Baaghi TV

Tag: now

  • گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مرحوم سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ آمد

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مرحوم سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ آمد

    کراچی:گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کی رہائش گاہ گئے۔کامران ٹیسوری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی وفات پر بیگم صہبا مشرف اور صاحبزادے بلال مشرف سے اظہار تعزیت کیا، سابق صدر کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے جنرل (ر) پرویز مشرف کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، شہر قائد کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر ان کا غیر متزلزل یقین تھا۔

     

    کامران خان ٹیسوی نے کہا کہ پرویز مشرف نے اس نعرے کو آخری سانس تک نبھایا، بھارتی اور دیگر غیر ملکی ٹیلی ویژن چینلز پر پاکستان کے دفاع میں انہوں نے بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔

    یاد رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو کراچی میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی نمازِ جنازہ ملیر کینٹ کراچی کے پولو گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد تدفین کے لیے ان کی میت سخت سیکیورٹی میں گورا قبرستان سے متصل سی ایس ڈی قبرستان لائی گئی جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نمازِ جنازہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد، سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی، ن لیگی رہنما امیر مقام، ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، فروغ نسیم، فیصل سبزواری، امین الحق اور دیگر نے شرکت کی۔

    واضح رہے کہ 5 فروری کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف 79 برس کی عمر میں دبئی کے امریکی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔
    گزشتہ شب سابق صدر پرویز مشرف کی میت کو لے کر خصوصی طیارہ دبئی سے کراچی پہنچا تھا۔سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف دبئی میں انتقال کرگئےپرویز مشرف کی میت ایئر پورٹ سے ملیر کینٹ پہنچائی گئی تھی۔

  • اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں.

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔ غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔” ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے. انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر طیب اردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

  • تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹول 17 فروری سے شروع ہوگا

    تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹول 17 فروری سے شروع ہوگا

    کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے تحت 17 سے 19 فروری تک کراچی لٹریچر فیسٹیول منعقد کیا جائے گا جس میں پینل ڈسکشن،کتاب رونمائی اور تصویری نمائش سمیت دیگر ادبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ آرٹس کونسل میں 14 ویں کراچی ادبی میلے کے انعقاد کے حوالے سے پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مینیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس علی ارشد ، مجاہد بریلوی، ماہر معاشیات قیصر بنگالی اور سابق وزیر خزانہ شبر زیدی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

    تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول 17 سے 19 فروری تک کراچی کے مقامی ہوٹل میں سجایا جائے گا اور رواں برس کے ایل ایف کا تھیم ’لوگ، زمین، اور امکانات‘ ہے جو پاکستان کو درپیش موجودہ اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور پاکستان میں تباہ کن سیلاب اور ترکی اور شام میں حالیہ زلزلوں کے نتیجے میں آنے والے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

    رواں برس کراچی ادبی میلے میں 200 سے زائد مقررین ہوں گے جن میں پاکستان، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، جرمنی اور فرانس کے 10 بین الاقوامی مقررین شامل ہیں، 60 سے زائد سیشنز ہوں گے جن میں اردو اور انگریزی دونوں کے امتزاج کے ساتھ 24 کتابوں کی رونمائی بھی شامل ہے۔ تمام سیشنز آکسفوڈر یونیورسٹی کے سوشل میڈیا چینلز پر پوری دنیا میں براہ راست نشر کیے جائیں گے۔
    اس سال پہلی بار دو بکر انعام یافتہ مصنفین، ڈیمن گالگٹ(2021) اور شیہان کروناتیلاکا (2022) بھی شامل ہوں گے،افتتاحی تقریب میں پاکستانی مصنفین کے لیے کل 7 ادبی ایوارڈز کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ انعامات اردو نثر اور شاعری اور انگریزی فکشن میں نمایاں کام کو تسلیم کریں گے۔

    مینیجنگ ڈائریکٹر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس علی ارشد نے کہا کہ آج کل مختلف چیلنجز پاکستان کو درپیش ہیں، ہم نے بہت سے مسائل دیکھ لیے ہیں جو پاکستان کی آبادی کو متاثر کررہے ہیں،ہمارا عنوان پیپل ،پلینٹ اور پاسیبیلیٹی ہے،سیشنز کے ذریعے مسائل کے حل پر بات کی جائے گی،ترکی سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے مسائل پر بات کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ادیب رضوی ہوں گے اور اس موقع پر ان کی سروس اور کاوشوں کو سراہا جائے گا،اس تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت مہمان خصوصی نہیں ہے۔

