Baaghi TV

Tag: news

  • پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    نثار عزیز بٹ

    7 فروری 2020 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل جنوری 1927 میں مردان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی مگر وہ انگلش، اردو ، فارسی اور فرنچ زبان پر بھی عبور تھا۔ پشاور میں میٹرک کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا ۔ والدین کی سختی اور مخالفت کے باوجود ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا 1951 میں برقعہ پہن کر ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن پہنچ گئیں اور ریڈیو کے پروگرام میں حصہ لیا۔ جس کے بعد وہ ریڈیو سمیت مختلف ادبی پروگرامز میں شریک ہوتی رہیں جبکہ ناول لکھنا بھی شروع کر دیا ۔

    1954 میں اپنے خاندانی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی برادری میں شادی کرنے کی بجائے صحافی اور ڈرامہ نگار اصغر بٹ سے لاہور میں شادی کی ۔ اصغر بٹ سے شادی کے بعد وہ نثار عزیز کاکا خیل کی جگہ نثار عزیز بٹ بن گئیں۔ وہ نامور پاکستانی سیاستداں سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں۔ نثار عزیز بٹ کے 4 ناول اور ایک آپ بیتی کی کتاب شائع ہوئی۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں ۔

    1: نگری نگری پھرا مسافر 2: نے چراغے نے گلے 3: کاروان وجود 4: دریا کے سنگ اور ایک آپ بیتی ” گئے دنوں کا سراغ ” شامل ہے ۔ نثار عزیز بٹ کی تمام عمر جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے گزری ۔ 7 فروری 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔

  • چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    پیدائشی نام:Charles John Huffam Dickens
    پیدائش:07 فروری 1812ء
    وفات:09 جون 1870ء
    وجۂ وفات:دماغی جریان خون
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    مادری زبان:انگریزی

    چارلس ڈکنز یا چارلز ڈکنز (انگریزی: Charles Dickens) انگلستان کا مشہور ناول نویس تھا۔ چارلس ڈکنز 07فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا ماہنامے میں قسط وار داستان Pickwick Papeers لکھ کر کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ 1842ء میں امریکا کا دورہ کیا۔
    ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی (جسے برطانوی غدر کہتے ہیں) میں مقامی آبادی کو شکست کے بعد انگریزی تادیبی کارروائیوں پر ڈکنز کا بیان:
    I wish I were commander-in-chief in India … I should proclaim to them that I considered my holding that appointment by the leave of God, to mean that I should do my utmost to exterminate the race.
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    09 جون 1870ء کو اُس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔

  • برطانیہ میں  تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ

    برطانیہ میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت. رپورٹ

    برطانیہ آف شور کمپنیوں کا دوسرا مرکز بن گیا ہے، ملک میں تقریباً 52 ہزار جائیدادیں گمنام سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں۔

    برطانیہ کے متعلق یہ انکشاف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لگژری پراپرٹیز سمیت 6.7 بلین پاؤنڈز ( تقریباً 8.1 ارب ڈالرز) سے زیادہ مالیت کی جائیدادیں خفیہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے ’ ڈرٹی منی‘ سے خریدی گئی ہیں۔ برطانیہ میں موجود لگژری جائیدادوں کے متعلق رپورٹ میں درج ہے کہ گمنام سرمایہ کاروں میں کریملن کے قریبی افراد بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ لندن کو ارب پتی روسیوں کا دوسرا گھر بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

    جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں اس قانون سازی کے باوجود بھی موجود ہیں جس کا مقصد یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد روسی رقم کی منتقلی، پھیلاؤ اور بہاؤ کو روکنا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل پانامہ میں بے نامی جائیدادوں کا ایک عالمی اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں بہت سی عالمی شخصیات کے نام درج تھے۔ دلچسپ امر ہے کہ برطانیہ نے گذشتہ سال ہی شیل کمپنیوں اور ٹیکس کی پناہ گاہوں سے آنے والی روسی رقم کو نشانہ بنانے کے لیے کریک ڈاؤن بھی شروع کیا تھا۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام
    اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رقم کا پانچواں حصہ یا 1.5 بلین پاؤنڈز رئیل اسٹیٹ میں روس سے ہونے کا شبہ ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ اور ویلز میں تقریباً 18,000 سے زیادہ آف شور کمپنیاں ہیں جو مجموعی طور پر 52,000 جائیدادوں کی ملکیت رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ان آف شور کمپنیوں نے جائیدادوں کی خریداری میں یا تو مروجہ قانون کو یکسر نظر انداز کیا اور یا پھر ایسی معلومات فراہم کیں جن کی وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جاننا نا ممکن ہے کہ وہ کس کی ملکیت ہیں. ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یو کے کے مطابق برطانیہ غیر قانونی فنڈز کا ہب بن گیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں مزید سخت کارروائی کرے۔

  • پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ امدادی سامان لے کر ترکیہ پہنچ گیا

    پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ امدادی سامان لے کر ترکیہ پہنچ گیا

    کراچی: ترکیہ اور شام کے ہولناک زلزلے کے بعد پاک فضائیہ نے امدادی ٹیم اور سامان ترکیہ روانہ کیا ہے جس میں تمام ضروری اشیا کے ساتھ ساتھ شہر میں سرچ اینڈ ریسکیو کے ماہرین کی ایک ٹیم بھی شامل ہے۔ اب یہ طیارہ ترکیہ پہنچ چکا ہے۔

    ترجمان پاکستان ائرفورس کے مطابق پاک فضائیہ کا سی-130 ہرکولیس طیارہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے ارکان اور کمبل لے کر پی اے ایف بیس نور خان سے ترکیہ پہنچ گیا ہے۔ طیارہ پاکستانی عوام کی طرف سے زلزلہ سے متاثرہ ترک بھائیوں کے لیے امدادی سامان لے کر پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ کا ٹرانسپورٹ بیڑا اندرون اور بیرون ملک قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

    یاد رہے کہ کل ترکیہ اور شام میں شدید زلزلے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہزار سے بڑھ گئی ہے، ہزاروں افراد زخمی ہیں، کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ترکیہ میں ایک بار پھر شدید زلزلہ، شدت 5.6 ریکارڈ

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلے کے بعد 300 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں، میں 7.5 اور 5.7 شدت کے زلزلے بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پیر 6 فروری کو ترکیہ کے مشرقی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 17 منٹ پر 7.8 شدت کا خوفناک زلزلہ آیا، جس کے بعد 6 گھنٹے کے دوران درجنوں آفٹر شاکس اور 7.5 شدت کا ایک اور زلزلہ بھی آیا تھا۔

    ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم ریلیف فنڈ قائم

    تازہ اطلاعات کے مطابق خوفناک زلزلے سے ترکی میں جاں بحق ہونیوالے افراد کی تعداد ساڑھے 3 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ 25 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں، سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی ٹیمیں مسلسل کوششیں کررہی ہیں۔

    پاکستان سے ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کا خصوصی طیارہ ترکیہ روانہ ،یو اے ای کا بھی…

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملبے میں دبے افراد کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں، ریسکیو ٹیمیں ہیوی مشینری، ڈرل اور کٹرز سمیت دیگر آلات کے ذریعے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

  • نیویارک  کے سرد خانے میں مردہ خاتون زندہ ہو گئی

    نیویارک کے سرد خانے میں مردہ خاتون زندہ ہو گئی

    امریکی ریاست نیویارک کے تدفین کے ایک سرد خانے کے عملے کو اس وقت زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا جب ایک ‘مردہ’ خاتون زندہ ہوگئی۔

    ریاست نیویارک کے علاقے سفوک کاؤنٹی کی پولیس کے مطابق 82 سالہ خاتون کو 4 فروری کو ایک نرسنگ سینٹر نے مردہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اسے تدفین کے لیے ایک سرد خانے میں منتقل کیا گیا۔مردہ قرار دی گئی خاتون زندہ ہونے کے بعد پھر انتقال کر گئی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس خاتون کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا تھا اور دوپہر ڈیڑھ بجے سرد خانے میں پہنچایا گیا۔ اس جگہ پہنچنے کے 40 منٹ بعد یا مردہ قرار دینے کے لگ بھگ 3 گھنٹے بعد سرد خانے کے عملے نے دریافت کیا کہ خاتون سانس لے رہی ہے۔

    اس کے بعد خاتون کو ایک مقامی اسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت کیسی ہے، یہ واضح نہیں۔ پولیس نے بتایا کہ نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے اس واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جبکہ نرسنگ سینٹر کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ یہ امریکا میں ایک ماہ کے دوران اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل جنوری 2023 کے شروع میں امریکی ریاست آئیووا میں ایک 66 سالہ خاتون کو مردہ قرار دیا گیا تھا جو بعد میں زندہ نکلی۔

    جس وقت اس خاتون کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اس وقت وہ سانس لینے لگی۔ اس کے بعد خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 2 دن بعد چل بسی۔ دوران تفتیش اسپیشل کیئر سینٹر کے ایک ملازم نے بتایا کہ 3 جنوری کو خاتون بالکل بھی سانس نہیں لے رہی تھی اور اس کی نبض بھی حرکت نہیں کر رہی تھی تو اس وقت اس کی اطلاع ایک نرس کو دی گئی۔ نرس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے بھی پوری رات خاتون کی نبض میں کسی قسم کی حرکت نوٹ نہیں کی، جس کے بعد کیئر سینٹر نے خاتون کو مردہ قرار دیکر لاش کو بیگ میں بندکر کے مردہ خانے بھجوا دیا۔

  • راہول گاندھی سن لے:ہماراخاندان ہرسال50کروڑ ٹیکس دیتا ہےآپ کی طرح بھوکا ننگانہیں:مکیش امبانی

    راہول گاندھی سن لے:ہماراخاندان ہرسال50کروڑ ٹیکس دیتا ہےآپ کی طرح بھوکا ننگانہیں:مکیش امبانی

    نئی دہلی:راہول گاندھی سن لے:ہمارا خاندان ہرسال50کروڑ ٹیکس دیتا ہےآپ کی طرح بھوکا ننگانہیں:مکیش امبانی نے راہول گاندھی کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی نمک کی ایک چٹکی کے قابل نہیں؛ جن کے خاندان نے ہمیشہ ملک کو لوٹا ہے۔لیکن عجیب بات ہے کہ راہول گاندھی ہرانتخابی میٹنگ میں ہماری اور دیگر کاروباری خاندانوں کی مذمت کرتا ہے،

    مکیش امبانی نے راہول گاندھی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آج ان سےکچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں،امید ہے میڈیا ان سے جوابات پوچھے گا۔ مکیش امبانی نے کہا کہ میرا خاندان اور میں خود ملک کو ہر سال 50 کروڑ کا ٹیکس ادا کرتا ہوں۔لاکھوں لوگوں کو تنخواہیں، ہرماہ تنخواہ، لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی چلانے میں مدد بھی کرتے ہیں

    مکیش امبانی نے راہول گاندھی سے پوچھا کہ ہمیں بتایا جائےکہ گاندھی خاندان کا اس ملک میں کتنا حصہ ہے؟؟؟؟

    مکیش امبانی میں نے سنا ہے کہ پورے خاندان کو ٹیکس چوری کے کیس میں عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔آپ کی والدہ مبینہ طور پر دنیا کی چوتھی امیر ترین خاتون بن گئی ہیں۔ وہ ایسا کیسےہوگیا ہے؟ تمام ہندوستانیوں کواورمجھے بتائیں، کاروبار جوکہ آپ کی والدہ کی ملکیت ہے اس کےلیے دولت کہاں سے آئی ؟

    مکیش امبانی ہم گزشتہ تقریباً 40 سالوں سے بینکوں سے قرض لے رہے ہیں اور سود کے طور پر کروڑوں روپے ادا کر رہے ہیں، مکمل قرض واپس کر چکے ہیں اور نئے کاروباری مواقع کے لیے نئے قرضے دوبارہ لیے ہیں۔ دنیا بھر کے تمام تاجروں اور صنعت کاروں کو، بغیر کسی استثنا کے، اگر وہ کوئی کاروبار چلانا چاہتے ہیں۔ ہم بینکوں کو ضمانت اور ضمانت بھی دیتے ہیں، کم از کم، ان کی بنیادی حفاظت کے لیے، وہ سود جو ہم ادا کرتے ہیں، بینکوں کو ان تمام ڈپازٹس پر تنخواہ اور سود ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو بینکوں نے کروڑوں ڈپازٹرز اور کھاتہ داروں اور دیگر لوگوں سے وصول کیے ہیں۔

    مکیش امبانی مجھے بتائیں کہ آپ جیسے لیڈروں اور آپ کے بہنوئی جیسے لوگوں نے بینکوں سے بلا سود قرضے کیسے حاصل کیے؟ وہ کونسا کاروبار ہے جس سےاسےاتنی مراعات ملتی ہیں ؟؟؟بتایا جائےکہ یہ کاروبار کس ملک میں چلتے ہیں؟مکیش امبانی نے کہا کہ اس نے یہ قرض کس ملک اور بینکوں سے حاصل کیا ہے؟

