Baaghi TV

Tag: pak

  • چیئرمین سینیٹ  سے  امریکی وفدکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے امریکی وفدکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے اسلام آباد میں امریکی وفد نے ملاقات کی۔امریکی وفد میں ریپبلکن ڈیرن لاہود، ایڈم ہوورڈ، جان لافر، لیفٹننٹ کرنل کیٹلن شگورے اور پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم شامل تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور،پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارتی شراکت داری اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت مختلف موضوعات بھی زیر بحث آئے۔

    جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نےکہا کہ تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجارتی تعلقات اور تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام امریکہ کو سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی میں ایک دوست اور اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔

    امریکی وفد نے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔وفد نے پاکستان کے ترقیاتی اہداف پورے کرنے کیلئے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ جبکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ملاقات میں ایک دوسرے کے مثالی جمہوری طریقوں سے باہمی طور پر مستفید ہونے اور پارلیمانی تعلقات اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

    تاہم امریکی وفد نے کہا کہ پاکستان میں آکر خوشی ہوئی۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمارے لیے اہم ہیں اور ہم دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے یہاں موجود ہیں اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات تاریخی، متحرک اور دیرپا ہیں، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے۔ 80 ہزار لوگوں نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ ہمیں امن اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے امریکہ اور پاکستان دونوں کا نقصان ہوا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔بے گناہ کشمیریوں کو تشدد اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا حامی ہونے کے ناطے آگے آکر مقبوضہ کشمیر کے معصوم کشمیریوں کے لیے آواز اٹھا سکتا ہے۔

  • پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان اور چین نے ایم ایل۔ون اور خصوصی اقتصادی زونزکے نفاذ پر عملدرآمد کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) زینگ شانجی کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا۔ تاہم واضح رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سی پیک کی 10 سالہ تقریبات کے سلسلے میں چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اپنے دورے میں قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے وائس چیئرمین کے ساتھ خصوصی مشترکہ تعاون کمیٹی (جی سی سی) کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے علاوہ اہم چینی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔

    چیئرمین این ڈی آر سی ژینگ شانجی سے ون ٹو ون ملاقات کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین ژینگ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی تجویز پر چیئرمین این ڈی آر سی نے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے چینی مہارت کی بھی پیشکش کی۔ دونوں فریقوں نے سی پیک کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے اور اگلے مرحلے کے لئے تمام منصوبوں کی عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے جن میں صنعت کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور سماجی شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل 2022 میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، موجودہ حکومت نے شہباز شریف کی سربراہی میں سی پیک منصوبوں کو بحال کیا گیا ہے جو پچھلی حکومت نے روک دے تھے۔ ملاقات میں ایک دہائی قبل سی پیک کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپنے ہم منصب سے کہا کہ سی پیک کی ترقی کا سفر شاندار ’سفر رہا جس میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا لیکن حکومت ثابت قدم رہی۔ 2013 سے دونوں اطراف کے متعلقہ اداروں نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا اور توانائی اور فزیکل انفراسٹرکچر کے کلیدی منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا،جس سے سی پیک کے اگلے مرحلے کی مضبوط بنیاد رکھی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    اس موقع پر چیئرمین این ڈی آر سی نے کہا کہ چین اور پاکستان اچھے دوست اور شراکت دار ہیں۔ عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں سی پیک کی ترقی میں احسن اقبال کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ چینی حکام گزشتہ سال اپریل میں احسن اقبال کو سی پیک کا لقب دے چکی اور سی پیک کے منصوبوں کو بحال کرنے میں ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