Baaghi TV

Tag: Music

  • میوزک کمپنی ای ایم آئی نے میوزک سے وابستہ شخصیات میں رائلٹی چیک تقسیم کئے

    میوزک کمپنی ای ایم آئی نے میوزک سے وابستہ شخصیات میں رائلٹی چیک تقسیم کئے

    پاکستان میوزک کی بڑی کمپنی ای ایم آئی نے میوزک سے وابستہ شخصیات میں رائلٹی چیک تقسیم کئے۔ اس سلسلہ میں لاہور میں مقامی ہوٹل میں ایک رنگا رنگ تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں میزبانی کے فرائض نغمہ ساز گروپ کے روح رواں گلوکار تنویر آفریدی اور عارف بٹ نے انجام دئیے۔رائلٹی چیک پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف موسیقار وجاہت عطرے کا چیک ان کے بیٹے علی عطرے نے ذوالفقار علی سے وصول کیا،موسیقار امجد بوبی کا چیک ان کے بیٹے فیصل بوبی نے ادریس خان سے وصول کیا،گلوکار شوکت کا چیک ان کے بیٹے امیر شوکت علی نے سینئر صحافی طاہر سرور میر سے وصول کیا- موسیقار کمال احمد کا چیک ان کے بیٹے شاہد کمال اور صلاح الدین نے حمیرا ارشد سے وصول کیا،موسیقار عاشق حسین کا چیک ان کے بیٹے محمد اکرم نے استاد رفاقت علی خان سے وصول کیا،موسیقار خلیل احمد کا چیک ان کے بیٹے خالد خلیل نے استاد رفاقت علی خان سے وصول کیا۔موسیقار نذیر علی کا چیک ان کے بیٹے شاہد نذیر علی نے نشو بیگم سے وصول کیا۔شاعر کلیم عثمانی کا چیک ان کی بیوہ نے حمیرا ارشد سے وصول کیا۔موسیقار مجاہد حسین نے اپنے والد استاد نتھو خان کا چیک استاد طافو خان سے وصول کیا اور نشو بیگم نے اپنے شوہر تسلیم فاضلی کا چیک طاہر سرور میر، ٹھاکر لاہوری ،زین مدنی سے وصول کیا۔آخر میں استاد طافو خان نے اپنا چیک وصول کیا۔تقریب میں استاد طافو خان،استاد رفاقت علی خان،ذوالفقار علی ،طارق طافو،علی عطرے،شاہد کمال،صلاح الدین،فیصل بوبی،مجاہد حسین،محمد اکرم،نعیم وزیر،ادریس خان، امیر شوکت،محسن جعفر،اجمل دیوان ،عارف بٹ،حمیرا ارشد اور دیگر شامل تھے۔استاد رفاقت علی خان نے کہا کہ پوری دنیا میں نا انصافی ہوتی ہے لیکن ان لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو آرٹسٹ کا حق اسے دیتے یا دلاتے ہیں۔ای ایم آئی نے آج ان لوگوں کو یاد رکھا ہے جن کا کام بولتا تھا۔

     

    ان کے خاندان کو چیک ان کے کام کے عویض رائلٹی کی شکل میں مل رہے ہیں۔” انڈسٹری کو ایسے لوگ ملنے چاہیں جو آرٹسٹ کی عزت نفس کا بھی خیال رکھیں”۔گلوکارہ حمیرا ارشد نے کہا کہ کسی مستحق تک اس کا حق پہنچانا بہت بڑی نیکی ہے،تنویر آفریدی کا شکریہ ادا کرتی ہوں جہنوں نے آج کی یہ تقریب سجائی ہے۔وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔آخر میں تنویر آفریدی نے کہا کہ ای ایم آئی نے ہمیشہ سے موسیقی سے وابستہ آرٹسٹوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور آگے بھی اپنے اس مشن کو جاری رکھیں گے۔یہ ایک صاف اور شفاف عمل ہے ۔آنے والے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    عروہ اور فرحان کے گھر ننھے مہمان کی آمد

