Baaghi TV

Tag: news

  • مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    ملک میں حالیہ دنوں میں مختلف بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے سب سے زیادہ افراد صوبہ سندھ میں متاثر ہوئے ہیں لیکن ملک کے باقی حصے بھی مختلف بیماریوں کے کیسز سے ناصرف متاثر ہورہے ہیں جبکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے جبکہ اس بارے میں قومی ادارہ صحت نے رپورٹ بھی جاری کردی ہے۔

    واضح رہے کہ ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 89 ہزار 58 افراد میں ایک ہفتے میں ہیضے کی تشخیص ہوئی ہے، اور ہیضے کے سب سے زیادہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق صوب سندھ میں 48 ہزار647 افراد ہیضے کا شکار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر مختلف بیماریوں کے مریضوں میں بھی سندھ کا پہلا نمبر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیضے کے علاوہ مچھروں کے کاٹنے سے مریضوں کا دوسرا نمبر رہا ہے اور ملک میں ملیریا سے 81 ہزار 775 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ کیسز سندھ سے67 ہزار 301 ریکارڈ ہوئے ہیں، ادارہ صحت کی رپورٹ میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں انفلوانزا کے 25 ہزار 482 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، بچوں میں سانس کے مسائل کے 12ہزار 288 کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ کتے کے کاٹنے کے 858 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ ان میں بھی سب سے زیادہ کیسز سندھ سے 513 رپورٹ ہوئے ہیں.

  • عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوزیراطلاعات خیبرپختونخوا فیروز جمال کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کیلئےاجازت لینا ضروری ہے۔ جب کہ جمعیت علمااسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراطلاعات فیروز جمال کا کہنا تھا کہ باجوڑ واقعہ کی پر زورمذمت کرتے ہیں، اور شہدا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، حملے میں 54 افراد شہید اور 200 افراد زخمی ہوئے، 100 سے زائد افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    فیروزجمال نے مزید کہا کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، صوبے میں امن وامان سے متعلق محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا، دھماکے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، تحقیقات سے جلد آگاہ کریں گے، تاہم عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ باجوڑ جلسے میں مجھے بھی شرکت کرنی تھی، لیکن شرکت نہیں کرسکا، باجوڑ حملے میں 80 سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلام کی بنیاد پر بنا، لیکن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کئی علما شہید ہوئے، مولانا فضل الرحمان پر 3 حملے ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے 22 ٹکٹ ہولڈر دہشت گرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا، لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی نہیں دی، اور سیکیورٹی دینے سے معذرت کی، جب کہ چیف سیکرٹری آئے تو ان کے ساتھ بھاری سیکیورٹی تھی، افسران کے پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی موجود ہے، لیکن جلسوں کو سیکیورٹی نہیں دی جاتی۔

  • جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا  مگر  برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لیا ہے، مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کارکنان سے اب بھی کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت سے کام لیں، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سانحہ باجوڑ سے متعلق اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ باجوڑ نے پوری امت کو نڈھال کردیا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا اجتماع تھا ، اس اجتماع سے امن کا پیغام دیا جارہا تھا .

    باجوڑ میں امن کنونشن کے نام سے ورکرز کنونشن منعقد کیا تھا، سفاکوں نے امن کے نام سے ہونے والے مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا
    46 لوگ شہید اور سو سے دوسو کے درمیان زخمی ہیں، باجوڑ سانحہ دل کو دہلا دینے والا کر بناک واقعہ ہے ، یہ حملہ صرف جے یو آئی پر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے. جبکہ جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ امن اور فساد ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے، جے یو آئی کے کارکن امن کی آواز بلند کر ہے تھے اور مفسدین نے فساد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، ہمیں اطمینان ہے کہ ہم امن کے علمبردار ہیں ہم مشیت الہی کے علمبردار ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہماری آواز قرآن اور رسول اللہ کی آواز ہے، اس طرح کے واقعات سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا، ہم پر حملے ہوئے کارکن شہید ہوئے تمام قربانیوں کے باوجود حق کا پرچم بحال رکھا اور کبھی جھکنے نہیں دیا ہے جبکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ایک طرف امن کے علمبردار ہیں اور دوسری طرف فساد کے علمبردار ہیں جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جبکہ حملہ آور جاہل سفاک قاتل اور اسلام کے دشمن ہیں.

