Baaghi TV

Tag: natasha ali

  • نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    اے آر وائی پر چلنے والا رئیلٹی شو تماشا گھر جو کہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اس میں‌دو بڑے اور اہم کنٹسیٹنس حال ہی میں‌بے گھر ہو گئے ہیں علی سکندر اور اداکارہ نتاشا علی . نتاشا علی نے اپنی گیم بہت ہی اچھے انداز سے کھیلی ، انہوں نے گھر میں کبھی بہت زیادہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا تو کبھی وہ اپنا ٹیمبپر لوز کر جاتیں. نتاشا علی جیسے ہی گھر سے بے گھر ہوئیں تو علی سکندر کے بھائی آغا علی نے ان کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ” آپ گھر میں کونٹینٹ کی کوئین تھیں، آپ نے بہترین انداز سے گیم کھیلی اور سب سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ آپ جیسی ہیں ویسی ہی رہیں آپ رئیل رہیں فیک نہیں بنیں ،

    بہت زبردست نتاشا آپ پہلے ہی جیت چکی ہو، گھر سے نکلنا معنی نہیں رکھتا”. یوں ”علی سکندر نے خوبصورت الفاظ میں نتاشا علی کی حوصلہ افزائی کی.” یاد رہے کہ اس بار تماشا گھر میں جتنے بھی کنٹیسٹنس ہیں وہ سب ہی بہت مضبوط ہیں کوئی فی الحال یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کون ہو گا شو کا ونر. تماشا گھر انڈین رئیلٹی شو بگ باس کی کاپی ہے اور عدنان صدیقی گھر والوں کے لئے بادشاہ ہیں.

    ویلکم کے تیسرے حصے میں نانا پاٹیکر کیوں نہیں ؟ اداکار نے بتا دیا

    عمارہ حکمت نے لکس ایوارڈز میں مولا جٹ کو کیوں نہیں بھیجا؟‌

    ڈرامہ سیریل جنت سے آگے تنقید کی زد میں‌کیوں‌؟‌

  • کیرئیر بنانے کے چکر میں 9 ویں جماعت میں‌ فیل ہو گئی

    کیرئیر بنانے کے چکر میں 9 ویں جماعت میں‌ فیل ہو گئی

    اداکارہ نتاشا علی جو کافی عرصے سے سکرین سے غائب ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ میں نے جب اداکاری شروع کی تو میری والدہ نے بالکل میرا ساتھ نہیں دیا، بلکہ مجھ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی، انہوں نے کہا کہ اپنا کیرئیر بنانے کے لئے مجھے بہت ساری مشکلات کا سامنا رہا، میں جب نویں جماعت میں تھی تواداکاری کے شوق کی وجہ سے میں نے دو ڈرامے ایک ساتھ سائن کر لئے یوں میں کافی مصروف تھی ، نویں جماعت کے امتحان

    میرے سر پر تھے لیکن ڈرامے سائن کر چکی تھی ان میں کام کررہی تھی، ہوا یہ کہ میں فیل ہو گئی ۔ مجھے بہت افسوس ہواکہ میں فیل ہو گئی ، میں کبھی بھی اپنی پڑھائی نہیں چھوڑنا چاہتی تھی اس لئے میں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ پڑھائی کو جاری رکھا اور بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ انسان اگر چاہیے تو وہ جو جو بھی کرنا چاہتا ہے کر سکتاہے ، میں نے ایکٹنگ بھی کی اور پڑھائی بھی مکمل کی اور اپنی والدہ کو بھی راضی کر لیا، آج میری والدہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں اور میرے اداکاری میں آنے کے فیصلے کو ٹھیک قرار دیتی ہیں۔ میں نے کبھی بھی اپنے گھر والوں کی امیدوں اور غرور کو نہیں توڑا۔

