Baaghi TV

Tag: news

  • زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ،  فروغ نسیم

    زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ، فروغ نسیم

    وفاقی وزیر قاانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور وفاقی حکومت کو اس شعبے سے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے ،
    وفاقی وزیر نے ارٹیکل 149 کو لیکر اپوزیشن کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابے کے متعلق کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے اس ملک کا خزانہ لوٹتے رہیں اور کوئی اس متعلق ان سے ایک سوال بھی نہ کرے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ 20-25 فیصد ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کا ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے ، اور ان 75-70 فیصد سرگرمیوں کا ٹیکس کون اکٹھا کرے گا جو ہمارے دیہات میں ہوتیں ہیں ؟

  • جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا

    جنوبی افریقہ نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کو 9 وکٹ کے بڑے مارجن سے شکست دے دی ، اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل بھارتی ٹیم کا غرور خاک میں ملا دیا ،
    بھارت کے شہر بنگلور میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں ، بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ، بھارت کے اوپنرز نے اچھا سٹارٹ فراہم کیا اس کے بعد وکٹیں گرنا شروع ہوئیں اور کوئی کھلاڑی جم کر کھیل نہ سکا ، شکھر دھون نے 36 اور رشب پانٹ نے 19 رنز بنائے ، بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز 9 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز بنا سکی، جنوبی افریقہ کی طرف سے ربادا نے 3 ، ہینڈرکس نے 2 اور فورٹو ان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ،
    جواب میں جنوبی افریقہ نے ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں پورا کر لیا ، جنوبی افیقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک نے 52 گیندوں پر 79 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی ، ریزا ہینڈرکس اور تیمبا بوما نے بھی 27 اور 28 ارنز بنا کر کپتان کا خوب ساتھ دیا ، بھارتی بالرز نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا مگر انہیں وکٹیں نہ مل سکیں اور یوں جنوبی افریقہ نے ہدف سترھویں اوور میں با آسانی پورا کر لیا ، شاندار باولنگ کرنے پر بیورن ہینڈرکس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا اور ٹی ٹوئینٹی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی،

  • پی سی بی 243 ریجنل کیوریٹرز اور گراؤنڈ سٹاف کو دو ماہ کا نیا  کنٹریکٹ دے گا

    پی سی بی 243 ریجنل کیوریٹرز اور گراؤنڈ سٹاف کو دو ماہ کا نیا کنٹریکٹ دے گا

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے 243 ریجنل گراؤنڈز مین اور کیوریٹرز کو کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کردی، پی سی بی گراؤنڈ اسٹاف کو 2 ماہ کے لیے کنٹریکٹ دینے کی پیشکش کررہا ہے، کنٹریکٹ کا آغاز پی سی بی کے نئے آئین کے نفاذ کے روز سے ہوگا، پی سی بی نے گراؤنڈ اسٹاف کے تمام بقایاجات ادا کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھائے ہیں
    اس دوران پی سی بی کا ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ کیوریٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لے گا، ڈومیسٹک کرکٹ ڈیپارٹمنٹ وینیوز کے لیے مقررہ اسٹاف کی تفصیلات بھی جمع کرے گا، پی سی بی کی جانب سے پیشکش 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ماتحت کام کرنے والے گراؤنڈ اسٹاف کو کی گئی ، پی سی بی کے نئے آئین کے بعد 16 ریجنل ایسوسی ایشنز 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز میں ضم ہوچکی ہیں

  • بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    عہد نبوی مبارک ہے،مدینہ منورہ میں بنو قینقاع کا بازار سج چکا ہے،بازار میں ایک یہودی سنار کی دکان ہے،یہودی تاجر کی دکان میں اس کے چند یہودی دوست گپیں ہانک رہے ہیں،اسی دوران ایک مسلمان عورت دکان پر آتی ہے،یہودی تاجر کی شیطانیت جاگ جاتی ہے وہ مسلمان عورت سے چہرے کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے مسلمان عورت سختی سے منع کرتی ہے،نظریں بچا کر مکار یہودی مسلمان بہن کا آنچل کسی کیل کے ساتھ باندھ دیتا ہے جب وہ جانے کے لئے اٹھتی ہے تو بے پردہ ہو جاتی ہے وہ چیخنے چلانے لگتی ہیں دکان میں بیٹھے یہودیوں کے قہقہے پورے بازار میں سنائی دیتے ہیں دکان کے سامنے سے گزرتا ایک راہ گیر مسلمان یہ منظر دیکھ کر دکان کے اندر چلا آتا ہے اس کی ایمانی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ یہودی دکاندار کو قتل کر دیتا ہے،یہودی مل کر اس مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے شہید کر دیتے ہیں،یہ خبر رسول خدا تک پہنچتی ہے آپ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یہودی بستی کا محاصرہ کرتے ہیں عہد شکنی کے باعث ان سب کو مدینہ منورہ سے نکال باہر کرتے ہیں،انہیں جلاوطن کرتے ہیں.