    مولانا کا کہنا تھا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ہماری امن کی تحریک جاری رہے گی، ہم امت مسلمہ اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑیں گے اور ان شاء اللہ اس میں سرخرو ہونگے ، تمام شہداء سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں خود مستحق ہوں کہ مجھ سے تعزیت کی جائے، شہید ہونے ولے میرے بھائی ساتھی اور جے یو آئی کے کارکن ہیں، سیاسی محاذ پر جے یو آئی مسلمہ قوت ہے ایسے فساد سے ہمارا راستہ روکا جارہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کے کے مطابق اس طرح کے واقعات سے جےیوآئی کا عوام سے رابطہ توڑا جا رہا ہے، تجربہ ہے کہ یک چند دنوں کی ایک لہر ہے جو اپنا بھیانک اور کالا کردار تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے فارغ ہو جاتا ہے، جے یو آئی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو اپنی جد وجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی ہے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے، ان گھناونے عمل سے نہ پہلے راستہ روک سکے ہو نہ آج روک سکتے ہو.

    جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ چند لوگوں کو حق کس نی دیا ہے سب کو کافر کہنے والے، ان حربوں سے ہمیں اپنی فکر اور نظریے کو نہیں ہٹا سکتے، ہمارا عہد اللہ کے ساتھ ہے اور ہمیں اللہ تعالی اپنے عہد پر پورا اترنے کی توفیق دے، جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کرلیا ہے لیکن اس سے پہلے قبائلی زعماء کا جرگہ بلانے کی تجویز ہے، زعماء اور پختون قیادت بیٹھے اور اس خطے کے بارے میں سوچیں، حال میں خیبر ایجنسی میں دو واقعات ہوئے ،جس میں مسلمانوں کا خون بہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے کورم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے اور اس خطے کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پورا پشتون بیلٹ آج جل رہا ہے بلوچ بیلٹ جل رہا ہے کراچی تک فسادات کی لہر تھم نہیں رہی

    مولانا نے کہا کہ ملک کو کوئے مستحکم کرنا ہے، کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی صاحب کو تھانے میں لے آئی اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی ؟ یہی ان کی صلاحیتیں ہیں، چھبیس ادارے ہیں انٹیلیجنس کے وہ کہاں غائب ہیں، اتنا بڑا انٹیلیجنس فیلئر بے گناہوں کو تنگ کرکے اپنی کاروائی ڈالتے ہیں کاغذی کروائی بھرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کیا اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں یا صرف مجھ سے ٹیکس وصول کریں گے اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کرے گی، مجھے شکایت ہے مجھے کرب ہے میں نے ریاست کو بچانے کے لئے قربانیاں دی ہیں میں نے اس ریاست کے بقاء اور استحکام کے لئے جد وجہد کی ہے ، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کرسکتی ہے ۔پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے جو ریاست جی حفاظت کے ذمہ دار اور مسؤل ہیں اسی کے لئے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کہاں ہیں آج ؟ کب وہ ہمارے شکوں کا ازالہ کریں گے کب وہ ہمارے زخموں کا مرہم بنیں گے کب وہ ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گ جبکہ ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے تمام مکاتب فکر کو بیٹھنا ہے ان شاء اللہ ہم سب کو بلائیں گے پی ڈی ایک کو بھی بلانا پڑے گا سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ عنقریب اس حوالے سے ہمہ جہت رابطے کرونگا ،ذمہ داروں کے ساتھ گفتگو بھی کرونگا، ساری صورتحال سامنے رکھونگا کہ ہم سالہا سال سے جس کرب میں ہیں اور جس کرب کا اظہار لر رہے ہیں، کرب کا اظہار جرم ہوجاتا ہے لیکن ہمیں کرب میں مبتلا کرنے والے دندناتے پھریں، ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے، ہم بری طرح دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہونا چاہیے اس پر تجارت جی اجازت نہیں دی جا سکتی، جرم کا خاتمہ چاہیے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود بہت بڑا جرم ہے

  • قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظورکثرت رائے سےمنظور کرلیا۔

    قومی اسمبلی میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جس کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ جبکہ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

    آرمی ترمیمی بل کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفیٰ ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    ترمیمی بل کے مطابق حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ بل میں کہا گیا ہےکہ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔

  • گیارہ  ماہ سے کلیم اللہ سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے. عطاء تارڑ

