Baaghi TV

Tag: news

  • جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    پیدائش: 18 مارچ 1932
    انتقال: 27 جنوری 2009

    امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے عام امریکیوں اور خاص طور چھوٹے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقات کی زندگیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انھیں کئی پلِٹزر پرائز سمیت کئی ادبی انعامات سے نوازا گیا۔ وہ 60 سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے۔

    جان اپڈائیک نے امریکا میں ایک ایسے شخص کی زندگی پر بھی ناول لکھا جس کا باپ مسلمان تھا مگر اپنی امریکی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیوجرسی کے پس منظر میں مذہبی انتہاپسندی کو بھی اپنے ایک ناول کا موضوع بنایا۔ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

  • اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے.

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر کرنے والے عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے ہیں اور انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ؛ "وزیراعظم اور وزیر خارجہ صاحب میں بے تحاشہ مرتبہ گزارش کر چکا ہوں کہ میں اوکاڑہ سے مکہ پیدل حج کیلئے سفر کر رہا ہوں اور ویزوں کی وجہ سے ایران میں رکا ہوا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے عراق، کویت اور سعودیہ کا ویزہ دلوانے میں مدد فراہم کی جائے.”


    انہوں نے مزید کہا کہ؛ "صبح شام پاکستان میں صرف سیاست کی بات ہوتی ہے۔ سیاست کے علاوہ سب فضول ہے اور عوام بھیڑ بکریاں ہیں، جن کی سننے والا کوئی نہیں اور مثالیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دی جاتی ہیں کہ نہر کے کنارے کتا بھی مر گیا تو مجھ سے سوال ہو گا.”

    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    تاہم کچھ صارفین نے یہ اعتراض کیا کہ یہ کام تم نے پیدل سفر شروع کرنے سے پہلے کیوں نییں کیا اور یہ کہ کویت نے تو پہلے سے پاکستانیوں کے لیے ویزے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے جواب میں عثمان ارشد نے ویڈیو بیان میں ہی وضاحت کردی تھی کہ اگر میں پاکستان سے ویزے لیکر چلتا تو پھر چونکہ ان کی معیاد کمی ہوتی یا پھر انسان ہے کہ پیدل سفر میں زیادہ وقت اور حالات کا تعین نہیں ہوتا اس لیئے پہلے سے ویزے نہیں لیئے.

    تاہم بہت سارے صارفین نے حکومت وقت سے درخواست کی اس کی مدد کی جائے واضح رہے کہ عثمان ارشد سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات بھی کی تھی اور وعدہ بھی کیا تھا مدد کا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے.

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کِزومبا رقص جیسے ایک موسیقی کی صنف ہے اور اس کی ابتدا انگولا، افریقہ سے 1984 میں ہوئی۔ کِزومبا کا مطلب ہے پارٹی ہے اور انگولا کے لوگوں میں بولی جانے والی زبان کا لفظ ہے. اور پھر یہ افریقہ سے پھیلتے پھیلتے پوری دنیا میں پھیل گیا لیکن یہ دور جدید میں زیادہ آسانی اور جلدی سے پھیلا کیوں کہ سوشل میڈیا پر اس رقص کو کافی پسند کیا گیا ہے.

    لیکن یہ رقص جیسے جیسے پھیلتا گیا ویسے ویسے اس میں اس فن کے ماہر رقاص نے اپنے حساب سے اسے اپڈیٹ یا تبدیل بھی کیا ہے لیکن اسی میں جتنی بھی تبدیلیاں ہوئی یا اسے بہتر بنایا گیا اس میں ہر نئے رقص اور پرانے رقص دونوں نے اپنے ناظرین کے دل محظوظ کرتا ہے. جبکہ اگر ہم آپ کو لفظی طور پر بتائیں تو اس میں دو لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ اور کمر پر ہاتھ رکھ ڈانس کرتے ہیں.
    https://twitter.com/nyameduwah/status/1616122668230807552
    بل افریکن ویب سائٹ کے مطابق؛ "کزومبا kizomba ایک ایسا رقص ہے جو جوڑے کو اس موسیقی سے مزید لطف اندوز ہونے کی اجازت دیتا ہے جس پر وہ رقص کر رہے ہیں جبکہ جوڑے کی قربت کے سبب سست اور جنسی حرکتوں کے ساتھ ایک انتہائی قریبی رقص بن جاتا ہے. جس میں مرد اور عورت کے درمیان بہترین معروف مہارت اور پیچیدگی کی ضرورت ہوتی ہے، یا زیادہ کھلا تیز قدموں، پاؤں کے کام اور چالوں کے ساتھ رقص کرنا انتہائی مزیدار ہوجاتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    خیال رہے کہ کزومبا ڈانس بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے اور اسے اکثر فلم جگت کافی پسند کرتے ہیں لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا بھر میں سب سے پسند کیا جانے والا رقص ہے ، دو محبت کرنے والوں کیلئے تو یہ بہت ہی پسندیدہ رقص ہے کیونکہ اکثر فلموں میں اس رقص کو ہیرو اور ہیروئین کے ذریعے دکھایا جاتا ہے.

  • نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    برلن:جرمنی میں ایک نئی قسم کا ڈائنا سور دریافت ہوا ہے جس کے منہ میں 400 سے زائد دانت تھے اور وہ بطخ اور بگلوں کی طرح کھانا کھاتا تھا۔سائنس اور ٹکنالوجی: ٹیرو سار خاندان سے تعلق رکھنے والے بیلینوگنیتھس مائیوسیری (بیلینوگنیتھس مطلب وہیل کے منہ جیسا) نامی اس ڈائنا سور کی باقیات تقریباً سالم ہیں۔ یہ باقیات جرمنی کی ایک ریاست بیویرین کی ایک کان سے حادثاتی طور پر اس وقت دریافت ہوئیں جب سائنس دان چونے کے بڑے بڑے پتھروں کی کھدائی کر رہے تھے جن میں مگر مچھوں کی ہڈیاں موجود تھیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر کینیڈا سے آئے اپنے مہمانوں سمیت ڈاکوؤں کے ہاتھوں…

    18 ویں صدی میں پہلی بار ٹیرو سارس دریافت ہونے کے بعد سے اس جگہ سے اڑنے والے اس ڈائنا سور کی سیکڑوں باقیات دریافت کی جا چکی ہیں۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے پروفیسر ڈیوڈ مارٹِل کی سربراہی میں کی گئی جس میں انگلینڈ، جرمنی اور میکسیکو کے ماہرینِ باقایات بھی شامل تھے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

    پروفیسر مارٹِل کا کہنا تھا کہ تقریباً مکمل ڈھانچے پر چونے کی ایک انتہائی باریک تہہ چڑھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ ڈھانچہ بالکل محفوظ تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیروسور کے جبڑے بہت لمبے ہیں اور ان میں چھوٹے، باریک اور خم دار دانت موجود ہیں۔ ان دانتوں کےدرمیان باریک کنگھی کی طرح خلاء موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے جبڑے ایووسیٹ نامی پرندے کی چونچ کی طرح اوپر کو مڑے ہوئے ہیں اور آخر میں اسپون بِل پرندے کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس کے منہ کے آخر میں کوئی دانت نہیں لیکن اس کے علاوہ دونوں جبڑوں میں پیچھے تک دانت ہیں۔

  • افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی اپنے آنسو پر قابو نہ پاسکے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ کے والد اور اسے پرواز کرنے دو کتاب کے مصنف، تعلیم بارے متحرک کارکن ضیاء الدین یوسف زئی نے ایک پشتو میڈیا پلیٹ فام سے بات کررہے تھے جب افغانستان کی خواتین بارے ان پر حصول تعلیم پر پابندی کی بات آئی تو وہ جزباتی ہوگئے اور اپنے آنسو نہ روک پائے.


    اس انٹرویو میں انہوں نے پشتوں زبان میں بات کرتے ہوئے افغانستان کے مردوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ؛ "میں اپنے افغان پشتون بھائیوں سے ناراض ہوں کیونکہ انہیں خواتین اور اپنی بچیوں کے اس حقوق کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے اور حصول تعلیم پر لگی ان پابندیوں کیخلاف ان کا ساتھ دینا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر مرد و عورت کا برابر کا حق ہے لہذا ہم مردوں کو بھی ان خواتین کا ساتھ دینا چاہئے جن سے ان کا یہ حق چھینا گیا ہے.”