  • کس اداکارہ کا انٹرویو لینا مشکل کام تھا نتاشا علی نے بتا دیا

    کس اداکارہ کا انٹرویو لینا مشکل کام تھا نتاشا علی نے بتا دیا

    اداکارہ نتاشا علی جو کئی سال کے بعد ایک بار پھر شوبز میں متحرک دکھائی دے رہی ہیں، انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جہاں میں نے بہت سارے ڈراموں میں کام کیا وہیں کچھ پروگراموں کو بھی ہوسٹ کیا۔ میں ایک پروگرام کیا کرتی تھی جس میں سلیبرٹیز کا انٹرویو کرنا ہوتا تھا، ایک بار مجھے میری ہی بہترین دوست زارا شیخ کا انٹرویو کرنا تھا ، لہذا میں بہت خوش تھی کہ میری دوست کو میں انٹرویو کرنے جا رہی ہوں۔ لیکن میں یہ بھول گئی کہ وہ تو بہت کم گو ہیں، خیر ہوا یہ کہ وہ آئیں تو تین گھنٹے انہوں نے تیار ہونے میں لگائے، جب تیار ہو کر سیٹ پر آکر بیٹھ گئیں تو ان سے میں نے سوال کرنے شروع کئے تو وہ ایک مختصر سا جملہ بول کر خاموش ہو جاتیں جس کی وجہ سے مجھے لمبے لمبے سوال کرنے پڑے ، لیکن لمبے لمبے سوال کرنے کے باوجود وہ کچھ نہیں

    بول رہیں تھیں، لہذا میرے لئے میری ہی دوست زارا شیخ کا انٹرویو کرنا نہایت ہی مشکل کام رہا یاد رہے کہ زارا شیخ اس وقت فلموں میں آئیں جب پاکستان فلم انڈسٹری اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ، تاہم ان کو آتے ہی شہرت مل گئی جس کے بعد وہ کئی کمرشلز اور پرائیویٹ سانگز کی وڈیوز میں نظر آئیں، انہوں نے کافی عرصے کے بعد ڈرمہ رقص بسمل میں کام کیا اور انہیں ایک بار پھر ان کے مداحوں نے بے حد سراہا، زارا شیخ کا کہنا ہے کہ وہ کام کرنا چاہتی ہیں ان کو اگر فلموں اور ڈرموں کے لئے اچھے سکرپٹ ملے تو وہ مزید بھی کام کریں گی ۔

  • نتاشا علی کی والدہ نے ان سے دو سال بات کیوں‌ نہیں کی

    نتاشا علی کی والدہ نے ان سے دو سال بات کیوں‌ نہیں کی

    اداکارہ نتاشا علی نے کہا ہے کہ میں نے جب شوبز انڈسٹری جوائن کر لی تو دو سال تک میری ماں نے مجھ سے بات نہیں کی تھی، وہ نہیں‌چاہتی تھیں کہ میں شوبز میں آئوں. ان کو غصہ تھا کہ میں نے ان کی بات نہیں‌مانی. دو سال تک تو یہ سلسلہ رہا کہ میں جب بھی گھر جاتی اور امی کھانا کھا رہی ہوتیں تو وہ کھانا کھا کر جلدی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جاتیں اور مجھ سے بات ہی نہ کرتیں ، پھر جب میں کراچی شفٹ ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ یہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے اس کے باوجود اسکی شکایت نہیں آتی تو اسکا مطلب یہ ہے کہ میری بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرتی نہ ہی کسی ایسے کام میں پڑی ہے. انہوں‌نے کہا کہ اس کے بعد میری ماں میرے ساتھ کچھ ٹھیک ہونا

    شروع ہوئیں ، میں نے امی کو سونے کے کنگن بنا کر دئیے. انہوں نے کہا کہ اگر شوٹ ہو تو روزانہ گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے لیکن اگر شوٹ نہ ہوتو پھر میں‌گھر پر رہنے کو ترجیح دیتی ہوں، ٹی وی دیکھنا ، الماری ٹھیک کرنا ، کھانا کھانا ، یہ سب کرنے میں بہت مزا آتا ہےحالانکہ بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں‌کہ ہم تو گھر بیٹھ ہی نہیں سکتے لیکن میں ایسا نہیں کہتی بلکہ میں تو گھر پر رہنا ہی پسند کرتی ہوں.