Baaghi TV

Tag: National Assembly

  • سپیکر قومی اسمبلی  کا محمد مشتاق کو صدارتی ایوارڈ برائے تمغہ امتیاز حاصل کرنے پر مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی کا محمد مشتاق کو صدارتی ایوارڈ برائے تمغہ امتیاز حاصل کرنے پر مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی محمد مشتاق کو صدارتی ایوارڈ برائے تمغہ امتیاز حاصل کرنے پر مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی ملک کا سب سے اہم آئینی ادارہ ہے اور اس کے افسران و اہلکار اس ادارے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ اس ادارے کے افسران اپنے تجربے اور صلاحیتوں کی بدولت نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی محمد مشتاق کو پاکستان کے 76ویں یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت کی جانب سے تغمہ امتیاز حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ محمد مشتاق جیسے قابل اور فرض شناس افسر دیگر تمام افسران و عملے کے لیے مشعل راہ ہیں، جہنوں نے اپنی صلاحیتوں کی بدولت اپنے ادارے اور معاشرے میں منفرد مقام حاصل کیا ہے جبکہ سپیکر نے قانون سازی کے شعبے میں ادارے کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے محمد مشتاق کی خدمات کی خصوصی تعریف کی۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کو ان کی شاندار کارکردگی اور اس ادارے اور ملک کے لئے ان کی خدمات پر فخر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان
    سپیکر نے امید کا اظہار کیا کہ محمد مشتاق سمیت اس ادارے کے دیگر افسران ملک اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے بہترین مفاد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ علاوہ ازیں سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین نے بھی ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق کو صدارتی ایوارڈ برائے تغمہ امتیاز ملنے پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری قانون سازی محمد مشتاق نے قومی اسمبلی میں اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا محمد مشتاق دیگر افسران اور عملے کے لیے مشعل راہ ہیں۔

  • قومی اسمبلی؛ 5 سالہ کارکردگی پر فافن رپورٹ جاری

    قومی اسمبلی؛ 5 سالہ کارکردگی پر فافن رپورٹ جاری

    فافن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے 15 ویں قومی اسمبلی کو پیچیدہ سیاسی،اقتصادی،عدالتی اور آئینی چیلنجز کا سامنا رہا، قومی اسمبلی نے تمام تر چیلنجز کا بھرپور سامنا کیا، 3سابق اسمبلیوں سے زیادہ قانون سازی کی اور 322 قوانین پاس کئے جبکہ اس اسمبلی نے بہت بڑی تعداد میں نجی بل بھی پاس کئے جن کی تعداد 99 رہی۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے کامیاب تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیراعظم کواقتدار سےالگ کیا، 15 ویں اسمبلی 1977 کے بعد وزیراعظم کی رضاکارانہ تحلیل کی گئی پہلی اسمبلی تھی، پی ڈی ایم حکومت کے 16 ماہ میں مجموعی قانون سازی کا 54 فیصد کیا گیا،پی ٹی آئی کی حکومت کے ساڑھے 3 سال میں 46 فیصد قانون سازی کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے 52 اجلاسوں میں 1310 گھنٹے 47 منٹ کارروائی ہوئی، سابق وزیراعظم نے 9 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی، وزیراعظم کے طور پر شہباز شریف 17 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے، بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف27 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے 108 اجلاسوں میں 131 مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی، 5 سال میں کورم نہ ہونے کی وجہ سے 96 مرتبہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا، قومی اسمبلی اجلاسوں میں 74 مرتبہ ایوان کے اندر احتجاج کیا گیا، ان احتجاجوں کا دورانیہ 34 گھنٹے 54 منٹ رہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    رپورٹ کے مطابق اسمبلی نے تعلیم و تحقیق بارے 69 بل پاس کئے تھے، اعلی تعلیم و تحقیق کے 62 اداروں کو چارٹر دینے کے بل پاس کئے گئے جبکہ فیٹف قواعد، کاروباراورمعیشت کےحوالے سے 63 بل پاس کئے گئے اور اعلیٰ و ضلعی عدلیہ کے حوالے سے 33 قانون پاس کئے گئے۔ واضح رہے کہ اسمبلی نے مختلف ایشوز پر 152 قراردادیں منظور کیں، اجلاسوں میں 9775 سوالات اور 423 توجہ دلاؤ نوٹس پوچھے گئے، اجلاس کے آغاز میں قومی ترانہ اور ایک حدیث کو لازم قراردیا، 5 سال میں 7 کوچھوڑ کر تمام ارکان نے کسی نہ کسی طور کارروائی میں حصہ لیا۔

  • اسپیکر قومی اسمبلی کا 76ویں یوم آزادی پر اہم  پیغام

    اسپیکر قومی اسمبلی کا 76ویں یوم آزادی پر اہم پیغام

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان کے 76 یوم ازادی کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جش آزادی کی مبارکباد دیتے ہو کہا کہ بلا شبہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اللہ تعالٰی کا خاص شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس عظیم نعمت کبریٰ سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح، مفکر پاکستان علامہ اقبال اور اپنے آباؤ اجداد کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی انتھک محنت قربانیوں کی بدولت ہمیں یہ عظیم ملک حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ اس عظیم نعمت کبریٰ کی قدر کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد اور بانیان پاکستان کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد فضاوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک خدا داد پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے لاکھ ماؤں، بہنوں اور بزرگوں نے قربانیاں دی ہیں۔

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ قیام پاکستان کا مقصد اسلامی اقدار اور روایات کے پیش نظر ایسا جمہوری نظام قائم کرنا تھا جہاں انصاف برابری اور حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر خدا کا شکر ہے کہ ہم صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں۔انہوں نے کہ کہا کہ گزشتہ حکومت نے 16 ماہ کے قلیل عرصے میں ملک کو درپیش سنگین سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجرز کو بڑی حد تک خوش اسلوبی سے حل کیا ہے، مگر ابھی بھی ترقی اور خوشحالی کی منزل دور ہے جس کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں سیاست سے بالا تر ہو کر آپس کے اختلاف کو بھلا کر ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ من حیث القوم ہمیں نفرت اور شدت پسندی کو ترک کر کے جمہوری روایات کو اپنا کر اگے بڑھنا ہوگا، تاکہ ہم اس ملک کی تکمیل کو صحیح معنوں میں عمل میں لا سکیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا اور جو قائد اعظم نے ہمارے آباؤاجداد کے ساتھ مل کر ہمارے لیے حاصل کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تجدید عہد کرنا ہو گا بطور پاکستانی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 14 اگست، 1947 کے جذبے کو دہراتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جش آزادی کے پر مسرت موقع پر ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہیے، جو گزشتہ سات دہائیوں سے آزادی کی نعمت کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لیے جاری جدو جہد کی تمام علاقائی اور عالمی فورمز پر سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تر تنازعات کا پرامن اور پائیدار حل کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں بسنے والے شہریوں کو آزادی کی نعمت جو ان کا بنیادی حق ہے سے محروم رکھنا دنیا کے جدید اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست، 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کو صلب کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے شہری دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل میں پابند سلاسل ہیں۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے متنازعہ مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے بنیادی حق آزادی کو تسلیم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پر امن حل خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

  • اسپیکر قومی اسمبلی کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات

    اسپیکر قومی اسمبلی کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے جبکہ اس ملاقات میں موجودہ اہم سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو گزشتہ 16 ماہ کے دوران ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے چلانے پر مبارکباد پیش کی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں پارلیمانی نظام کو آگے بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ 15 ویں قومی اسمبلی کی تکمیل بھی اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 ویں قومی اسمبلی کی تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور جمہوری اقدار کو فروغ ملا ہے۔انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمان میں نئی پارلیمانی روایت قائم کر کہ ایوان میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے الوداعی ملاقاتوں کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ نئی پارلیمانی روایات سے پارلیمنٹ میں موجود پارٹی لیڈران کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا جمہوری انداز میں اختتام ایک اچھا شگون ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے تعریفی کلمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور موجودہ اسمبلی میں بھرپور اور مثبت کردار ادا کرنے اور ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں انہیں یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک زیرک سیاستدان اور قابل رہنما ہیں جنہوں نے ملک کے مشکل حالات میں حکومت چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے بھرپور رہنمائی کی۔

  • دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ؛ قانون کی حکمرانی میں ترقی ہے. اسپیکر

    دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ؛ قانون کی حکمرانی میں ترقی ہے. اسپیکر

    سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا پاکستان کی دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیغام میں کہنا تھا کہ پارلیمان کی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی میں ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے. جبکہ سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی میں ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں پارلیمان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں کیا۔

    اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے تسلسل اور جمہوریت کی مضبوطی ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی آئین و قانون کی حکمرانی کے بغیر ملکی تعمیر وترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے پارلیمان نے موثر قانون سازی کے ذریعہ اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ موثر قانون سازی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 15 قومی اسمبلی نے ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کو شیان شان طریقے سے منایا اور خواتین بچوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقات کے لیے پارلیمان کے دروازے کھولے گئے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے اس موقع پر قومی اسمبلی کے ایوان میں بچوں، خواتین، عام آدم حتی کہ خواجہ سراؤں کو بھی اپنا خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان تقریبات کو منانے کا مقصد پارلیمان اور آئین کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان 23 کروڑ عوام کی دانشگاہ اور عوام کی امنگوں کا محور ادارہ ہے اور اس ادارے میں عوامی نمائندوں کی اجتماعی سوچ کے ذریعے ملک اور قوم کو درپیش کو حل کے لیے قانون سازی اور پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ 15 قومی اسمبلی جمہوری انداز میں اپنی مدد پوری کر رہی ہے اور اس اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی اور نئی جمہوری روایات قائم کی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    سپیکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ منتخب ہونے والی پارلیمان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے مسائل کو حل کرنے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ جبکہ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا کہ پارلیمان کی مضبوطی اور ملک میں جمہوریت کا تسلسل ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوامی امنگوں کا آئینہ دار ادارہ ہے، اور پالیمان کے ذریعے موثر قانون سازی کر کے ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے. اسپیکر قومی اسمبلی کا سمر انٹرن شپ پروگرام سے خطاب

    نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے. اسپیکر قومی اسمبلی کا سمر انٹرن شپ پروگرام سے خطاب

    اسپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ ہاؤس میں سمر انٹرن شپ پروگرام کے اختتامی اجلاس کے شرکاء سے خطاب میں کہنا تھا کہ نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار ہیں ان کی بہترین تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ نوجوان قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔قوم کو اپنے مستقبل کے ان معماروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔قوم کی توقعات پر پورا اترنے اور ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور محنت کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تقریباً گزشتہ دو ماہ سے جاری پارلیمنٹ ہاؤس میں سکول اور کالجز کے طلباء کے لیے سمر انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے انٹرن شپ پروگرام میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات سے کہا کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان خوش قسمت ہین کہ انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ملک مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔انہوں نے فرضی (موک) پارلیمنٹ میں نوجوان انٹرن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان انٹرن نے انتہائی احسن طریقے سے موک پارلیمنٹ کی کارروائی چلائی اور بحث میں حصہ لیا جو انتہائی متاثر کن تھی اور حقیقت پارلیمنٹ کی کارروائی محسوس ہو رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سمر انٹرن شپ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو اپنے ملک کی پارلیمان سے متعلق معلومات اور آگاہی فراہم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ کل آپ نے اس ملک کی قیادت کو سنبھالنا ہے اور اسی باہمی احترام کے جذبے اور صبرو تحمل کا مظاہرہ آج اس موک پارلیمنٹ میں کیا گیا سے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔انہوں نے انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء کو ملک کے مثبت تشخیص کو اجاگر کرنے اور ملک کے حق میں جو بات آئے اسے بھرپور انداز میں دوسروں تک پہچانے اور ملکی قوانین، آئین اور پارلیمان کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے موک پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کی۔