    مکیش امبانی کہتے ہیں کہ جیسا کہ بڑے پیمانے پرتشہیرکی گئی ہے، آپ کے بہنوئی، جس نے15سال پہلے1لاکھ کے ادا شدہ سرمائے کے ساتھ اپنا کاروبار شروع کیا تھا، کروڑوں مالیت کے ہوٹلوں اور جائیدادوں کے مالک کیسے بن گئے، جو کہ اس میں چل رہے ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ اراضی یہ سب کچھ 10 سال سے ذہن میں ڈوب رہا ہے!! وہ اتنی بڑی رقم کیسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جو ظاہر ہے کہ اتنی بڑی زمین حاصل کرنے کے لیے درکار تھی؟ آپ کے خاندان کے پاس لندن میں 2 بنگلے اور6 فلیٹس خریدنے اور رکھنے کے پیسے کہاں سے آئے؟

    مکیش امبانی ہندوستانیوں کومخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مجھے پتہ چلا کہ یہ خاندان غیر ملکی ایجنٹ ہے،یہ پارٹی ملک دشمنوں کی حمایت کرتی ہے، میں نےکانگریس پارٹی کو چندہ دینا بند کردیا، تب سے وہ میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں، مجھے بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    مکیش امبانی کہتے ہیں کہ میرے خلاف کچھ الزامات کے جواب میں، میرے خاندان اور کمپنیاں جن کی ملکیت ہے یا میرا خاندان چلا رہا ہے، مجھے چند متعلقہ سوالات، جوابات پوچھنے دیں، جن میں سے، میں گاندھی خاندان سے بھی حاصل کرنا چاہوں گا۔

    مکیش امبانی کہتے ہیں کہ سنو پھر اپنے کارنامے کہ منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے دہلی ہوائی اڈے کے میٹرو پروجیکٹ، ممبئی میٹرو پروجیکٹ کا ٹھیکہ متعدد معروف سرکاری کمپنیوں کو کیوں نہیں دیا، بلکہ پرائیویٹ پلیئرز اور پرائیویٹ کمپنیوں کو کیوں نہیں دیا گیا، اگر یہ درست ہے تو کیا؟ غلط ہے، اگر میری کمپنی کو ڈسالٹ نے بطور پارٹنر منتخب کیا تھا۔یہ ایجنڈا نہ صرف مجھے ذاتی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ہمارے ملک کے امیج کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

    مکیش امبانی یہاں تک کہ دہلی (سابقہ ڈی ایس یو) میں ڈی وی بی کا پاورسپلائی کا ٹھیکہ، جس کی مالیت 1200 کروڑہے، شیلا ڈکشٹ حکومت نے این ٹی پی سی (سرکاری کمپنی) کی جگہ میری کمپنی کو دی تھی، کیوں؟2004 اور 2014 کے درمیان، مرکزاورمتعدد ریاستوں میں کانگریس کی حکومت نے میری کمپنی ریلائنس انفراسٹرکچر کو اتر پردیش، اڈیشہ، تمل ناڈو، کرناٹک، پنجاب میں کل 8 قومی شاہراہوں کے منصوبے (25,350 کروڑ روپے) کیوں دیئے؟جبکہ بہت سی سرکاری کمپنیاں ہیں جو یہ کام کر سکتی ہیں؟یہ کچھ ایسے پہلو اور سچائیاں ہیں جو عوام کو نہیں معلوم اور انہیں جاننا چاہیے۔”

  • ترکیہ میں تباہ کن زلزلےسےقبل پرندوں کی بےچینی:کیمرے نےمنظرمحفوظ کرلیا

    ترکیہ میں تباہ کن زلزلےسےقبل پرندوں کی بےچینی:کیمرے نےمنظرمحفوظ کرلیا

    استبول:ترکی میں تباہ کن زلزلے سے قبل پرندوں کی بے چینی کیمرے نے محفوظ کرلی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زلزلہ آنے سے پہلے پرندے خلاف معمول ادھر ادھر اُڑتے پھر رہے ہیں جیسے انہیں معلوم ہو کہ کوئی بڑی آفت آنے والی ہے۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ : ماہرین نے پاکستان اوربھارت کو بھی خبردار کر دیا

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بڑے زلزلے سے قبل جانوروں کا عجیب و غریب رویہ دیکھا گیا ہو۔ شواہد بتاتے ہیں کہ جانوروں کو قدرتی آفات کا پہلے سے علم ہوجاتا ہے، تاریخ میں ملتا ہے کہ یونان میں جب 373 قبل مسیح میں زلزلہ آیا تھا تو کئی دن پہلے ہی چوہے، سانپ اور دیگر جانور وہاں سے بھاگ گئے تھے۔

    ترکیہ و شام زلزلہ: ماہر موسمیات نے سوشل میڈیا پر 3 دن قبل ہی خبردار کردیا تھا

    ترکی میں پرندوں کے عجیب و غریب رویہ کی ویڈیو بہت سے لوگوں کے لیے توجہ کا باعث بنی ہے جس نے ایک بار پھر جانوروں کے زلزلوں کیلئے ابتدائی انتباہی اشارے کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ:ترک لیرا میں گراوٹ،اسٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس میں شدید کمی

    سائنس دان ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ زلزلہ آنے سے پہلے کچھ جانور عجیب و غریب رویے کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ پرندے مافوق الفطرت قوتوں کا جواب دے رہے تھے۔

  • لاہورسمیت پنجاب میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے بڑے فیصلے

    لاہورسمیت پنجاب میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے بڑے فیصلے

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے لاہورسمیت پنجاب میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے بڑے فیصلے کئے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے لاہورسمیت پنجاب بھر میں ٹریفک چالان کرنے کا ڈیلی کوٹہ ختم کرتے ہوئے کہا کہ چالان کا ٹارگٹ پورا کرنے کی روش ختم کردی ہے،ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی ڈیلی چالان سے مشروط نہیں ہوگی۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ5بڑے شہروں میں شہریوں کی سہولت کیلئے ٹریفک لائسنس کے اجراء آسان بنا دیا ہے۔ لاہور،فیصل آباد،ملتان،گوجرانوالہ اورراولپنڈی میں لائسنسنگ سینٹرز دو شفٹ میں کام کریں گے۔لائسنسنگ سینٹرز ہفتے اوراتوار کو بھی اوپن رہیں گے۔لاہورکے علاقے لبرٹی کا سینٹر24گھنٹے شہریوں کے لائسنس بنائے گا جس سے شہریو ں کو ڈرائیونگ لائسنس بنانے میں بے پناہ سہولت ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ گلبرگ،مال روڈ،جیل روڈاورفیروزپور روڈ کو ٹریفک کے حوالے سے ماڈل روڈز قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ماڈل روڈز پر ٹریفک کی روانی کیلئے موثر مینجمنٹ سسٹم لاگو کیا جائے گا۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ٹریفک کی روانی کو بہتر کرنے کیلئے روڈ انجینئرنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔سڑکوں پرموجود رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور تجاوزات کو ہٹایا جائے۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لئے آؤٹ ریچ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے تحت کالجوں میں ٹریفک پولیس کی ٹیمیں جا کر طلبہ کے لائسنس بنائیں گی اور طلبہ کا ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی متعلقہ کالج میں ہی لیا جائے گا۔طلبہ کو ٹریفک قوانین سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ٹریفک وارڈنزکی ترقی سے متعلقہ امور کو جلد از جلدنمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقی سے متعلقہ امور کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں سڑکوں پر گوشت فروخت کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا اور کہا کہ گوشت فروخت کرنے والوں کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ پرندوں کی وجہ سے فضائی حادثے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

    نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے سڑکوں پر بھیک مانگنے والے مافیا کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بھکاری مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے اور بھیک مانگنے والے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کیا جائے۔انہو ں نے کہا کہ سمن آباد انڈر پاس اورکلمہ چوک انڈر پاس کو جلداز جلد مکمل کرنے کے لئے ہدایات جاری کردی ہیں۔ٹریفک نظام کو درست کرنا ایک چیلنج ہے اورآپ نے اسے ہر حال میں پورا کرنا ہے۔شہری ٹریفک جام ہونے سے مشکلات کا شکارہوتے ہیں،ہمیں اسے فوری حل کرنا ہے۔ خود بھی احساس ہے کہ ٹریفک کی وجہ سے کس قسم کی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے مزید ہدایت کی کہ شہرمیں جاری ترقیاتی کاموں اورپی ایس ایل میچز کو مدنظر رکھ کر بہترین منصوبہ بندی کی جائے۔سڑکوں کی بندش کی صورت میں قبل ازوقت عوام کو بھر پور آگاہی دی جائے۔ ٹریفک نظام کو بہتر کردیا تو ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ لوگ آپ کو دعائیں بھی دیں گے۔ نگران وزیراعلیٰ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ لاہور میں سالانہ 3لاکھ 70ہزار گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کا اضافہ ہوتا ہے۔

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    ہماری بیگمات کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے،دو بھائیوں نے سگے بھائی کا گلا کاٹ دیا

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں لاہورسمیت پنجاب بھر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے تجاویز کا جائزہ لیاگیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی، کمشنر لاہور ڈویژن،سی ٹی او لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور،سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی لاہور، ایم ڈی ٹیپا اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی

  • وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے، اعلامیہ جاری

    وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے، اعلامیہ جاری

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی اموات اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان پر گہرا دُکھ اور افسوس ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے ریلیف فنڈ قائم کردیا وزیراعظم نے ترکیہ زلزلہ زدگان کے لیے قائم کیے گئے ریلیف فنڈ میں تمام پاکستانیوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے کی اپیل کی، وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر ترکیہ کے زلزلہ زدگان کے لیے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ بطور عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا وفاقی حکومت کے گریڈ 18 سے گریڈ 22 کے سرکاری افسران کی ایک دن کی تنخواہ ترکیہ کے زلزلہ زدگان کے لیے قائم فنڈ میں بطور عطیہ دی جائے گی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب ہیں۔ترکیہ 2022 کے تاریخی سیلاب میں اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد میں پیش پیش رہا۔ پاکستانی قوم اپنے ترک بہن بھائیوں کو مصیبت کی اس گھڑی میں بالکل اکیلا نہیں چھوڑے گی میں بذاتِ خود کل زلزلہ زدہ علاقوں کے دورے کے لیے ترکیہ روانہ ہورہا ہوں امدادی سامان کے علاوہ میں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹانے کے لیے ترکیہ روانہ کیں۔ترکیہ اور شام میں مصیبت میں گھرے اپنے زلزلہ زدگان بہن بھائیوں کی پاکستان ہر ممکن مدد کی جائے گی مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم اس المناک قدرتی آفت میں ترکیہ اور شام کی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ،وفاقی کابینہ نے جاں بحق افراد کی مغفرت، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی

    اجلاس کے آغاز میں وفاقی کابینہ نے ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کی مغفرت، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ وفاقی کابینہ نے وزیر تجارت سید نوید قمر کے بہنوئی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی۔وزیراعظم نے کابینہ کو زلزلے کے فوراً بعد ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے اپنے ٹیلیفونک رابطہ کے بارے میں بتایا جس میں اُنہوں نے زلزلے سے ہونے والی تباہی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے اور پاکستان ایئرفورس کی پروازیں ریسکیو ٹیمیں اور امدادی سامان لے کے ترکیہ روانہ ہوچکی ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں کے علاوہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس بھی امدادی ٹیموں میں شامل ہیں جب کہ مزید امدادی سامان کی ترسیل جاری رہے گی وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے ایک ریلیف فنڈ قائم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں سے اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے کی اپیل کی۔ مزید برآں وزیراعظم نے کاروباری افراد اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ اِس ریلیف فنڈ میں عطیات دیں۔ وفاقی کابینہ نےمتفقہ طور پر ترکیہ کے زلزلہ زدگان کے لیے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ بطور عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا . اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے گریڈ 18 سے گریڈ 22 کے افسران کی ایک دن کی تنخواہ ترکیہ کے زلزلہ زدگان کے لیے قائم ریلیف فنڈ میں بطور عطیہ دی جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم اس المناک قدرتی آفت میں ترکیہ اور شام کی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے؛ پاکستان کی جانب سے ان کی ہرممکن مدد کی جائے گی۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب کا 50 رکنی ریسکیو ٹیم ترکیہ بھجوانے کا اعلان

    ترکیہ میں ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں جن میں ایک جیل بھی شامل ہ

    ترکیہ اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی

    ترکیہ میں زلزلہ متاثرین سخت مشکلات کا شکار ہیں-

    وزیرمذہبی امور مفتی عبدالشکور سے شام کے سفیر ڈاکٹر رمیز الراعی کی ملاقات ہوئی ہے

    وفاقی کابینہ نے صدر نیشنل بینک آف پاکستان کی تقرری کے عمل کو از سر نو شروع کرنے کی منظوری دے دی. کابینہ نے اس عمل کو فوری بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے کریمنل لاز/قانون فوجداری (ترمیمی )بل ٢٠٢٣ (Criminal Laws Amendment Bill 2023) کے حوالے سے ایک کابینہ کمیٹی قائم کر دی جو بل کو مسودے کا بغور جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اگلی کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی. کمیٹی میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ, وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی وزیر اقتصادی امور سردار ایاز صادق اور وفاقی کابینہ میں موجود تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے.