Baaghi TV

Tag: musician

  • نامور  نغمہ نگار فیاض ہاشمی کا جنم دن

    نامور نغمہ نگار فیاض ہاشمی کا جنم دن

    اردو کے نامور پاکستانی شاعر، نغمہ نگار اور لازوال گیتوں کے خالق فیاض ہاشمی 18اگست 1920ءکو کولکتہ میں پیدا ہوئے*۔ ان کے والد سید محمد حسین ہاشمی دلگیرتھیٹر کے معروف ہدایتکار اور شاعر تھے اور اپنے زمانے کے مشہور تھیٹر گروپ مدن تھیٹر لمیٹڈ سے وابستہ تھے، فیاض ہاشمی نے نہایت کم عمری سے گرامو فون کمپنیوں سے وابستہ ہو کر ان کے لئے نغمہ نگاری شروع کردی تھی۔

    1956ءمیں انہوں نے فلمی دنیا سے مستقل وابستگی اختیار کرلی۔ پاکستان میں بطور نغمہ نگار ان کی پہلی فلم دوپٹہ اور انوکھی اور آخری فلم دیوانے تیرے پیار کے تھی۔ انہوں نے جن مشہور فلموں کے نغمات تحریر کیے ان میں بیداری، سویرا، اولاد، سہیلی، رات کے راہی، پیغام، داستان، شبنم، ہزار داستان، دال میں کالا، دیور بھابھی، دل کے ٹکڑے، پیسے، چودھویں صدی، ظالم، گہرا داغ، صنم، توبہ، لاکھوں میں ایک، کون کسی کا، تقدیر، عالیہ، پھر صبح ہوگی، رشتہ ہے پیار کا، بہن بھائی، شریک حیات، عید مبارک، زمانہ کیا کہے گا، آشیانہ، بزدل، پازیب، نہلا پہ دہلا، لو ان جنگل، انجمن، رنگیلا، آوارہ، جاسوس، خدا اور محبت اور نشیمن کے نام سرفہرست ہیں۔

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    انہوں نے جو پہلا نغمہ لکھا وہ طلعت محمود نے 1941ء میں گایا۔ اس کے بعد طلعت محمود نے فیاض ہاشمی کا وہ گیت گایا جس نے انہیں عروج پر پہنچا دیا۔ یہ گیت تھا.

    تصویر تیری دل مرا بہلا نہ سکے گی
    میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی

    ان کے لکھے ہوئے گیتوں نے متعدد فنکاروں کو شہرتِ دوام بخشی اور بلاشبہ وہ گیت نگاری کے بادشاہ قرار پائے۔

    ذرا یہ گیت بھی ملاحظہ کریں
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
    اسے سب سے پہلے حبیب ولی محمد اور پھر فریدہ خانم نے گایا۔
    میں فیاض ہاشمی کے گیت ہوتے تھے اور ہر بڑا موسیقار یہ چاہتا تھا کہ فیاض ہاشمی اس کیلئے گیت لکھیں۔
    ایک اور گیت ملاحظہ کریں
    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
    یہ گیت نامور گلوکار ایس بی جون کی شہرت کا باعث بنا۔
    ان کے دیگر مشہور فلمی نغمات بھی آ ج تک زبان زد عام ہیں
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے(گلو کارہ نور جہاں، فلم لاکھوں میں ایک)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے(گلو کار، مہدی حسن، فلم داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے(گلو کار مہدی حسن، فلم دیور بھابھی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا(گلو کار ،مہدی حسن، فلم نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھارے بالم(گلو کارہ نور جہاں، فلم سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا(گلو کارہ ناہید اختر، فلم جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے(گلو کار مہدی حسن / مالا، فلم شب بخیر)
    رات سلونی آئی(گلو کارہ ناہید نیازی، فلم زمانہ کیا کہے گا)
    فیاض ہاشمی کے لکھے ملی نغمات نے بھی دھوم مچائی
    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران،
    اے قائد اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان۔
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے۔
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام۔
    انہوں نے 1968ء میں فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کا یہ لازوال گیت’’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘‘ لکھنے پر نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ تین گریجویٹ ایوارڈ بھی حاصل کئے۔
    انہوں نے مجموعی طور پر 122 فلموں میں نغمہ نگاری کی، 482 فلمی گیت تحریر کیے اور 24 فلموں کی کہانی اور مکالمے تحریر کیے۔فیاض ہاشمی 29نومبر 2011ءکو کراچی میں وفات پاگئے۔

  • ساحر علی بگا بھی فلم میکنگ کی دنیا میں آگئے

    ساحر علی بگا بھی فلم میکنگ کی دنیا میں آگئے

    نامور میوزیشن اور گلوکار ساحر علی بگا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہوں، میرے پاس فلم کے بہت موضوعات موجود ہیں، کچھ لکھے ہوئے بھی ہیں اور میں رواں برس باضابطہ طور پر فلم کا نام بھی ظاہر کروں گا۔ گلوکار کا کہنا ہےکہ یہ فلم قومی سطح کی ہوگی جس میں حب الوطنی کے جذبے کو پروموٹ کیا جائے گا، فلم جب بن کر سینما گھروں کی زینت بنے گی تو دیکھنے والوں کو مزہ آئے گا۔ اس موقع پر ساحرعلی بگا کے بیٹے اذان علی بگا نے کہاکہ اگر ان کے والد نے انہیں فلم میں کوئی کردار دیا تو وہ ضرور کریں گے۔

    یاد رہے کہ ساحر علی بگا کا شمار ملک کے نامور میوزیشن اور گلوکاروں میں ہوتا ہے انہوں نے آئی ایس پی آر کے لئے بھی گیت بنائے ہیں۔ ساحر علی بگا نے حال ہی میں اپنے بیٹے کو لانچ کیا ہے ، ان کا بیٹا بھی ایک منجھا ہوا گلوکار ہے۔ ساحر علی بگا نے خود بھی کئی گانوں میں اداکاری کی ہے ”دیکھنا یہ ہے کہ ساحر علی بگا اگر کوئی فلم بناتے ہیں تو اس میں خود کو ہیرو لیتے ہیں یا اپنے بیٹے کو ہیرو لیتے ہیں” یا کسی نامور ہیرو کو لیکر فلم بنانے کا تجربہ کرتے ہیں۔ ساحر علی بگا نے فلم بنانے کا اعلان کر تو دیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک فلم شروع کریں گے، یا کس کو اپنی فلم کا ہیرو اور ہیروئین لیں گے۔

    سنیل شیٹی کو کسانوں سے معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    جنت مرزا پولیس آفسیر کیوں بننا چاہتی تھی ؟

    خواہش ہے میری اولاد میرے شوہر جیسی خصوصیات کی حامل ہو زارا نور عباس

  • سنیل شیٹی کو کسانوں سے معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    سنیل شیٹی کو کسانوں سے معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    بالی وڈ کے معروف اداکار سنیل شیٹی اکثر و بیش تر خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں اور کوئی ایسا بیان نہیں دیتے کہ جس کے بعد ان کی شامت آجائے ، لیکن حال ہی میں وہ ایک بیان دے بیٹھے ہیں جس میں انہوں نے ٹماٹر کی بڑھتی قیمتوں پر بات کی ، اس پر کسان برادری بھڑک اٹھی ، اس کے بعد سنیل شیٹی کو معافی مانگنی پڑ گئی انہوں نے کہا ہے کہ میں کسانوں کو سپورٹ کرتا ہوں، میرا ان سے متعلق کوئی منفی زاویہ نہیں ہے۔ میں نے تو ہمیشہ ان کی سپورٹ میں کام کیا ہے۔

    ان سے یہ بھی کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ”ہم لوگ اپنے کسانوں اور اپنی دیسی اشیا کو فروغ دیں”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کی معافی مانگتا ہوں میں کسانوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سنیل شیٹی اس وقت تنقید کی زد میں آئے تھے جب ان کی بیٹی کی شادی ہوئی ، شادی کے حوالے سے ان کی بیٹی کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ جس پر سنیل شیٹی کو وضاحت دینا پڑی کہ ایسا انہیں ہے۔