    جبکہ قبل ازیں سمر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء نے ایک موک پارلیمنٹ کے اجلاس کا اہتمام کیا جس میں انٹرنز نے اسپیکر، وزیراعظم، وفاقی وزراء وزیر قانون، اپوزیشن لیڈر کے طور پر کردار ادا کیا۔اجلاس میں بچوں کے مسائل اور قانون سازی سے متعلق امور کو زیر بحث لایا گیا۔اس فرضی (موک) پارلیمنٹ کی مشق کا مقصد نوجوانوں میں پارلیمان سے متعلق شعور کو اجاگر کرنا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    ترجمان نے بتایا کہ تقریب میں صدارتی ایوارڈ یافتہ سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے بھی شرکت کی جو 1975 سے پارلیمنٹ کی کاروائی کو کور کرتے رہے ہیں اور پریس گیلری کے سب سے پرانے ممبر ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمان کیلئے ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔تقریب کے آخر میں اسپیکر قومی اسمبلی نے سمر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء کو سرٹیفیکیٹ بھی دیے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے سمر انٹرن شپ پروگرام کے منتظمین خصوصاً خصوصی اقدامات ونگ کی کاوشوں کو سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سمر انٹرن شپ سمیت اس طرح کے دیگر پروگرام خصوصاً نوجوانوں میں پارلیمان اور قانون سازی سے متعلق آگاہی میں معاون ثابت ہونگے۔

  • قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظورکثرت رائے سےمنظور کرلیا۔

    قومی اسمبلی میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جس کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ جبکہ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

    آرمی ترمیمی بل کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفیٰ ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    ترمیمی بل کے مطابق حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ بل میں کہا گیا ہےکہ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔

  • وزیر داخلہ نے اسمبلی تحلیل ہونے کی تاریخ بتادی

    وزیر داخلہ نے اسمبلی تحلیل ہونے کی تاریخ بتادی

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے اسمبلی تحلیل کرنے کی تاریخ بتادی ہے جبکہ انہوں نے کہا ہے کہ نواگست کی رات اسمبلی تحلیل کردیں گے اور انتخابات کو کسی سازش یا خاص مقصد کے تحت آگے نہیں بڑھایا جائے گا جبکہ وزیر خزانہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈارکا نام ن لیگ نے نہیں دیا بلکہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ نگراں وزیراعظم سیاستدان ہوگا۔

    معروف صحافی ندیم ملک کیساتھ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بینظیربھٹوکی شہادت کےڈھائی،3ماہ بعدالیکشن ہوئےتھے،کسی سازش کےتحت الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے،ایسا نہیں ہوسکت اکہ حکومت3ماہ کی چھٹی پرچلی جائے،ملک میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے،مردم شماری کی ویری فکیشن بہت ضروری ہے،مردم شماری نوٹیفائی ہونے سے مزید تنازعات جنم لیں گے،بلوچستان کےدوست کہہ رہےہیں ہماری آبادی کو صحیح نہیں گناجاتا، مردم شماری میں سب سےبڑا اعتراض کراچی کی آبادی کا تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب کی140سیٹیں ہیں،275کےہاؤس میں سادہ اکثریت سےزیادہ بنتی ہیں،صوبوں کوجودےدیاگیاوہ واپس نہیں لیاجاسکتا،صوبے ریونیو کلیکشن مزید بہتر کریں، ریونیوکلیکشن کانظام تباہی کررہا،ٹیکس لینےمیں زیادتی ہورہی ہے،ٹیکس لینےوالا 50 ہزار کیلئےلاکھ کی جگہ10لاکھ نوٹس کاکہتاہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نےاسحاق ڈارکانام نگراں وزیراعظم کیلئےنہیں دیا،اسحاق ڈار،رضاربانی سمیت کسی سیاستدان کانام ہوسکتاہے،ٹیکنوکریٹ کبھی نیوٹرل نہیں ہوتے، نگراں وزیراعظم سیاست دان کوہوناچاہیے،ہم نےجونام دینےہیں وہ سب دیکھ بھال کردینے ہیں،راجاریاض مہرلگادیں گےتواتحادی نگراں وزیراعظم کےمعاملےکاجائزہ لیں گےراجا ریاض فیصل آبادمیں اچھےامیدوارہیں،ان پرکوئی الزام نہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب الیکشن پہلےہوجاتاتویہ عام انتخابات کوبےمعنی کردیتا،یہ لوگ کے پی میں نہیں،صرف پنجاب میں الیکشن کراناچاہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی پنجاب میں الیکشن کراکرملک کونقصان پہنچاناچاہتاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی سیاست میں فتنے،فساد کے طورپرنمودارہوا،چیئرمین پی ٹی آئی مخالفین کوختم کرناچاہتاتھا،کہتاتھامخالفین سےبات کرنےسےبہترہےمرجاؤں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوگرفتارکرنےسےبہترہے کیسزمیں ان کاٹرائل ہو،اس نےملک کی سیاست کوتباہ کردیا،سانحہ9مئی پرلوگوں کومعافی مانگنی چاہیے،چیئرمین پی ٹی آئی نے آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کی،ان کاکیس فوجی عدالت میں چلےگا،ان پرآرمی ایکٹ کےعلاوہ کوئی دوسراجرم نہیں لگتا،چیئرمین پی ٹی آئی نےجوجرم کیااس کی سزابھگتیں گے،جن لوگوں نے 9مئی واقعات میں حصہ نہیں لیاوہ الیکشن لڑیں،پرویزخٹک الیکشن میں ہمارےاتحادی نہیں ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے عنایت اللہ نے لیٹ برڈ ٹورنامنٹ جیت لیا
    بحیرہ روم کے نو ممالک میں آگ بھڑک اٹھی
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور
    پشاور،محرم الحرام کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں طبی عملہ چوکس
    رانا ثنا اللہ نےکہا کہ نوازشریف کواسٹیبلشمنٹ نےنکالاتھا،نوازشریف کونہ نکالاجاتاتو ہمارے گلےمیں پھندانہ لگتا،نوازشریف بات نہیں مانتےتھےاس لیےاسٹیبلشمنٹ چیئرمین پی ٹی آئی کولائی،چاہتےہیں چیئرمین پی ٹی آئی کوعدالتی عمل سےنااہل،سزااورجیل ہو،نواز شریف الیکشن سےڈیڑھ ماہ قبل وطن واپس آئیں گے،نوازشریف وطن آئیں گےتو بھرپور استقبال ہوگا، نوازشریف عوام کےسامنےاپناپروگرام رکھیں گے۔

  • پی ٹی آئی دور کے 3 ارب ڈالر قرضوں کا فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم

    پی ٹی آئی دور کے 3 ارب ڈالر قرضوں کا فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف دور حکومت میں کورونا وباء کے دوران دیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرضوں کا فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا جبکہ چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے برجیس طاہر اور روحیل اصغر کے مطالبے پر گورنر اسٹیٹ بینک کو ان کیمرہ اجلاس میں قرضہ لینے والوں کی لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

    چئیرمن کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری خزانہ سے استفسار کیا کہ اسٹیٹ بینک نے 5 فیصد سود کے حساب سے جو قرضہ دیا اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟۔ کمیٹی ممبران برجیس طاہر اور روحیل اصغر نے قرضے لینے والوں کی فہرست مانگتے ہوئے کہا کہ پتہ چلے وہ کون سے خوش نصیب تھے جن کے لیے اتنا بڑا دل کیا گیا۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا قرضہ لینے والوں کی لسٹ ہمارے پاس موجود ہے لیکن وہ خفیہ رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا یہ سکیم مارچ 2020 میں کورونا کے بعد شروع کی گئی پہلے یہ ایک سال کے لیے تھی اور یہ اسکیم انڈسٹری اور مشینری کے لیے تھی۔ سیکریٹری خزانہ نے بتایا یہ ری فنانس اسکیم تھی جس کے تحت قرضہ دیا گیا اور یہ اسٹیٹ بینک کا مینڈیٹ ہے۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    سلیم مانڈی والا نے بتایا یہ اسکیم چند لوگوں کی تجاویز پر سابق گورنر رضا باقر لے کر آئے جبکہ اس وقت انڈسٹری بند ہو رہی تھی مشنیری درأمد کی ضرورت نہیں تھی۔ سلیم مانڈوی والا نے مطالبہ کیا کہ یہ اسکیم بہت جلد جلد بازی میں لائی گئی اس کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیئے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی ٹی آئی دور حکومت میں کورونا وبا کے دوران دیے گئے 3 ارب ڈالر کے قرضوں کا فرانزک آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا۔ گورنراسٹیٹ بینک نے تجویز دی کہ آپ مناسب سمجھیں تو نام شائع کرنے کے بجائے ہم آپ کو ان کیمرا بریفنگ دے دیں۔ کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ان کیمرا میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