    ایک مسلمان شخص ایک مسلمان بہن کے لئے جان تک سے گزر جاتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ کون تھی،رسول خدا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے،ایک مسلمان بہن کی پکار پر رسول پاک
    خود اس بستی کا محاصرہ کرتے ہیں.

    90 ہجری ہے،حجاج بن یوسف فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں ہیں،خصوصی ایلچی یہ پیغام لیکر داخل ہوتا ہے کہ شاہ جزیرہ یاقوت نے جو تحفے تحائف اور مسلمان عورتیں بھیجا تھا انہیں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے قیدی بنایا ہے ان قیدی عورتوں میں سے ایک نے آپ کو پکارا ہے کہ اے حجاج ہماری مدد کرو،ہمیں اس جہنم سے چھڑاؤ،حجاج بن یوسف اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہے،ان کا چہرہ غصے سے لال ہوتا ہے،اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بلاتے ہیں ایک مسلمان بہن کی پکار پر بیس ہزار فوجیوں کا لشکر دے کر محمد بن قاسم کو دیبل کی طرف روانہ کرتے ہیں،اس ایک مسلمان بہن کی پکار راجہ داہر کی بادشاہت و تخت کا خاتمہ اور سندھ کی فتح کا سبب بن جاتی ہے.

    223 ہجری ہے،عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے شاہی تخت پر فروکش ہیں،خدام چاک و چوبند کھڑے ہیں،نبیذ کا دور چل رہا ہے،شاہی ایلچی نے آ کر خبر دی کہ عموریہ میں ایک مسلمان بہن رومیوں کی قید میں ہے وہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کے خلیفہ کو پکار رہی ہے وامعتصماه !
    معتصم باللہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے نبیذ کے گلاس کو پھینک دیتے ہیں لبیک اے میری بہن کہتے ہوئے وہ تخت سے اٹھ جاتے ہیں،فوج کے سپہ سالار کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رومیوں کا سب سے مضبوط شہر کون سا ہے کہا جاتا ہے عموریہ نا قابل تسخیر شہر ہے،معتصم باللہ مسلمانوں کا لشکر لیکر عموریہ کی طرف بڑھتے ہیں پچپن دن کے طویل اور سخت معاصرے کے بعد شہر کو فتح کرتے ہیں،اس مسلمان بہن کو رومیوں کی قید سے نکالتے ہیں،ایک مسلمان بہن کی پکار مضبوط قلعوں کو شکست دینے اور شہر کا شہر فتح کرنے کا سبب بن جاتی ہے.

    یہ ہمارا عہد رفتہ تھا کہ کیا بنو قینقاع بازار کا فرد تنہا کیا دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجاتا جواں اور کیا عباسی بادشاہ ایک مسلمان بہن کی پکار پر سب نے لبیک کہا.

    مگر

    آج کشمیر کی کتنی مظلوم بہنیں اور کتنی بیٹیاں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،اس آس میں کہ ان کے دینی بھائی مسلم دنیا کے غیرت مند حکمران ان کی آواز پر لبیک کہیں گے،لیکن ان کی پکار قید خانوں زندانوں اور گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہے انہیں کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہ لبیک میری بہنا!

    ہندو آرمی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرکے ان کے گھروں میں داخل ہوتی ہے.

    وہ چاند چہرے جو کبھی آسمان کے چاند نے بھی نہیں دیکھے تھے ان چہروں پر ہندو فوجیوں کی ناپاک اور حیوانیت بھری نظریں پڑتی ہیں.

    عصمتیں پامال اور آنچل لٹ رہے ہیں،گھروں میں کھانا نہ پینا،بچوں کے لئے دوا نہ علاج،چھ ہفتوں سے کشمیر ایک جیل خانہ بن چکا ہے،میڈیا اور امدادی تنظیموں کے لئے رسائی بند ہے،کرفیو ہے اور موت کا سناٹا ہے،مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے پروگرام چل رہے ہیں،شیوسینا اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر پہنچ چکے ہیں.

    کیا ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک بھی محمد بن قاسم نہیں کیا ساٹھ سے زائد مسلمان بادشاہوں میں ایک بھی معتصم باللہ نہیں؟ ایک بھی حجاج بن یوسف نہیں؟

    کشمیری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے،ہماری منتظر ہے،لیکن یہ انتظار لمبا نہیں ہوگا.یہ قانون قدرت ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہ ہوئے تو اللہ پاک ہماری جگہ کسی اور قوم کو یہ کام سونپ دیں گے.
    تحریر فردوس جمال

  • ” لڑنا نہیں اس کے ساتھ ، بہت مارتا ہے "

    ” لڑنا نہیں اس کے ساتھ ، بہت مارتا ہے "

    دبئی میں ہونے والی باکسنگ فائٹ میں فلپائنی خریف کو 62 سیکنڈ میں زیر کرنے والے پاکستانی باکسر کی سپورٹ میں شعیب اختر میدان میں آ گئے ، شعیب اختر نے محمد وسیم کیساتھ ملاقات کی اور سوشل میڈیا پر ان کیساتھ ویڈیو پیغام جاری کیا اورکہا کہ "آج پوراہیرو میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، لڑنا نہیں اس کیساتھ بہت مارتا ہے، ابھی یہ تھکا نہیں یہ بہت سے مزید ٹائٹل جیتنے والا ہے ، انشااللہ”،

  • قومی ویمن ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں پی سی بی بلاسٹرز کی مسلسل دوسری کامیابی

    قومی ویمن ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں پی سی بی بلاسٹرز کی مسلسل دوسری کامیابی

    قومی ویمن ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں پی سی بی بلاسٹرز کی مسلسل دوسری کامیابی. پی سی بی ڈائنامائٹس کو دلچسپ مقابلے کے بعد 7 رنزسے شکست دے دی۔
    لاہور جمخانہ کلب گراؤنڈ میں جاری ایونٹ میں پی سی بی بلاسٹرز کرکٹ ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح ہے۔فاتح ٹیم کی جانب سے سدرہ امین 44 رنز بنا کر پلیئر آف دی میچ قرار پائیں۔پی سی بی ڈائنامائٹس کی جانب سے کائنات امتیاز کے 56 رنزاورثناء میر کا 3 وکٹیں حاصل کرنے رائیگاں گیا۔ پی سی بی بلاسٹرز کے 163 رنز کے تعاقب میں پی سی بی ڈائنامائٹس کی پوری ٹیم 155 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ڈائنامائٹس کی جانب سے 7 کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نہیں ہوسکيں۔ کائنات امتیاز 56 کپتان ندا ڈار 33 اور جویریہ خان 27 رنز بناکر نماياں رہيں ۔ پی سی بی بلاسٹرز کی جانب سے عالیہ ریاض اور نشرہ سندھو نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایونٹ کا تیسرا میچ20 ستمبر کو پی سی بی چیلنجرز اور پی سی بی ڈائنامائٹس کے درمیان کھیلا جائے گا۔

  • سری لنکا سے سیریز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت 21 ستمبر سے شروع ہو گی