    وہاج علی اور سجل علی اس ماہ سڈنی میں فلم فیسٹیول میں شرکت کریں گے

    راچی میں‌سجا لکس سٹائل ایوارڈز کا میلہ ،یمنہ زیدی نے میدان مار لیا

  • نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا

    نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا

    پنجاب یونیورسٹی سے میوزیکالوجی میں ایم اے ڈگری ہولڈر اور نامور گائیکوں استاد بدرالزماں اور اسرار چستی سے کلاسیکی موسیقی کے باقاعدہ تربیت یافتہ نوجوان گلوکار عثمان اقبال کا نیا گیت ”تو روشنی“ ریلیز کردیا گیا ہے۔ عثمان اقبال پروڈکشنز کے پلیٹ فارم سے ریلیز کیا گیا یہ گیت پیار کرنے والے نوجوان کے رومانوی جذبات کی عکاسی کرتا ہے جسے عثمان نے خود ہی تحریر و کمپوز کیا ہے، گیت کی ویڈیو میں عثمان اقبال بطور سنگر و پرفارمر جلوہ گر ہوئے ہیں جسے شائقین کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ عثمان اقبال نے جامعہ پنجاب سے میوزک کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رکھی ہے انہیں گیت، غزل، ملی نغمہ اور خیال گائیکی کی دیگر اصناف پر عبور حاصل ہے،

    عثمان اقبال نے اپنا ویڈیو گیت ریلیز ہونے پر اپنے اساتذہ ارشد، سجاد طافو، طلحہ لیاقت، اپنی ٹیم ممبران شگفتہ، محمد اقبال،انعم، سدرہ، افشاں،زینہ، نوید اور فہد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عثمان اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جن نوجوان گلوکاروں کو سالوں کی محنت کے باوجود مناسب لانچ نہیں مل رہا انہیں ڈیجیٹل میڈیا کی طرف آنا چائیے۔ ”ڈیجیٹیل میڈیا کے ذریعے نہ صرف پوری دنیا کے سامنے آپ کے ٹیلنٹ آجاتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسکے قدر دان بھی میسر آجاتے ہیں۔” عثمان اقبال نے کہاکہ وہ اپنے پروڈکشن پلیٹ فارم سے نئے گیتوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    والد نے اداکاری کی اجازت شادی کرنے کی شرط پر دی حرا سومرو

    میرا جسم میری مرضی میں غلط ہی کیا ہے

    بہت سے لوگوں نے ہماری شادی تڑوانے کی کوشش کی جویریا سعود

  • بابا جی اے  چشتی کا یوم پیدائش

    بابا جی اے چشتی کا یوم پیدائش

    برصغیر کے نامور موسیقار بابا جی اے چشتی کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا وہ 17 اگست 1905ء میں (گانا چور) ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے ۔ بابا چشتی نے اپنی فنی زندگی کا آغاز آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے کیا۔ ان کی وفات کے بعد وہ ایک ریکارڈنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے بابا چشتی موسیقار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے اور ان کی دھنوں میں اکثر استھائی اور انترے ان کے تخلیق شدہ تھے جو انہوں نے فلمی شعراء کی معاونت میں ترتیب دیئے ۔

    آغا حشر کاشمیری کے تھیئٹر میں انہوں نے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے چند ریکارڈ تیار کئے۔ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم” دنیا” تھی جو 1936ء میں لاہور میں بنی تھی۔ بابا چشتی نے کچھ وقت کلکتہ اور بمبئی میں بھی گزارا۔ تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں وہ پاکستان آئے اس وقت تک وہ 17 فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے جن میں فلم سوہنی مہینوال، شکریہ اور جگنو کے نام سرفہرست تھے۔ پاکستان میں بابا چشتی کی پہلی فلم” شاہدہ” تھی یہاں انہوں نے مجموعی طور پر 152 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور 5000 سے زیادہ نغمات تخلیق کئے۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، مندری، لارے، گھبرو، بلو، سسی، پتن، نوکر، دلا بھٹی، لخت جگر، ماہی منڈا، مس 56، یکے والی، گمراہ، خیبر میل، مٹی دیاں مورتاں، سہتی، رانی خان، عجب خان، ڈاچی، چن مکھناں، ماں پتر، قادرا، چن پتر، بھائی چارہ، رب راکھا، غیرت تے قانون، چن تارا اور قاتل تے مفرور شامل ہیں۔ بابا چشتی نے جن گلوکاروں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا ان میں ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، سلیم رضا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، مالا، مسعود رانا اور پرویز مہدی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شاگرد موسیقاروں میں رحمن ورما اور خیام کے نام سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں بابا جی اے چشتی کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطاء کیا گیا، بابا جی اے چشتی 25 دسمبر 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار بابا جی اے چشتی، لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور کے سوڈیوالی قبرستان ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    بابا جی اے چشتی کے ترتیب دیئے گئے مشہور نغمات

