Baaghi TV

Tag: Pakistan cities

  • پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اصلاحات اور لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پاکستانی معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔

    تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کردی، ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت پیداواری صلاحیت میں اصلاحات کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان کی معیشت نازک مرحلے پر ہے۔عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق خرابیاں دور کرنے پر زور دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سالانہ 6 سے 8 فیصد معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔

    ورلڈ بینک فنڈزکااستعمال؛ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو مزید ٹھیکے دینے سے روک دیا

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسائل کے اعتبار سے پیداوار نہ ہونا ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے، تمام شعبوں پر ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنے سے معیشت میں بہتری آسکتی ہے۔ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے بجائے مینو فیکچرنگ اور تجارتی شعبے کو بہتر کیا جائے، تجارتی پالیسی سے برآمدی شعبوں میں برآمد مخالف رویوں کو ختم کیا جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سے ریجنل ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی سربراہی میں وفد کی ملاقات

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 22 فیصد خواتین ملازمت کرتی ہیں اس شرح کو بڑھانا چاہیئے، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت سے ترقی میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ خواتین کے لیے روزگار کے 73 لاکھ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں خواتین کو روزگار کی فراہمی سے جی ڈی پی کی شرح 23 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

    سیلاب سے 90 لاکھ تک پاکستانی غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان کا بنیادی مسئلہ نجی حکومتی اخراجات پر انحصار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنرل سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنا اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں پاکستان میں فی کس خام قومی پیداوار کی شرح کم رہی، پائیدار ترقی کے لیے دیرینہ عدم توازن کا مسئلہ ہنگامی بنیاد پر حل کرنا ہوگا۔

  • اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    اسلام آباد کے نجی اسپتال میں مولانافضل الرحمان کا کامیاب آپریشن

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جے یو آئی (ف) ک امیر مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد کے ایک اسپتال میں آپریشن کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی ماہ سے مثانے کی تکلیف کا شکار تھے، معالجین نے تکلیف کی وجہ پتھری قرار دی تھی۔ جے یو آئی (ف) کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد کے نجی اسپتال میں گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کے مثانے سے پتھری نکالنےکے لئے آپریشن کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اب بھی اسلام آباد کے نجی اسپتال میں داخل ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل جے یو آئی کی جانب سے ناسازی طبیعت کے باعث مولانا فضل الرحمان کی سیاسی سرگرمیوں کی منسوخی سے متعلق خط لکھ کر عہدیداروں کو باضابطہ آگاہ کیا تھا. مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے کارکنوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کافی عرصے سے ناساز رہی ہے، ان کی سیاسی سرگرمیاں تاحکم ثانی منسوخ رہیں گی۔

    رہنما جمعیت علماء اسلام کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹرز کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں مگر ڈاکٹرز نے مولانا کو سختی سے سیاسی سرگرمیوں سے روکا تھا. مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے کارکنوں کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان طبیعت بہتر ہونے تک آرام کریں گے، اس عرصے کے دوران کارکنوں اور ہمدردوں کو گھر پر آکر عیادت کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    جنوری میں بھی مولانا فضل الرحمان نے ناسازی طبیعت کے باعث ڈاکٹرز کے مشورے پر تمام سیاسی سرگرمیاں منسوخ کردی تھیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس بھی مولانا فضل الرحمان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور وہ چند روز لاہور کے اسپتال میں زیر علاج رہے تھے۔ اس وقت ترجمان جے یو آئی (ف) نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو لبلبے کا عارضہ ہے۔

  • پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک کی 22کروڑ عوام کے لیے پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان نہ تو معاشی دیوالیہ ہوگا اور نہ ایک ایٹمی طاقت کے ملک کو امریکہ سمیت عالمی مالیاتی ادارے دیوالیہ ہونے دیں گے۔ وطن عزیز کی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے باوقار اور شاندار ادارے ہیں۔ پتہ نہیں ہمارے سیاستدان کن چکروں میں پڑ کر اس ملک کی جگ ہنسائی کروا رہے ہیں۔ چین سمیت عرب ممالک بھی وطن عزیز کی معاشی صورت حال پر فکر مند ہیں اور نہ ہی پاک فوج اقتدار پر کمند ڈالنے کی سوچ رہی ہے۔ حکمرانوں اور ملک کے تمام سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا اپنے وسائل پر توجہ دینا ہوگی ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا اور وی لاگر اس ملک اور عوام کو مایوس نہ کریں تاہم قومی سیاسی احوال پر سرسری نگاہ کی جائے تو یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ ہمارے سیاسی زعماء کی اکثریت بے معنی اور بے وقت مسائل میں گرفتار ہے۔

