Baaghi TV

Tag: Pakistan cities

  • اسپین میں دنیا کی بزرگ ترین خاتون؛ عمر 115 سال

    اسپین میں دنیا کی بزرگ ترین خاتون؛ عمر 115 سال

    ماریہ برانیاس موریرا کی عمر 115 برس ہے اور وہ زندہ بزرگ ترین خاتون بھی ہیں۔

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے حال ہی میں دنیا کی ایک بزرگ ترین خاتون کی تصدیق کر دی ہے جن کی عمر 115 سال ہے اور وہ اب تک تندرست اور زندگی سے بھرپور ہیں۔ اسپین کے شہر کیٹالونیا کی رہائشی خاتون ماریہ برانیاس موریرا کی عمر اس وقت 115 برس اور 321 دن ہے۔ اس کی تصدیق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے سند کے تحت کی ہے۔

    واضح رہے کہ ماریہ کو یہ اعزاز سسٹر آندرے کی وفات کے بعد ملا ہے جو گزشتہ منگل کو 118 سال کی عمر میں فوت ہوئی ہیں اور وہ ایک چرچ سے وابستہ راہبہ تھیں۔ ماریہ نے بتایا کہ وہ چار مارچ 1907 کوامریکی شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوئی تھیں اور 8 برس کی عمر میں اسپین آگئی تھیں۔ اب پیرانہ سالی کی وجہ وہ گزشتہ 22 برس سے ایک نرسنگ ہوم میں رہ رہی ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں اور خود گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ان کی صحت بہت اچھی ہیں اور وہ چل پھر بھی سکتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سسٹنٹ کمشنر مستونگ کی گاڑی پرفائرنگ، لیویز اہلکار شہید
    اسلام آباد ، لاہور کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی غائب
    محسن نقوی کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد،سپریم کورٹ جائیں گے: پرویز الہیٰ
    کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی
    نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا:جھنگ میں جشن
    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں تقرریاں و تبادلوں پر پابندی لگادی
    ماریہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی ہیں جو ان کی بیٹی دیکھتی ہیں۔ اپنی ٹویٹر بایوگرافی میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ ’بوڑھی ہیں، بہت بوڑھی لیکن احمق ہرگز نہیں ہیں۔‘ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتی ہیں اور فطرت سے بھی اپنا تعلق استوار رکھتی ہیں۔ ماریہ کے مطابق انہیں کوئی غم یا فکر لاحق نہیں اور وہ بہت مسرور ہیں۔

  • کراچی؛ مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 دکانیں سیل

    کراچی؛ مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 دکانیں سیل

    کراچی میں مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 دکانیں سیل کر دی گیئں.

    کراچی میں مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف کارروائی، 8 دکانیں سیل کر دی گیئں. کمشنر کراچی محمد اقبال میمن کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنرز نے آٹے کے سرکاری نرخْ نافذ کرنے کے لیے شہر کے 85 دکانداروں کے خلاف کاروائی کی گئی جب کہ کارروائی میں 8 دکانوں کو سیل کر دیا۔ تمام ڈپٹی کمشنرز نے آٹے کے نرخ کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ کمشنر کو پیش کی ہے جس کے مطابق ضلع جنوبی میں 24 دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

    ضلع شرقی میں 30دکانداروں کے خلاف ضلع غربی میں 11 اور وسطی اور ملیر اضلاع میں10، 10 دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی،ضلع جنوبی میں2 لاکھ 22 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور3 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ ضلع شرقی میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ اور 3 دکانوں کو سیل کیا گیا، ضلع ملیر میں 2 دکانوں کو سیل کیا گیا اور 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا،وسطی میں10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیاگیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سسٹنٹ کمشنر مستونگ کی گاڑی پرفائرنگ، لیویز اہلکار شہید
    اسلام آباد ، لاہور کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی غائب
    محسن نقوی کی نگراں وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مسترد،سپریم کورٹ جائیں گے: پرویز الہیٰ
    کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی
    نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا:جھنگ میں جشن
    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں تقرریاں و تبادلوں پر پابندی لگادی
    کمشنر کراچی اقبال میمن نے آٹے کے نئے نرخ مقرر کر دہ نافذ کر نے کی مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے،سرکاری افسران مارکیٹوں کا بھی روزانہ دورہ کریں گے۔

  • وزیرآباد فائرنگ: عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی تبدیل

    وزیرآباد فائرنگ: عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی تبدیل

    لاہور:وزیر آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کی جانب سے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر پر اعتراضات کے بعد محکمہ داخلہ نے جے آئی ٹی کے ارکان کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔

    ایم کیوایم میں مزید دراڑیں پڑگئیں:بڑے بڑے نام پارٹی چھوڑنےکے لیےتیار

    سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں عمران خان پر حملے کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی میں نئے ارکانِ کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    اعلامیے کے مطابق جے آئی ٹی کے نئے ارکان میں ڈی پی او ڈی جی خان محمد اکمل، ایس پی انجم کمال، ڈی ایس پی سی آئی اے جھنگ ناصر نواز بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی محکمے کے چوتھے رکن کی تقرری کا فیصلہ جے آئی ٹی کے سپرد ہے، نئے ارکان کی تقرری کا نوٹیفکیشن 14 جنوری کو جاری کیا گیا۔

    کراچی:پولنگ شروع ہونےسےچند گھنٹے پہلےایم کیوایم کےامیدوارکوگولیاں ماردی گئیں

    دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ پرانی جے آئی ٹی میں اختلافات سامنے آنے پر نئے ارکان کی تقرری کی گئی، پرانے ارکان نے جے آئی ٹی سربراہ کی تفتیش اور طریقہ کار پراعترضات کیے تھے، سابق ممبران نے غلام محمود ڈوگر پر سیاسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

  • ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں:ایم کیو ایم کا اعلان

    ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں:ایم کیو ایم کا اعلان

    ایم کیوایم پاکستان کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ غلط مردم شماری پرسزائیں ملیں، سزائیں ملنے کے باوجود غلط مردم شماری درست نہیں کی گئی۔

    کراچی:پولنگ شروع ہونےسےچند گھنٹے پہلےایم کیوایم کےامیدوارکوگولیاں ماردی گئیں

    خالدمقبول کا کہنا تھا کہ غلط مردم شماری پر50 سال سے انتخابات میں دھاندلی ہورہی ہے، کراچی، حیدرآباد میں آبادی کی رفتارکو ملک میں سب سے کم دکھایا گیا۔کنوینیئر ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص میں مردم شماری پرانصاف کاانتظارکیا، ہرمرتبہ یہ کہا گیا کہ آپ غلط وقت پر آئے ہیں، ہمارا کیس مضبوط تھا تو سپریم کورٹ ازخود نوٹس لیتی، ہم عدالتوں اور ایوانوں میں جاکر آواز بلند کرتے رہے۔

    چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم…

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کی صف بندی مکمل ہوچکی ہے، بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں، ہماری آواز سے جاگیردارانہ نظام کو شدید خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے بعد سیاسی جوڑ توڑ میئر کا فیصلہ کرے گا، دھاندلی سے کراچی اور حیدرآباد کسی اور کا ثابت کرنے اور کسی اور کا شہر بنانے کی سازش کی گئی، لیکن ہم نے انتخابات سے دستبردار ہوکر سازش کو ناکام بنایا۔

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں، ہم نے پاکستان بنایا اب پاکستان بچا رہے ہیں، ہم پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے، آج کوئی علاقے نہیں بٹے ہوئے، کوئی نو گو ایریا نہیں۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت جو کر رہی ہے، کیا اس کو روکنے والا کوئی نہیں، ملک میں صرف کراچی، حیدرآباد کےعلاوہ کہیں آبادی کم نہیں کی گئی، کھیل ختم نہیں ابھی شروع ہوا ہے، آپ سمجھ رہے ہیں آپ میئربنا لیں گے، ہمیں کچرا اٹھانے کا اختیار دینے کو بھی تیار نہیں، اور پھر آپ کہتے ہیں ہم محب وطن بھی رہیں۔

  • مداریوں سے عوام تنگ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مداریوں سے عوام تنگ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی ایسے مسائل ہیں جن کو اعتدادل پر لائے بغیر ملک کی سالمیت اور بقاء ناممکن ہے مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں کو بغیر وقت ضائع کئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے بے معنی تنازعات کو دفن کرنے کا فیصلہ صادر کرنا چاہئے اور معاشی سدھار پیدا کر لے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔گزشتہ ادوار کا اگر جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ نوازشریف کے دور اقتدار میں سی پیک، توانائی اور صنعتی ترقی کے اقدامات کے بل بوتے پر پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طورپر ترقی کے راستے پر گامزن تھا ۔

    ترقی کے سفر میں ناعاقبت اندیش رختہ ڈال کر نہ جانے کیوں وطن عزیز کو نہ ختم ہونے والے عدم استحکام کا شکار کر دیا گیا اور اب نہ جانے کون سے پوشیدہ ہاتھ ہیں جو ملک کی سیاسی قوتوں کو منتشر رکھ کر اپنے نادیدہ عزائم کی تکمیل پر بضد ہیں۔ چند دن قبل وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے پریشر کو زائل کرنے کے لئے قومی سطح پر کفایت شعاری کا اعلان کیا لیکن ان پر عمل ہوا یا ہوتا نظر آرہا ہے؟ کیا کابینہ کے براتی حجم کو کم کرنے کا سوچا؟ –

    کیا ہم نے اعلیٰ افسران کی نازبرداریوں کے اخراجات کو کم کے اقدامات کئے؟ کیا ہم نے پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیوں کا سفر کم کیا؟ کیا ہم نے پی آئی اے، سٹیل ملزم، حتیٰ کے اسمبلیوں میں من پسند عزیزوں کی غیر ضروری بھرتیوں کو روکا؟ نہیں بالکل نہیں حکومت کی بدانتظامی اور بے خبری کا یہ عالم ہے کہ ہم سفارش اور رشوت کی کشش میں دیہی علاقوں کے کالجوں میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کو نظرانداز کر دیا سرکاری کالج ویران ہو گئے کفایت شعاری اور انتظامی صلاحیت کیا باقی رہ گئی ہے؟-

    مقتدر حلقوں کو نیوٹرل نیوٹرل کی گردان سے نکل کر بدانتظامی اور عدم استحکام کے گرداب میں پھنسے وطن عزیز کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کرنا ہوگا خواہ اس کے لئے قومی حکومت کا حربہ ہی کیوں نہ آزمانا پڑے ملک میں اس وقت صرف سیاسی بیانات کا طوفان اور واقعات کا ایک ریلا ہے ان حالات میں کچھ بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ عوام جعلی نعرے سن سن کر تھک چکے ہیں داخلی معاملات ہوں یا خارجہ پالیسی دونوں فکر انگیز ہیں۔ عوام ان مداریوں سے تنگ آچکے ہیں۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

  • ون ڈے رینکنگ:  نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

    ون ڈے رینکنگ: نیوزی لینڈ سےنمبر ون پوزیشن چھن گئی،پاکستان پانچویں نمبر

    بھارت کے ہاتھوں دوسرے ون ڈے میں شکست کے بعد نیوزی لینڈ سے آئی سی سی مین ون ڈے رینکنگ کی نمبر ون پوزیشن چھن گئی۔

    باغی ٹی وی: بھارت نے گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ کو 108 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا اور پھر روہت الیون نے مقررہ ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔

    آئی سی سی بھی آن لائن فراڈ کا شکار ہو گیا

    آئی سی سی کی جانب سے نئی ون ڈے ٹیم رینکنگ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق بھارت سے سیریز کے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں شکست پر نیوزی لینڈ نے رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن گنوا دی،پہلی پوزیشن سے تنزلی کے بعد دوسری پوزیشن پر چلی گئی ہے انگلش ٹیم اب سرفہرست ہوگئی ہے بھارت کا تیسرا اور آسٹریلیا کا چوتھا نمبر ہے۔

    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    اس مقابلے سے قبل کیویز 115 ریٹنگ پوائنٹس کے ہمراہ نمبرون اور انگلینڈ 113 پوائنٹس لے کر دوسری پوزیشن پر موجود تھا لیکن اب صورتحال بدل گئی آسٹریلیا 112 پوائنٹس تیسرے ، بھارت 111 پوائنٹس چوتھے نمبر پر ہے، پاکستان ٹیم106 پوائنٹس لے کر پانچویں پوزیشن پر براجمان ہے جبکہ جنوبی افریقا چھٹے، بنگلادیش ساتویں اور سری لنکا آٹھویں نمبر پر ہے افغانستان نویں اور ویسٹ انڈیز دسویں نمبر پر ہے۔

    تیسرا ون ڈے:آسٹریلیا کا کلین سوئپ،پاکستان ویمن ٹیم کو 101 رنز سے شکست

  • رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غمخوار نہیں تھے

    نام خواجہ رضی الحسن انصاری اور تخلص شوق تھا۔ 23 اپریل 1933ء کو سہارن پور میں پید اہوئے۔ جامعہ عثمانیہ سے انھوں نے بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں آکر انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا ۔رضی اختر شوق ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ایک بہترین ڈراما نگار بھی تھے۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسی مرض میں 22 جنوری 1999ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ان کے دوشعری مجموعے’’میرے موسم میرے خواب‘‘ اور ’’جست‘‘ کے نام سے چھپ گئے ہیں۔ 2005ء میں انھیں علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:276

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
    کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

    دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی
    جسم نے جسم سے سرگوشی کی روح کی روح سے بات ہوئی

    مجھ کو پانا ہے تو پھر مجھ میں اتر کر دیکھو
    یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

    آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں
    اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

    اب کیسے چراغ کیا چراغاں
    جب سارا وجود جل رہا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے
    پھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے
    یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیں
    ابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے
    میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشق
    یہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے
    لکھنے والا میں عجب ہوں کہ اگر کوئی خیال
    اپنی حیرت سے نہ نکلا نہیں لکھا میں نے
    میری نظروں سے جو اک بار نہ پہنچا تجھ تک
    پھر وہ مکتوب دوبارہ نہیں لکھا میں نے
    میری سچائی ہر اک لفظ سے لو دیتی ہے
    جیسے سب لکھتے ہیں ویسا نہیں لکھا میں نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
    ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
    صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
    افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
    سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
    ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے
    مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث
    ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے
    یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ
    وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آوارگان شوق سبھی گھر کے ہو گئے
    اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے
    پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں
    پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے
    کچھ دائرے تغیر دنیا کے ساتھ ساتھ
    ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے
    اس شہر کی ہوا میں ہے ایسا بھی اک فسوں
    جس جس کو چھو گئی سبھی پتھر کے ہو گئے
    سورج ڈھلا ہی تھا کہ وہ سائے بڑھے کہ شوقؔ
    کم قامتان شہر برابر کے ہو گئے

  • کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    کراچی بمقابلہ لاہور گزشتہ سالوں کا جائزہ

    ایک وقت تھا کہ کراچی پاکستان کا دارلحکومت تھا اور اس اب بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک بڑے بیٹے کی طرح پورے ملک کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے لیکن افسوس کہ اب ہمیں سیاست دانوں سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ جب بھی وہ ووٹ کیلئے کراچی کی عوام کے پاکستان جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کراچی کو لاہور جیسا بنائیں گے. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک کراچی نے لاہور جیسی ترقی نہیں کی ہے. آپ کو شہباز شریف کا ایک دعوٰی تو یاد ہوگا جب جون 2018 میں انہوں کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا تھا کہ؛ "کراچی آیا ہوں اور اب پان کھانے والے بھائیوں کے شہر’کرانچی’ کو لاہور بنادوں گا اور سندھ کو پنجاب کی طرح ترقی یافتہ بناؤں گا۔”

    کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا ،لاہور پاکستان کا دوسرا بڑاشہر اور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ یہ پاکستان کا تاریخی اور ثقافتی شہر ہے جبکہ لاہور کوپاکستان کا دل اور باغوں کا شہربھی کہاجاتاہے۔ لاہور اور کراچی کے ماضی کے کچھ عرصہ پر نظر دوڑائیں تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے سبب کراچی کو وہ مقام یا ترقی نصیب نہ ہوئی جیسے لاہور نے دن بدن کی، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہمیشہ سے لاہور چونکہ پنجاب کے ایک بڑے صوبہ کا دارلخلافہ ہے تو وہاں سے ہی حکومتیں بنائی گئیں لیکن البتہ سندھ سے تعلق رکھنے والی پی پی کی حکومت آئی مگر انہوں نے بھی کوئی خاص کمال نہ دکھایا جبکہ اب بھی کئی سال سے لگا تار پی پی کی حکومت ہے مگر اس وقت بھی لاہور کی بہ نسبت کراچی کے حالات بدتر نہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں ایک وڈیرہ راج ہے اور اکثر ایسے لوگ ہی کراچی پر حکمرانی کرتے ہیں موجودہ وزیر اعلی اور سابقہ بھی سندھ سے تھے جن کی ناکامی کی بدولت آج بھی کراچی تنزلی کا شکار ہے. روز قتل عام اور چوریاں تو معمول بن گئی ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بارشیں برسانے والا نیا سلسلہ 24 جنوری تک جاری رہنے کا امکان
    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی
    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا
    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان
    جوکچھ امریکن انٹرنیشنل اسکول میں طالبہ کے ساتھ سلوک ہوا اس کی مذمت کرتےہیں:سٹی سکول
    نیا پاکستان اورنیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ پرمنافع کی شرح میں اضافہ
    جبکہ گزشتہ دس سال کو ہی دیکھ لیں تو لاہور نے تیز ترقی کی بہ نسبت کراچی کے کیونکہ میٹرو بس لاہور میں شہباز شریف پہلے لے کر آئے جبکہ کراچی میں اب جاکر کہیں اس طرز کی بسوں کا نظام شروع کیا گیا ہے. اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ان سیاسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت جو اس شہر اور صوبے پر حکومت کرتے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش، ترقیاتی کام ٹھپ، بارشوں کے بعد سیلاب کا منظر، نالوں کی صفائی کا ناقص نظام ، بجلی چوری، سمیت کئی ایسے مسائل ہیں جن پر سالوں سے توجہ نہیں دی جا رہی دوسری جانب لاہور میں حکومتوں نے ترقیاتی کام کروائے، مسائل لاہور میں ہیں لیکن کراچی کی نسبت کم، لاہور میں اورنج ٹرین بھی نظر آئے گی تو میٹرو بھی، لاہور میں سڑکوں پر صفائی ہوتی نظر آئے گی لیکن شاید کراچی کی سڑکوں کی صفائی اہلیان کراچی کے مقدر میں نہیں،

  • موجودہ سیاسی صورتحال،وزیراعظم نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    موجودہ سیاسی صورتحال،وزیراعظم نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورتی اجلاس طلب کر لیا،

    اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اجلاس میں پنجاب کے نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بھی مشاورت ہوگی ، صوبوں کے انتخابات کیلئے ٹکٹوں کے تقسیم پر بھی غور کیا جائے گا،سلمان شہباز بھی اجلاس میں شرکت کریں گے ،خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر پارٹی رہنما شرکت کریں گے ،

