹرز میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد مبینہ طور پرکے پی او میں عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، کل حملےکے وقت تینوں چوکیوں پر کل کوئی نہیں تھا،کے پی او کی عقبی دیوار پر خاردار تار ٹوٹی ہوئی دیکھی گئی ہے،کے پی او کی مرکزی شاہراہ پرسی سی ٹی وی کیمرا نہیں صرف اطراف میں ہیں۔ دہشت گرد جس کار میں آئے تھے وہ صدر تھانے میں موجود ہے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرلیےگئے ہیں۔

    کراچی: شاہراہ سے متصل صدر پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ

    یاد رہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ عمارت کا معائنہ کیا گیا ہے

  • کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی:پولیس ہیڈ آفس پردہشتگرد حملےسےچند گھنٹے قبل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نےسینٹرل پولیس آفس کے واچ ٹاور پرخود جاکرمورچےاورعقبی ایمرجنسی گیٹ کی سکیورٹی چیک کی اور ہدایات جاری کیں۔سی پی اوذرائع کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سندھ پولیس کے ہیڈ آفس کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن اکیلے ہی سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کی طرف پہنچ گئے۔

    آئی جی سندھ نے ریلوے لائن کی طرف کے ایمرجنسی داخلی دروازے کو چیک کیا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد وہ سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کا معائنہ کرتے ہوئے عمارت کے واچ ٹاور تک پہنچ گئے۔

    غلام نبی میمن نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر ریلوے لائن کی طرف کے عقبی حصے کو دیکھا اور وہاں پر سکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے واچ ٹاور پر مزید اسنائپرز تعینات کرنے کا حکم دیا۔ سی پی او ذرائع کے مطابق اس دوران سینٹرل پولیس آفس کے انتظامی پولیس افسران بھی پہنچ گئے اور انہوں نے آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق سکیورٹی سخت کرادی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے جمعہ کو پولیس دفاتر کیلئے سخت سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم حملہ آوروں نے سندھ پولیس ہیڈ آفس کی بجائے شام کو کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملہ کیا۔

  • کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی: بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔باپ کے قاتل کو 14 سال سے زائد عرصے کے بعد بیٹی نے تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا، ملزم کی گرفتاری کراچی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی جبکہ کراچی منتقلی کے لیے قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔

    ملزم کو 2009 میں عدالت نے مفرور قرار دیا تھا اور 2022 میں ملزم کاقومی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بھی بلاک کردیا گیا تھا۔26 اگست 2008 میں میٹھادر تھانے کی حدود میں واقع اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی بلڈنگ نمبر 2 کی دسویں منلز پر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ریجنل چیف محمد احمد امجد کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔

    رینجل چیف کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مقدمہ نمبر 2008/298 مقتول ریجنل چیف کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) اور عینی شاہد محمد عارف کی مدعیت میں میٹھادر تھانے میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے سینئر منیجر سید تقی شاہ کو نامزد کیا گیا تھا پولیس نے جائے وقوع سے گولیوں کے خول، پستول اور عینی شاہدین کے بیان قلمبند کرنے کے بعد ریجنل چیف کے قتل میں ملوث ملزم کی تلاش شروع کردی تھی۔

    29 جنوری 2009 کو کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر نے واقعے سے متعلق اپنی مکمل تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی جس پرعدالت نے ملزم کو مفرور قرار دے دیا تھا جبکہ 29 جنوری 2010 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج جنوبی 4 نے ملزم کے تاحیات ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کیس کو ملزم کی گرفتاری سے مشروط کر دیا تھا۔

    29 اکتوبر 2010 کو معززعدالت نے ایف آئی اے اور نادرا حکام کو حکم دیا تھا کہ ملزم کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے جس پر نادر احکام نے 24 نومبر2022 کو ملزم کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے متعلق اخبارات میں اشتہار جاری کرایا تھا۔

    ڈسٹرکٹ سٹی انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق ملزم سید تقی شاہ ریجنل چیف محمد احمد امجد کو قتل کرنے کے بعد یو اے ای فرار ہوگیا تھا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اور ریجنل چیف کے قتل کے 14 سال سے زائد عرصے کے بعد یو اے ای میں ہی ملازمت کرنے والی مقتول کی بیٹی ماہم امجد نے اپنے والد کے قتل میں ملوث ملزم کو شناخت کرلیا۔

    مقتول کی بیٹی نے ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کو 18 نومبر 2022 کو ایک درخواست ارسال کی جس میں مقتول کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد کا قتل یو اے ای میں مقیم ہے جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس پی انویسٹی سٹی کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