    ان کے درمیان سیاسی نظریات اور افکار کے حوالے سے اختلاف رائے کی بجائے ذاتی مفادات کا ٹکرائو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنی جماعت کی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے اپنی بیٹی مریم نواز کو میدان میں اتارا لیکن نواز شریف کی سیاسی مشکلات کا ازالہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں سب سے اہم سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا نتیجہ خیز مظاہرہ کرنے کی بجائے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یوں اپنے لئے اور اپنی سیاسی جماعت کے لئے آزمائش کی روش کو عام کردیا۔ عوام الناس کی طرف سے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جو تبصرے کئے جاتے ہیں اس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔

    پیپلز پارٹی کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو ایوان اقتدار میں وزیراعظم کی اس مسند پر رونق افروز دیکھنا چاہتے ہیں۔ قرائن یہی ظاہر کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے تمام تجربات کو بروئے کار لائیں گے۔ اس سلسلے میں وہ سیاسی شطرنج ہر قیمت کھیلیں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جماعت بھی قومی اسمبلی میں دوبارہ داخل ہورہی ہے یہ پی ڈی ایم اور بالخصوص شہباز شریف کے اقتدار کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ موجودہ سیاسی کھیل میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی تمام توجہ ملک و قوم کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ کاش ہمارے سیاسی زعماء اس حقیقت کا احساس اور ادراک کریں کہ ان کے قول و فعل کا عام آدمی کے ذہن ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔

  • پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    کراچی:پاکستان کے معروف سائنسدان اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کو دنیا کی معروف ”وال آف سائنٹسٹ“ میں شامل کرلیا گیا۔سوئٹزر لینڈ میں ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ مشہور انجینئرنگ یونیورسٹی ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ کی جانب سے بنائی گئی ہے۔

    بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق پروفیسر عطاء الرحمان مسلم دنیا سے پہلے سائنسدان ہیں، جن کو ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، اس میں صرف دنیا کے نمایاں سائنسدانوں کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ دنیا میں صفِ اول کی جامعات کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

    شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پروفیسر عطاء الرحمن کو اس اچیومنٹ پر مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ کراچی اور پوری قوم کیلئے اعزاز قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پروفیسر عطاء الرحمان رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    پروفیسر عطاء الرحمان چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے مناصب پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کئی مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر عطاء الرحمان مسلم دنیا سمیت کئی دیگر ممالک کی اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ چین اور ملائیشیا میں ان کے نام سے متعدد تحقیقی اور تعلیمی ادارے قائم کئے جاچکے ہیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ناصرف ملکی بلکہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں، چینی صدر ژی جن پنگ نے انہیں چین کے سب سے اعلیٰ ’’سائنٹیفک ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر عطاء الرحمان کو فیلو آف رائل سوسائٹی (لندن) کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہیں ’دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنس (ٹی ڈبلیو اے ایس)‘ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

  • قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت

    قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے 35 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا اسپیکر کا فیصلہ برقرار ہے۔قومی اسمبلی کے اسپیکر آفس نے لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں بحال ہونے کا پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا جھوٹ ثابت ہوگیا۔

    اسپیکر آفس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 35 استعفوں کی بابت محض الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کر کے سماعت مکمل ہونے تک الیکشن کمیشن کو ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کروانے سے منع کیا گیا ہے۔ فیصلے میں استعفے منظور کرنے کے اسپیکر کے فیصلے کو چھیڑا نہیں گیا۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے فیصلہ موصول ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر آفس کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے آخری پیراگراف میں واشگاف الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ چونکہ (درخواست دہندگان نے) اسپیکر کے 22-1-2023 کے نوٹی فکیشن کی کاپی درخواست کے ساتھ نہیں لگائی، لہٰذا اسپیکر کے فیصلے کے خلاف کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