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں
    میری چنی دیاں ریشمی تنداں
    چن میرے مکھناں
    تانگے والا خیر منگدا نے

    تفصیل فلمی موسیقی
    اردو ترميم
    سچائی 1949ء
    شاہدہ 1949ء (بہ اشتراک ماسٹر غلام حیدر)
    انوکھی داستان 1950ء
    سسی 1954ء
    طوفان 1955ء
    محفل 1955ء
    نوکر 1955ء
    حقیقت 1955ء
    سوتیلی ماں1956ء
    مس 56 1956ء
    لخت جگر 1956ء
    سردار 1957ء
    نغمۂ دل1959ء
    خان بہادر 1960ء
    خیبر میل 1960ء
    دلِ ناداں 1960ء*
    سلطنت 1960ء*
    بغاوت 1963ء
    پنجابی ترميم
    پھیرے1949ء
    مندری 1949ء
    گھبرو 1950ء
    لارے 1950ء
    بلو 1951ء
    دلبر 1951ء
    بلبل 1955ء
    پتن 1955ء
    ماہی منڈا 1956ء
    گڈا گڈی 1956ء
    مورنی 1956ء
    دلا بھٹی 1956ء
    یکے والی 1957ء
    جگا 1958ء
    جٹی 1958ء
    شیرا 1959ء
    مٹی دیاں مورتاں 1960ء
    رانی خان 1960ء
    آبرو 1960ء
    عجب خان 1961ء
    زرینہ 1962ء
    جمالو 1962ء
    رشتہ 1963ء
    میرا ماہی1964ء
    ڈاچی1964ء
    زمیندار1966ء
    راوی پار1967ء
    چن مکھنا1968ء
    چن ویر1969ء
    خون پسینہ1972ء
    ہیرا 1972ء
    دھرتی دے لال 1974ء
    ماں صدقے 1974ء

    تحریر و تحقیق
    عامر شیرازی
    چیرمین سُر سیئوا پاکستان
    حوالہ جات
    1: ربط : آئی ایم ڈی بی – آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اگست 2019
    2: موسیقار جی اے چشتی کی 20 ویں برسی، ڈان نیوز ٹی وی، پاکستان، 25 دسمبر 2014ء
    3: عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 755، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
    4: تاریخ پاکستان

  • گانا چوری کر کے کمرشل میں شامل کرنا کسکو پڑا مہنگا ؟

    گانا چوری کر کے کمرشل میں شامل کرنا کسکو پڑا مہنگا ؟

    فلم انڈسٹری کے سینئر پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر میاں نوید اختر نے ٹی وی کمرشل میں فلم کا گانا بغیر اجازت استعمال کرنے پر ملک کی مشہور کمپنی میزان کو خط ارسال کردیا ہے جس میں ان خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا گیا ہے۔میاں نوید اختر نے اپنی کمپنی”سکرین ایکسچینج” کی طرف سے میزان گروپ آف آئل کمپنی کے نام خط میں لکھا ہے کہ ان کی کمپنی نے اپنے کمرشل میں فلم”دکھ سجناں دے” کا مشہور ترین گانا”سانوں نہر والے پل تے بلا کے” بغیر اجازت استعمال کیا ہے جس کے تمام قانون حقوق ان کے پاس ہیں۔

    ”ہلچل ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خط میں مزید لکھا گیا کہ مذکورہ فلم کا گانا یا کوئی دوسرا حصہ بغیر اجازت استعمال نہیں کیا جاسکتا” اس کے باوجود میزان کے کمرشل میں ماضی کا یہ مقبول ترین گیت استعمال کیا گیا ہے جو اداکارہ صاحبہ پر شوٹ ہوا اور اس کے لئے کسی سے بھی اجازت نہیں لی گئی۔میاں نوید اختر نے مطالبہ کیا کہ بغیر اجازت گانا استعمال کرنے پر انہیں پانچ لاکھ روپے ادا کئے جائیں ورنہ بصورتِ دیگر کمپنی کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس چوری کے خلاف ایف ائی آر بھی درج کرائی جائیگی .