    قبل ازیں چیف سیکرٹری پنجاب عبداللہ سنبل اور آئی جی عامر ذوالفقار خان کی وزیراعظم شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاون آمد ہوئی ہے، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے،عبداللہ سنبل نے وزیراعظم شہباز شریف کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا،چیف سیکرٹری پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی،آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال بارے آگاہ کیا،آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو صوبے میں جرائم کی سرکوبی کیلئے پولیس و قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی بارے بریفنگ دی،

    وزیر اعظم شہباز شریف سے جرمن پریس فیڈریشن کے صدرکی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی صحافت کو شفافیت اور احتساب کیلئے کلیدی اہمیت دیتی ہے پاکستان اور جرمنی کے مابین صحافتی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہیے،وزارت اطلاعات جرمن پریس فیڈریشن کیساتھ ملکرتربیت گاہ کےقیام کیلئےکام شروع کرے وزیراعظم نے وفدکی صحافت کے شعبےمیں تعاون بڑھانےکیلئے صحافتی وفود کے تبادلے کی تجویز کا خیرمقدم کیا، ملاقات میں مریم اورنگزیب، فہد حسین، سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ اعلی ٰحکام بھی شریک تھے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

  • سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے،پرویز الہیٰ

    سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے،پرویز الہیٰ

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے پنجاب احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات ہقئی ہے

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے مستحق خاندانوں کیلئے مالی معاونت کے احساس راشن پروگرام پر بریفنگ دی ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سیلاب متاثرین کی بحالی و آباد کاری کے پروگرام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے مستحق افراد کی مدد کیلئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی خدمات کو سراہا، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب احساس پروگرام کے ذریعے سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے مثالی کام کیا ہے۔ سیلاب متاثرین کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی ہے۔احساس پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد آئندہ بھی جاری رہنی چاہیے احساس پروگرام کی افادیت کے پیش نظر اسے کسی دور میں بند نہیں کیا گیا۔ امید ہے احساس پروگرام اور سیلاب متاثرین کی بحالی جاری رہے گی۔سیلاب متاثرین کی مدد ثواب کا کام ہے۔ فنڈز کی شفافیت سے استعمال کی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔ پنجاب حکومت نے سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز رکھے۔ مستند ڈیٹا ملنے پر ایک ارب روپے سندھ حکومت کو دیئے جائیں گے۔سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کا ڈیٹا نہیں دیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر ایک ارب روپے کی فراہمی کے لئے خط کا جواب بھی سندھ نے نہیں دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ سندھ کے سیلاب متاثرین کے لئے عمران خان کی ہدایت کے مطابق ایک ارب روپے دینا چاہتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی مددفلاحی کام ہے، سندھ کا عدم تعاون ناقابل فہم ہے۔ حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے ہر طرح سے سندھ حکومت سے رابطہ کر چکے ہیں۔ پنجاب سندھ کے متاثرہ بھائیوں کیلئے اپنی کمٹمنٹ پوری کرے گا۔ وفاقی حکومت نے پنجاب کو سیلاب متاثرین کے لئے کوئی پائی پیسہ نہیں دیا۔

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

     پارلیمنٹ کے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہی ہونے چاہئیں،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر اصغر عبداللہ کی ملاقات ہوئی ہے، اصغر عبداللہ نے مجلس ترقی ادب کی کارکردگی اور دیگر امور سے آگاہ کیا،وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ادیب اور دانشور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں مجلس ترقی ادب کو جدید طرز کا ادارہ بنانے کی بنیا د رکھ دی ہے۔ بہت جلد یہ ادارہ نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کے اپنا کردار بھر پور طور پر ادا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ مجلس ترقی ادب کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ بک ویئر ہاؤس اور بک ڈسپلے سنٹر تعمیر کیے جائیں گے۔جدید طرز کا لٹریری کیفے اور کانفرنس ہال بھی تعمیر ہوں گے طلبہ کیلئے لٹریری ور کشاپس اور انٹرن شپ پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