    اسپیکر دفتر کے مطابق تمام معاملات کو آئینی و قانونی لحاظ سے دیکھ کر فیصلہ کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا مؤقف درست ثابت ہوا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کے معاملے پر انتہائی تحمل کے ساتھ نہ صرف غور کیا بلکہ بارہا پی ٹی آئی ارکان کو طلب کیا گیا اور بار بار طلبی کے باوجود پی ٹی آئی ارکان نہ آئے اور استعفے منظور کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری دے دی تو اس کے بعد اعتراض کردیا جو غیر آئینی تھا۔

  • سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے لئے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق سرکاری خرچ پر کوئی امیدوار یا جماعت تشہیری مہم نہیں چلا سکے گی، کسی سرکاری عہدیدار کی تصاویر انتخابی مہم میں استعمال نہیں ہوسکتی، عوامی مقامات اور سرکاری عمارتوں پر پارٹی جھنڈے لگانے پر بھی پابندی ہوگئی۔

    الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے لئے پمفلٹ سائز 9×6 انچ، بینرز سائز 3×9 فٹ ، پوسٹرسائز 18×23 انچ مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیدوار مقررہ سائز سے بڑے پوسٹر استعمال نہیں کر سکیں گے۔

    ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی امیدوار 2×3 فٹ سے بڑا پورٹریٹ استعمال نہیں کر سکے گا، وال چاکنگ، پینا فلیکس، بل بورڈز پر مکمل پابندی ہوگی، پمفلٹ اور بینرز پر چھاپنے والے کا نام اور پتہ پرنٹ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق تفرقہ بازی اور نفرت انگیز تقاریر پر بھی پابندی ہوگی جب کہ مخالف رہنماؤں اور جماعتوں کے پتلے اور جھنڈے بھی نذر آتش نہیں کئے جاسکتے، جلسے جلوس مقامی انتظامیہ کے مختص مقامات پر ہی منعقد ہوسکیں گے، امیدوار ریلی کا روٹ مقامی انتظامیہ کیساتھ طے کرنے کے پابند ہوں گے۔

  • پی ایس ایل8؛کون کون سی فرنچائززنےبیٹنگ کمپنیز سےمعاہدے کررکھے ہیں؟تفصیلات آگئیں

    پی ایس ایل8؛کون کون سی فرنچائززنےبیٹنگ کمپنیز سےمعاہدے کررکھے ہیں؟تفصیلات آگئیں

    لاہور:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن میں نامور فرنچائز نے بیٹنگ کمپنی (جُوا کھیلنے والی کمپنیز) سے معاہدے کرنے پر سابق کرکٹرز نے بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔پی ایس ایل فرنچائز کراچی کنگز نے پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کیلئے 1×Bat کمپنی کو ٹائٹینیم اسپانسر کے طور سائن کیا ہے، جو ایک بیٹنگ سائٹ کا سروگیٹ برانڈ ہے جس کا نام 1×Bet ہے جیسے پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک میں پابندی کا سامنا ہے۔

    پی سی بی نے کرکٹر آصف آفریدی پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

    اسی طرح دفاعی چیمپئین لاہور قلندرز نے بھی میلبٹ نامی کمپنی جبکہ ملتان سلطانز نے Wolf777 News نامی ویب سائٹ سے شراکت داری پر دستخط کیے ہیں تاہم Wolf777 نامی کمپنی ایک بیٹنگ کمپنی ہے، جو جوئے کو فروغ دینے کیلئے خبروں کی آڑ میں دیگر ناموں سے ویب سائٹس استعمال کرتی ہیں۔

    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی MCW Sports نامی ویب سائٹ سے پلاٹینم اسپانسر کا معاہدہ کیا تاہم یہ بھی ایک بیٹنگ سائٹ MCW Casino کے نام سے سروگیٹ برانڈ ہے۔

    پی ایس ایل8: پشاور زلمی کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کراچی پہنچ گئے

    قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہلے بھی بیٹنگ ویب سائٹ کے ساتھ معاہدے کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔سابق کپتان راشد لطیف نے ڈومیسٹک ٹیموں اور پی ایس ایل فرنچائزز کو بیٹنگ کمپنی کو بطور اسپانسر سائن کرنے کی اجازت دینے پر پی سی بی پر تنقید کی ہے۔

  • قوم مزید قربانیاں نہیں دے سکتی،اشرافیہ قربانی دے: سراج الحق

    قوم مزید قربانیاں نہیں دے سکتی،اشرافیہ قربانی دے: سراج الحق

    لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پر مشتمل ٹرائیکا ایکسپوز ہوگیا ہے اب کوئی ان کے گھسے پٹے بیانات سننے کو تیار نہیں، غریب قوم مزید قربانیاں نہیں دے سکتی اب کی بار حکمران اشرافیہ قربانی دے۔اپنے بیان میں سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم آئی ایم ایف کے وفد کے سامنے سجدہ ریز ہیں اس سے بڑھ کر قوم کی اور کیا نفی ہو سکتی ہے کہ آئی ایم ایف قرض نہیں عوام کو زہر دے رہا ہے اس کی شرائط قبول نہیں اور جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی۔

    انہوں ںے کہا کہ آج 10 جنوری کو عوام کا سمندر لاہور سے اسلام آباد جائے گا، تین روزہ مہنگائی مارچ حکمرانوں اور آئی ایم ایف کےلئے پیغام ہے کہ قوم کو آپ کے بند کمروں کے فیصلے منظور نہیں۔سراج الحق کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے کیونکہ مہنگائی سے عوام پس کر رہ گے ہیں۔ حکمران نااہل مگر ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں، بہت ظلم ہو چکا اور عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، انہیں کرپٹ نظام اور اس کے محافظوں سے نجات چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ بتایا جائے معیشت بہتر کیوں نہیں ہوئی، یقین سے کہتا ہوں ملک کو آئی ایم ایف اور بیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں حکمران اپنی کرپشن بند کریں۔ سود اللہ سے جنگ ہے مگر اسلامی ملک کی حکومت اسے جاری رکھنے پر بضد ہے۔ ٹرائیکا نے مل کر سیاست، معیشت اور معاشرت تباہ کی۔ پاکستان 1947 میں بظاہر آزاد ہوا، حقیقت میں حکمران بدلے گئے، انگریزوں کی جگہ ان کے وفاداروں نے لے لی۔انکا کہنا تھا کہ قوم آج بھی استعمار کی غلامی میں ہے، ظالم جاگیردار و ڈیرے اور کرپٹ سرمایہ دار ایوانوں میں براجمان ہیں جو قانون اور انصاف کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں ہمیں اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہے نوجوان آئندہ الیکشن میں کرپٹ سیاست دانوں کے لیے سیاسی موت ثابت ہوں گے۔

    امیر جماعت نے اس موقع پر اسلامی جمعیت کو شجرہ سایہ دار قرار دیا جس کی خوشبو سے پورا ماحول معطر ہو رہا ہے۔ جمعیت کی داستان قربانیوں، شہادتوں اور عزم و ہمت کی داستان ہے، جمعیت کا قافلہ رحمت اور امید کی نوید ہے، جمعیت اخلاق وکردار کا نام ہے جوپاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کا فخر ہے۔انکا کہنا ہے کہا کہ استعماری طاقتیں ملک کے ہر شعبہ پر قابض ہیں صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالم اسلام انکے اثر میں ہے، اسلامی دنیا کے عوام اپنے حکمران تک خود نہیں طے کرسکتے عالمی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں کمال ڈھٹائی سے خاموش ہیں، انہیں وہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ ہماری معیشت اگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کنٹرول میں ہے تو تجارت کے اصول ڈبلیو ٹی او طے کرتا ہے، ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب غیر ملکی این جی اوز اور صحت ڈبلیو ایچ او کے تسلط میں ہے، استعمار کے وفاداروں نے وسائل سے مالا مال پاکستان کو دنیا بھر میں تماشا بنا دیا، حکمرانوں نے ایٹمی اسلامی پاکستان کے عوام کو بھکاری بنا دیا۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سیاسی برہمنوں اور مغل شہزادوں کے جانے کا وقت آگیا ہے نوجوان اسلامی انقلاب کے لیے بے تاب ہیں۔ عوام جاگ چکے ہیں۔

