Baaghi TV

Tag: news

  • عفت عمر آپ کے منہ میں خاک مشی خان

    عفت عمر آپ کے منہ میں خاک مشی خان

    اداکارہ مشی خان جو اکثر مختلف ایشوز کو ڈسکس کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور عمران خان کی بہت بڑی حامی ہیں، عمران خان کے خلاف کوئی رتی برابر بھی بات کرے تو اس پر برس پڑتی ہیں. مشی خان نے حال ہی میں ایک وڈیو بنا کر انسٹاگرام پر ڈالی اور اس میں کہا کہ آج کل پاڈ‌کاسٹ کا دور ہے ، اور میں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ایک کلپ دیکھا ہے جس میں منصور علی خان عفت عمر کو انٹرویو کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ کیسے سنائپرز تھے جو عمران خان کو ٹھیک طرح سے گولی بھی نہ مار سکے ، مشی خان نے مزید کہا

    کہ عفت تمہیں تو کسی ادارے میں ہونا چاہیے جہاں تم گولیاں چیک کرتی رہو. تمہارے منہ میں خاک ، عمران بچ گئے ہیں اور زلت ، زندگی اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اگر تمہارا اس پر یقین ہے تو. انہوں نے مزید کہا کہ ریحام خان اور عفت عمر کو عمران خان پر تنقید کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا دونوں صبح سے شام تک عمران خان کے خلاف ہی بولتی رہتی ہیں. ان کا ٹویٹر تو چلتا ہی عمران خان پر تنقید کے سہارے ہے. انہوں‌نے کہا کہ بھئی آپ دونوں اسکے علاوہ بھی کچھ کرلیں.

  • بھارتی فضائیہ کے 2 جنگی طیارے گر کر تباہ

    بھارتی فضائیہ کے 2 جنگی طیارے گر کر تباہ

    نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کے 2 جنگی طیارے ریاست مدھیہ پردیش میں گر کرتباہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: اے این آئی نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو دفاعی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ بھارتی فضائیہ کے جنگی طیاروں سخوئی 30 اور میراج 2000 نے مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار کے ائیر بیس سے اڑان بھری تھی۔

    سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

    بھارتی حکام نے طیاروں کے پائلٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریش کی جگہ پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

    صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    بھارتی میڈیا کے مطابق تباہ ہونے والے دونوں طیاروں نے مدھیہ پردیش سے ٹیک آف کیا تھا جہاں مشقیں جاری تھیں، بھارتی وزیر دفاع نے فضائیہ کے سربراہ کو آگاہ کیا ہے، باغی ٹی وی کو بھارتی میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طیارے صبح ساڑھے پانچ بجے تباہ ہوئے، حادثہ کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تحقیقات کرے گی کہ طیارے حادثاتی طور پر ٹکرائے یا کیا وجہ بنی،

    بھارتی فضائیہ کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر بُری طرح بے نقاب
    انڈین ائیر فورس میں حادثے معمول بن گئے بھارت کی فضائیہ کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر بُری طرح بے نقاب ہو چکی ہے 2023 میں بھارتی فضائیہ کے 2طیارے 30 ایس یو اور معراج ٹکرا گئے دونوں طیارے ایک فضائی مشق کے دوران آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو گئےبھارتی طیارے حادثے میں ایک پائلٹ ہلاک دوسرازخمی ہوا ,ایک اور حادثے میں بھارتی ہیلی کاپٹر تباہ ہو گیا،ایک ہی دن میں بھارتی فضایئہ کی کارکردگی سب کے سامنے آ گئی، بھارت کی فضائیہ پچھلے کچھ عرصے سے لگاتا ر فضائی حادثوں کا شکارہو رہی ہے بھارت کی فضائیہ کو حادثات سے متعلق بہت سوال بھی اُٹھائے جا چکے ہیں مُودی نے بھی2019میں یہ کہا تھا کہ اگر رافیل ہو تے تو بالاکوٹ کا نتیجہ مختلف ہو تا