    ایس پی انویسٹی سٹی نے ملزم کی سفری (ٹریولنگ) ہسٹری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ملزم 24 اکتوبر 2008 کو لاہورسے یو اے ای فرار ہوا جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جس پر ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    25 جنوری 2023 کو انٹرپول کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ریڈ نوٹس جاری کیے جانے کی صورت میں ملزم سید تقی شاہ کو یو اے ای میں گرفتار کرلیا اور انٹرپول نے درخواست کی ہے کہ گرفتار ملزم کی حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات 30 دنوں کے اندر ارسال کیے جائیں جس پر پولیس حکام نے 3 روز میں حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے یواے ای میں گرفتار ملزم جلد کراچی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، پولیس حکام کے مطابق ملزم سید تقی شاہ نے مبینہ کرپشن کی انکوائری کرنے پر ریجنل چیف محمد احمد امجد کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کے بعد عمارت کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے جہاں اس حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے۔ جبکہ ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور عمارت پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل کو سیکیورٹی کی وجہ سے بند کیا تھا تاکہ آپریشن کو بلا کسی تعطل جاری رکھا جا سکے اور لوگوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ جبکہ اس حملہ میں اب تک چار اہلکار شہید اور 23 لوگ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں علاوہ ازیں تین دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے.

    ترجمان سندھ رینجرز نے کہا کہ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور عمارت کی کلیئرنس کا عمل جاری ہے۔ گورنر سندھ کرام ٹیسوری نے بھی آپریشن کامیابی سے مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ آپریشن منٹوں میں بھی ختم کرسکتے تھے لیکن ہماری حکمت عملی یہی تھی کہ چونکہ ملک میں اپکستان سپر لیگ ہو رہی ہے تو اگر ہم ان دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کر لیتے تو ان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیتے اور ان کے اسپانسرز اور سہولت کاروں کو عیاں کرتے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کراچی کے اندر اور پاکستان کے اندر بدامنی پھیلا کر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے کہ جیسے پاکستان میں بہت زیادہ دہشت گردی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز نے دہشت گردوں کو ناکام کردیا ہے اور ہماری رینجرز اور پولیس نے انہیں ناکام بنا دیا ہے، انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہمارے پولیس کے دو جوان شہید ہو گئے اور رینجرز کے کرنل سمیت چھ جوان زخمی ہیں۔ اس سے قبل کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی تھی اور بتایا کہ میرے دفتر پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ ابھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پانچ منزلہ عمارت کی تین منزلیں کلیئر کرا لی گئی ہیں البتہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ شام 7 بجکر 10 منٹ پر کیا گیا جس میں دو دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے فوج سے مدد طلب کی ہے، ہم وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور ہماری اولین ترجیح صورتحال کو کنٹرول میں لانا ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز نے بیان میں کہا کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی اطلاع پر رینجرز کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    انہوں نے کہا کہ رینجرز نے پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے اور ابتدائی طور پر 8 سے 10 مسلح دہشت گردوں کی جانب سے حملہ اور ان کی وہاں موجود گی کی اطلاع پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں دو لاشیں اور تین زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں پولیس اہلکار لطیف، رینجرز اہلکار عبدالرحیم اور ایک ایدھی رضاکار بھی شامل ہے۔

  • ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں گن پوائنٹ پر2 فروری کوریپ کی گئی 24 سالہ لڑکی کے کیس میں دوملزمان کے مبینہ پولیس مقابلہ میں مارے جانے کے دعوی پر متاثرہ لڑکی کی وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ وفاقی پولیس نے فیک اِن کاﺅنٹر کی کہانی گھڑی ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ جمعہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کرمنل کوڈ کے تحت زیادتی کے شکار کی شناخت ظاہر کرنا جرم ہے، زیادتی کا واقعہ 2 فروری 2023 کو پیش آیا، ملزمان کو 15 فروری کوگرفتار کرلیا لیکن ایسا کیا تھا کہ ملزمان کو مار دیا گیا؟