    تماشا سیزن 2 میں عدنان صدیقی کا رجحان فیضان شیخ کی طرف نمایاں

    انٹرویو کے لئے کالز کرنے والے صحافی اور چینلز شرم کریں صرحا اصغر

    اداکارہ صرحا اصغر کے ساتھ زیادتی کی کوشش،ملزم نے کپڑے پھاڑ دیئے

  • ہمارے ہاں اچھا کام کرنے والوں  کی تعریف نہیں کی جاتی راحت فتح علیخان

    ہمارے ہاں اچھا کام کرنے والوں کی تعریف نہیں کی جاتی راحت فتح علیخان

    معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ ہمارے ملک کے گلوکار بہت اعلی ہیں، ان کا مقابلہ تو پوری دنیا میں کسی سے نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ نصرت فتح علی خان کی ہی مثال لے لیں ان جیسا گلوکار آج تک نہ پیدا ہوا ہے نہ ہی ہوگا. انہوں نے گائیکی کو ہر لحاظ سے نئی جہتوں سے متعارف کروایا. انہوں نے کہا کہ بھارت کی مارکیٹ بڑی ہے ، وہاں پاکستانی گلوکاروں کو یقینا فائدہ ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دونوں‌ممالک کے تعلقات اچھے ہونے چاہیں ، تاکہ کاروباری سلسلہ شروع ہو سکے.

    انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ جو لوگ اچھا کام کررہے ہیں دنیا میں ملک کا نام روشن کررہے ہیں وہ یقینا ہمارے پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کی قدر کی جانی چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو اچھا کام کررہا ہو اس کی تعریف میں ہچکچاہٹ سے کام لیا جاتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اچھا کام کررہا ہے اسکی ہر حال میں تعریف ہونی چاہیے. انہوں نے کہا کہ تعریف کرنے سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور جس کی تعریف کی جاتی ہے وہ مزید اچھا کام کرنے کے لئے پرجوش ہوجاتا ہے.

    گناہ میں رابعہ بٹ اور سرمد کھوسٹ کی جوڑی کی پذیرائی

    بے بی باجی ڈرامہ دلچپسپ موڑ میں داخل

    آرٹسٹ پیسے لیکر شادیوں پر تصویریں بنوانے جاتے ہیں سونیا حسین

  • پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے حمیرا چنا

    پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے حمیرا چنا

    معروف گلوکارہ حمیرا چنا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میں گائیکی سے بالکل بھی دور نہیں ہوئی کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ میرے مداح مجھے سنتے رہیں. انہوں نے کہا کہ موسیقی کو سرحدوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا پاکستانی گلوکاروں کی دنیا میں مقبولیت ان کی بہترین آواز اور عمدہ گائیکی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا جب بھی پاکستانی گلوکار دیار غیر جاتے ہیں ان کی زبردست پذیرائی ہوتی ہے،ہمارے لیجنڈ گلوکاروں کو یہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ہماری موسیقی کو دنیا میں شہرت دلائی اور انھیں مقبول عام کیا،

    اسی جذبہ کی آج بھی ضرورت ہے کہ ہم اپنی موسیقی کو فروغ دینے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے کام کرتے رہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ” مجھے پاکستانی ٹیلنٹ نے ہمیشہ بہت متاثر کیا ہے” نئے لوگ بہت اچھا کام کررہے ہیں. مجھے ہمیشہ ہی میرے جونئیرز نے بہت زیادہ عزت بخشی ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستانی میوزک دنیا بھر میں ایسے ہی مقبول نہیں ہے یہاں باصلاحیت میوزیشن اور گلوکار پائے جاتے ہیں. یاد رہے کہ حمیرا چنا پاکستان کی مقبول ترین گلوکارہ ہیں اور ان کے کریڈٹ پر سپر ہٹ گیت ہیں.