    صحافی ملک رمضان اسراء نے ضیاء الدین یوسفزئی کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پشتوں اور انگریزی میں لکھا کہ تعلیم بارے متحرک کارکن افغان خواتین اور بچیوں کی تعلیم بارے بات کرتے ہوئے اپنے آنسو پر قابو نہ رکھ سکا. اور انہوں نے مردوں سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے حصول تعلیم کیلئے دنیا بھر میں اپنی آواز بلند کریں.


    ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعا کی کہ؛ "خدا کرے کہ میری آواز تمام افغانوں اور پشتونوں کو سنائی دے اور وہ تعلیم، کام اور آزادی کے انسانی حقوق کی جدوجہد میں افغانستان کی بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی آواز کو ان کی آواز میں شامل کریں۔”

  • مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا
    سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی نئی کتاب ’’ نیور گیو این انچ: فائٹنگ فار دا امریکہ آئی لو‘‘ کا پوری دنیا میں چرچا ہے ۔ پومپیو کی یادداشتوں میں بہت سے سرپرائز موجود ہیں۔ اس کتاب نے بہت سے معاملات پر موجود معلومات کی روشنی میں امریکہ کے اندر اور باہر امریکی سیاسی حلقوں اور میڈیا کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

    اپنی یادداشتوں میں پومپیو نے سعودی عرب کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات امریکی میڈیا کو پریشان کر رہے تھے۔ پومپیو نے زور دے کر کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک مصلح ہیں جو اپنے وقت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر واقعی ایک تاریخی شخصیت ثابت ہوں گے۔

    اپنی کتاب میں پومپیو نے اکتوبر 2018 میں اپنے ریاض کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس چیز نے میڈیا کو گوشت کے مذبح میں سبزی خوری سے زیادہ پاگل پن کا شکار کردیا وہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے خود کو سعودی عرب جانے کا ٹاسک سپرد کئے جانے کے حوالے سے پومپیو نے بتایا کہ ایک طرح سے مجھے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ مجھ سے حسد محسوس کر رہے تھے کیونکہ میں ہی وہ تھا جس نے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک اور حقیقت سے دور رہنے والے دوسرے بزدلوں کو تکلیف پہنچائی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ خاشقیجی کا قتل اشتعال انگیز اور ناقابل قبول تھا لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ خاشقیجی ایک "صحافی” تھے۔ پومپیو نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے خاشقیجی کو "سعودی باب ووڈورڈ” بنا دیا تھا حالانکہ خاشقیجی ایک ایکٹوسٹ تھے۔

  • نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قبل کار میں ایک نوجوان کو جلا کر مار ڈالنے کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعہ جدہ میں پیش آیا تھا۔ مقتول بندر القرھدی کے مقدمہ کے وکیل اور مشیر عبد العزیز القلیصی نے بتایا ہے کہ بندر القرھدی کیس کا فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ القلیسی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا "اے اللہ، تیری ہی حمد ہے جب تک کہ تو راضی نہ ہو جائے، مقتول اور شہید بندر بندر القرھدی کا مقدمہ مدعا علیہ کے خلاف سزائے موت کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ اللہ کی طرف سے احسان ہے۔ ہم اس مقدمہ میں تعاون اور مدد کرنے والے ہر شخص کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقدمہ کے آغاز سے لیکر عدالت تک میں کام کرنے والے اپنے دفتر کے ارکان کا بھی شکرگزار ہوں۔
    https://twitter.com/ks2k_A/status/1618505964289724417
    العربیہ نیٹ کے مطابق مقتول کے والد طہٰ القرھدی بھی وکیل کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا کہ الحمد للہ، مجرم برکات کو سزا سنا دی گئی۔ یہ اس بہتر اور پاک ملک میں اللہ کا حق اور انصاف ہے۔ واضح رہے ڈیڑھ ماہ مواصلاتی ویب سائٹس کے کارکنوں نے ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی تھی جس میں ایک ایک نوجوان کو گلی میں چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ نوجوان پکار رہا تھا ’’ میں تو بہت پیارا ہوں‘‘۔ بندر کو اس کے دوست ورغلا کر لائے تھے اور جدہ میں ایک گاڑی میں اسے جلا دیا تھا۔

    اس وقت بندر کے والد طٰہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ میرا بیٹا بندر میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور میری اس سے آخری مرتبہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے ساتھ ایک برگر اور شوارما پر مشتمل کھانے کے طور پر لایا اور اسے اپنے کمرے کے دروازے پر لٹکا کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اپنی موت کی وجہ سے اپنے لٹکائے ہوئے کھانے کو کھانے واپس نہیں آسکا۔ اس کے دوست نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کو زندگی سے محروم کردیا۔

    انہوں نے کہا میرا بیٹا بندر اپنی مہربانی اور اچھے سلوک کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ 20 سال سے سعودی ایئرلائنز میں کام کر رہا تھا۔ وہ حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اسے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے پالا تھا اور اسے نیکی سے محبت کرنا سکھایا تھا۔ انہوں نے دکھ سے بھرے الفاظ میں کہا تھا کہ کام پر اس کا ساتھی وہی ہے جس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اور جو واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کے لیے غیر معمولی ہے۔ ہم نے اس سے قبل ایسے واقعے کے متعلق کبھی نہیں سنا۔

  • الطاف حسین  صحافی وادیب،یوم پیدائش

    الطاف حسین صحافی وادیب،یوم پیدائش

    الطاف حسین صحافی و ادیب

    پیدائش:26 جنوری 1900ء
    سلہٹ
    وفات:25 مئی 1968ء
    کراچی
    شہریت:برطانوی ہند
    پاکستان
    جماعت:پاکستان مسلم لیگ
    مادر علمی؛کلکتہ یونیورسٹی
    جامعہ ڈھاکہ
    صناعتِ پاکستان
    مدت منصب
    ۔۔۔ 17 اگست 1965 – 15 مئی 1968
    ایڈیٹر چیف ڈان
    مدت منصب
    ۔۔۔ 14 اگست 1947 – 16 اگست 1965

    الطاف حسین سلہٹ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1923ء میں ایم اے کیا۔ 1938ء تک مختلف کالجوں میں انگریزی کے استاد رہے پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ 1945ء میں روزنامہ ڈان دہلی کے ایڈیٹر مقررہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈان کراچی منتقل ہوا تو آپ بھی کراچی چلے گئے۔ 1951ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ 1952ء میں بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس منعقدہ ماسکو میں شرکت کی۔ کچھ عرصہ پاکستان نیشنل کمیٹی انٹرنیشل پریس انسٹی ٹیوٹ اور کامن ویلتھ پریس یونین کی پاکستان شاخ کے صدر رہے۔ 1960ء میں آپ کو ہلال قائداعظم کا اعزاز دیا گیا۔ 1965ء میں مرکزی حکومت کے وزیر صنعت و حرفت بنائے گئے۔ انگریزی میں تین کتب "شکوہ جواب شکوہ” کا ترجمہ، انڈیا گزشتہ دس سال اور ماسکو میں پندرہ دن ، کے مصنف ہیں۔

  • آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    حمیدہ شاہین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    26 جنوری 1963 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی ایک بہتر پاکستانی شاعرہ پروفیسر حمیدہ شاہین صاحبہ 26 جنوری 1963 کو سرگودھا پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1988 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تعینات ہوئیں اور ٹھیک 32 برس بعد اپنی سالگرہ کے دن 26 جنوری 2020 میں ترقی کرتے ہوئے 20 گریڈ میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ جبکہ آج اپنی سالگرہ کے دن 60 سال کی عمر کو پہنچ کر گورنمٹ ملازمت سے سبکدوش ہو گٙئی ہیں۔ حمیدہ شاہین صاحبہ کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، دستک، دشت وجود اور”زندہ ہوں” شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نمونہ کلام

    کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
    آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

    اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
    آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

    اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
    آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

    آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
    اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
    آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

    آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
    آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

    آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
    آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

    ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
    ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

    کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
    دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

    حمیدہ شاہین