Baaghi TV

Tag: news

  • امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے ایران پرمزید پابندیاں عائد کردیں

    امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے ایران پرمزید پابندیاں عائد کردیں

    تہران: نوجوان لڑکی مھسا امینی کی پولیس کے زیر حراست ہلاکت پر ہونے والے ملک گیر مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔

    گھوٹکی میں پولیس کی کارروائی، 16 ڈاکو ہلاک

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور ’’کوآپریٹو فاؤنڈیشن‘‘ اور چند اعلیٰ ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں۔اسی طرح برطانیہ نے بھی مزید 5 ایرانی عہدیداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے اپنی فہرست کو 50 ایرانی افراد اور تنظیموں تک بڑھا دیا۔یورپی یونین نے بھی 37 ایرانی حکام کو بلیک لسٹ کرکے ویزا پابندی عائد کردی جب کہ اور کچھ اداروں کے اثاثے منجمد کردیے۔

    ٹھٹھہ : ہلال احمر کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے فری میڈیکل کیمپ اور امداد کاسلسلہ…

    امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے ان مزید پابندیوں کی وجہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر تشدد اور انھیں طاقت کے ذریعے روکنا بتایا ہے۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے بعض حکام جوہری پروگرام کے معاہدۂ 2015 کو بحال کرنے کی کوششیں کو ختم کرنے کے خواب نہ دیکھے۔

    قصور میں ہندو برادری کےتین افراد کی پراسرار موت,انتہائی افسوسناک واقعہ ہے.میاں…

    واضح رہے کہ ایران پر نئی پابندیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے عالمی رہنماؤں کے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مظاہرین کی شناخت، ان کے ٹرائل اور سزائیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

  • ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    آسی غازی پوری

    آسی غازی پوی کا شمار اردو کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش 21 دسمبر 1834ء کو سکندر پور ضلع بلیا (یوپی) میں ہوئی ۔ نام محمد عبدالعلیم تھا۔ پہلے عاصی تخلص اختیار کیا پھر آسی۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی اس کے بعد جونپور چلے گئے اور مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی سے معقولات کی تعلیم حاصل کی۔

    عاصی ایک ماہر طبیب بھی تھے ۔ انھوں نے طب کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ اپنے ذوق اور ذاتی مطالعے سے اس فن میں مہارت حاصل کی ۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر وسخن میں دلچسپی تھی ۔ ناسخ کے شاگرد افضل الہ آبادی سے مشورہ سخن کیا ۔ آسی کا دیوان ’’ عین المعارف ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ 24 جنوری 1917ء کو غازی پور میں انتقال ہوا ۔

    آسی کی شاعری متصوفانہ فکر کا تخلیقی بیان ہے ۔ آسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میر درد کے بعد تصوف کے موضوعات کو شاعری میں برتنے والے وہ سب سے کامیاب شاعر ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل
    ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    میری آنکھیں اور دیدار آپ کا
    یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

    اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی
    پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

    وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری
    یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے

    وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی
    ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا

    لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے
    کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

    خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں
    میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں

    بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے
    وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

    طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو
    حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں

    وہ خط وہ چہرہ وہ زلف سیاہ تو دیکھو
    کہ شام صبح کے بعد آئے صبح شام کے بعد

    کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر
    جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے

    ملنے والے سے راہ پیدا کر
    اس سے ملنے کی اور صورت کیا

  • گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب  بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    بھارتی ریاست گجرات کی عدالت کے جج سمیر ویاس نے مضحکہ خیز ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گائے کے گوبر کا لیپ گھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے بچاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے تاپی ضلع میں ایک سیشن عدالت کے جج نے ملک میں گائے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر جوہری تابکاری سے متاثر نہیں ہوتے جبکہ گائے کے پیشاب سے بہت سی لاعلاج بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے-

    گجرات کے ضلع تاپی کی سیشن کورٹ میں گزشتہ سال ایک 22 سالہ مسلمان نوجوان کے خلاف مختلف قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس کیس میں نوجوان کو گائے اور بیلوں کو گجرات سے مہاراشٹرا لے جانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    اسی حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے گائے کو ذبح کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے ایک جانور نہیں ہماری ماں ہے، ملک میں گائے کو بچانے کی ضرورت ہے۔

    عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ دنیا کے تمام مسائل اس دن حل ہوجائیں گے جس دن کرہ ارض پر گائے کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں گرے گا، گائے کے ذبیحہ اور غیر قانونی نقل و حمل کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں یہ ایک مہذبی معاشرے کی توہین ہے اگرچہ ہم گائے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، لیکن زمین پر اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔

    جج نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئے 75 سال گزر چکے ہیں لیکن گائے ذبیحہ کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں گائے مذہب کی علامت ہے گائے پر مبنی آرگینک فارمنگ کے ذریعے اگائی جانے والی خوراک ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

    عدالت نے سائنس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر اٹامک ریڈی ایشن سے متاثر نہیں ہوتے جب کہ گائے کا پیشاب بھی متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے۔

    جج نے کہا کہ گائے خطرے میں ہے کیونکہ آج کل "مکینائزڈ سلاٹر ہاؤسز” میں گائے کا گوشت ذبح کیا جا رہا ہے اور گوشت کے ساتھ گائے کا گوشت نان ویجیٹیرین لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

    لوگوں کو گائے کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے، جج نے سنسکرت کے کچھ شلوکوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ "مذہب گائے سے پیدا ہوا ہے” کیونکہ مذہب ‘ورشابھا’ (بیل) کی شکل میں ہے، جو گائے کا بیٹا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تکلیف دہ ہے کہ گائے کو غیر قانونی طور پر لے جایا جا رہا ہے اور ذبح کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں گائے کی 75 فیصد آبادی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

    اگست 2020 میں، تاپی پولیس نے مہاراشٹر کے مالیگاؤں قصبے کے رہائشی محمد امین انجم کو مبینہ طور پر 16 گایوں اور بیلوں کو ٹرک میں گجرات لے جانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیاجب پولیس نے ٹرک کو روکا تو ایک گائے اور ایک بیل پہلے ہی مر چکے تھے کیونکہ گاڑی میں مویشیوں کے لیے کافی جگہ یا خوراک نہیں تھی محمد انجم اپنا ٹرک چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا تھا تاہم بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

    ایک مقدمے کی سماعت کے بعد، سیشن کورٹ نے اسے گجرات جانوروں کے تحفظ ایکٹ، 2011، گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017، اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام ایکٹ، 1960 کے متعلقہ سیکشن کے تحت مجرم پایا۔

    2017 میں، ریاستی حکومت نے ‘گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017’ کی شکل میں گائے کے ذبیحہ کے خلاف ایک سخت قانون متعارف کرایا، جس میں گائے کے ذبیحہ کے قصوروار یا براہ راست ملوث ہونے کے لیے عمر قید کی سزا کا انتظام ہے عدالت نے ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی اور اس پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

  • سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرنے والا ہے۔

    باغی ٹی وی: دم دار ستارہ C/2022 E3 (ZTF)، جسے ‘گرین دم دار ستارہ’ بھی کہا جا رہا ہے، یکم فروری کو ہمارے سیارے کے قریب سے گزرے گا۔

    C/2022 E3 نامی اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا اب یہ دم دار ستارہ یکم اور 2 فروری کو زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوگا اور 2 کروڑ 70 لاکھ میل دوری سے گزرے گا۔

    درحقیقت دم دار ستارے نے آخری بار 50,000 سال پہلے اندرونی نظام شمسی کا دورہ کیا تھا، اس وقت کے ارد گرد پتھر کے زمانے کے انسانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ پہلی بار کسی زبان میں بات شروع کر دی تھی۔

    اور اس کے مدار کی نوعیت کی وجہ سے، یہ کبھی بھی اندرونی نظام شمسی کا دورہ نہیں کر سکتا ہے یعنی یہ انسانیت کے لیے C/2022 E3 (ZTF) کو دیکھنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔

    خوش قسمتی سے آسمان پر نظر رکھنے والوں کے لیے، 2023 کے بہترین دم دار ستارے کے طور پر جس چیز کی تعریف کی جا رہی ہے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اب بھی کافی مواقع موجود ہیں۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہےان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    یہ دم دار ستارہ آنے والے دنوں میں دوربین کی بجائے آنکھوں سے دیکھنا بھی ممکن ہوگا مگر ایسی جگہوں پر جہاں تاریکی بہت زیادہ ہو اور روشنی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، اگرچہ اگلے ہفتے اس کا بہترین نظارہ ہوسکے گا مگر فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

  • 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا کی برنٹ آئس شیلف سے الگ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) نے بتایا کہ 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ 22 جنوری کو برنٹ آئس شیلف سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا اور اب یہ امکان ہے کہ وہ بحیرہ ودل میں بہنے لگے گا۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت


    خیال رہے کہ لاہور کا رقبہ 1772 اسکوائر کلومیٹر ہے، یعنی یہ برفانی تودہ اس سے کچھ زیادہ چھوٹا نہیں۔


    بی اے ایس کے مطابق برفانی تودے کی علیحدگی سے قبل ایک دراڑ نمایاں ہوئی تھی جس کے بعد وہ آئس شیلف سے علیحدہ ہوا یہ واقعہ بی اے ایس کے ہیلے ریسرچ اسٹیشن کے قریب پیش آیا اور وہاں موجود عملے کے 21 افراد محفوظ رہے۔

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ایک دہائی قبل بی اے ایس کے ماہرین نے آئس شیلف میں بڑی دراڑوں کو دیکھا تھا اور اب جاکر یہ برفانی تودہ الگ ہوا ہے بی اے ایس کی ڈائریکٹر ڈیم جین فرانسس کے مطابق ماہرین کو پہلے ہی ایسا ہونے کی توقع تھی۔


    انہوں نے بتایا کہ برفانی تودے کی علیحدگی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں اور ایسا قدرتی طور پر ہوا دراڑ چوڑی ہونے پر 2016 میں ہیلے اسٹیشن کو 23 کلومیٹر دور منتقل کیا گیا تھا اور 2017 سے وہاں صرف نومبر سے مارچ (جب انٹار کٹیکا میں موسم گرما ہوتا ہے)کے دوران عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ 2 سال کے یہ دوسری بار ہے جب اس خطے میں ایک بڑا برفانی تودہ الگ ہوا ہے اس سے قبل مئی 2021 میں دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے رونی آئس شیلف سے الگ ہوکر سمندر میں بہنے لگا تھا اس برفانی تودے کا رقبہ 4320 اسکوائر کلومیٹر تھا، یعنی وہ لاہور سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑا تھا-

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • آئی سی سی نے مینز اور ویمنز  ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر کا اعلان کر دیا

    آئی سی سی نے مینز اور ویمنز ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر کا اعلان کر دیا

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی) نے مینز ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر 2022 کا اعلان کردیا جس میں ا نگلینڈ کے بین اسٹوکس کو بطور کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی نے مینز ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر 2022 میں پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو بھی شامل کیا ہے جو ٹیسٹ ٹیم آف دی ائیر میں شامل واحد پاکستانی بیٹر ہیں آسٹریلیا کے عثمان خواجہ، مارنوس لبوشین، ویسٹ انڈیز کے بریتھ ویٹ اور انگلش کھلاڑی جونی بئیرسٹو شامل ہیں۔
     2022ICC men Team of the year


    ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر2022 کیلئے بھارت کے ریشبھ پنت، آسٹریلیا کے پیٹ کمنز، جنوبی افریقا کے کگیسو ربادا، آسٹریلیا کے نیتھن لیون اور انگلش کھلاڑی جیمز اینڈرسن بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔


    دوسری جانب آئی سی سی نے ویمنز ون ڈے ٹیم آف دی ایئر 2022 کا اعلان کردیا جس میں پاکستان کی کوئی کرکٹر شامل نہیں۔
    ICC women Team of the year 2022
    آئی سی سی ون ڈے ویمنز ٹیم کیلئے بھارت کی ہرمن پریت کور بطور کپتان مقرر کیا گیا ہے، ٹیم میں بھارت اور جنوبی افریقا کی 3 ،3 کرکٹرز شامل ہیں ،ویمنز ون ڈے ٹیم آف دی ایئر میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کی 2 ،2 اور نیوزی لینڈ کی ایک کھلاڑی شامل ہیں۔

  • ایل این جی ریفرنس دائرہ اختیار سے متعلق مزید دلائل طلب

    ایل این جی ریفرنس دائرہ اختیار سے متعلق مزید دلائل طلب

    احتساب عدالت، ایل این جی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ایل این جی ریفرنس دائرہ اختیار سے متعلق مزید دلائل طلب کر لئے، احتساب عدالت نے کہا کہ فریقین کے وکلاء سات فروری کو عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دلائل دیں ،احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس سے متعلق محفوظ فیصلہ سنایا ،عدالت نے آج شاید خاقان عباسی و دیگر کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے محفوظ فیصلہ سنایا

    ایل این جی ریفرنس احتساب عدالت میں چلے گا یا نہیں؟ معاملہ سات فروری تک موخر کر دیا گیا، سات فروری کو وکلاء کے مزید دلائل سننے کے بعد ریفرنس کے مستقبل سے متعلق فیصلہ ہوگا شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل ، شیخ عمران الحق سمیت دیگر ملزمان ریفرنس میں ملزم نامزد ہیں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبد اللہ خاقان بھی ریفرنس میں ملزم نامزد ہیں

    نیب کو کس نے اختیار دیا 7 ارب کمپنی کےحوالے کرے،شاہد خاقان عباسی کا بڑا مطالبہ

    نیب راولپنڈی نے احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی کیس کاریفرنس دائر کر دیا،ریفرنس شاہد خاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل سمیت 9ملزمان کے خلاف دائر کیا گیا،ریفرنس میں کہا گیا کہ ایک کمپنی کو 21ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا،فائدہ مارچ 2015سے ستمبر 2019 تک پہنچایا گیا، فائدہ پہنچانے سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہو گا،معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 68ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا،سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق نے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا،

    حکومت اس مسئلے کو فوری حل کرے ورنہ…..شاہد خاقان عباسی نے کیا کہہ دیا

    پروڈکشن آرڈر والے کہاں ہیں،ان کو ایوان میں لایا جائے. ینل آف چیئر

    اگر ہتھیار استعمال کرتے تو یہ تھوڑے سے تھے، زرداری نے اسمبلی میں ایسا کیوں کہا؟

    ہمیں پروڈکشن آرڈرز کی کوئی ضرورت نہیں، آصف زرداری

    شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی پر لگایا سنگین الزام، اسد عمر نے دیا جواب

    سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہے،نیب ریفرنس کے مطابق سابق سیکریٹری اورایم ڈی پٹرولیم اہم گواہ بن گئے،

     

  • برطانیہ میں 200 پناہ کے متلاشی لاوارث‌ بچے لاپتا ہونے کا اعتراف

    برطانیہ میں 200 پناہ کے متلاشی لاوارث‌ بچے لاپتا ہونے کا اعتراف

    ایک وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ ہوم آفس کے زیر انتظام ہوٹلوں میں پناہ کے متلاشی 200 بچے لاپتہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین” کے مطابق ہوم آفس کے وزیر سائمن مرے نے پیر کو ہاؤس آف لارڈز کو بتایا کہ ان میں ایک لڑکی اور کم از کم 13 بچے شامل ہیں جن کی عمریں 16 سال سے کم ہیں سائمن مرے نے کہا کہ تمام بچے ہوم آفس کے زیرانتظام ہوٹلوں میں رکھے گئے تھے-

    امریکا کا پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے کا مشورہ

    یہ انکشاف آبزرور کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ برائٹن میں ہوم آفس ہوٹل کے ایک سیٹی بلور نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ بچوں کو سہولت کے باہر سڑک سے اغوا کر کے کاروں میں بٹھا دیا گیا تھا۔

    محکمہ کو پولیس کی طرف سے متنبہ کیا گیا تھا کہ ہوٹل کے کمزور مکینوں ، پناہ کے متلاشی بچے جو حال ہی میں برطانیہ پہنچے تھے، بہت سے چھوٹی کشتیوں پر سوار تھے، بغیر والدین یا دیکھ بھال کرنے والے ، مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے نشانہ بنیں گے۔

    لبرل ڈیموکریٹ پیر پال سکریوین کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لارڈ مرے نے ان اعدادوشمار کا انکشاف کیا، جو جولائی 2021 سے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ “ہوم آفس کے پاس ان ہوٹلوں میں پناہ کے متلاشی بچوں کو حراست میں لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ غائب گئے ان میں سے بہت سے جو لاپتہ ہیں بعد میں ان کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 200 بچوں میں سے 88% یعنی 176 البانی نژاد تھے، اور انہوں نے کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ "جتنا جلد ممکن ہو سکے” بچوں کے لیے ہوٹلوں کا استعمال ختم کر دے گی پناہ کے متلاشی بچوں کے لیے ہوم آفس کے چھ ہوٹل ہیں جن میں برائٹن میں ایک ہوٹل بھی شامل ہے۔

    نیوزی لینڈ کی ایک ائیر لائن نے سلیپنگ پوڈ متعارف کرا دیئے

    این جی اوز نے بارہا بچوں کے رہائش سے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہوم آفس کو انہیں محفوظ رکھنے میں مدد کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن حکومت نے ان پیشکشوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    بچوں کی اسمگلنگ مخالف تنظیم Love146 کے چیف ایگزیکٹیو فلپ ایشولا، جو ہوم آفس کی جانب سے سے ہوٹلوں میں بچوں کو رکھنے کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں، نے کہا کہ ہوم آفس نے تنظیموں کے ایک گروپ کی جانب سے جائزہ لینے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    یہ ایک سال سے زیادہ پہلے کی بات ہے اور اس وقت یہ واضح تھا کہ ان ہوٹلوں میں نوجوانوں کی حفاظت کے بارے میں شدید خدشات تھے۔ اس کے بعد سے، ہوم آفس کو بار بار خبردار کیا گیا ہے کہ بچے لاپتہ ہو رہے ہیں، ممکنہ طور پر ان کی سمگلنگ اور استحصال کیا جا سکتا ہے، پھر بھی ان خدشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