    مجاہد بریلوی نے کہا کہ ہمارے یہاں بدقسمتی سے شخصیات ادارے بناتی ہیں، یہ میلہ چودہ سال مکمل کرچکے ہے،تربت اور لاہور سمیت اب دیگر شہروں میں بھی ادبی میلے کو فروع دیا جارہا ہے،کراچی ادبی میلے کا شہریوں کو انتظار رہتا ہے۔ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے اظہار خیال کیا کہ او یو پی روح کی غذا کی فراہم کے لیئے اقدامات کرتا ہے کیوں کہ ادب ،موسیقی اور رقص روح کی غذا ہے،تربت سمیت دیگر شہریوں میں اس کا رجحان بڑھ گیا ہے،میں تربت جارہا ہوں،اس میلے میں بچوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے،جس سے انسان نہ چاہتے ہوئے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔

    ماہر معاشیات سابق وزیر خزانہ شبر زیدی نے کہا کہ کراچی میں بہت غیر ادبی ماحول پیدا ہوگیا تھا لیکن کے ایل ایف ایک امید کی مانند دکھ رہی موجود ہے،اس میلے کے کچھ روز لطف کے لمحات دے جاتے ہیں،میری بچے بھی اس کو پسند کرتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ وہ اس فیسٹیول میں شرکت کریں،کے ایل ایف ایک روایت بن گئی ہے،جو کہ کراچی کے پریشان کن مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہورہی ہے۔

  • شمالی وزیرستان میں پولیس کو امن وامان کے حوالے اہم ہدایات جاری

    شمالی وزیرستان میں پولیس کو امن وامان کے حوالے اہم ہدایات جاری

    شمالی وزیرستان:ضلعی پولیس سربراہ شمالی وزیرستان سلیم ریاض کی زیر صدارت ڈی پی او آفس میرانشاہ میں پولیس تنصیبات کی حفاظت اور انسداد پولیو مہم کی سیکورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا۔اجلاس میں ایس پی انویسٹی گیشن محمد زمان ،ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر سید جلال وزیر سمیت ضلع بھر کے ایس ڈی پی اوز و ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران کی شرکت کی۔

    ضلعی پولیس سربراہ نے شرکاء کو پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر کرنے اور انسداد پولیو مہم کے دوران ٹیموں کی سیکورٹی مزید مؤثر بنانے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے حوالے سے مناسب ہدایات دیے۔سلیم ریاض نے تمام پولیس افسران کو انسداد پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کی تمام ٹیموں کے ساتھ تعینات اہلکاران کو بلٹ پروف ہیلمٹ و جیکٹ کے استعمال کو یقینی بنانے اور شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی۔

    انہوں نے تمام پولیس افسران کو علاقے میں اپنی نقل و حرکت کو مزید مؤثر بنانے، جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے اور انسداد پولیو مہم کے اختتام تک ٹیموں کے ساتھ رہنے کی تاکید کی۔ کہا پولیس تنصیبات کی سیکیورٹی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ضلعی پولیس سربراہ سلیم ریاض کا کہنا تھا کہ غفلت و لاپرواہی کی ہرگز گنجائش نہ رکھیں۔ تاکہ شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

  • بلوچستان حکومت؛ صحت اور تعلیم کی فراہمی کیلئے پر عزم

    بلوچستان حکومت؛ صحت اور تعلیم کی فراہمی کیلئے پر عزم

    بلوچستان حکومت؛ صحت اور تعلیم کی فراہمی کیلئے پر عزم

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کوآرڈینٹر شانیہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے دور افتادہ علاقوں سمیت ٹرشری کئیر اسپتالوں میں عوام کو سرکاری سطح پر صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے اس ضمن میں بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے اجراء کی اصولی منظوری دے دی جائے گی یہ بات انہوں نے جمعہ کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی.

    شانیہ خان نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی آبادی تک صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کسی چیلنج سے کم نہیں تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی سربراہی میں صوبائی حکومت دستیاب وسائل کو عوام کی بہبود خصوصاً بنیادی سہولیات صحت اور تعلیم کی فراہمی کے منصوبوں پر خرچ کررہی ہے جس کے دورس نتائج برآمد ہوں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے اجراء کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ورکنگ پیپر کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے. جس پر محکمہ صحت پوری تندہی سے کام کررہا ہے.

    اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ضروری اسٹاف کی تقرری کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے کابینہ سے منظوری کے بعد بلوچستان میں بہت جلد ہیلتھ کارڈ کا اجراء کردیا جائے گا جس سے صوبے کے رہائشیوں خصوصاً غریب طبقے کو سرکاری سطح پر صحت کی معیاری سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی شانیہ خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس کو پارلیمانی جماعتوں کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے اور باہمی مشاورت سے صوبے کی تعمیر و ترقی اور روزگار کی فراہمی کے لئے ہر ممکنا اقدامات اٹھائے جاررہے ہیں۔ 
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کامیاب سرجری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوۓ انکی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیۓ نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی ناسازی طبعیت پر انہیں تشویش لاحق تھی تاہم انکی کامیاب سرجری اور طبعیت کی بہتری باعث اطمینان ہے اللہ تعالٰی مولانا کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان رکھے ۔

  • پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’آئین کی بالادستی‘ قرار دے دیا

    پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’آئین کی بالادستی‘ قرار دے دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے صوبے میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جاری فیصلے کو خوش آئند اور ’آئین کی بالادستی‘ قرار دے دیا۔

    لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے، ہمیں عدلیہ سے انصاف کی امید تھی، عدلیہ نے آئین کی سر بلندی قائم رکھی اور اس فیصلے سے اپنے وقار میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب دیر نہیں کرنی چاہیے اور فوری الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرنا چاہیے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ عدالت نے ملک کو ایک آئینی بحران سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، فیصلہ پاکستان کے عوام کی جیت ہے، الیکشن کمشن اب مزید تاخیر کی بجائے فوری طور پر الیکشن شیڈول جاری کرے۔ عدالتی فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق آیا ہے، جس پر قوم مبارک باد کی مستحق ہے، آئین میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے واضح احکامات ہیں جس کی روشنی میں عدالت نے فیصلہ دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’ملک میں جاری بحران کا حل قومی انتخابات ہیں، وفاقی حکومت انتخابات سے فرار کا راستہ ترک کرے اور تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھ کر قومی الیکٹورل فریم ورک کا اعلان کرے، آئین سے انحراف کسی کے مفاد میں نہیں ہے‘۔

    انہوں نے لکھا کہ ’آج جسٹس جواد حسن نے عدلیہ کا مان رکھ لیا، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے آئین کا تحفظ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور آج کا فیصلہ آئین اور قانون کی فتح ہے وفاقی حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے اور قومی الیکشن پر بات چیت کرے‘۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے ائینی تقاضے کے مطابق معاملہ اب الیکشن کی طرف بڑھے گا، اب فوری طوری پر الیکشن شیڈول کا اعلان کرنا چاہیے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ عدالت کا فیصلہ آئین کی بالادستی کا آئینہ دار ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ موجودہ گھمبیر حالات میں آئین کے مطابق فیصلے ہی پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں، ان شا اللہ اب ملک میں عام انتخابات کا ماحول بھی بنتا ہوا نظر آرہا ہے ،امپورٹڈ ٹولہ اب الیکشن کمیشن کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دے ، عوام انتخابی میدان میں بھی پی ڈی ایم ٹولے کا سیاسی حشر نشر کر ینگے۔

    انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے آئین کی اصل روح کے مطابق تاریخ ساز فیصلہ سنایا،عدالتی فیصلے سے پی ڈی ایم ٹولے کی ساری تدبیریں اور چالیں ناکام ہو گئیں، پاکستانی قوم آئین کی پاسداری کرنے پر معزز لاہور ہائیکورٹ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

  • اسحق ڈار کی  یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندے سے ملاقات

    اسحق ڈار کی یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندے سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندے سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ریزیڈنٹ نمائندے نٹ اوسٹبی نے جمعہ کویہاں وزارت خزانہ میں ملاقات کی۔ وزیر خزانہ نے نٹ اوسٹبی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں سیلاب سے بچائو کے اقدامات کرنے میں بہترین شراکت دار ہونے پر سٹیئرنگ کمیٹی برائے موسمیاتی موزونیت پاکستان کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ایک تعمیری منصوبہ تیار کرنے کے لیے یو این ڈی پی اور پلاننگ ڈویژن کی مشترکہ کوششوں کو سراہا جو جنوری 2023 میں جنیوا کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔

    اس کانفرنس میں پاکستان مختلف شراکت داروں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ نٹ اوسٹبی نے وزیر خزانہ کو یو این ڈی پی کی جانب سے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اہداف کے لیے جاری ادارہ جاتی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بحالی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقتصادی امور ڈویژن اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے تعاون سے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ سے مزید درخواست کی کہ وہ ایس ڈی جیزسے متعلقہ منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے نجی شعبے کو شامل کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں ترقیاتی شراکت دار کے طور پر یواین ڈی پی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ انہوں نے ایس ڈی جیز کے حصول کیلئے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • بحری مشق امن 2023 کی تقریب پرچم کشائی میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت

    بحری مشق امن 2023 کی تقریب پرچم کشائی میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت

    بحری مشق امن 2023 کی تقریب پرچم کشائی میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت

    پاکستان نیوی ڈاکیارڈ میں آٹھویں کثیرالقومی ’’بحری مشق امن 2023 کی تقریب پرچم کشائی میں 50 سے زائد ممالک کی اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی۔ جبکہ اس موقع پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے ’’مشق امن 23‘‘ کے شرکا کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کا کراچی میں آغاز امن مشق ایک باقاعدہ سرگرمی ہے جس میں علاقائی اور عالمی بحری افواج شرکت کرتی ہیں تاکہ خطے میں بلا تعطل میری ٹائم سرگرمیوں کے لیے محفوظ اور سازگار بحری ماحول پیدا کیا جا سکے۔

    نیول چیف نے اپنے پیغام میں مزید اس بات پر زور دیا کہ پاک بحریہ خطے میں مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی کو فروغ دینے کے ساتھ خطے میں باہمی تعاون پیدا کرنے کی جدوجہد میں پیش پیش رہی ہے جسے امن کے لیے متحد مشق کے نعرے کے تحت اجاگر کیا گیا ہے۔ نیول چیف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بندھن بڑھتا رہے گا اور ہمیں علاقائی امن اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف کے مزید قریب لائے گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کمانڈر پاکستان فلیٹ، وائس ایڈمرل اویس احمد بلگرامی نے امید ظاہر کی کہ یہ مشق سب کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    واضح رہے کہ امن سیریز کی آٹھویں مشق “امن ۔ 23 ” 10 سے 14 فروری 2023 تک جاری رہے گی۔ یہ مشق پاک بحریہ کی ایک اہم سرگرمی ہے جو ہر دو سال بعد منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد سمندروں کو مثبت انسانی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کرنا ہے جس میں علاقائی اور عالمی بحری افواج کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس سال امن مشق میں 50 سے زائد ممالک اپنے بحری جہازوں، طیاروں، اسپیشل آپریشنز فورسز اور مبصرین کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں۔

  • وفاقی حکومت الیکشن کرانے میں تاخیر کا شکار کیوں؟

    وفاقی حکومت الیکشن کرانے میں تاخیر کا شکار کیوں؟

    اسمبلیاں تحلیل ہوئے تقریبا تین ہفتے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک حکومت نے نئے الیکشن بارے کوئی اعلان نہیں کیا ہے.

    ملک میں دو صوبوں جیسے پنجاب اور خیبر پختونخوا ہے میں اسمبلیاں تحلیل ہوئے تقریبا تین ہفتے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک حکومت نے نئے الیکشن بارے کوئی اعلان نہیں کیا ویسے تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن ہوجانے چاہئے مگر یہ شرط بھی وفاق سے منسلک ہے کیونکہ ہر صوبے میں نئے الیکشن کی تاریخ کا حتمی فیصلہ گورنرز نے ہی کرنا ہوتا یے۔ پاکستانی آئین میں بھی درج ہے کہ جب ملک کی کوئی اسمبلی اپنی مدت پوری کیئے بغیر تحلیل ہوجائے تو 90 دن میں الیکشن کروانا لازمی ہوتا ہے۔

    لیکن وفاقی وزرا کے بیانات سے اندازہ لگائیں تو معلوم ہوتا پے حکومت تاحال الیکشن کرانے کے موڈ میں نہیں ہے اور وہ جیسے چاہتے ہیں جب قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہوگی تو پھر ایک ساتھ ہی تمام الیکشن ہونگے مگر سینئر صحافی حامد میر کے مطابق یہ حکومت نئے الیکشن کرانے کے ارادے میں نہیں ہے اور اس سب کا نقصان نواز شریف اور زرداری کو ہوگا۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    دوسری جانب آج ہی لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دے دیا ہے کہ وہ جلد از جلد آئین پاکستان کے مطابق 90 دن میں پنجاب میں الیکشن کروائے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا فلحال حکومت اس معاملے میں کرتی دکھائی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت بھی ماضی میں نام نہاد تبدیلی سرکار کی طرح ناکام ہوچکی ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ یہ اپنی عزت بچا سکیں مگر جیسے حالات اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اس حکومت کی بھی مقبولیت ختم ہوتی جارہی ہے۔

  • پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے

    پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے

    لندن:پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے اطلاعات ہیں کہ معروف کمپی بلیک بیری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوجی شخصیات،تنصبیات اورتقریبات اس وقت ایسے عناصراورممالک کی ہٹ لسٹ پرہے جوپاکستان کے مخالف جانے جاتے ہیں

    نیوز پینگوئن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کچھ ایسے ثبوت ہیں کہ جن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کوکن خطرات کا سامنا ہے ، جو آنے والی پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC-2023)پرنظریں مرکوز کررکھی ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ جدید جاسوسی ٹول فراہم کرنے کے لیے ہتھیاروں سے لیس دستاویزات رکھتے ہیں۔

    10-12 فروری کوہونے والےایک پروگرام جوکہ PIMEC پاکستانی بحریہ کا ایک اقدام ہے جو نجی اور سرکاری اداروں کو مصنوعات کی نمائش اور تعلقات کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہےکےبارے میں بھی معلوم ہوا ہےکہ اس وقت نظروں میں ہے

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دستاویزات بہت کچھ منفی ظاہرکررہی ہیں ،کیونکہ ان کوایک بار کھولنے کے بعد دستاویز ریموٹ سرور سے اگلے مرحلے کو لانے کے لیے ریموٹ ٹیمپلیٹ انجیکشن تکنیک کا استعمال کرتی ہے جو صرف پاکستانی IP ایڈریسز پر پے لوڈ فراہم کرتا ہے۔

    اس کے ذریعے جب پاکستان میں آئی ٹی سے متعلقہ افراد جوخصوصی طورپران شعبوں میں کام کرتے ہی‌حتمی پے لوڈ کی طرف جانے والی متعدد دیگر فائلیں بھی متاثرہ کی مشین پر ڈاؤن لوڈ کی جاتی ہیں۔ NewsPenguin کا ایجنٹ، جسے explorer.exe میں داخل کیا جاتا ہے، پہلے سے غیر دستاویزی جاسوسی ٹول ہے جو سینڈ باکسز اور ورچوئل حساس مقامات کواپنے قبضے میں لے سکتا ہے

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے متعدد چیک کرتا ہے کہ آیا یہ سینڈ باکس کےکواپنے قبضے میں لیتا ہے یا پھر کمانڈ اینڈ کنٹرول (C&C) سرور کا IP حاصل کرنے کے لیے ہارڈ کوڈ شدہ ریموٹ سرور سے منسلک ہوتا ہے اور کمانڈز وصول کرنا شروع کرتا ہے، جو کہ base64 انکوڈ شدہ ہیں۔

    پاکستان کی حساس فوجی اوراہم تنصیبات ،شخصیات اوراداروں کے حوالے سے اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیاہے کہ میلویئر کمانڈز کے درمیان پانچ منٹ انتظار کرتا ہے، ممکنہ طور پر سینڈ باکسز کو اپنے قبضے میں لینے کوشش کرتا ہے ، جس میں عام طور پر فی فائل پانچ منٹ سے بھی کم وقت کی حد ہوتی ہے۔

    موصولہ کمانڈز کی بنیاد پر، میلویئر مشین کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتا اور بھیجتا ہے، ایک اضافی تھریڈ چلاتا ہے، فائلوں کو کاپی کرتا ہے یا منتقل کرتا ہے، فائلوں کو ڈیلیٹ کرتا ہے، ڈائریکٹریز بناتا ہے، فائلوں کا مواد سرور کو بھیجتا ہے، فائلوں پر عمل کرتا ہے، اور فائلوں کو اپ لوڈ یا ڈاؤن لوڈ کرتا ہے۔

    ان حملوں سے منسلک ڈومینز 2022 کے دوسرے نصف حصے میں رجسٹر کیے گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ NewsPenguin کچھ عرصے سے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ھمکی آمیز اہداف میں پاکستان میں ملٹری ٹیکنالوجی کمپنیاں، ملکی ریاستیں اور عسکری تنظیمیں شامل ہیں،

    اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ سب کچھ اس طریقے سے کیا جارہا ہے بلکہ کئی متبادل ٹیکنالوجیز کے ذریعے بھی پاکستانی حساس دستاویزات پرقبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،اس میں کامیابی کس حد تک ملتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی سے متعلقہ اداروں کے متعلق ہراہم موومنٹ نیوزپینگوئن کی گرفت سے باہرنہیں‌ہے