    نجی ٹی وی کے مطابق ایمان مزاری نے کہا کہ پولیس موقع پر آئی مگر ایف نائن پارک کے گیٹ بند نہیں کیے، زیادتی کا شکار لڑکی کو اسپیشل تحقیقاتی ٹیم کا نوٹی فکیشن تک نہیں دیا گیا، وہ ایس ایس پی ماریہ محمودسے کیس پر بات کرنا چاہتی تھی، کئی بار ماریہ محمودکو کال کی اور ملاقات کا وقت مانگا لیکن نہیں دیا گیا،پولیس نے ملزمان کی شناخت کے لئےمتاثرہ لڑکی کو بلایا، میں خود پولیس اسٹیشن گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی ماریہ کومیسج دیا کہ ملزمان آپ کے پاس ہیں توآپ ڈی این اے کروائیں تاہم پولیس نے فیک اِن کاﺅنٹر کی کہانی گھڑی ہے، ان ملزمان کا ٹرائل ہونا چاہیے تھا تاکہ مزید باتیں سامنے آتیں، آئی جی کی سرپرستی میں ان کاﺅنٹر ہوا، اس کا جواب دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان سی آئی اے پولیس اسٹیشن آئی نائن میں موجودتھے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ لڑکی اور میں بھی پولیس اسٹیشن گئے، ملزمان کی شناخت کا متاثرہ لڑکی نے بتایا، دونوں ملزمان پولیس کی تحویل میں موجود تھےاور ان کا قتل کیا گیا، ہم ماورائے عدالت قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی پولیس کے تھانہ گولڑہ نے وقوعہ کے بعد رات گئے ڈی بارہ میں ہونیوالے پولیس مقابلہ کامقدمہ درج کرتے ہوئے اس میں قرار دیا ہے کہ پولیس ناکہ پر معمول کی چیک جاری تھی کہ دوموٹرسائیکلوں پر چارافراد آئے جو پولیس کو دیکھ کر واپس مڑ ے تو اس دوران ایک موٹرسائیکل پر سوار دو افراد گرپڑے اور ناکہ پر تعینات اہلکاروں پر فائر کردی جس میں سے دو فائر پولیس کانسٹیبل منیر کولگے جو حفاظتی گئر کی وجہ سے محفوظ رہا۔

    پولیس کے مطابق اس دوران ایک دوسرے موٹرسائیکل پر سوار دو مذید افراد نے کلاشنکوف سے پولیس پر سیدھے فائر کئے جس کی زد میں انکے اپنے ہی دو ساتھی زد میں آکر شدید زخمی ہوئے جنہیں پمز لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اس بارے میں وقوعہ کے بعد وفاقی پولیس کے ترجمان جواد کی جانب سے بیان جاری کیاگیا کہ پولیس مقابلہ میں ہلاک دونوں ملزمان قتل اور ڈکیتی کی سنگین وارداتوں میں ملوث تھے اور ریکارڈ یافتہ کریمئنل تھے جو کہ ایف نائن پارک میں لڑکی کے ساتھ ریپ کیس میں بھی ملوث تھے جنکی شناخت کرکی گئی ہے۔

    دوسری جانب مبینہ پولیس مقابلہ میں جاں بحق نواب خان کی والدہ نرگس اور اقبال خان کے والد اکرام خان نے اپنے دیگر عزیز واقارب کے ہمراہ تھانہ گولڑہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہاکہ ان کے دونوں رشتہ داروں کو پولیس نے حراست میں لیکر جعلی پولیس مقابلہ میں مارا ہے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے تھانہ میں جاکر دو الگ الگ درخواستوں پولیس کو جمع کروائیں جن میں ذمہ دار پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف قتل کے مقدمات درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    علاوہ ازیں متاثرہ 24 سالہ لڑکی کی جانب سے اس سارے معاملہ میں کوئی بیان یا کسی قسم کی وضاحت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ایمان مزاری کے انکا وکیل ہونے کے بارے میں انہوں نے میڈیا پر اسکی کسی قسم کی تائید یا تردید کی ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق انہوں نے متاثرہ لڑکی یا انکے لواحقین سے رابطہ کی کوشش کی تاکہ انکی مبینہ وکیل کی جانب سے عائد کئے گئے پولیس پر الزامات کی تصدیق کی جاسکے اور یہ بھی جانا جاسکے کہ کیا واقعی انکی مبینہ وکیل ایمان مزاری کی جانب سے جو کہا گیا ہے کہ انہوں نے متاثرہ لڑکی کے ہمراہ تھانہ کادورہ کیاتھا۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی میں شارع فیصل پر واقع پر کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس میں 8 سے 10 حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکے بھی سنے گئے ہیں اور ہیڈکوارٹرز کی لائٹس بندکردی گئیں ہیں۔ جبکہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس کے باعث شیشے ٹوٹ گئے. جبکہ اس تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جسکی نسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    کراچی پولیس آفس کے باہر فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور پولیس لائنز سے داخل ہوئے اور دہشت گرد کے پی او کے پارکنگ ایریا میں بھی موجود ہیں۔حکام نے بتایا کہ رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور پولیس نفری نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے اور شارع فیصل ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔
    https://twitter.com/YA_963/status/1626628831334305793
    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی تصدیق کردی ہے اور کہا کہ میرے آفس پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور پاک فوج کے کمانڈوز کراچی پولیس آفس میں داخل ہوگئے ہیں اور دفتر کے اندر موجود ہر طرح کے پولیس اہلکار اسلحہ لے کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    اُدھر آئی جی سندھ نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور مزید دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق پولیس آفس حملے کے مقام سے 3 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں ایک رینجرز، ایک پولیس اور ایک ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ریسکیو اہلکار کو 2 گولیاں لگی ہیں، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ زخمیوں کی تعداد چار ہو گئی اور زخمیوں میں دو رینجرز ایک ایدھی رضاکار ایک پولیس اہلکار شامل ہیں.

    وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں پولیس آفس حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے۔ ان واقعات میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کی تعداد6 سے 7 ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس چیف وہاں موجود نہیں ہیں۔

    راناثناء اللہ نے کہا کہ عمارت میں پولیس ملازمین بھی مسلح ہیں،مزاحمت ہورہی ہے، ہوسکتا ہے دہشت گردوں میں سے کسی نے جیکٹ بھی پہنی ہو۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ میں خود صورتحال کو مانیٹر کررہا ہوں ، حملے کے ملزمان کو فوری گرفتارکیا جائے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے دفتر پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے بعد متعلقہ افسر سے واقعے کی رپورٹ چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف ڈی آئی جیز کو پولیس فورس کراچی پولیس آفس بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کے دفتر پر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، میں خود صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہوں۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی کراچی پولیس چیف کے دفترپر دہشت گرد حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم عمارت پر حملہ باعث تشویش ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    گورنر سندھ نے آئی جی پولیس سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن لینےکی ہدایت کہ اور کہا کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ یاد رہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس کے دفتر پر 10 کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کا حملہ بارے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کردئیے۔ اور تمام افسران کو خود اپنے علاقے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ترجمان کے مطابق داخلی و خارجی راستوں اور اندرون شہر چیکنگ کو بڑھا دیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ تمام اہم پولیس و دیگر عمارات اور ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور ڈیوٹی پر تعینات تمام اہلکار مکمل حفاظتی یونیفارم کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود ہوں۔ جبکہ تمام ایمبولینسز، پولیس و دیگر وردی میں ملبوس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں کو بھی چیک کیا جائے۔ جبکہ شہری دوران سفر اپنے ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور شہری دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

    جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ اور وزیراعلی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور وزیراعظم نے سیکورٹی اداروں کو دہشتگردوں کے خلاف منظم آپریشن کی ہدایت کردی ہے تاکہ اس کا خاتمہ کیا جاسکے.

  • کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کراچی نے آن لائن اسلحہ فروخت کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے اسلحہ لانے والے نظر شاہ اور محمد شاہد کو پیر آباد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے دو پستول سمیت ایک نائن ایم ایم پستول بھی برآمد کرلی گئی۔

    حکام کے مطابق ملزمان نے اسلحے کی فروخت کے لیے فیس بک پیج بھی بنا رکھا تھا۔ اسلحہ پسند کرنے کے بعد تمام معاملات واٹس ایپ پر طے کیے جاتے تھے۔ اسلحے کی قیمت طے ہونے کے بعد 10 فیصد ادائیگی آن لائن کی جاتی تھی جبکہ اسلحہ کورئیرکمپنی کے ذریعے ملک بھرمیں سپلائی کیا جاتا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    ترجمان کا کہنا ہے کہ کوریئر کمپنی ایک پستول کی ڈلیوری پر 10 ہراز روپے وصول کرتا تھا۔ ڈلیوری ہونے کے بعد باقی رقم ادا کی جاتی تھی ملزم نظر شاہ اس سے قبل بھی اسلحہ لاچکا ہے گرفتار ملزم محمد شاہد نے آن لائن 30 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ جبکہ پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی جرائم میں ملوث افراد کیخلاف کاروایاں ہمیشہ عمل میں لائی جائیں گی.

    ان کامزید کہنا تھا جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ ممکن بنایا جائے اور اسحلہ کی اس طرح فروخت ایک غیر قانونی عمل ہے اور یہی وجہ ہے ملک میں اور خاص کر کراچی میں حالات خراب ہیں.