     

    ٹک ٹاکر ہونے کی وجہ سےلوگ ہلکا لیتے تھے رومیصہ خان

    کومل رضوی کی شادی کا مالٹا میں جشن

    الحمراء میں آرٹسٹ سپورٹ فنڈ کے تحت خواتین آرٹسٹوں سے درخواستیں وصول کرنے کے لئے خواتین ڈیسک کا قیام

  • توماج صالحی کو احتجاجی مظاہرین کی حمایت پر 6 سال قید

    توماج صالحی کو احتجاجی مظاہرین کی حمایت پر 6 سال قید

    ایران میں گلوکار توماج صالحی کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین کی حمایت پر 6 سال قید کی سزا سنا دی گئی جبکہ رپورٹ کے مطابق ان کی وکیل روزا اعتماد انصاری نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ گلوکار کو سزائے قید پوری کرنے کے بعد دو سال تک موسیقی سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس عرصے میں وہ ملک بھی چھوڑ کر نہیں جاسکیں گے۔

    صالحی ان ہزاروں نوجوان ایرانیوں میں شامل تھے جو گزشتہ موسم خزاں میں ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سڑکوں پر نکلے تھے جسے ایران کی اخلاقی پولیس نے ملک کے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان کی حراست میں ہی موت ہوگئی تھی۔ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں توماج صالحی نے بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت مخالف بیانات دیے تھے۔
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ ،چار بچوں کی دب جانے کی اطلاع
    ڈالر 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی
    واضح رہے کہ گلوکار و موسیقار پر دیگر کئی الزامات تھے لیکن انہیں ’محارب‘ کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے، عام طور پر اس الزام میں پھانسی کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ توماج پر دیگر الزامات میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی بےعزتی کرنے کا الزام بھی تھا۔ توماج کے پرستاروں نے کئی موقعوں پر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انہیں پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔

  • انڈسٹری میں آیا تو ایک چیز سیکھی کہ کام مانگنے سے ملے گا انو ملک

    انڈسٹری میں آیا تو ایک چیز سیکھی کہ کام مانگنے سے ملے گا انو ملک

    انو ملک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میرے والد ایک بہت اچھے میوزیشن تھے لیکن ان کو کام نہیں ملتا تھا، مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید میرے والد کو اس لئے کام نہیں ملتا تھا کیونکہ میرے والد گھر بیٹھے رہتے تھے کام مانگنے نہیں جاتے تھے۔ میں بہت دکھی ہوجاتا تھا یہ دیکھ کر میرے والد کو کام نہیں ملتا۔ پھر جب میں میوزک کی دنیا میں آیا تو میں نے بھی ابا کی طرح کام کرنا شروع کیا لیکن میں نے ایک چیز محسوس کی کہ کام مانگنے کےلئے باہر نکلنا پڑے گا گھر بیٹھ کر کام نہیں ملے گا۔ میرے والد نہایت ہی محنتی تھی لیکن ان کو کام نہیں ملتا تھا ، یہ چیز میرے دماغ میں بیٹھی ہوئی تھی، میں نے جب کام شروع کیا تو اوپر والے کی اسقدر مہربانی ہوئی کہ میرے پاس نہ صرف کام آیا بلکہ انڈسٹری کے نامور لوگوں
    کے ساتھ کام کیا.

    انو ملک نے کہا کہ مجھے زندگی میں کسی قسم کا پچھتاوا نہیں ہے لیکن یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ کام ہی زندگی ہے اور اچھا کام ہمیشہ یاد رکھا جاتاہے۔ انو ملک نے کہا کہ ”میں آج بھی پیچھے مڑ کر دیکھوں تو کامیابیاں ہی کامیابیاں نظر آتی ہیں” لیکن انڈسٹری میں جگہ بنانے کےلئے جو جدوجہد کا وقت تھا اس کو میں نہیں بھول پایا اور شاید بھول پاﺅں گا بھی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کاش میرے والد کی بھی اس انڈسٹری نے قدر کی ہوتی تو وہ اتنے مایوس نہ رہتے جتنے وہ مایوس تھے۔