    گیارہ ماہ سے کلیم اللہ سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے. عطاء تارڑ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا،توشہ خانہ کیس میں ملزم تین بار عدالت پیش ہوا لیکن جواب دینے سے قاصر رہا، 11ماہ سے کلیم اللہ ،سلیم اللہ کھیلا جا رہا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےعطاء تارڑ نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جو 11 ماہ سے زیر سماعت ہے اور ملزم تین بار عدالت پیش ہوئے اور جواب دینے سے قاصر رہے، ملزم راہ فرار اختیار کر رہا ہے کہ یہ نہ بتانا پڑے کہ تحفہ بیچ کر حاصل کرنے والی رقوم جمع کرائی گئی رقوم سے مطابقت کیوں نہیں رکھتیں۔

    انکا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی امید کا عالم تو دیکھیں آپ دوسری دفعہ سپریم کورٹ کیسے جا سکتے ہیں؟ گزشتہ سپریم کورٹ بنچ نے معاملہ واپس ہائی کورٹ بھیجا تھا، چیئرمین تحریک انصاف نے آج عجیب بہانے بنائے ہیں کہتے ہیں سوالنامہ عاشورہ میں ملا،پھر کہتے ہیں کہ اکاؤنٹنٹ سے بات کرنی ہے، مقدمہ جب منطقی مراحل میں ہے تو بہانے بن رہے ہیں۔ یہ واحد کیس ہے جس میں سپریم کورٹ،ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے کیس روکنے کی درخواستوں کو خارج کیا۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر کسی کی درخواست کو نمبر نہیں لگتا ان کی درخواست پر آج ہی نمبر لگ گیا ہے ، چیئرمین تحریک انصاف کو جسمانی ریمانڈ کے دوران سپریم کورٹ سے ریلیف ملا ، عام شہری جو لاڈلا نہیں اس کو اپیل کا ایک حق ہوتا ہے،ایک ملزم اپنا بیان نہیں ریکارڈ کرانا چاہ رہا ،اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت بار بار کیوں کرائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ وہ چور ہے اس کے وکیل علی ظفر کے اعترافی بیان موجود ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ ملزم توشہ خانہ کا ٹرائل تکنیکی بنیادوں پر تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں، ملزم سپریم کورٹ میں کہتے ہیں جج پر اعتبار نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جج کے بارے ہم فیصلہ دیں گے۔ سپریم کورٹ کو کہا جاتا ہے کہ سٹے دے دیں ،کیا یہ سہولت کسی بھی سائل کو حاصل ہے؟ان کے وکلاء چیف جسٹس سے کیوں ملے ،چیف جسٹس کو انہیں سماعت کا موقع نہیں دینا چاہئے تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی پر پابندی لگانے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

  • سینیٹ میں جو بل پیش  ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    سینیٹ میں جو بل پیش ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    وفاقی وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ منسٹر آف سٹیٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے. نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو آن بورڈ لیتی ہے جبکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا جبکہ جو بل لایا گیا اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے ہم سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام لوگوں کو آن بورڈ لیکر دیکھیں گے کہ اس بل پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں، ہم ایسا بل نہیں لانا چاہتے جو کل کو ہمارے ہی گلے پڑ جائے جبکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انہوں نے احسن واحد کو بتایا کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی دوبارہ مل بیٹھے گی اور اس کمیٹی میں نام شیئر ہونگے جس کے بعد اس پر پر بحث ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابھی نگران وزیراعظم کے نام کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    رہنما پیپلز پارٹی فیصل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا کبھی کسی سیاستدان کو کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر جج یا بیوروکریٹ بن جائیں، کیا سب لوگوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے کبھی کسی جج کو کبھی کسی بیوروکریٹ کو لے آئیں، اس کا کیا مطلب ہے جج اور بیوروکریٹ اچھی سیاست کر لیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں ہم نے تجربے کیے ہیں اور انہی لوگوں کو بٹھا دیا لیکن جب آر ٹی ایس کا سوئچ آف ہوا تو یہ خاموش تھے، لیکن جب الیکشن گزر جاتے تو یہ کہتے کہ ہمیں تو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  • سی پیک  سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    سی پیک سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    چین کے نائب وزیر اعظم ہی لیفنگ ان دنوں پاکستان کےدورہ پر ہیں اور انہوں ایک تقریب میں کہا ہے کہ سی پیک دونوں ممالک کے درمیان اہم منصوبہ ہے جس سےخطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔ اسلام آباد میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کی 10 سالہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئےسی پیک کی دس سالہ تقریب میں شرکت سے خوشی ہوئی،سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کاحصہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان فلیگ شپ منصوبے ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک نے دونوں ممالک کے مفاد کو نئی جلا بخشی ہے، اوریہ منصوبہ پاک چین دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے،دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات ہیں،پاکستان ، چین اچھے پڑوسی ،دوست اور پارٹنر ہے۔ ہی لیفنگ نے کہا نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں کے جال بچھائے گئے سی پیک کے تحت اربن ریلوے،فائبر آپٹیکل کے منصوبوں کو عمل جامہ پہنائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی بحران ختم کرنے میں پاک چین اقتصادی رہداری (سی پیک) نے اہم کردار ادا کیا جس کے باعث ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا، سی پیک کے تحت منصوبوں کو وقت سے پہلے مکمل کیا۔

