Baaghi TV

Tag: news

  • سجل علی کو جمائمہ کی فلم کیسے ملی ؟

    سجل علی کو جمائمہ کی فلم کیسے ملی ؟

    جمائمہ گولڈ‌سمتھ جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ ہیں ان کی بنائی ہوئی فلم وٹس لو گاٹ ٹو ڈو اٹ ھال ہی میں‌ آسٹریلیا سیمت دیگر ممالک میں ریلیز ہوئی ہے فلم اچھا بزنس لے رہی ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس فلم کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں‌ کا رخ کررہی ہے. اس فلم میں جیسا کہ دیگر سٹارز کے ساتھ پاکستانی اداکارہ سجل علی بھی ہیں. ان کی اداکاری کو پاکستان میں تو سراہا جاتا ہی ہے لیکن اب باہر کے ممالک میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا جانے لگا ہے. بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ آخر سجل علی کو یہ فلم ملی کیسے کس نے ان کو یہ فلم دلوائی. تو یہ چیز سامنے آ گئی ہے کہ سجل کو جمائمہ کی یہ فلم کس طرح‌سے ملی. تفصیلات

    کے مطابق جمائمہ گولڈ سمتھ نے جب فلم وٹس لو گاٹ‌ٹو ڈو بنانے کا ارادہ کیا تو ان کو ایک پاکستانی اداکارہ چاہیے تھی لہذا انہوں‌نے پاکستان میں اپنے دیرینہ دوست یوسف صلاح الدین کو کال کی اور ان سے کہانی ڈسکس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اب اس کردار کے لئے پاکستانی اداکارہ چاہیے آپ بتائیے کہ یہاں کونسی ایسی اداکارہ ہے جو یہ کردار کر سکے تو انہوں‌ نے سجل علی کا نام دیا،یوں سجل کا آڈیشن لیا گیا اور انہوں نے بہترین آڈیشن دیا اس کے بعد ان کی سلیکشن ہو گئی.یوں وٹس لو گاٹ‌ٹو ڈو ود اٹ انکے ہاتھ لی.

  • آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی، 600 ارب کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ٹریلین (دو ہزار ارب) روپے کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی اور فنڈ کا سخت اضافی ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنیادی خسارے پر کوئی مالیاتی تاخیر نہیں، آئی ایم ایف کا منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ، پاکستانی حکام کا عدم اتفاق، پاکستان نے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کردی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کا GDP کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے کے مارجن سے شگاف ڈالنے کا تخمینہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اپنی ابتدائی تشخیص میں 2022-23 کے بجٹ کے تخمینے میں 2000 ارب روپے سے زیادہ کی خلاف ورزی کا پتا چلا ہے جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے اور بنیادی خسارے کے اہداف بڑے مارجن کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات کے تنازہ کا بڑا حصہ مالیاتی گراوٹ اور اعداد و شمار کی مفاہمت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف پاکستانی حکام سے منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کے اقدامات کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے اس سے بالکل اتفاق نہیں کیا اور دلیل دی کہ بنیادی خسارہ اس حد تک بالکل نہیں بڑھے گا۔ اب ایسے شعبے درج ہیں جہاں دونوں فریقوں کے مختلف خیالات ہیں اور دونوں فریقین کو 9 فروری 2023 تک عملے کی سطح کے معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال 2022-23 کے بنیادی خسارے کے حصے کے طور پر فنڈ کے ساتھ طے شدہ حد سے زیادہ پاکستان کے نقصان میں جانے والے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافہ کو شامل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    دریں اثناء پاکستان نے رواں مالی سال 2022-23 کے بجٹ خسارے خاص طور پر بنیادی خسارے کا حساب لگانے کے لیے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے اب تک اس کا حساب لگایا ہے کہ جی ڈی پی کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کے بڑے مارجن کے ساتھ شگاف ڈالا جائے گا۔

  • ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافے کے اثرات کے نتیجے میں بعض قسم کے کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پرذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگرچہ پچھلے مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں قلبی نتائج کے بارے میں بڑے پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس بارے میں کم معلوم ہے کہ آیا کینسر کی شرح اموات کے لیے ایسی عدم مساوات موجود ہے۔

    یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔

    ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔

    1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جنس، موٹاپا، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت، اور تمباکو نوشی کی حیثیت جیسے عوامل کا استعمال کرتے ہوئے تمام وجوہات، تمام کینسر، اور کینسر سے متعلق شرح اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔

    تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

  • 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:”الجزیرہ کے مطابق” مصری ماہرین آثار قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فرعونی مقبرہ دریافت کیا ہے، جس میں ملک میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور "سب سے مکمل” ممی موجود ہے۔

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق مصر کے علاقے سکارا میں زمین سے 20 میٹر نیچے موجود ایک کمرے سے تقریباً 25 ٹن وزنی تابوت میں ایک ممی ملی۔

    10 افراد پر مشتمل ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو اس میں سونے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی ملی جس کے سر پر ایک بینڈ اور سینے پر ایک بریسلٹ موجود تھا جس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی امیر انسان کی ممی ہے۔

    سونے کے پتے سے ڈھکی ہوئی ممی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 4 ہزار 3 سو سال پرانی ہے جس کی دریافت آثار قدیمہ کیلئےاہمیت کی حامل ہےممی کیساتھ مجسمے، مٹی کے برتن دیگر اشیاء بھی ملی ہیں، یہ ممی مصر میں اب تک پائی جانے والی سب سے قدیم اور مکمل غیر شاہی ممی ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق ایک اور مقبرہ راز کا محافظ اور محل کے عظیم رہنما کے معاون میری کا تھا،”خفیہ محافظ” کا پجاری لقب محل کے ایک سینئر اہلکار کے پاس تھا جس نے خصوصی مذہبی رسومات انجام دینے کی طاقت اور اختیار دیا تھا۔

    ہاؤس نے مزید کہا کہ تیسری قبر فرعون پیپی اول کے اہرام کمپلیکس کے ایک پادری کی تھی اور چوتھی قبر فیٹیک نامی جج اور مصنف کی تھی۔

    مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ فیٹیک کے مقبرے میں اس علاقے میں اب تک پائے جانے والے "سب سے بڑے مجسموں” کا مجموعہ شامل ہے۔

    مقبروں کے درمیان بے شمار مجسمے پائے گئے، جن میں سے ایک مرد اور اس کی بیوی اور کئی نوکروں کے ہیں۔

    بچوں کی مزید قبریں دریافت ہونے پرہرطرف خوف کی فضا

  • سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

    سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

    سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب کی شہزادی حیفا بنت عبدالعزیز المقرن کو چیئرمین مقرر کردیا گیا،سعودی عرب اس سال پہلی مرتبہ الریاض میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کمیشن کے 45 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔


    سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے ایک متفقہ فیصلے میں سعودی عرب کو عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا باضابطہ چیئرمین قراردیا گیا ہے۔اس کی سربراہ شہزادی حیفا بنت عبدالعزیزالمقرن ہیں۔وہ یونیسکو میں سعودی عرب کی مستقل مندوب اور یونیسکو کی پروگرامز اور خارجہ تعلقات کمیٹی کی چیئرپرسن ہیں۔


    ایس پی اے نے بتایا ہے کہ کمیٹی کا اجلاس 10 سے 25 ستمبرتک ہوگا۔یونیسکو میں سعودی عرب کے مستقل مشن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ شروع سے ہی یونیسکو کا ایک وقف رکن ملک ہے، یہ فیصلہ کن اقدام مملکت کے لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کو مزید فروغ دینے کا ایک موقع ہے۔

    شہزادی حیفا نے کہا کہ یہ فیصلہ یونیسکو میں سعودی عرب کی کوششوں، شاہ سلمان بن عبدالعزیزاور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ثقافتی شعبے کی سرپرستی ، معاونت اور وزیر ثقافت شہزادہ بدربن عبداللہ بن فرحان کی جانب سے جاری حمایت کا بھی مظہرہے۔

    واضح رہے کہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی جنرل اسمبلی کے ذریعے منتخب کردہ 21 ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں اپنے مقامات کی شمولیت کے خواہاں ممالک کی تجاویز کا جائزہ لیتی ہے،ماہرین کو ان مقامات پر رپورٹ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اورعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مجوزہ مقامات کے فیصلے کا حتمی جائزہ فراہم کرتی ہے۔

    یاد رہے کہسعودی عرب یونیسکو کی دواورمرکزی کمیٹیوں کا بھی رکن ہے۔اس کے پاس اس کی ایگزیکٹوکونسل کی رکنیت ہے اور وہ بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر منقولہ ثقافتی ورثہ کا بھی رکن ہے۔

  • صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    صومالیہ میں امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر بلال ال سوڈانی 10 ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے حکم پر صومالیہ میں آپریشن رواں ہفتے کیا گیا۔

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز کی کارروائی میں داعش کا سینیئر کمانڈر بلال ال سوڈانی ہلاک ہوگیا، آپریشن کے دوران کوئی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا، داعش کے کمانڈر کو صومالیہ کے جنوبی علاقے میں واقع ایک غار میں نشانہ بنایا گیا۔

    آسٹن نے کہا کہ بلا ل السوڈانی افریقہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں اس کے آپریشنز کی مالی مدد میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

    آسٹن نے کہا کہ آپریشن میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا ۔ اس آپریشن سے اندرون اور بیرون ملک امریکیوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے امریکہ کے پختہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

    سیاسی جماعت کے رہنما نے اہلیہ اور دو بچوں سمیت کی خود کشی

    یہ کارروائی امریکی افریقی کمان کے اس اعلان کے چند دن بعد کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صومالی دارالحکومت موغادیشو کے شمال مشرق میں گالکاڈکے تحفظ میں صومالی فوج کے ساتھ ملکر دفاعی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔

    اس واقعے میں صومالی نیشنل آرمی کی فورسز 100 سے زائد الشباب جنگجوؤں کے ایک بڑے اور شدید حملے کے بعد شدید لڑائی میں مصروف تھیں۔امریکہ کے مطابق اس کارروائی میں تحریک الشباب کے تقریباً 30 جنگجو مارے گئے تھے۔

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

  • جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار۔

    اصل نام آؤسیف ایلیکزینڈرووچ بروڈسکی تھا ایک روسی نژاد امریکی شاعر اور مضمون نگار تھے 24 مئی 1940 میں پیدا ہونے والے جوزف بروڈسکی{Joseph Brodsky} لینین گراڈ کے ایک روسی یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک ممتاز اورقدامت پسند ربانی خاندان، شورر (شور) سے تھا۔ اس کے ددھیال کا تعلق جوزف بین اسحاق بیخور شور سے ہے۔ اس کے والد ، الیکزینڈر بروڈسکی ، سوویت بحریہ میں ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھے ، اور ان کی والدہ ، ماریہ والپرٹ بروڈسکایا ، ایک پیشہ ور ترجمان تھیں جن کے کام سے اکثراس خاندان کی کفالت میں مدد ملتی تھی۔ وہ فرقہ وارانہ اپارٹمنٹ میں رہتے تھے ، ان کی زندگی بچپن کا حصہ غربت اورپسماندگی میں گزرا۔ بچپن میں بروڈسکی لینین گراڈ کے محاصرے سے بچ گئے جہاں وہ اور اس کے والدین فاقوں اور بھوک سے مر گئے اور ان کی ایک خالہ بھوک سے مر گئی۔ بعد میں وہ محاصرے کی وجہ سے مختلف صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوگئے۔ بروڈسکی نے تبصرہ کیا کہ ان کے بہت سارے اساتذہ سامی { یہودی} مخالف ہیں اور انہیں ابتدائی عمر سے ہی اختلاف کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ “میں نے لینن کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں پہلی جماعت میں تھا ، اس کے سیاسی فلسفے یا عمل کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ ان کی ہر جگہ کی تصویروں کی وجہ سے۔”

    ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے جوزف بروڈسکی “ایک غیر مہذب بچہ” تھا جو اپنے اسکول میں لڑنے جھگڑنے والا بچی جانا جاتا تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں بروڈسکی نے اسکول چھوڑ دیا اور کامیابی کے بغیر سب میرینرز اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ ملنگ مشین آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعدازاں ، معالج بننے کا فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے کرسٹی زندان میں اور سلائی کرنے کا کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں میں ، جہاز کے بوائلر روم میں ، اور ارضیاتی اسفار کی متعدد ملازمتیں رکھی۔ اسی وقت ، بروڈسکی نے خود تعلیم کے ایک پروگرام میں مشغول کیا۔ انہوں نے پولش بولنا سیکھا ،تاکہ وہ پولینڈ کے شعراء جیسے Cesesła Miłosz ، اور انگریزی کے کاموں کا ترجمہ کرسکیں تاکہ وہ جان ڈونی کا ترجمہ کرسکیں۔ راستے میں ، اس نے کلاسیکی فلسفہ ، مذہب ، خرافات ، اور انگریزی اور امریکی شاعری میں گہری دلچسپی حاصل کرلی۔

    جوزف بروڈسکی کو شمالی روس کے ایک مزدور کیمپ میں پانچ سال قید کی 18 ماہ قید کے بعد 1972 میں سوویت یونین سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ جوزف بروڈسکی کے مطابق ادب نے اس کی زندگی کو گھیر لیا۔ انہوں نے کہا ، “میں ایک عام سوویت لڑکا تھا۔ “میں اس نظام کا آدمی بن سکتا تھا۔ لیکن کسی چیز نے مجھے الٹا کردیا: [فیوڈور دوستوفسکی] انڈر گراؤنڈ سے نوٹس پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں کیا ہوں۔ میں برا ہوں۔”

    بروڈسکی نے سوویت حکام کی سختیوں اور پابندیوں کے بعد امریکہ چلے گئے۔ اور 1972 میں سوویت یونین سے اور بقول ان کے “ہجرت کی” سختی سے نصیحت ہوئی ۔ ڈبلیو ایچ آڈن اور دوسرے حامیوں کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ میں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ماؤنٹ ہولیوک کالج ، اور ییل ، ​​کولمبیا ، کیمبرج ، اور مشی گن سمیت یونیورسٹیوں میں تعلیم وتدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر آندرے رنچین کے مطابق: “بروڈسکی وہ واحد جدید روسی شاعر ہے جس کے جسمانی کام کو پہلے ہی کانونائزڈ کلاسک کا اعزازی خطاب دیا گیا ہے ۔ بروڈسکی کا ادبی تخصیص ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ کسی بھی دوسرے ہم عصر روسی مصنف کو اس طرح کی متعدد یادداشتوں کا ہیرو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کسی اور کے پاس اتنی ساری کانفرنسیں ان کے لیے وقف نہیں تھیں”۔

    سوویت یونین چھوڑنے سے پہلے ، بروڈسکی نے اپنے پسندیدہ روسی شاعر انا اخماٹووا کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ جلاوطنی کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ ، جہاں اس نے بروکلین اور میساچوسٹس میں قیام کیا۔ ۔ان کے دوست شاعر سیمس ہینی کے مطابق ، وہ “مبہوت ، محنتی اور ایک خاص مقدار میں خلوت میں رہتے تھے۔”

    بروڈسکی نے اپنی نسل کے سب سے بڑے روسی شاعر کے طور پراپنی ادبی حیثیت کو منوایا، نو شعری مجموعوں کے ساتھ ساتھ مضامین کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ، اور 1987 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ انگریزی ترجمے میں ان کی شاعری کی پہلی کتاب 1973 میں شائع ہوئی۔جو فکریہ اور شاعرانہ شدت کے ساتھ ایک نئی شاعرانہ حساسیت کا حامل تھا۔

    کولمبیا یونیورسٹی اور ماؤنٹ ہولیوک کالج میں درس و تدریس کے علاوہ ، جہاں انہوں نے پندرہ سال تک درس دیا ، بروڈسکی نے 1991 سے 1992 تک ریاستہائے متحدہ کے شاعر لاریوٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں ، انہوں نے امریکی شاعری اور خواندگی پروجیکٹ کو ڈھونڈنے کے لئے اینڈریو کیرول کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ایک نان نفع تنظیم ، جوجوزف بروڈسکی کے الفاظ میں ، “ثقافت کو امریکی ثقافت کا ایک زیادہ مرکزی حصہ بنانے کے لئےہے “۔

    جوزف بروڈسکی، جان ڈون سے لے کر آڈن تک انگریزی مابعد الطبعیاتی شعرا سے بہت متاثر تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر مصنفین جیسے ٹامس وینکلووا ، آکٹیوو پاز ، رابرٹ لوئل ، ڈیرک والکوٹ ، اور بینیٹاٹا کریری کی تحریروں سے بھی استفادہ حاصل کرتے رہے۔

    جوزف بروڈسکی 28 جنوری 1996 کو اپنے بروکلین اپارٹمنٹ میں دل کا دورہ پڑنے سے 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ وینس اٹلی میں Isola di San Michele کے قبرستاں میں دفن ہوئے۔

    جوزف بروڈسکی کی ایک نظم

    بیلفاسٹ دھن {Belfast Tune}
    یہاں ایک خطرناک شہر کی لڑکی ہے
    وہ اپنے سیاہ بالوں کو مختصر تراشتی ہے
    تاکہ اس کی کم تعداد کو خوفزدہ کرنا پڑے
    جب کسی کو تکلیف ہو۔
    وہ اپنی یادوں کو پیراشوٹ کی طرح جوڑتی ہے۔
    اس نےاسے گرا دیا ، وہ کوئلےجمع کرتی ہے
    اور گھر میں سبزیوں کو پکاتی ہے: وہ گولی چلاتے ہیں
    یہاں وہ کھاتے ہیں جہاں
    آہ ، ان حصوں میں کہیں زیادہ آسمان ہے ، کہیں ،
    زمین۔۔ لہذا اس کی آواز کی آواز
    اور اس کے گھورنے سے آپ کی ریٹنا پر بھورے رنگ کی طرح داغ پڑتا ہے
    جب آپ سوئچ کرتے ہو تو بلب
    نصف کرہ ، اور اس کے گھٹنے کی لمبائی کا بٹیر
    اسکرٹ کو پکڑنے کے لئے اسکرٹ کا کٹ ،
    میں نے اس کو یا تو پیار کیا تھا یا قتل کیا ہے یا اس کا خواب دیکھا ہے
    کیونکہ یہ قصبہ بہت چھوٹا ہے۔

    ترجمہ احمد سہیل

  • پٹھان کا باکس آفس پر تاریخ رقم کرنے پر  ڈائریکٹر سدھارتھ آنند کاردعمل

    پٹھان کا باکس آفس پر تاریخ رقم کرنے پر ڈائریکٹر سدھارتھ آنند کاردعمل

    شاہ رخ خان، دیپیکا پڈوکون اور جان ابراہم کی فلم پٹھان اس سال کی بالی وڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم اوپپنگ کے اعتبار سے ثابت ہو رہی ہے، یہ تو کنفرم ہے کہ اس فلم جیسی اوپننگ شاید ہی بالی وڈ کی اس سال کی کوئی دوسری فلم لے گی. اس فلم کے ڈائریکٹر سدھارتھ آنند اس وقت فلم کی کامیابی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ پٹھان کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے اس ملک کی کامیابی ہے. ہم سب بعد میں ہیں اور یہ ملک سب سے پہلے ہے. پٹھان کی کامیانی سے بالی وڈ ایک نئے فیز میں داخل ہو گیا ہے بہت عرصے کے بعد پورے بھارت میں کوئی فلم مقبول ہوئی ہے. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ پٹھان پوری دنیا میں شائقین کو متاثر کررہی ہے. جس

    کی مجھے بے حد خوشی ہے انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خان ، دیپیکا اور جان ابراہم نے کمال مہارت کے ساتھ کام کیا انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ سب بالی وڈ کے نمبر ون سٹارز ہیں. انہوں نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ فلم کو اتنا پسند کیاجائیگا میں اپنے چاہنے والوں کا شکر گزار ہوں. یادرہے کہ پٹھان فلم نے ریلیز کے پہلے دن 55 کروڑ جبکہ دوسرے دن 70 کروڑ روپے کما کر بالی وڈ کی سینما کی تاریخ میں ریکارڈ قائم کر دیا ہے.

  • ماہرہ خان کا رنبیر کپور کے گانے پر ڈانس ، وڈیو کی انڈیا میں دھوم

    ماہرہ خان کا رنبیر کپور کے گانے پر ڈانس ، وڈیو کی انڈیا میں دھوم

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان، جنہیں پاکستان سمیت بھارت میں بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے، وہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان کی ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ماہرہ خان شادی کی ایک تقریب میں رقص کررہی ہیں اور وہ شادی کی تقریب معروف فیشن آئی کون فریحہ الطاف کی بیٹی کی ہے. جس ماہرہ خان ڈانس کررہی ہیں اس وڈیو میں ماہرہ خان نے رنبیر کپور کی فلم براہمسٹرا کے ایک گیت پر رقص کیا اور اس رقص اور وڈیو کی شہرت بھارت جا پہنچی. ماہرہ کی اس وڈیو کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر دلچپسپ تبصرے ہوئے اور ساتھ ہی رنبیر کپور اور ماہرہ کے افئیر کی خبروں پر بھی بات چیت ہوتی رہی جوکہ 2017 میں بہت زیادہ چرچا میں رہیں. رنبیر کپور اور ماہرہ خان

    کو دبئی میں ایک ہوٹل میں ایک ساتھ سیگریٹ پیتے ہوئے دیکھا گیا تو ان کے افئیر کے چرچے دونوں ملکوں میں ہوئے. لیکن وقت نے ثابت کیا کہ دونوں کا تعلق صرف دوستی کی حد تک تھا اس سے آگے ایسی کوئی بات نہیں تھی جو اُس وقت ان دونوں کی ایکساتھ تصاویر کو دیکھ کر کی گئیں. یاد رہے کہ وڈیو میں ماہرہ خان نے ایک خوبصورت لہنگا زیب تن کیا ہوا ہے جس میں وہ نہایت ہی دلکش لگ رہی ہیں.

  • بگ باس کے عبدو شاہ رخ خان کے گھر کے باہر پہنچ گئے

    بگ باس کے عبدو شاہ رخ خان کے گھر کے باہر پہنچ گئے

    تاجکستان سے تعلق رکھنے والے دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے گلوکار اور سوشل میڈیا اسٹار عبدو روزک کو آج کل بہت مقبولیت حاصل ہے. عبدو جو کہ بگ باس سے باہر آچکے ہیں ان کی سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ شاہ رخ خان کے گھر منت کےباہر گاڑی میں کھڑے نظر آرہے ہیں انہوں نے ہاتھ میں ایک پوسٹر بھی پکڑ رکھا ہے. ان کے اردگرد ان کے اور شاہ رخ خان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو شاہ رخ خان کو نہ صرف دیکھنے کےلئے بلکہ انہیں ان کی فلم کی کامیابی کی مبارکباد بھی دینے کےلئے جمع تھے. اس موقع پر عبد و میڈیا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے. شائقین ان کی تصاویر اپنے موبائل میں اتارتے رہے . یاد رہے کہ عبدو روزک کی عمر 19 برس ہے اور وہ دبئی میں مقیم ہیں،

    ان کا قد صرف 100 سینٹی میٹر ہے۔ عبد رواں برس دسمبر میں آنے والی فلم ‘کسی کا بھائی کسی کی جان’ میں دکھائی دیں گے۔عبدو بگ باس 16 میں شریک تھے لیکن انہوں نے اس گھر سے خود ہی رخصت لے لی کیونکہ بگ باس نے شو کا دورانیہ چار ہفتوں کے لئے بڑھایا تھا. اور عبدو نے شوٹنگ کےلئے کسی کو ڈیٹس دے رکھی تھیں.