  • وہاب ریاض پی ایس ایلایونٹ کے اختتام پر وزارت کا حلف اٹھائیں گے

    وہاب ریاض پی ایس ایلایونٹ کے اختتام پر وزارت کا حلف اٹھائیں گے

    قومی کرکٹر وہاب ریاض پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں سیزن کے بعد پنجاب کے وزیر کا حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی سے وہاب ریاض کا حلف تاخیر سے لینے کی درخواست کی تھی۔

    پاکستان سپر لیگ 8 کی ٹرافی رونمائی کل ہوگی

    پی سی بی نے بتایا کہ نگران وزیر اعلیٰ نے نجم سیٹھی کی درخواست مان لی ہے اور وہاب ریاض اب مکمل پی ایس ایل کھیلیں گے، وہ ایونٹ کے اختتام پر اپنی وزارت کا حلف اٹھائیں گے۔

    واضح رہے کہ وہاب ریاض کو پنجاب کی نگران کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جب کہ وہ پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی نمائندگی کررہے ہیں۔

    پاکستان سپر لیگ 8 کی ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

    قبل ازیں قبل ازیں وہاب کے وزیر کے طور پر بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے بوجھ کی وجہ پی ایس ایل 8 کھیلنے کے حوالے سے شکوک و شبہات نے جنم لے لیا تھا تاہم اب پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور زلمی کے فاسٹ بولر وہاب ریاض پی ایس ایل کے آٹھویں ایڈیشن کیلئے دستیاب ہوں گے-

    پی ایس ایل میچ :30پاس اور گاڑیوں کے لیے ریڈ سٹیکرنہیں چاہیں :لاہور ہائیکورٹ

  • اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی

    اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی

    چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
    یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

    اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی 21 اپریل 1951ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد اردو کے اہم غزل گو شعرا میں شمار ہونے لگے۔جمال احسانی کی ابتدائی تربیت احسان امروہوی جیسے روایتی استاد کے ہاتھوں ہوئی۔ انھیں سلیم احمد اور قمر جمیل جیسے جدید شعراء کا قرب بھی حاصل رہا۔

    اس قدیم اور جدید شاعری کے ملاپ سے ان کی شاعری ایک طرف تو روایت کا رنگ لئے ہوئے ہے وہیں اس میں جدیدیت کا تڑکا بھی ہے جو اس شاعری کو دو آتشہ بنا دیتا ہے۔ جمال احسانی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے ۔ اس صنف میں محاورات کی بر جستگی، زبان کی پختگی اور باہمی ربط ان کی غزل کا شعار ہیں۔

    جمال کے یہاں ہر جذبہ اپنی پوری شدت سے موجود ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں سمندر، صحرا، سفر، آسمان، تنہائی اور وصل اپنے پورے تاثر کے ساتھ محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ ایک بہت بڑے کینسوس پر ان کی شاعری کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ ان کے خوابوں اور امنگوں کی عکاسی کرتی ہے-

    ان کے شعری مجموعوں میں ستارۂ سفر، رات کے جاگے ہوئے اور تارے کو مہتاب کیا شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعوں پر مشتمل ان کی کلیات، کلیات جمال کے نام سے بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔

    10 فروری 1998ء کو اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں گلستان جوہر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    ان کے منتخب اشعار ملاحظہ ہو:

    چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
    یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
    ………
    سمندروں کا سفر آج تو مزہ دے گا
    ہوا بھی تیز ہے کشتی بھی بادبانی ہے
    ………….
    آنکھوں آنکھوں کی ہریالی کے خواب دکھائی دینے لگے
    ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہو ئے صحراؤں کی!
    ………….
    مقصود صرف ڈھونڈنا کب تھا تجھے ،سو میں
    جس سمت تو نہیں تھا ادھر بھی نکل گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھکن بہت تھی مگر سایہءِ شجر میں جمال
    میں بیٹھتا تو مرا ہمسفر چلا جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ جس منڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں میں
    چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آگاہ میں چراغ جلاتے ھی ھو گیا ۔۔۔ !!
    دنیا مرے حساب سے بڑھ کر خراب ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
    میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے