Baaghi TV

Tag: NDMA

  • طوفانی بارشوں کی پیشگوئی؛ سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا

    طوفانی بارشوں کی پیشگوئی؛ سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا

    وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ مزید بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ جبکہ این ڈی ایم اے نے موسمی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے جبکہ مسافروں، سیاحوں اور دیگر لوگوں کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج بدھ کے روزکشمیر، گلگت بلتستان ،خیبر پختونخوا ،اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار ،بالائی /وسطی پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ۔ اس دوران بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر موسلا دھاربارش کی توقع ہے جبکہ ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم شدید گرم اورمرطوب رہے گا۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے سلسلہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی و طوفان کے ساتھ شدید بارشوں کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر پرمبنی ہدایات جاری کی ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کا پہلا سلسلہ 8 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی و طوفان کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں، بارشوں سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے اس ممکنہ موسمی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہنگامی مشینری اور عملے کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ایمرجنسی اور میڈیکل عملہ کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیاحوں اور مسافروں کو موسمی حالات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کے مکینوں کو پیشگی اطلاع فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    علاوہ ازیں مون سون کی بارشوں کے دوران عوام سے کہا گیا ہے کہ ٹپکتی چھتوں ، دراڑ والی اور کچی دیواروں کی مرمت یقینی بنائیں، چھتوں اور صحن سے نکاسی آب یقینی بنائیں، گھر و گلی محلوں کی نالیوں اور سیوریج میں کوڑا ہر گز مت پھینکیں، نشیبی علاقوں کے رہائشی تہہ خانوں میں رہائش سے گریز کریں ، بجلی کی تاروں اور کنکشن کی مرمت کرائیں،ایمرجنسی میڈیکل کٹ تیار رکھیں،موسمی حالات سے مسلسل باخبر رہیں،بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں،تیز آندھی و طوفان کی صورت میں درختوں ، بوسیدہ دیواروں اور پلوں سے دور رہیں۔ این ڈی ایم اے نےکہا کہ بارش کے دوران دریائوں ، ندی نالوں کو پار کرنے اور ان میں نہانے سے گریز کریں،گیلے لباس وجسم کے ساتھ برقی آلات کو ہرگز نہ چھوئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  • مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔

    تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔

    حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔

    بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔

    سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔

    کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