    سری لنکا سے سیریز کیلئے ٹکٹوں کی فروخت 21 ستمبر سے شروع ہو گی

    پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز 27 ستمبر سے کراچی میں شروع ہونے جا رہی ہے جس کیلئے ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ 20 ستمبر سے شروع ہوگی، ٹکٹیں 21 ستمبر سے ٹی سی ایس کے مخصوص مراکز میں دستیاب ہوں گی
    ‏سری لنکا کے خلاف ‏ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں بھی طے کر لی گئی ہیں،
    کراچی میں ہونے والے ایک روزہ میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمت 500 سے 3000 روپے تک مقرر کی گئی ہے ، جبکہ لاہور میں ہونے والے ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ٹکٹوں کی قیمت 500 سے 5000 روپے تک رکھی گئی ہے،
    کراچی میں اقبال قاسم، نسیم الغنی، وسیم باری، محمد برادرز اور انتخاب عالم انکلوژرز کا ٹکٹ 500 روپے میں ملے گا،
    آصف اقبال، وقار حسن اور ماجد خان انکلوژرز کے ٹکٹ 1000 روپے میں دستیاب ہوں گے، قائد، وسیم اکرم، عمران خان اور ظہیر عباس انکلوژرز کا ٹکٹ 2000 روپے میں ملے گا، ‏حنیف محمد، جاوید میاں داد اور فضل محمود انکلوژرز کے ٹکٹ کی قیمت 3000 روپے مقرر کردی گئی ،لاہور میں ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ‏انضمام الحق، نذر، قائد، امتیاز احمد، ظہیر عباس، حنیف محمد، ماجد خان، عبدالقادر، سعید احمد اور سرفراز نواز انکلوژرز کا ٹکٹ 500 روپے میں ملے گا
    عبدالحفیظ کاردار، راجاز، جاوید میانداد اور سعید انور انکلوژرز کا ٹکٹ 1500 روپے میں دستیاب ہوگا، عمران خان اور فضل محمود انکلوژرز کا ٹکٹ 3000 جبکہ وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز کا ٹکٹ 5000 روپے میں ملے گا
    شائقین کرکٹ کو ایک شناختی کارڈ پر 5 ٹکٹیں خریدنے کی اجازت ہوگی

  • حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    زیر نظر تصویر یقیناً مغلیہ دور کی نہیں جس میں کنیزیں بادشاہ سلامت کے استقبال کے لئے کھڑی ہوں۔ یہ ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس میں ہماری طالبات جناب ایم این اے فرخ حبیب صاحب کا استقبال فرما رہی ہیں۔ اور یہ وہ نمائندہ ہیں جو طلبہ تنظیم کو ہیڈ کرتے رہے۔
    وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب کی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سمن آباد میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی ،میاں فرخ حبیب نے پرچم کشائی کی اور طالبات سے پر جوش خطاب کیا

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • 24 ویں نیشنل سیونزرگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی

    24 ویں نیشنل سیونزرگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی

    لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان رگبی یونین کے زیراہتمام 24 ویں نیشنل سیونز رگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی، فائنل میں دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان ایئرفورس کو 5-0 سے جیت لی۔
    تفصیلات کے مطابق پاکستان رگبی اکیڈمی لاہور کینٹ میں دو روزہ ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں نے حصہ لیا۔گزشتہ روز آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلوے نے سیمی فائنلز کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈائریکٹر سروس ٹائرز چودھری عارف سعید تھے۔ اس موقع پر پاکستان رگبی یونین کے چیئرمین فوزی خواجہ،ٹورنامنٹ ڈائریکٹر شکیل احمد ملک، رگبی سروسز مینجر سید معظم علی شاہ، عاصم علی، پنجاب رگبی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور سابق کھلاڑیوں سمیت سینکڑوں تماشائی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ پہلے سیمی فائنل میں پاکستان آرمی نے ریلوے کو 52-0 سے ہرایا جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان ایئرفورس نے پاکستان واپڈا کی ٹیم کو 21-5 سے ہرا دیا۔تیسری چوتھی پوزیشن کے میچ میں پاکستان واپڈا نے ریلویز کو 50-0 سے ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
    اس طرح فائنل دونوں سروسز کے درمیان ہوا جو پاکستان آرمی نے 5-0 سے جیتا۔ پہلے ہاف میں آرمی کے انجم نے خوبصورت ٹرائی سکور کرکے آرمی کو برتری دلا دی جو آخر تک قائم رہی۔ ایئرفورس کی ٹیم نے کچھ اچھے موو بنائے مگر ٹرائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس طرح نیشنل گیمز 2019ء پشاور کیلئے چاروں صوبوں کے علاوہ آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلویز نے کوالیفائی کرلیا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان رگبی یونین فوزی خواجہ نے سروس ٹائرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو روزہ چیمپئن شپ کو سپانسر کیا۔ فوزی خواجہ کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں ٹیموں کی شمولیت رگبی کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