Baaghi TV

Tag: news

  • بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ  تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک ہے جبکہ غریب مزید غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: انسداد غربت کے لیےکام کرنے والے برطانوی ادارے آکسفیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بھارت میں جہاں امیر ترین افراد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں غریب عوام مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے لےکر 2021 تک بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، اس عرصے میں ملک کی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف ایک فیصد آبادی کے پاس چلی گئی اور 2021 میں 40 فیصد سے زیادہ ملکی دولت بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ کی ملکیت رہی۔

    رپورٹ کے مطابق 2022 میں بھارتی ارب پتی شہریوں کی تعداد 166 تک پہنچ گئی جو کہ 2020 میں 102 تھی۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال دنیا کے چوتھے اور بھارت کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی دولت میں 46 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بھارت کے 100 امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت 660 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    2022 میں، مسٹر اڈانی بلومبرگ کے دولت کے انڈیکس میں دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ وہ ان لوگوں کی فہرست میں بھی سرفہرست رہے جن کی دولت میں سال کے دوران عالمی سطح پر سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارت میں اشیائے ضروریہ اور مختلف سہولیات پر دیے جانے والے کُل ٹیکس میں سے64 فیصد ٹیکس 50 فیصد ملکی آبادی ادا کرتی ہے۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ بھارت میں بنیادی ضروریات کی اشیاء بدستور غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے غریب اور متوسط ​​طبقے پرامیروں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے جب کہ ملک کے امیر ترین افرادکم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    آکسفیم نے وزیر خزانہ سے بھارت میں معاشی عدم مساوات سے نمٹنےکے لیے امیر افراد پر ویلتھ ٹیکس لگانےکا مطالبہ کیا ہے دریں اثنا، اس نے مزید کہا کہ ہندوستان میں غریب "زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں”۔

    رپورٹ – سروائیول آف دی ریچسٹ – سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم شروع ہوتے ہی جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں ہندوستان میں دولت کی تقسیم میں بڑے تفاوت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2021 تک ملک میں پیدا ہونے والی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف 1 فیصد آبادی کے پاس چلی گئی تھی جبکہ صرف 3 فیصد کم ہوکر 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

    آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہار نے کہا، "ہندوستان بدقسمتی سے صرف امیروں کا ملک بننے کے لیے تیز رفتار راستے پر ہے ملک کے پسماندہ – دلت، آدیواسی، مسلمان، خواتین اور غیر رسمی شعبے کے کارکن ایک ایسے نظام میں مسلسل مشکلات کا شکار ہیں جو امیر ترین لوگوں کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امیر، فی الحال، کم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس تفاوت کو درست کرنے کے لیے چیریٹی نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ آئندہ بجٹ میں ترقی پسند ٹیکس اقدامات جیسے کہ ویلتھ ٹیکس کو نافذ کریں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے ارب پتیوں کی پوری دولت پر 2 فیصد ٹیکس اگلے تین سالوں تک ملک کی غذائی قلت کا شکار آبادی کی غذائیت کو سہارا دے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ 1% ویلتھ ٹیکس نیشنل ہیلتھ مشن کو فنڈ دے سکتا ہے، جو کہ 1.5 سال سے زیادہ عرصے کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی صحت کی دیکھ بھال کی اسکیم ہے۔

    Oxfam نے کہا کہ سرفہرست 100 ہندوستانی ارب پتیوں پر 2.5% ٹیکس لگانا یا 5% ٹاپ 10 ہندوستانی ارب پتیوں پر ٹیکس لگانے سے تقریباً 150 ملین بچوں کو اسکول میں واپس لانے کے لیے درکار پوری رقم پوری ہو جائے گی۔

    آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گیبریلا بوچر نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس آسان افسانے کو ختم کر دیں کہ ان کی دولت میں سب سے زیادہ دولت کے لیے ٹیکس میں کٹوتی کسی نہ کسی طرح ہر کسی کے لیے ‘نیچے’ ہو جاتی ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "عدم مساوات کو کم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے” امیروں پر ٹیکس لگانا ضروری تھا۔