    برائٹن اور ہوو میں لیبر کونسلر بیلا سانکی نے کہا کہ ان بچوں کو ضرور ڈھونڈنا چاہیے۔ ہمیں اس گھناؤنی غلطی کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی احتساب کے مکمل پیمانے پر قائم کرنے کے لیے مکمل تحقیقات کی بھی ضرورت ہے۔

    پناہ گزین کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اینور سولومن نے مقامی حکام کے ذریعےلاورث بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دینے کے لیے میکانزم قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    امریکی ایئر لائن نے پاکستانی شہری کا نام اپنے جہاز پر لکھوا دیا

    سسیکس پولیس نے انکشاف کیا کہ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے شبے میں دو افراد کو اس وقت گرفتار کیا جب ایک ہوٹل میں قیام پذیر بچوں کو ان کی گاڑی میں جاتے دیکھا گیا۔

    پولیس ترجمان نے کہا کہ جب سے ہوم آفس نے جولائی 2021 میں برائٹن اور ہوو کے ہوٹلوں میں پناہ کے متلاشیوں کو رہائش دینا شروع کی ہے، تب سے 137 لاوارث بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ان میں سے 60 کا پتہ چل چکا ہے اور 76 کیسز زیر تفتیش ہیں۔ ایک کو پڑوسی فورس میں منتقل کر دیا گیا ہے، جسے میٹ سمجھا جاتا ہے۔

    مائیگریشن واچ ڈاگ نے اکتوبر میں پایا کہ ہوٹلوں میں لاوارث بچوں کو رکھنے کے لیے ایسے عملے کو استعمال کیا جا رہا ہے جن کو ڈسکلوزر اینڈ بیرنگ سروس (DBS) کے ذریعے چیک نہیں کیا گیا تھا، جیسا کہ حکومتی قوانین کی ضرورت ہے۔ عملے کو ماسٹر کیز تک رسائی حاصل تھی جبکہ نوجوان پناہ گزین عمارت میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

    برازیل میں پرتشدد مظاہرے:صدر نے آرمی چیف کو برطرف کر دیا

  • پوٹھوہاری زبان کو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی لسٹ سے خارج کرنے کا اقدام چیلنج

    پوٹھوہاری زبان کو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی لسٹ سے خارج کرنے کا اقدام چیلنج

    نادرا کی جانب سے پوٹھوہاری زبان کو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی لسٹ سے خارج کرنے کا اقدام اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے شہری فرزند علی سرور نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ،درخواست میں نادرا، حکومت پاکستان، بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیاہے کہ نادرا نے پوٹھوہاری زبان کو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی فہرست سے نکال دیا،پاکستان میں 20 ملین سے زائد شہری پوٹھوہاری زبان کو سمجھتے، بولتے، لکھتے اور پڑھتے ہیں، پوٹھوہاری زبان برصغیر کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے اور سنسکرت کی شاخ تصور کی جاتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پوٹھوہاری زبان کو فہرست سے نکالنا پوٹھوہار کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہےعدالت حکومت، نادرا کی جانب سے پوٹھوہاری زبان کو فہرست سے نکالنے کے تمام نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دے، عدالت فریقین کو پوٹھواری زبان کو دوبارہ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دے،عدالت فریقین کو پوٹھواری زبان کو بولی جانے والی زبانوں کی فہرست سے نکالنے سے روکے،

    دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

  • امریکا کا پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے کا مشورہ

    امریکا کا پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے کا مشورہ

    واشنگٹن: امریکا نے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے،تاہم مذاکرات کو فریقین کےدرمیان دوطرفہ معاملہ بھی قراردیا-

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی استحکام کی خواہش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں، پاکستان ہمارا اہم شراکت دار، ہمارے مفادات مشترکہ ہیں لہٰذا پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنےکا مشورہ دیتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم ڈائیلاگ دونوں فریقوں کا آپس کا معاملہ ہے۔

    پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے،ڈونلڈ بلوم

    انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و امان چاہتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی الگ الگ نوعیت ہے، پاکستان اور بھارت کے مذاکرات دو طرفہ معاملہ ہے اس لیے پاکستان، بھارت کو تمام معاملات بات چیت سے حل کرنا ہوں گے۔

    نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، پاکستان میں توانائی بحران سے آگاہ ہیں اور توانائی بحران پر ضرورت ہوئی تو مدد کریں گے۔

    برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