    گیت رم جھم گرے ساون اس بار نئے انداز سے

    فیروز خان نے بچوں سے دوری کی وجہ خود کو قرار دیدیا

    لوگ مجھے میرے بیٹے کی گرل فرینڈ سمجھتے ہیں شائستہ لودھی

  • فلموں کا میوزک دینا زیادہ اچھا لگتا ہے ساحر علی بگا

    فلموں کا میوزک دینا زیادہ اچھا لگتا ہے ساحر علی بگا

    معروف موسیقار و گلوکار ساحر علی بگا نے کہا ہے کہ جب میں کوئی دھن تیار کر لیتا ہوں تو خود فیصلہ کرتا ہوں دھن کے حساب سے کہ یہ کس کو گانے کے لئے دی جائے، ہمارے پاس نامور اور بہترین گلوکار ہیں جو اچھا گاتے ہیں لیکن میں میرٹ پر فیصلہ کرتا ہوں کہ گانا کس کو دیا جانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ مجھے فلموں کا میوزک تیار کرنا بہت اچھا لگتا ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ عوام جس طرح‌کا میوزک سننا چاہتی ہے میں اسی قسم کا میوزک بنائوں. ساحر علی بگا نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ مزہ راحت فتح علی خان کے ساتھ کام کرنے میں آتا ہے، کیونکہ وہ ان کی تیار کی گئی دھن کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔

     

     

    انہوں نے بتایا کہ راحت فتح علی خان اتنے بڑے گلوکار ہونے کے باوجود تیار کی گئی دھن میں اپنی مرضی سے کوئی تبدیلی نہیں کرتے اور اگر انہیں کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ موسیقار سے مشورہ کرتے ہیں۔موسیقار نے کہا کہ ”میری خواہش ہے کہ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری کا عروج آئے ” اور ہم سب کام کریں، ہمارا میوزک آج بھی ہمسایہ ملک سے بہتر بنتا ہے اور ہمارے پاس بہتر گانے والے ہیں.

    حر اور مانی پہنچے لاہور

    نیمل خاور پھنس گئی مشکل میں

    کام لینے کے لئے 40 آڈیشنز دئیے حمزہ سہیل

  • موسیقار نثار بزمی کی آج 16 ویں برسی

    موسیقار نثار بزمی کی آج 16 ویں برسی

    پاکستان کے معروف موسیقار نثار بزمی کو ہم سے بچھڑے 16 برس بیت گئے ہیں آج ان کی 16 ویں برسی ہے. ان کا اصل نام سید نثار احمد تھا. نثار بزمی کے والد سید قدرت علی کا تعلق موسیقی سے نہ تھا لیکن بچپن سے ہی نثار بزمی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے۔ ان ہی کی رفاقت کی وجہ سے 13 سال کی عمر میں نثار بزمی بہت سے راگوں پر عبور حاصل کر چکے تھے۔1962میں نثار بزمی پاکستان آئے۔ بمبئی میں وہ ایک نام ور موسیقار شمار ہوتے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال جیسے میوزیشن اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے۔پاکستان آئے تو اس وقت
    خواجہ خورشید انور اور رشید عطرے ، بابا جی اے چشتی، فیروز نظامی، رابن گھوش، ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداللہ، سہیل رعنا اور حسن لطیف پہلے سے کام کررہے تھے ،یوں معروف موسیقاروں کے اس جھرمٹ میں اپنے لیے جگہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انہوں نے اپنے فن کا

    لوہا منوایا . فلم ہیڈ کانسٹیبل کے لئے موسیقی ترتیب دی تو اس کے بعد اہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا لاکھوں میں ایک کی موسیقی ترتیب دی جو کہ بہت پسند کی گئی اس کے بعد نثار بزمی کو موسیقی کے میدان میں پچھاڑنا اب دوسروں کے لئے آسان نہ رہا. انہوں نے رنجیشیں ہی سہی دل ہی دکھانے آ، دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، اک ستم اور سہی جیسے بے شمار گیتوں کی موسیقی ترتیب دی اور نام کمایا. آج بھی مداح ان کی دھنوں کو سنتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں.