Baaghi TV

Tag: news

  • فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    قطر میں فیفا ورلڈکپ کی ٹرافی اٹھانے والی ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی کو ایک کسان نے منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن کے صوبے کورڈوبا کے علاقے لاس کاندورز میں میکسی ملیانو نامی کسان نے مکئی کے کھیت میں 124 ایکڑ کے حصے پر اس خوبصورت طریقے سے فصل اگائی کہ فصل اگنے پر فضا سے دیکھنے پر وہ میسی کی شکل بن گئی، انہوں نے کہا کہ یہ خیال زرعی شعبے کی طرف سے میسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح

    انہوں نے کہا کہ کاشتکاری ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل میسی کے چہرے کی شکل میں مکئی کی شکل شروع ہوئی تھی ۔ یہ اقدام ہم نے اپنے کھلاڑی پر یقین کی بدولت اٹھایا تھا،جون اور جولائی میں فصل کی کٹائی کا موسم ختم ہونے کے بعد بھی کھیت میں باقی رہنے والی کثافت کی بدولت میسی کے چہرے دکھائی دیتا رہے گا کسی نہ کسی شکل میں مستقل طور پر نظر آتے رہنے کا بھی امکان ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کسان نے میسی کی شکل بنانے کے لیے منفرد الگوراتھم کا استعمال کرتے ہوئے مخصوص جگہوں پر بیج ڈالے تاکہ مکئی اُگنے کے بعد جب اسے اونچے مقام سے دیکھا جائے تو وہ میسی کی شکل بن جائے انجینئر نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ زرعی مشینری کو بیجوں کی مقدار کے بارے میں علم ہو گیا ہے جو مختلف جگہوں پر بویا جانا چاہیے۔

    دھونی اورویرات کوہلی کی بیٹیوں کیلئے نامناسب کمنٹس کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

    انہوں نے کہا کہ پانچ صوبوں میں ورلڈ کپ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں میسی کے چہرے کی شکل میں 25 کھیت لگائے گئے تھے۔ اگرچہ ارجنٹائن کے کھلاڑی کا چہرہ ان میں سے کچھ میں واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے، لیکن ان میں سے کچھ میں بیج لگانے کی تاریخ یا خشک سالی سے متاثرہ علاقے کی وجہ سے چہرہ پوری طرح واضح نہیں ہوسکا۔

    انجینئر نے کہا کہ ہم اس اعزاز پر بہت خوش ہیں اور ہم ارجنٹائن کی جیت پر بھی خوش ہیں۔ ہم ٹیم کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ اسے فتح سے پہلے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ زرعی شعبے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

    یاد رہے ارجنٹائن میں قحط سالی نے ملک کے وسطی مشرقی صوبوں کو متاثر کیا ہے محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں میں بیلسٹرس میں بارش کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فٹبال کے متوالوں نے ارجنٹائن کے ورلڈکپ جیتنے کے بعد میسی کے ٹیٹو بھی جسم پر بنوائے تھے۔

    آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری،بابراعظم کی پہلی پوزیشن خطرے میں

  • رواں برس ہی روسی افواج کو  یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا

    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ یہ بہت مشکل ہو گا کہ رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکال لیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی میں امریکا کے رامسٹین ائیر بیس میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر جنرل مارک ملی نے کہا کہ یوکرین کیلئے یہ انتہائی مشکل ہوگا کہ وہ اسی سال ہی اپنی زمین کا ایک ایک انچ روسی قبضے سے آزاد کروا لے۔

    یوکرین نے اگرکریمیہ پرحملہ کیاتوپھریہ بھی یاد رکھےکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے: روس

    جرمنی کے رامسٹین اڈے میں اجلاس کے دوران لائیڈ آسٹن نے کہا یوکرین کی حمایت کے لیے ہمار عزم طویل مدتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متعدد ملکوں نے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا یوکرین سپورٹ گروپ ملکوں کی خود مختاری کا احترام کرنے کے لیے قوانین بناتا رہے گا۔

    جرمنی میں یوکرین کی دفاعی امداد کیلئےاجلاس میں شریک 50 ممالک کے دفاعی حکام یوکرین کو جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس لیپرڈ-2 ٹینک فراہم کرنے کے حوالے سے ہونے والی بحث میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تاہم یوکرین کی دفاعی امداد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    اجلاس کے آغاز میں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے شرکاء سے مزید اسلحہ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ ہمیں مزید تاخیر کی اجازت نہیں دیتی۔

    امریکہ کایوکرین کےلیے2.5 بلین ڈالرمالیت کےہتھیاروں کےنئےپیکج کا اعلان

    دوسری جانب سینیئر امریکی حکام کی جانب سے یوکرین کو امریکی اسلحے کی سپلائی اور فوجی تربیت کے تکمیل سے قبل روس کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام سے روک دیا گیا ہے۔

    جنرل مارک ملی نے کہا کہ کیف کے لیے نئے فوجی امدادی پیکج میں یوکرینی افواج کی تربیت بھی شامل ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اس سال یوکرین سے روسی افواج کو ہٹانا بہت مشکل ہے۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ نئی فوجی امداد سے یوکرین کو روس کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

    روس نے پورا ملک تباہ کرنے والا ہتھیار بنا لیا

    جمعرات کو، امریکہ نے یوکرین کے لیے 2.5 بلین ڈالر کی نئی فوجی امداد کا اعلان کیا جس میں سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے سپورٹ شامل ہے وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ پیکج میں 59 بریڈلی فائٹنگ وہیکلز، 90 سٹرائیکر آرمرڈ پرسنل کیریئرز، 53 بارودی سرنگوں سے بچنے والی گاڑیاں اور 350 اعلیٰ صلاحیت والی ملٹی مشن وہیلڈ گاڑیاں شامل ہیں۔

    مجموعی طور پر امریکہ نے روسی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کے لیے 27.4 بلین ڈالر سے زیادہ کی سیکورٹی امداد مختص کی ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکار میں دوران سفر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ کردیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کار میں سفر کے دوران گفتگو میں بغیر سیٹ بیلٹ پہنے سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    یوکرین نے اگرکریمیہ پرحملہ کیاتوپھریہ بھی یاد رکھےکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے: روس

    بعد ازاں غلطی کا احساس ہونے پر برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ رشی سونک نے سوشل میڈیا کیلئے ویڈیو بنانے کیلئے کچھ وقت کیلئے سیٹ بیلٹ اتار دیا تھا تاہم اب احساس ہونے پر انہوں نے اپنی غلطی مانتے ہوئے معذرت کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ برطانوی وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ ہر شہری کو سفر کے دوران سیلٹ بیلٹ ضرور پہننا چاہیے۔

    لنکاشائرپولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے معاملے سے آگاہ ہیں،جائزہ لے رہے ہیں۔

    لنکا شائر کی پولیس کا کہنا ہے کہ لندن کے رہائشی 42 سالہ شخص کو دوران سفر کار میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر مقررہ جرمانے (فکسڈ پینلٹی)کی مشروط پیش کش کی گئی ہے –

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح

    پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر مسافر کو 100 برطانوی پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے، البتہ مقدمہ عدالت میں جانے کی صورت میں جرمانے کی رقم میں 500 پاؤنڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیراعظم رشی سونک کو کار میں سفر کے دوران سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ہونے والے جرمانے کی خبر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ یہی قانونی کی حکمرانی ہے جہاں کوئی اس سے بالاترنہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ یہی عمل خوشحال قوموں کو غریب ممالک سے ممتاز کرتا ہے،کوئی این آر او نہیں، کوئی قبضہ گروپ نہیں، کوئی حراستی تشدد نہیں،نظام انصاف کمزور کو تحفظ دیتا ہے، انصاف ریاست مدینہ کی بنیاد تھی۔

    لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس

  • نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

    جمیل الدین عالی

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • گوگل کامزید 12,000 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

    گوگل کامزید 12,000 ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

    نیویارک:گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے بھی 12,000 ملازمین کو فارغ کرنےکا اعلان کردیا۔گوگل اورالفابیٹ کے سی ای او سندرپچائی نےجمعہ کو ایک ای میل میں ملازمین کو کمپنی میں ڈاؤن سائزنگ کےفیصلےسےآگاہ کرتےہوئےبتایا کہ کٹوتیوں سےدنیا بھرمیں الفابیٹ کی 6 فیصد افرادی قوت متاثر ہوگی۔

    گورنمنٹ گریجویٹ کالج میں پرنسپل نے غیر قانونی اکیڈمی کھول لی

    سندرپچائی نےکہا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران ہم نے کمپنی کو آگے بڑھتے بھی دیکھا اور متعدد افراد کو بھرتی بھی کیا مگر اب حالات مختلف ہیں، وہ ان فیصلوں کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں جو موجودہ خراب حالات کا باعث بنے۔

    جائیداد کی ملکیت سے محروم خواتین شکایت درج کرا سکتی ہیں، نبیلہ حاکم

    گوگل کا یہ اقدام مائیکرو سافٹ اور ایمازون کی جانب سے مجموعی طور پر 28 ہزار ملازمین کو نکالنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، گزشتہ دنوں ہی مائیکروسافٹ نے 10,000 اور ایمازون نے 18,000 ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

    پاکستان گرل گائیڈزایسوسی ایشن، نیشنل کلینرپروڈکشن سینٹرکے درمیان مفاہمت کی یادداشت…

    ٹیک سائٹ Layoffs.fyi کے مطابق 2022 کے آغاز سے ابتک ٹیکنالوجی انڈسٹری سے وابستہ ایک لاکھ 94 ہزار ملازمین صرف امریکا میں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

  • فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    اداکار فیروز خان جنہوں نے چند روز قبل اپنے شوبز کے ساتھیوں کو نہ صرف لیگل نوٹس بھیجے بلکہ ان کے پرسنل نمبرز اور گھروں کے ایڈریس بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دئیے۔ اس کے بعد فرحان سعید نے ان کو تین دن کا وقت دیا کہ وہ پبلکلی معافی مانگیں۔ باقی اداکاروں نے بھی فیرو ز خان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فیروز خان کی اس حرکت کو نہ صرف ناپسند کیابلکہ یہ بھی کہا کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ فیروز خان کو اپنے کئے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک انہوں نے کسی بھی پلیٹ فارم پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی ساتھیوں کو اذیت دینے کا اعتراف کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ

    فیروز خان نے کیرئیر کے اس موڑ پر ایسی حرکت کرکے اپنے کیرئیر پر سٹاپ لگا لیا ہے۔ یاد رہے کہ فیروز خان کی سابقہ اہلیہ علیزے سلطان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ان پر بری طرح سے تشدد کرتے تھے اور تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں ، ان تصاویر کے بعد بہت ساری شوبز سلیبز نے فیروز کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور علیزے کے ساتھ کھڑے ہوگئے اسی غصے میں فیروز خان نے اپنے ساتھیوں کو لیگل نوٹس بھیجے اور معافی کا مطالبہ کیا۔

  • تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں  وکیل تنیشا

    تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں وکیل تنیشا

    انڈین ٹی وی اداکارہ تنیشا شرما کو خود کشی کئے ہوئے ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن کیس ہے کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں‌لے رہا. تنیشا کی والدہ نے اداکار شیزان خان کو تنشیا کی موت کا ذمہ دار تو ٹھہرا دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کیس کی جتنی بھی سنوائی ہوئی ہے اس کے مطابق تو شیزان خان تنیشا کی موت کے ذمہ دار نظر نہیں آتے. تنیشا خود کشی کیس میں اب ایک نیا موڑ آیا ہے بتایا گیا ہے کہ تنیشا نے خود کشی سے قبل 15 منٹ تک علی نامی لڑکے سے وڈیو پر بات کی. کہا جا رہا ہے کہ علی تنیشا کا جم ٹرینر تھا اس کے ساتھ تنیشا کی کافی بے تکلفی تھی لیکن والدہ کہتی ہیں کہ علی صرف میری بیٹی کا اچھا دوست تھا اس سے آگے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا.دوسری طرف تنیشا شرما کے وکیل نے کہا ہے کہ تنیشا بالکل بھی

    ڈپریشن میں نہیں تھی بلکہ شیزان خان اور اسکی والدہ اسکو اس قسم کی دوائیاں دے رہے تھے کہ جس سے وہ پریشان رہنے لگی تھی. اپنے فیصلے ٹھیک طرح سے نہیں کر پا رہی تھی. یاد رہے کہ شیزان خان کی ضمانت ابھی تک منظور نہیں‌ہوئی اور شیزان خان نے ابھی تک کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے لگے کہ ہاں ان کا اس خود کشی سے کوئی تعلق ہے، لیکن تنیشا کی والدہ تلی ہوئی ہیں کہ کسی طرح سے شیزان خان کا اس خود کشی سے لنک ثابت کر دیں اور اسے سزا ہوجائے.

  • گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    آج پاکستانی ڈرامہ جتنا بھی بدل چکا ہے لیکن ان کو پسند کرنے والی ایک بڑی تعداد ہے. ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ڈرامہ نہ صرف بن رہا ہے بلکہ دیکھا بھی جاتا ہے. اداکار عثمان مختار کی اہلیہ جو کہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ اکثر ٹی وی ڈراموں اور سوشل ایشوز پر بات کرتی نظر آتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈراموں میں گلے لگا لینے یا پیار محبت کے جذبات دکھانا لوگوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن لڑکیوں کو تھپڑ مارنا اور تشدد ان کے لئے قابل قبول ہے اس پر تو پیمرا بھی حرکت میں نہیں آتا وہ بھی تشدد پر پابندی نہیں‌لگاتا لیکن گلے لگانے جیسے دیگر معاملات پر فورا نوٹس لیتا ہے.

    زنیرہ انعام خان کی اس بات سے بہت سارے سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا. اور کہا کہ ہمارے ہاں لوگوں کا دوہرا معیار ہے اور ویسا ہی دوہرا معیار پیمرا کا بھی ہے جن باتوں پر نوٹس لیا جانا چاہیے اس پر نوٹس نہیں‌لیا جاتا. یاد رہے کہ ہمارے اکثر ڈراموں میں لڑکیوں کو نہایت تابعدار دکھایا جاتا ہے، وہ شوہر کی مار پیٹ سہہ لیتی ہیں‌ اور قربانی دینے والی دیوی بن جاتی ہیں اسی چیز پر زنیرہ انعام خان نے آواز اٹھائی ہے.

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