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • مایا علی ڈرامہ پر ریویو دینے والوں پر برس پڑیں

    مایا علی ڈرامہ پر ریویو دینے والوں پر برس پڑیں

    اداکارہ مایا علی جنہوں‌ نے ٹی وی اور فلم دونوں میڈیمز کے لئے کام کیا اور دونوں جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ڈرامہ پر ریویو دینا بہت آسان ہوتا ہے ، لیکن سردیوں کی راتوں اور گرمیوں‌کے دنوں میٰں کام کرنا آسان نہیں ہوتا. ریویو وہ لوگ دے رہے ہوتے ہیں جو ریویو کا آر بھی نہیں جانتے، پہلی قسط دیکھ کر آپ ججمنٹ دے دیتے ہیں ، بھئی اگلی پچیس اقساط میں کیا ہوگا کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا لیکن پہلی قسط کے بعد ہی ڈرامے کو ادھیڑ کر رکھ دینا مناسب نہیں ہوتا. مایا علی نے کہا کہ آرٹسٹ‌ بہت حساس ہوتا ہے وہ یہ سب چیزیں بہت

    زیادہ محسوس کرتا ہے. ریویو دیں لیکن جن کا یہ کام ہے ان کو کرنے دیں ہر کوئی ریویو کیسے دے سکتا ہے. ہم بہت محنت کے ساتھ کام کرتے ہیں لہذا ہمارے کام کو پوری طرح‌پہلے دیکھنا جایا جانا چاہیے اس کے بعد اپنی کسی بھی قسم کی ججمنٹ کو سامنے لایا جانا چاہیے. یاد رہے کہ مایا علی کا بہت جلد ڈرامہ یونہی آن ائیر ہونے جا رہا ہے اس میں ان کے ساتھ اداکار بلال اشرف دکھائی دیں گے. دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے شائقین کافی پرجوش نظر آرہے ہیں.

  • دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    لندن: دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کے اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: لندن کی میڑو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈینیل عابد خلیف برطانوی فوج کے حاضر سروس اہلکار ہیں اور ان کا تعلق وسطی انگلینڈ سے ہے۔

    کینیڈا نے اسلاموفوبیا کی روک تھام کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کردیا

    خلیف پر اگست 2021 میں مبینہ طور پردہشت گردی میں ملوث یا دہشتگرد حملے کی تیاری کرنے والے شخص کو دینے کے لیے اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔ خلیف زیرحراست ہیں اوران کو آج لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    21 سالہ ڈینیئل عابد خلیف پر 2021 میں "دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے یا اس کی تیاری کرنے والے شخص کے لیے مفید معلومات کو ظاہر کرنے” کی کوشش سمیت دو واقعات پر فرد جرم عائد کی گئی۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

  • فضا علی اور ساحر علی بگا کے ساتھ دھوکہ ہو گیا

    فضا علی اور ساحر علی بگا کے ساتھ دھوکہ ہو گیا

    پزمان ایونٹس کمپنی نے فضا علی اور ساحر علی بگا کے ساتھ فراڈ‌کر دیا. اس کمپنی سے سلمان علی خلجی ، طارق سندھو و دیگر نے ساحر علی بگا اور فضا علی کے ساتھ رابطہ کرکے ان کو بہاولپور نور محل میں ہونے والے ایک شو کے لئے بک کیا. انکو کہا کہ پے منٹ‌آپ کو شو سے ایک دن پہلے مل جائیگی . لیکن ایسا نہ ہو سکا. آج کے دن نور محل میں شو ہے لیکن فضا علی کے مطابق اس کمپنی سے کسی نے بھی فضا اور ساحر کی ٹیم کا فون نہیں اٹھایا اور نہ ہی ان کے میسجز دیکھے ہیں اور ن ہی ان کو پے منٹ‌دی ہے. فضا نے ایک وڈیو بنا کر سب کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ناموں

    کا استعمال کرکے ٹکٹیں فروخت کی جا رہی ہیں یہ سب فراڈ ہیں پلیز آپ ان سے بچیں. فضا علی نے مزید کہا کہ ہم نور محل کے ہونے والے شو کا بکل بھی اب حصہ نہیں ہیں‌ ہمارے ناموں پر ٹکٹیں فروخت کی گئی ہیں. فضا علی نے مزید کہا کہ میں نے اور ساحر علی بگا نے جب ڈائریکٹ ان فراڈیوں کو کالز کیں تو انہوں نے ان نان نمبر جانتے ہوئے فون اٹھا لیا لیکن کہا کہ آپ کو کال بیک کرتے ہیں لیکن کال نہیں‌کی لہذا ہمارے نام پر ٹکٹیں خریدنے والے جان لیں کہ ہم دونوں اس شو میں نہیں آئیں گے لہذا ان سے بچیں.

  • اور فرح خان  نے سلمان خان کی جگہ لے لی

    اور فرح خان نے سلمان خان کی جگہ لے لی

    بگ باس 16 کامیابی سے جاری ہے ، سلمان خان نے بگ باس کی میزبانی کے فرائض بخوبی انجام دئیے لیکن جب بگ باس کو چار ہفتوں کے لئے مزید بڑھایا گیا تو سلمان خان اپنا کنٹریکٹ بڑھانے نے کی بجائے جتنا ان کا کنٹریکٹ تھا اس کے حساب سے شوز کرکے چلے گئے. اس کے بعد اس شو کی میزبانی تھما دی گئی ہے فرح خان کے ہاتھوں میں. معروف فلم میکر فرح‌خان نے گزشتہ روز ویک اینڈ کا وار کیا اور انہوں‌نے شو شروع ہوتے ہی کہا کہ میں سلمان خان نہیں‌ہوں فرح خان ہوں ، مجھے اس شو کو ہوسٹ کرنے کا موقع ملا ہے بگ باس میرا پسندیدہ شو ہے اور میں نے جب بھی اس شو کی میزبانی کی ہے بہت مزا آیا ہے اس بار بھی یقینا ایسا ہی تجربہ ہو گا. فرح‌خان نے گھر کے شرکاء سے بات ان کو اطلاع

    دیتے ہوئے کی اور اطلاع تھی فلم پٹھان کی کامیابی کی . انہوں نے کہا کہ آپ سب کو مبارک ہو فلم پٹھان سپر ڈوپر ہٹ ہو گئی ہے، اور آپ سب جب باہر آئو گے تو ضرور دیکھنے جانا. فرح‌خآن نے گھر والوں کے ساتھ کچھ مستی کی اور ان سے کچھ سنجیدہ باتیں بھی کیں. یوں سلمان خان کی جگہ لیتے ہوئے فرح‌خان نے ویک اینڈ کا وار اچھے سے ہوسٹ کیا . فرح خان اب بگ باس کی فائنل تک شو کی میزبانی کریں گی.

  • کے آر کے نے شاہ رخ‌ خان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ، غلطی کا اعتراف کر لیا

    کے آر کے نے شاہ رخ‌ خان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ، غلطی کا اعتراف کر لیا

    بھارتی فلموں کے نقاد کے آر کے جو کہ اپنی تیکھی باتوں‌ اور تنقید کی وجہ سے کافی زیادہ رہتے ہیں خبروں میں. انہوں نے فلم پٹھان کی ریلیز سے قبل کہا تھا کہ فلم مشکل سے دو دن ہی چل پائے گی انہوں نے فلم کے ٹریلر کا بے حد مذاق بنایا اور کہا تھا کہ خدا کے لئے ایسی فلمیں نہ بنایا کرو. بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ اس فلم کے فلاپ ہونے کے ساتھ شاہ رخ خان کا کیرئیر بھی وائنڈ اپ ہو جائیگا، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور کے آر کے کی تمام پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور پٹھان نے ریکارڈ‌ توڑ‌اوپننگ لیکر سب نقادوں‌ کے منہ بند کر دئیے. کے آر کے نے حال ہی میں اپنے یوٹیوب

    چینل پر ایک وڈیو جاری کرکے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ رخ خآن اس ملک کے سب سے بڑے سٹار ہیں انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ شاہ رخ خآن کا مقابلہ خود شاہ رخ خان سے بھی نہیں ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شرمندہ ہوں‌کہ میں‌نے پٹھان کے بارے میں جو پیشن گوئیاں کیں وہ غلط ثابت ہوئیں اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ شاہ رخ خان نے بائیکاٹ ٹرینڈ‌کو شکست دیکر دنیا کو ایک پیغام دیا ہے کہ دنیا جھکنے والے کو جھکاتی ہے لہذا میں نہیں جھکوں گااور شاہ رخ انتہا پسندوں کے سامنے نہیں جھکا.

  • بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.

    جنوری بروز پیر نیشنل گرڈ میں ہونے والی ایک تباہ کن خرابی نے پورے پاکستان کو بجلی سے محروم کردیا، جس سے امور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے، کاروبار ٹھپ ہوگئے اور اربوں کا نقصان ہوا ۔ اس ملگ گیر پاور بریک ڈاؤن نے توانائی کے پرانے بنیادی ڈھانچے کی قلعی کھول دی۔ اب اس حوالے سے نیشنل ٹرانسمیشنز اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بلیک آؤٹ ہوا کیسے تھا۔ چوبیس جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بدترین بلیک آؤٹ کی وضاحت کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ سسٹم پروٹیکشن مکینزم (نظام کے تحفظ کے طریقہ کار) پے در پے پونے والی ٹرپنگ کو روکنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ حکام نے اسی رات بجلی بحالی کا عمل شروع کردیا تھا، اس کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں بلیک آؤٹ 12 گھنٹے، جب کہ کچھ علاقوں میں اس سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔ سارے معاملے سے نمٹنے کے بعد بلیک آؤٹ کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

    جب آپ کسی ڈیوائس جیسے استری یا لیپ ٹاپ چارجر آن کرتے ہیں تو یہ الٹرنیٹ کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں، یعنی بجلی مثبت اور منفی وولٹیج کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ بجلی کی اس بدلتیی حرکت کو الیکٹریکل فریکوئنسی (برقی تعدد) کہا جاتا ہے۔ ہرٹز (Hz) میں ماپی جانے والی ”گرڈ فریکوئنسی“ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو ہر سیکنڈ میں الٹرنیشن سائیکل ہونے کی تعداد بتاتی ہے۔ فی الحال، 50 ہرٹز سب سے زیادہ مروجہ فریکوئنسی ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر پاور سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ آپ کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں موجود آلات کو 50 ہرٹز کے اندر چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے ہماری بجلی فراہمی کی فریکوئنسی کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وولٹیج یا فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ہم اپنے آلات بند کردیتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان آلات کے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر بجلی کی ضرورت، پیداوار سے میل نہ کھائے تو گرڈ پر بجلی کی فریکوئنسی متاثر ہو سکتی ہے۔
    اس دن ہوا کیا تھا؟

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، “سسٹم فریکوئنسی 50 کے بجائے 50.75 ہرٹز (Hz) تک پہنچ گئی تھی جس سے شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا، اور اس کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنوں پر لوڈ اور وولٹیج میں فرق آیا۔ نتیجے میں ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں، اور شمالی اور جنوبی نظام کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) سسٹم بلاک ہو گیا۔ وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزارت کے ابتدائی بیانات کے مطابق، سسٹم کو ”فریکوئنسی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا“۔ جو کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فریکوئنسی بڑھی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ ”موسم سرما میں، ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، اس لیے، معاشی اقدام کے طور پر، ہم رات کے وقت اپنے بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔“ لیکن جب 23 جنوری کی صبح پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کیا گیا تو جنوبی پاکستان دادو اور جامشورو کے درمیان کہیں ”فریکوئنسی میں تغیر اور وولٹیج کا اتار چڑھاؤ“ پیدا ہوا۔ نتیجتاً، ”بجلی پیدا کرنے والے یونٹ ایک ایک کر کے بند ہو گئے۔“

    وزارت توانائی کا یہ بیان این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، بنیادی طور پر اگر بجلی کی طلب سپلائی سے زیادہ ہو تو فریکوئنسی کم ہو جائے گی۔ لیکن جب اضافی سپلائی ہوتی ہے تو فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے۔ اب اگر ہم اس سمجھ بوجھ پر چلیں تو سسٹم اس لئے ٹرپ کر گیا کیونکہ وہاں بجلی کی زیادہ سپلائی تھی، اور وزیر توانائی کے یہ دعوے کہ فریکوئنسی میں کمی کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا، غلط ہے۔ رپورٹ نے بلیک آؤٹ کے لیے مقرر پیمانے کو بھی نکار دیا، واقعے سے قبل کل پیداوار 11,356 میگاواٹ اور فریکوئنسی 50.31 ہرٹز تھی۔ واقعہ کے وقت 23 جنوری کو ٹھیک 7:34 بجے فریکوئنسی 50.57 ہرٹز تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ایک سلسلہ وار رد عمل ہوا جس میں 500 کلو واٹ سپلائی کی بڑی لائنیں ٹرپ کر گئیں۔

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ بلیک آؤٹ کی صبح بڑھتی ہوئی بجلی بندش سے پہلے فریکوئنسی اعلیٰ سطح پر کام کر رہی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ ریگولیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہئیے کہ سپلائی ڈیمانڈ سے تجاوز کرگئی جس کی وجہ سے فریکوئنسی میں اضافہ ہوا۔ فریکوئنسی میں اس اضافے کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ تاہم یہ شدید موسم، انسانی غلطی، آلات کی خرابی، یا جانوروں کی مداخلت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ فریکوئنسی کے اس سپائیک نے پاور پلانٹس کے سیفٹی مکینزم کو متحرک کر دیا، جس نے گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے تمام 23 پاور پلانٹس بند کر دئے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو پورا گرڈ، سرکٹ بریکرز کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ الیکٹریکل سرکٹ بریکر ایک سوئچنگ مکینزم ہے جو الیکٹریکل پاور سسٹم اور اس سے منسلک برقی آلات کو کنٹرول اور حفاظت کے لیے مینوئلی یا آٹو میٹکلی چلایا جا سکتا ہے۔ جب سرکٹ بریکر سے بہت زیادہ بجلی بہتی ہے یا اضافی بجلی کو لوڈ سنبھال نہیں سکتا تو یہ ٹرپ ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے سرکٹس کو زیادہ گرمی یا مزید نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کے بہاؤ میں خلل پڑجاتا ہے۔

    پاور پلانٹس ایک مخصوص فریکوئنسی رینج کے اندر چلنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسا کہ ایک سرکٹ بریکر ہے۔ اگر سسٹم میں زیادہ فریکوئنسی ہے، تو ایک خاص وقت کے بعد یا اچانک خرابی سے ان کے گرڈ سے منقطع ہونے کا خطرہ ہے۔
    بجلی کی بحالی کیسے ممکن ہوئی؟ اگر پورے نیشنل ہائی وولٹیج بجلی کے نیٹ ورک (گرڈ) سے بجلی ختم ہو جاتی ہے، تو ملک کو دوبارہ بجلی فراہم کرنے سے پہلے انفرادی پاور سٹیشنز کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ پاور پلانٹس کو دوبارہ چلانے کے لیے اکثر الیکٹریکل سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ گاڑی کو اگنیشن پاور کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، بجلی کی مکمل بندش کی وجہ سے سسٹم کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مرکزی طور پر منسلک بجلی دستیاب نہیں ہے۔ جس سے اسے دوبارہ شروع کیا جاسکے۔ اس عمل کو ”بلیک اسٹارٹ“ کہا جاتا ہے۔

    بلیک اسٹارٹ کا آپریشن دراصل کافی سیدھا ہے۔ بجلی کے چھوٹے ذرائع بڑے ذرائع کو شروع کرتے ہیں، اور یہ عمل پورے ملک میں دوبارہ پاور اپ ہونے تک جاری رہتا ہے۔ تاہم، کچھ پاور پلانٹس اس پیچیدہ ری بوٹ کا نقطہ آغاز بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ جدید گیس پاور پلانٹس طلب کے مطابق تیزی سے دوبارہ شروع ہونے کے قابل ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں جنوبی علاقے کی بحالی بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ”UCH-I“ پاور پلانٹ سے شروع ہوئی۔ گیس سے چلنے والا یہ پلانٹ اوچ پاور لمیٹڈ کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 586 میگاواٹ ہے۔ اس پلانٹ کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس میں 220 کلو واٹ تک بلیک سٹارٹ کی سہولت ہے۔ اس پاور پلانٹ کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    اس کے ساتھ ہی شمالی علاقہ جات کے لیے تربیلا، ورسک اور منگلا سے بحالی کا عمل شروع ہوا، کیونکہ ہائیڈرو پاور میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو اسے بلیک اسٹارٹ کے لیے بہترین بناتی ہیں۔بلیک سٹارٹ آپریشن کے دوران کسی خاص تیاری کے بغیر ٹربائن کو پاور کرنے کے لیے ان ذخائر میں کافی پانی موجود ہے۔ اوک رج نیشنل لیبارٹری کے ایک مطالعے کے مطابق ہائیڈرو فیسیلٹیز کو کم سے کم اسٹیشن پاور کے ساتھ تیزی سے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ، ”تربیلا اور منگلا میں پیداواری یونٹس استحکام برقرار نہ رکھ سکے اور بحالی کے عمل کے دوران کئی بار ٹرپ ہوئے“۔ اس کے نتیجے میں، ورسک سے پیدا ہونے والی پیداوار کو دوسرے ڈیموں تک بڑھا دیا گیا جو ری بوٹ شروع کر رہے تھے۔ اس سے بنیادی طور پر بحالی کا آغاز ہوا، کیونکہ ان پاور پلانٹس سے بجلی دوسرے پلانٹس کو بھیجی گئی تھی تاکہ وہ ری بوٹ کرکے دوبارہ کام شروع کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بحالی کا عمل پیر کی صبح 9 بج کر 39 منٹ پر بلوچستان میں اُچ پاور پلانٹ سے شروع ہوا، گرڈ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تھا اور آخری پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر دوبارہ شروع کیا گیا۔
    دلچسپ مشاہدات اگرچہ این ٹی ڈی سی یا حکومت نے ابھی تک بجلی بند ہونے کی صحیح وجہ کا تعین نہیں کیا ہے اور اس وقت اس کا تعین کرنا ناممکن ہے۔

    تاہم، کچھ مبصرین کے مطابق، پہلا ڈومینو جس نے بلیک آؤٹ شروع کیا وہ 747 میگاواٹ کا گیس پاور پلانٹ تھا جو گدو، سندھ میں واقع تھا۔ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں ابتدائی مسائل زیر بحث پاور پلانٹ سے منسلک تین 500کلو واٹ ہیوی پاور لائنوں میں دیکھے گئے۔ یہی پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر بحال ہونے والا آخری تھا۔

  • جمائمہ گولڈ‌سمتھ پاکستان سے محبت میں گرفتار ، فلم کیوں بنائی بتا دیا

    جمائمہ گولڈ‌سمتھ پاکستان سے محبت میں گرفتار ، فلم کیوں بنائی بتا دیا

    جمائمہ گولڈ سمتھ جن کی حال ہی میں فلم وٹس لو گاٹ‌ ٹو ڈو ود اٹ ریلیز ہوئی ہے اس کی ریلیز کے بعد انہوں نے ایک پاکستانی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان میں اس وقت آئی جب میری عمر محض بیس برس تھی جب میں تیس برس کی ہوئی تو یہاں سے یوکے شفٹ ہو گئی ، دس سال تک میں نے جوائنٹ فیملی سسٹم میں گزارا ، میرے سابق شوہر کے بہن بھائی ان کے والدین کے ساتھ رہی تو رشتوں‌کی اہمیت کا اندازہ ہوا ، اس دوران میں نے دیکھا کہ ارینج میرج دیرپا ہوتی ہے، یہ چیز جب میں نے اپنے دوستوں‌کو یوکے میں بتائی تو وہ مجھ پہ ہنستے تھے ، ویسے بھی میں‌پاکستان میں رہ کر دیکھ چکی تھی کہ یہ ملک کیسا ہے میں‌نے محسوس کیا کہ اس کی پازیٹیو سائیڈ‌دنیا کو نہیں دکھائی جاتی اس لئے

    میری خواہش تھی کہ میں ایسا کروں اور میں‌نے اپنی فلم کے زریعے یہ خواہش پوری کی. پاکستان سے مجھے بہت محبت ہے یہاں کی مٹی کی خوشبو میری روح میں سمائی ہوئی ہے. یہ میرا گھر ہے. ایک سوال کے جواب میں جمائمہ نے کہا کہ میرے بچوں‌نے میری فلم دیکھی اور انہیں پسند آئی وہ فلم دیکھنے کے دوران ہنستے رہے اور بہت زیادہ لفط اندوزہوئے.

  • ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم  ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل

    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل

    کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئراور ورسٹائل اداکار عدنان صدیقی نے نئی بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے-

    باغی ٹی وی : بالی وڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا کی فلم مشن مجنوں آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر 20 جنوری کو ریلیز ہوئی ہے جس میں بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دہشت گرد دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    فلم مشن مجنوں ایک ایسے بھارتی جاسوس کی کہانی ہے جو پاکستان میں درزی کا روپ دھار کر ملک کے ایٹمی منصوبے کو ناکام بنانے کے منصوبے پر کام کرتا ہے فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے سدھارتھ نے فلم میں مسلمان دکھائی دینے کیلئے سر پرٹوپی گلے میں تعویذ جبکہ آنکھوں میں سُرما لگا رکھا ہے اوروہ پاکستانیوں کو آداب کہتے بھی دکھائی دے رہے ہیں جس پر اداکار کو سوشل میڈیا پرجہاں صارفین کی جانب سے ٹرولنگ اور تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں اداکار عدنان صدیقی نے بھی پاکستانیوں کو دہشتگرد دکھانے کے ایجنڈے پر مبنی اس فلم پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے خوب تنقید کی ہے۔

    عدنان صدیقی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ مشن مجنوں میں ایسا بہت کچھ ہے جو کہ بدذائقہ اور حقیقت کے منافی ہے۔ یہ بتائیں کہ مزید کتنی غلط نمائندگی ہوگی کہ ہمیں پتا چلے گا کہ غلط نمائندگی ہوئی ہے کیا بالی ووڈ کے پاس اس کا جواب ہے۔

    اداکار نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ کیا ہوگیا ہے یار، آپ کے پاس اتنا پیسہ ہے، کوئی اچھے ریسرچرز ڈھونڈ لو جو ہم پر تحقیق کر سکیں،یا پھر مجھ سے مدد لے لو، نوٹس بناؤ کہ ہم لوگ ٹوپی نہیں پہنتے، سُرمہ نہیں لگاتے اور گلے میں رومال اورتعویذ نہیں پہنتے نہ ہم آداب کہتے ہیں اور نہ ہی آداب کہتے وقت جھکتے ہیں

    عدنان صدیقی نے فلم کی کہانی، پیشکش اور تحقیق کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے بھارتیوں کو مشورہ دیا کہ یہ بہت خراب کہانی خراب پیشکش خراب تحقیق تھی اگر ولن کو برابری کے ساتھ دکھایا جاتا تو ہیرو کا نجات دہندہ کمپلیکس زیادہ زور دیتا۔ ایک کمزور مخالف اس سے بھی کمزور مرکزی کردار کو زیب دیتا ہے اگلی مرتبہ ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں ہم آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں کیسے کپڑے پہنتے ہیں اور ہمارا رہن سہن کیسا ہے۔