    سی پیک کے 10 برس مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے، پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے میں اہم کردار ادا کیا، آج دونوں ممالک کے لیے یاد گار دن ہے، سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ باجوڑ کے باعث سی پیک کی سالگرہ سادگی سے منارہے ہیں، اب ہم سی پیک کے دوسرے مراحل میں داخل ہورہے ہیں، صدر شی چنگ پنگ نے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک کا تحفہ دیا۔

  • گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفشل اینٹیلجنس سے بنائے گئے ریویوز گوگل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لہذا انکی اجازت نہیں ہے اور ان کو اسپیم تصور کیا جائے گا۔ جبکہ گوگل کے مطابق صارفین ایسا کونٹینٹ دیکھیں تواپنی فیڈ میں موجود is_spam نامی فیچر کی مدد سے اس کی نشان دہی بطور اسپیم کریں۔

    گوگل کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق آٹو میٹڈ کنٹینٹ کے بارے میں کہا گیاہے کہ کمپنی آٹومیٹڈ پروگرام یا آرٹیفشل اینٹیلجنس سےلکھے گئے ریویوز کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے، اگر کسی صارف کو ایسا کنٹینٹ دکھائی دے تو is_spam فیچرکا استعمال کرکے اسپیم مارک کردیا جائے، علاوہ ازیں گوگل کی پالیسی شر انگیز، نازیبا اور توہین آمیز مواد کے استعمال سے روکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    خیال رہے کہ گوگل کی جانب سے نئی اَپ ڈیٹ کی گئی پالیسی میں غیر قانونی کنٹینٹ، نقصان دہ لنک یا وہ لنک جو میلویئر، وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر جیسے ہوں وہ سختی سے منع کئے گئے ہیں، مصنوعی ذہانت اور آٹو میٹڈ کنٹینٹ کی پروڈکٹ ریٹنگ پالیسیز 28 اگست 2023ء سے نافذ العمل ہوگی۔

  • پاکستان پوسٹ کے  ڈاک نرخ میں  50 فیصد اضافہ

    پاکستان پوسٹ کے ڈاک نرخ میں 50 فیصد اضافہ

    پاکستان پوسٹ نے ڈاک نرخ بڑھادیئے ہیں جس میں اندرون اور بیرون ملک ڈاک نرخوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان پوسٹ نے ایک کلو گرام پارسل کے بغیر رجسٹریشن نرخ 100 روپے سے بڑھا کر 150 روپے کر دیئے ہیںاور 30 کلو گرام 875 روپے سے بڑھا کر 1320 روپے کر دیئے گئے ہیں.

    نئے نرخ کے مطابق رجسٹرڈ اخبارات اور رسائل کیلئے ہر 100 گرام پر نرخ 2 روپے سے بڑھا کر 5 روپے کر دیئے گئے، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔ جبکہ ڈویژنل پوسٹ آفیسر قرأۃ العین کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر قیمتیں بڑھائی گئی ہیں جبکہ ڈیلیوری سروس مزید بہتر کرنے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    ادھر لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور حکمرانوں کو عوام کی بالکل بھی فکر نہیں ہے کہ وہ کس قدر اس مہنگائی کو جھیل پائیں گے ، پوسٹ آفس میں موجود ایک شہری نے بتایا کہ پہلے جو رجسٹری 30 روپے میں ہوتی تھی اب وہ بغیر رجسٹری کے 150 روپے تک مقرر کردی گئی ہے.

    خیال رہے کہ پاکستان کے قومی ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق عمومی کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعتبار سے مہنگائی میں جنوری 2023 تک گذشتہ برس کے مقابلے میں 27.6 فیصد اضافہ ہوا تھا لیکن اب رواں سال میں یہ اضافہ بڑھتا چلا جارہا ہے.

  • وزیراعظم نے تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم نے تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے جج کی اہلیہ کے مبینہ تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کون ہے، اسے خاطر میں نہ لایا جائے، پولیس کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون پر سختی سے عمل کرے۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی رضوانہ پر مبینہ طور پر جج کی اہلیہ نے بدترین تشدد کیا، اور گزشتہ 6 روز سے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیرعلاج ہے، وزیر اعظم شہبازشریف نے بچی پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں اور اس کی زندگی بچانے کے لئے پوری کوشش کی جائے، جب کہ مظلوم لڑکی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ ظالم اور قانون شکن رعایت کے مستحق نہیں، معاشرہ ایسی اندھیرنگری اور ظلم وجبر کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملزم کون ہے اسے خاطر میں نہ لایا جائے، پولیس کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون پر سختی سے عمل کرے۔

    واضح رہے کہ لاہور کے جنرل اسپتال کے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر فرید ظفر نے انکشاف کیا تھا کہ بچی کو زہر دیا گیا ہے، اور میڈیکل بورڈ نے رضوانہ کو زہر دینے کا ٹیسٹ لیبارٹری بھجوا دیا ہے، بچی کے لیے 48 گھنٹے اہم قرار دیے گئے ہیں۔ پروفیسر فرید ظفر نے مزید بتایا کہ رضوانہ کو سیپسیس کی بیماری ہو چکی ہے، سیپسیس کی وجہ خون میں انفیکشن ہے، جو پورے جسم کو متاثر کر رہا ہے، آکسیجن میں کمی کے باعث رضوانہ کی برونکو سکوپی مکمل کر لی گئی ہے۔

    میڈیکل بورڈ سربراہ کا کہنا ہے کہ رضوانہ کے ایک سائیڈ کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہے، دوسرے پھیپھڑے میں خون کے لوتھڑے ہیں۔ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ انفیکشن اور کلاٹ کی وجہ سے سیچوریشین کم ہو رہی تھی۔ پرنسپل جنرل اسپتال پروفیسر فرید ظفر نے رضوانہ کے میڈیکل بورڈ کے چیک اپ سے قبل بھی آج نیوز سے گفتگو کی تھی ۔ انھوں نے بتایا تھا کہ رضوانہ کی طبیعت آج صبح دوبارہ خراب ہوگئی تھی، رضوانہ کا آکسیجن لیول کم ہوگیا تھا۔
    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ آج دوبارہ بچی کا معائنہ کرے گا، وزیر صحت جاوید اکرم نے بھی ایڈوائس دی ہیں، رضوانہ کے میڈیکل بورڈ میں مزید 2 ڈاکٹر شامل کررہے ہیں، بورڈ میں جناح اسپتال کے کارڈیالوجسٹ کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز پروفیسر فرید ظفر نے بتایا تھا کہ رضوانہ کو ابھی بھی آکسیجن کی ضرورت پڑرہی ہے، لیول بہتر ہونے پرآکسیجن اتاردی جاتی ہے جبکہ طبعیت خراب ہوتو دوبارہ لگا دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رضوانہ کو نرم غذا دی جارہی ہے، اس کے پلیٹ لیٹس پہلے سے بہتر ہیں لیکن ابھی بھی کم ہیں جن میں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پروفیسر فرید ظفر نے مزید بتایا کہ کینسر سے متعلق خون کے نمونہ کی رپورٹ کلیئر ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری 12 اگست سے قبل صدر مملکت کو بھجوائی جائے گی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی آدھی رات 12 بجے مکمل ہوگی۔ نواز شریف وطن واپسی پر قانون کا سامنا کریں گے۔تین بار سابق وزیر اعظم – جو 2019 سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں – اگلے چند ہفتوں میں وطن پہنچیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم شہباز نے 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری سے شروع ہونے والے فسادات کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو اس کا ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فسادات کا مقصد فوجی قیادت کو گرانا اور ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا تھا۔ واضح معلومات کی بنیاد پر انکشافات کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے علاوہ، سیاستدانوں کا ایک گروپ، کچھ فوجی جوان اور ان کے اہل خانہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، جسے فوج نے ”یوم سیاہ“ قرار دیا تھا۔9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد عسکری قیادت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ منصوبہ ساز ملک میں ’انتشار‘ اور ’خانہ جنگی‘ چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کو پہلے سے طے شدہ خطرے سے نکالا اور گزشتہ 15 ماہ کے دوران ملک کا کھویا ہوا وقار بحال کیا۔