  • بھارت میں سڑک چوڑی کرنے کے بہانےتاریخی مسجد شہید

    بھارت میں سڑک چوڑی کرنے کے بہانےتاریخی مسجد شہید

    بھارتی ریاست اترپردیش میں قائم تاریخی مسجد کو سڑک چوڑی کرنے کے بہانے شہید کردیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

    باغی ٹی وی: اترپردیش میں الہٰ آباد کے علاقے ہندیا میں 16 ویں صدی میں تعمیر کی گئی تاریخی شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا۔ ٹوئٹر پر بھارتی پروفیسر اور یونیسکو کے چیئرپرسن اشوک سوائیں کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں یوپی کی ایک سڑک پر قائم مسجد کو ہیوی مشینری کے ذریعے شہید کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    امریکی پولیس کے تشدد سے سیاہ فام خاتون ہلاک


    اشوک سوائیں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ مسجد کو بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک سڑک چوڑی کرنے کے لیے شہید کیا گیا ہے۔


    دوسری جانب مسلم اسپیس نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتا یا گیا کہ یو پی کے شہر الہ آباد کے ہنڈیا نامی گاؤں میں واقع شاہی مسجد کو شہید کردیا گیا ہے، مسجد شیر شاہ سوری کے دور سے قائم تھی۔

    بھارت؛120خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کرنےوالے’جلیبی بابا‘کو14سال قید:پیروکاروں کا…

    اس حوالے سے امام مسجد کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور 16 جنوری کو کیس کی سماعت ہونی تھی۔

    مقامی مسلم تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ عدالت میں سماعت کے لیے تاریخ مقرر ہونے کے باوجود گزشتہ روز پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ نے اہلکاروں نے بھاری مشینری کے ذریعے مسجد کو سڑک چوڑا کرنے کے بہانے شہید کردیا۔

    پیپلز یونین فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق صرف گجرات میں 500 کے قریب مساجد اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا جس سے بھارت کے سیکولر اسٹیٹ ہونے کا نام نہاد دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔

    معاشی بحران سےنکلنےکےلیےسری لنکا کافوج کی تعداد میں کمی کرنے کا فیصلہ

  • زمین جیسا سیارہ دریافت

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنا پہلا سیارہ دریافت کر لیا اور اس چٹانی سیارے کا حجم تقریباً ہماری زمین جیسا ہی ہے۔

    باغی ٹی وی : LHS 475 b نامی یہ ایگزو پلینٹ 99 فیصد زمین کے قطر کے برابر ہےتاہم، زمینی سطح ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے کہ نہیں۔ ایگزو پلینٹ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو نظامِ شمسی سے باہر موجود ہوتے ہیں۔

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت


    اگرچہ ماہرین کی ٹیم یہ نہیں بتاسکتی کہ وہاں کیاموجودہےلیکن اس بات کی نشاندہی ضرورکرسکتی ہےکہ وہاں کیاموجودنہیں ہے سائنسدانوں نے اس سیارے میں میتھین کی موٹی تہہ کی موجودگی نہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔


    زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا درجہ حرارت زمین کے مقابلے میں کچھ سو ڈگری زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو دن میں چکر مکمل کر لیتا ہے۔


    ایسے ایگزو پلینٹ خلائی دور بینوں سے اب تک چھپے ہوئے تھے لیکن اس کی دریافت کے بعد یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی کتنی جاندار ہے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر


    واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹرز کے آسٹروفزکس ڈویژن کے ڈائریکٹر مارک کلیمپِن نے ایک بیان میں کہا کہ زمین کے حجم کے چٹانی سیارے سے ملنے والے ان ابتدائی مشاہداتی نتائج سے مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے چٹانی سیاروں کے ماحول کے مطالعے کے متعدد امکانات کا باب کھلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیلی اسکوپ ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین کے جیسے سیاروں کے متعلق نئے فہم سے قریب سے قریب تر لے جارہی ہے، زمین کے سائز کے، چٹانی سیارے کے یہ پہلے مشاہداتی نتائج ویب کے ساتھ چٹانی سیارے کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے مستقبل کے بہت سے امکانات کے دروازے کھولتے ہیں ویب ہمیں ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیا کی نئی تفہیم کے قریب اور قریب لا رہا ہے، اور مشن ابھی ابھی شروع ہو رہا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں

    سو کمار سین (16 جنوری 1900ء-3 مارچ 1992ء) بنگالی زبان کے مشہور ماہر لسانیات اور ادبی تاریخ داں ہیں۔ بنگالی زبان کی طرح وہ پالی، پراکرت اور سنسکرت میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔

    تعارف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سو کمار سین کی ولادت 1900ء میں ہوئی۔ ان کے والد ہریندر ناتھ سین ایک وکیل تھے اور والدہ کا نام نبانالینی دیوی تھا۔ ان کا تعلق مشرقی بردھامن ضلع سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بردھامن میونسپل ہائی اسکول ہوئی۔ انہوں نے 1917ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے کی ڈگری 1919ء میں بردھامن راج کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق ہو گئے۔

    1921ء میں گورنمنٹ سنسکرت کالج سے سنسکرت میں اول درجہ سے کامیابی حاصل کی اور انہیں اسکالرشپ ملی۔ انہوں نے فلولوجی کا تقابلی مطالعہ کیا اور اس کی ڈگری لی۔ انہوں نے 1923ء میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ان کے استاد مشہور ماہر لسانیات سنیتی کمار چٹرجی اور ایراچ جہانگیر سوربجی تراپوریوالا تھے۔ انہیں پریم چند رائے چند فیلوشپ ملی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ وہ 1964ء میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئے۔

    کیرئر
    ۔۔۔۔۔
    وہ 1930ء میں یونیورسٹی آف کلکتہ میں بحیثت معلم مقرر ہوئے اور یہاں وہ 34 برس تک تدریسی خدمت انجام دیتے رہے۔ 1954ء میں سنیتی کمار چٹرجی کے بعد اور فلولوجی کے دوسرے پروفیسر بنے۔ سین اپنی کتاب میں قدیم ہند آریائی زبان کا حوالہ دینے والے پہلے مصنف ہیں۔ انہوں نے یوز آف کیسی ان ویدک پروز (1958ء) اور بدھشٹ ہائیبرڈ سنسکرت (1928ء) میں اس مضمون پر مفصل بحث کی ہے۔ انہوں نے وسطی ہند آریائی زبانوں کا مطالعہ کیا اس کا مفصل تجزیہ لکھا۔ انہوں نے بنگالی زبان میں ادبی تخلیقات بھی دی ہیں اور بالخصوص دیو مالائی کہانی اور پران کو موضوع سخن بنایا ہے۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1984ء میں لندن ایشیاٹک سوسائٹی نے انہیں گولڈن جوبلی میڈل سے نوازا۔ وہ اس اعزاز کے حاصل کرنے والے پہلے ایشائی تھے۔ 1963ء میں رابندر پرسکار، 1966ء اور 1984ء میں آنند پرسکار، 1981ء میں ودیاساگر پرسکار، 1982ء میں دیسی کوٹم اور 1990ء میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔ ایشیاٹک سوسائٹی کولکاتا نے انہیں جدوناتھ سرکار میڈل سے نوازا۔ 1973ء میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔

  • پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    مرزاآغامحمدعزتالزماں المعروف عزتؔ_لکھنوی 1932ء میں شہر لکھنؤ کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام آغا محمد بدیع الزماں تھا۔ عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، اما باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ
    سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔

    قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔15؍اگست 1958ء کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ ‘کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں ان کا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا 16؍جنوری 1981ء کوانتقال کر گئے۔

    عزتؔ لکھنوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
    ….
    فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گے
    بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچہ اپنا
    غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آ جاتے ہیں
    کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا
    لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی
    ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا
    ———
    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا
    ———
    اک محبت ہے فقط وجہِ بہارِ زندگی
    ورنہ اس دنیا میں کیا رکھا ہے انساں کے لیے
    ———
    آپ خوب واقف ہیں، دل کی جو تمنا ہے
    حُکم کیا ہے اے مولا، چپ رہوں میں یا مانگوں
    ———
    ناقدریِ زمانہ کی تلخی سے بے نیاز
    اچھے ہیں جن کے پاس متاعِ ہنر نہیں

  • پاکستان کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر کا یوم پیدائش

    پاکستان کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر کا یوم پیدائش

    معروف پاکستانی اداکارہ اور شاعرہ حنا دلپذیر المعروف مومو کا یوم پیدائش ہے-

    باغی ٹی وی: مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی اداکارہ اور شاعرہ حنا دلپذیر خان 16 جنوری 1966 میں کراچی میں پیدا ہوٸیں انہوں نےاپنے فنی کیریٸر کا آغاز 42 سال کی عمر میں 2008 میں فصیح باری خان کی ٹیلی فلم ” برنس روڈ کی نیلوفر ” سے کیا جس میں انہوں نے سعیدہ کے نام سے کردار ادا کیا۔

    انہوں نے ڈارامہ سیریل بلبلے میں ” مومو” کے نام سے مزاحیہ کردار ادا کیا جس سے انہیں بےپناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوٸی اور اب وہ عوام خاص طور پر بچوں اور خواتین میں ” مومو” کے نام سے ہی جانی جاتی ہیں ۔ ان کے دیگر ڈراموں میں خاتون منزل، باندی، تم ہوکے چپ ، قدوسی کی بیوہ، عینی کی آٸے گی بارات، لیڈیز پارک اور گوگلی محلہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    حنا نے دلپذیر خان نامی ایک نوجوان سے اپنی پسند کی شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا مصطفی دلپذیر پیدا ہوا ، ابھی وہ تین سال کا تھا کہ دلپذیر خان نے اپنی بیوی حنا المعروف موموکو ہنسی مذاق میں طلاق دے دی حنا عرف مومو نے اس کے بعد ابھی تک دوسری شادی نہیں کی –

    اعجاز اسلم نے اپنے دوست کو کیوں رلا دیا ؟

    حنا اردو میں شاعری بھی کرتی ہیں انہوں نے اب تک 100 سے زاٸد غزلیں لکھی ہیں جن کو وہ کتابی شکل دے کر شعری مجموعہ شاٸع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔

    آغا نیاز مگسی

  • ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل گیٹس

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ ہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : 2015 میں پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم اب بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کو حاصل نہیں کرسکے گی۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ


    یہ پیشگوئی بل گیٹس نے سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ میں بات کرتے ہوئے کی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے ہونے والے کام میں کافی تیزی آئی ہے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ناقص کوششوں کی وجہ سے انسانی حالات میں بہتری کے لیے ہونے والی پیشرفت بھی سست رفتار ہوگئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں 10 فیصد سے زیادہ بچے 5 سال کی عمر سے پہلے ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زیادہ افراد کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تمام تر حالات کے باوجود مجھے اب بھی یقین ہے کہ ہم بھیانک نتائج سے بچ سکتے ہیں-

    خیال رہے کہ بل گیٹس نے ایک جوہری کمپنی ٹیرا پاور کی بنیاد رکھی ہے جبکہ بریک تھرو انرجی نامی کمپنی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے،علاوہ ازیں بل گیٹس نے مصنوعی گوشت کی تیاری کے لیے بھی متعدد کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے بتایا کہ مصنوعی گوشت سے تیار ہونے والی مصنوعات کا شیئر تو ابھی نہ ہونے کے برابر ہے مگر یہ گوشت کے متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست مصنوعات سستی ہوں، یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم دنیا بھر کے ممالک سےتبدیلی لانےکا مطالبہ کرسکتے ہیں، اگر ان مصنوعات کی لاگت زیادہ ہوتوہم کامیاب نہیں ہوسکتےہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے آپ ایک ووٹر، خریدار اور ایک ورکر ہیں، ان تمام کرداروں میں آپ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ میرے پاس امریکہ میں 1/4000 سے بھی کم کھیتی ہے۔ میں نے ان فارموں میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ انہیں مزید پیداواری بنایا جا سکے اور مزید ملازمتیں پیدا کی جا سکیں۔ اس میں کوئی بڑی اسکیم شامل نہیں ہے – درحقیقت یہ تمام فیصلے پیشہ ورانہ سرمایہ کاری ٹیم کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    بہت امیر لوگوں کو میرے خیال میں انہیں بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہئے اور انہیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دولت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ میرے لیے بہت پورا کرنے والا رہا ہے اور یہ میرا کل وقتی کام ہے مجھے حیرت ہے کہ ٹیکس میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر کیپیٹل گین کی شرحیں عام آمدنی کی شرح کے برابر ہوسکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگوں کے لیے چیزیں مشکل ہیں۔

    واضح رہے کہ بل گیٹس سے قبل اکتوبر 2022 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کیجانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا لگ بھگ ناممکن ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

  • عادل درانی نے اپنی شادی کی تصویر شئیر کرکے راکھی کودی مبارکباد

    عادل درانی نے اپنی شادی کی تصویر شئیر کرکے راکھی کودی مبارکباد

    عادل درانی اور راکھی ساونت کی شادی کچھ دنوں سے ہے بہت زیادہ ہے چرچا میں ، اب تو عادل درانی بھی راکھی کے ساتھ اپنی شادی کو مان گئے ہیں اور انہوں نے راکھی کے ساتھ انسٹاگرام پوسٹ پراپنی شادی کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ راکھی آپ کو نکاح کی بہت مبارکباد ، میں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں نے آپ سے شادی نہیں کی بس میں فیملی کو منا رہا تھا اسلئے اس شادی پر بات نہیں‌کرنا چاہتا تھا. عادل درانی کی اس پوسٹ پر راکھی ساونت نے عادل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری جان میرے ساتھ رہو آپکا بہت شکریہ . یوں عادل اور راکھی دنیا کے سامنے اپنے رشتے کو تسلیم کر چکے ہیں اور راکھی بھی اسلام قبول کر چکی ہیں اور ان کا اب مسلم نام فاطمہ ہے. دیکھنا یہ ہے کہ راکھی ، راکھی ساونت

    کے نام کو ہی آگے لیکر چلتی ہیں یا فاطمہ درانی کے نام کو لیکر چلتی ہیں. یاد رہے کہ راکھی ساونت کے مسلمان ہونے پر ان کےاپنے گھر والوں کو بالکل بھی اعتراض نہیں ہے اور راکھی اسلام قبول کرکے کافی خوش ہیں. راکھی کو ابھی تک انتہا پسند ہندئوں کی طرف سے اسلام قبول کرنے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا.

  • 7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بارے اچھی خبر

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کیش کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی حکومت نے عوام الناس کی سہولت کے لیے 7,500 روپے، 15,000 روپے، 25,000 روپے اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کا تبادلہ /نقد کرانے کا ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے اس کی تاریخ میں 30 جون 2023ء تک توسیع کر دی ہے۔

    حکومت نے ان پرائز بانڈز کو نقد کرانے کے لیے 30 جون 2022 کی تاریخ مقرر کی تھی۔
    7,500، 15,000، 25,000 اور 40,000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز رکھنے والے افراد ان بانڈز کے بدلے نقد رقم حاصل کرسکتے ہیں۔ ان بانڈز کی 25,000 روپے یا 40,000 روپے کے پریمیم پرائز بانڈز (رجسٹرڈ) میں منتقلی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ انہیں اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس یا ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس میں بدلا بھی جاسکتا ہے۔

    ان پرائز بانڈز کا تبادلہ ملک بھر میں اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچوں سے 30 جون 2023 تک کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کو توسیع شدہ تاریخ تک پرائز بانڈز نقد کرانے یا ان کا تبادلہ کرنے کی درخواستیں قبول کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کنگ عبدالعزیز سٹریٹ دنیا کی سب سے طویل خطاطی والی دیوار بن گئی
    سعودی عرب میں افراطِ زرکی شرح 3.3 فی صد؛ مکانات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ
    کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ،پیپلز پارٹی آگے
    پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے ہیں: مسرت جمشید
    مرکزی بینک نے مزید کہا ہے کہ بانڈز کو رکھنے والے افراد آخری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی بچت کو 30 جون 2023 سے قبل دوسری شکل میں تبدیل کرا لیں۔ اس توسیع شدہ ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے کے بعد مذکورہ پرائز بانڈز کو نقد یا ان کا تبادلہ نہیں کرایا جا سکے گا،اور یہ قابل استعمال نہیں رہیں گے۔