    چھ سال کی عمر میں وسیم اکرم کے ساتھ کمرشل کیا علیزے شاہ

    ولن بننا پسند ہے جاوید شیخ

    ایکٹنگ سے قبل ٹیچنگ کی رابعہ نورین

  • فلموں کا میوزک دینا زیادہ اچھا لگتا ہے ساحر علی بگا

    فلموں کا میوزک دینا زیادہ اچھا لگتا ہے ساحر علی بگا

    معروف موسیقار و گلوکار ساحر علی بگا نے کہا ہے کہ جب میں کوئی دھن تیار کر لیتا ہوں تو خود فیصلہ کرتا ہوں دھن کے حساب سے کہ یہ کس کو گانے کے لئے دی جائے، ہمارے پاس نامور اور بہترین گلوکار ہیں جو اچھا گاتے ہیں لیکن میں میرٹ پر فیصلہ کرتا ہوں کہ گانا کس کو دیا جانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ مجھے فلموں کا میوزک تیار کرنا بہت اچھا لگتا ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ عوام جس طرح‌کا میوزک سننا چاہتی ہے میں اسی قسم کا میوزک بنائوں. ساحر علی بگا نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ مزہ راحت فتح علی خان کے ساتھ کام کرنے میں آتا ہے، کیونکہ وہ ان کی تیار کی گئی دھن کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔

     

     

    انہوں نے بتایا کہ راحت فتح علی خان اتنے بڑے گلوکار ہونے کے باوجود تیار کی گئی دھن میں اپنی مرضی سے کوئی تبدیلی نہیں کرتے اور اگر انہیں کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ موسیقار سے مشورہ کرتے ہیں۔موسیقار نے کہا کہ ”میری خواہش ہے کہ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری کا عروج آئے ” اور ہم سب کام کریں، ہمارا میوزک آج بھی ہمسایہ ملک سے بہتر بنتا ہے اور ہمارے پاس بہتر گانے والے ہیں.

    حر اور مانی پہنچے لاہور

    نیمل خاور پھنس گئی مشکل میں

    کام لینے کے لئے 40 آڈیشنز دئیے حمزہ سہیل

  • مسرور انور کی 27 ویں برسی

    مسرور انور کی 27 ویں برسی

    ساٹھ اور 70 کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی ، اور اس عروج میں جہاں فنکاروں کی بہترین اداکاری کا ہاتھ تھا وہیں بہترین میوزک ایک بہت بڑی وجہ تھی کہ شائقین فلمیں دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کیا کرتے تھے. ایک ایسے ہی نغمہ نگار اور لکھاری تھے مسرور انور جن کے لکھے ہوئے گیتوں نے ایک زمانہ اپنے سحر میں مبتلا کیا.آج ان کی 27 ویں برسی منائی جا رہی ہے. مسرور انور نے کئی سپر ہٹ گیت لکھے. گیت لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے متعدد فلموں کے سکرپٹ‌اور مکالمے بھی تحریر کئے. انہوں نے 1962 میں ریلیز ہونے والی فلم بنجارن کے گیت لکھے جو کہ زبان زد عام ہوئے . مسرور انور نے وحید مراد کے ساتھ مل کر ’’فلم آرٹس‘‘ کے نام سے ایک نیا پروڈکشن ہائوس بھی بنایا اس کے تحت بہت ساری سپر ہٹ فلمیں بھی بنیں. فلم آرٹس کی پہلی فلم

    ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کا سکرپٹ اور نغمات مسرور انور نے لکھے اور موسیقی سہیل رعنا نے ترتیب دی۔ اس کے بعد ارمان بنی اس کے گیتوں نے شائقین کو اپنا دیوانہ بنا لیا اس فلم کا ہر گیت آج بھی زبان زد عام ہے. اس کے بعد بے شمار فلمیں (ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، دوراہا، دل میرا دھڑکن تیری، عشق حبیب، پھول میرے گلشن کا، جب جب پھول کھلے، محبت زندگی ہے، صاعقہ، قربانی، تلاش اور ہم دونوں) بنیں اور مسرور انور نے سکرپٹ لکھنے کے ساتھ گیت بھی لکھے. مسرور انور نے بھرپور کامیاب زندگی گزاری لیکن 1996 کو اج ہی کے دن اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ‌ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے.