Baaghi TV

Tag: Pakistan crimes

  • ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    ایف نائن پارک ریپ کیس؛ پولیس نے جعلی مقابلہ میں ملزمان کو مار دیا. قانون دان ایمان مزاری کا دعویٰ

    وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں گن پوائنٹ پر2 فروری کوریپ کی گئی 24 سالہ لڑکی کے کیس میں دوملزمان کے مبینہ پولیس مقابلہ میں مارے جانے کے دعوی پر متاثرہ لڑکی کی وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ وفاقی پولیس نے فیک اِن کاﺅنٹر کی کہانی گھڑی ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ جمعہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کرمنل کوڈ کے تحت زیادتی کے شکار کی شناخت ظاہر کرنا جرم ہے، زیادتی کا واقعہ 2 فروری 2023 کو پیش آیا، ملزمان کو 15 فروری کوگرفتار کرلیا لیکن ایسا کیا تھا کہ ملزمان کو مار دیا گیا؟

    نجی ٹی وی کے مطابق ایمان مزاری نے کہا کہ پولیس موقع پر آئی مگر ایف نائن پارک کے گیٹ بند نہیں کیے، زیادتی کا شکار لڑکی کو اسپیشل تحقیقاتی ٹیم کا نوٹی فکیشن تک نہیں دیا گیا، وہ ایس ایس پی ماریہ محمودسے کیس پر بات کرنا چاہتی تھی، کئی بار ماریہ محمودکو کال کی اور ملاقات کا وقت مانگا لیکن نہیں دیا گیا،پولیس نے ملزمان کی شناخت کے لئےمتاثرہ لڑکی کو بلایا، میں خود پولیس اسٹیشن گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی ماریہ کومیسج دیا کہ ملزمان آپ کے پاس ہیں توآپ ڈی این اے کروائیں تاہم پولیس نے فیک اِن کاﺅنٹر کی کہانی گھڑی ہے، ان ملزمان کا ٹرائل ہونا چاہیے تھا تاکہ مزید باتیں سامنے آتیں، آئی جی کی سرپرستی میں ان کاﺅنٹر ہوا، اس کا جواب دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان سی آئی اے پولیس اسٹیشن آئی نائن میں موجودتھے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ لڑکی اور میں بھی پولیس اسٹیشن گئے، ملزمان کی شناخت کا متاثرہ لڑکی نے بتایا، دونوں ملزمان پولیس کی تحویل میں موجود تھےاور ان کا قتل کیا گیا، ہم ماورائے عدالت قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی پولیس کے تھانہ گولڑہ نے وقوعہ کے بعد رات گئے ڈی بارہ میں ہونیوالے پولیس مقابلہ کامقدمہ درج کرتے ہوئے اس میں قرار دیا ہے کہ پولیس ناکہ پر معمول کی چیک جاری تھی کہ دوموٹرسائیکلوں پر چارافراد آئے جو پولیس کو دیکھ کر واپس مڑ ے تو اس دوران ایک موٹرسائیکل پر سوار دو افراد گرپڑے اور ناکہ پر تعینات اہلکاروں پر فائر کردی جس میں سے دو فائر پولیس کانسٹیبل منیر کولگے جو حفاظتی گئر کی وجہ سے محفوظ رہا۔

    پولیس کے مطابق اس دوران ایک دوسرے موٹرسائیکل پر سوار دو مذید افراد نے کلاشنکوف سے پولیس پر سیدھے فائر کئے جس کی زد میں انکے اپنے ہی دو ساتھی زد میں آکر شدید زخمی ہوئے جنہیں پمز لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اس بارے میں وقوعہ کے بعد وفاقی پولیس کے ترجمان جواد کی جانب سے بیان جاری کیاگیا کہ پولیس مقابلہ میں ہلاک دونوں ملزمان قتل اور ڈکیتی کی سنگین وارداتوں میں ملوث تھے اور ریکارڈ یافتہ کریمئنل تھے جو کہ ایف نائن پارک میں لڑکی کے ساتھ ریپ کیس میں بھی ملوث تھے جنکی شناخت کرکی گئی ہے۔

    دوسری جانب مبینہ پولیس مقابلہ میں جاں بحق نواب خان کی والدہ نرگس اور اقبال خان کے والد اکرام خان نے اپنے دیگر عزیز واقارب کے ہمراہ تھانہ گولڑہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہاکہ ان کے دونوں رشتہ داروں کو پولیس نے حراست میں لیکر جعلی پولیس مقابلہ میں مارا ہے۔ احتجاج کے دوران انہوں نے تھانہ میں جاکر دو الگ الگ درخواستوں پولیس کو جمع کروائیں جن میں ذمہ دار پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف قتل کے مقدمات درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    علاوہ ازیں متاثرہ 24 سالہ لڑکی کی جانب سے اس سارے معاملہ میں کوئی بیان یا کسی قسم کی وضاحت سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ایمان مزاری کے انکا وکیل ہونے کے بارے میں انہوں نے میڈیا پر اسکی کسی قسم کی تائید یا تردید کی ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق انہوں نے متاثرہ لڑکی یا انکے لواحقین سے رابطہ کی کوشش کی تاکہ انکی مبینہ وکیل کی جانب سے عائد کئے گئے پولیس پر الزامات کی تصدیق کی جاسکے اور یہ بھی جانا جاسکے کہ کیا واقعی انکی مبینہ وکیل ایمان مزاری کی جانب سے جو کہا گیا ہے کہ انہوں نے متاثرہ لڑکی کے ہمراہ تھانہ کادورہ کیاتھا۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا

    کراچی میں شارع فیصل پر واقع پر کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس میں 8 سے 10 حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکے بھی سنے گئے ہیں اور ہیڈکوارٹرز کی لائٹس بندکردی گئیں ہیں۔ جبکہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس کے باعث شیشے ٹوٹ گئے. جبکہ اس تین دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جسکی نسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    کراچی پولیس آفس کے باہر فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور پولیس لائنز سے داخل ہوئے اور دہشت گرد کے پی او کے پارکنگ ایریا میں بھی موجود ہیں۔حکام نے بتایا کہ رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور پولیس نفری نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے اور شارع فیصل ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔
    https://twitter.com/YA_963/status/1626628831334305793
    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی تصدیق کردی ہے اور کہا کہ میرے آفس پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور پاک فوج کے کمانڈوز کراچی پولیس آفس میں داخل ہوگئے ہیں اور دفتر کے اندر موجود ہر طرح کے پولیس اہلکار اسلحہ لے کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    اُدھر آئی جی سندھ نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور مزید دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق پولیس آفس حملے کے مقام سے 3 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں ایک رینجرز، ایک پولیس اور ایک ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ریسکیو اہلکار کو 2 گولیاں لگی ہیں، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ جبکہ اطلاعات ہیں کہ زخمیوں کی تعداد چار ہو گئی اور زخمیوں میں دو رینجرز ایک ایدھی رضاکار ایک پولیس اہلکار شامل ہیں.

    وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں پولیس آفس حملے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے۔ ان واقعات میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کی تعداد6 سے 7 ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس چیف وہاں موجود نہیں ہیں۔

    راناثناء اللہ نے کہا کہ عمارت میں پولیس ملازمین بھی مسلح ہیں،مزاحمت ہورہی ہے، ہوسکتا ہے دہشت گردوں میں سے کسی نے جیکٹ بھی پہنی ہو۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ میں خود صورتحال کو مانیٹر کررہا ہوں ، حملے کے ملزمان کو فوری گرفتارکیا جائے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے دفتر پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے بعد متعلقہ افسر سے واقعے کی رپورٹ چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف ڈی آئی جیز کو پولیس فورس کراچی پولیس آفس بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کے دفتر پر حملے کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، میں خود صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہوں۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی کراچی پولیس چیف کے دفترپر دہشت گرد حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم عمارت پر حملہ باعث تشویش ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    گورنر سندھ نے آئی جی پولیس سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن لینےکی ہدایت کہ اور کہا کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ یاد رہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس کے دفتر پر 10 کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کا حملہ بارے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کے احکامات جاری کردئیے۔ اور تمام افسران کو خود اپنے علاقے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ترجمان کے مطابق داخلی و خارجی راستوں اور اندرون شہر چیکنگ کو بڑھا دیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ تمام اہم پولیس و دیگر عمارات اور ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور ڈیوٹی پر تعینات تمام اہلکار مکمل حفاظتی یونیفارم کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود ہوں۔ جبکہ تمام ایمبولینسز، پولیس و دیگر وردی میں ملبوس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں کو بھی چیک کیا جائے۔ جبکہ شہری دوران سفر اپنے ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور شہری دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

    جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس میں دہشتگردی واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ اور وزیراعلی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور وزیراعظم نے سیکورٹی اداروں کو دہشتگردوں کے خلاف منظم آپریشن کی ہدایت کردی ہے تاکہ اس کا خاتمہ کیا جاسکے.

  • کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    کراچی؛ آن لائن اسلحہ فروخت کرنے پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کراچی نے آن لائن اسلحہ فروخت کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق خیبرپختونخوا سے اسلحہ لانے والے نظر شاہ اور محمد شاہد کو پیر آباد سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے دو پستول سمیت ایک نائن ایم ایم پستول بھی برآمد کرلی گئی۔

    حکام کے مطابق ملزمان نے اسلحے کی فروخت کے لیے فیس بک پیج بھی بنا رکھا تھا۔ اسلحہ پسند کرنے کے بعد تمام معاملات واٹس ایپ پر طے کیے جاتے تھے۔ اسلحے کی قیمت طے ہونے کے بعد 10 فیصد ادائیگی آن لائن کی جاتی تھی جبکہ اسلحہ کورئیرکمپنی کے ذریعے ملک بھرمیں سپلائی کیا جاتا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    ترجمان کا کہنا ہے کہ کوریئر کمپنی ایک پستول کی ڈلیوری پر 10 ہراز روپے وصول کرتا تھا۔ ڈلیوری ہونے کے بعد باقی رقم ادا کی جاتی تھی ملزم نظر شاہ اس سے قبل بھی اسلحہ لاچکا ہے گرفتار ملزم محمد شاہد نے آن لائن 30 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ جبکہ پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی جرائم میں ملوث افراد کیخلاف کاروایاں ہمیشہ عمل میں لائی جائیں گی.

    ان کامزید کہنا تھا جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ ممکن بنایا جائے اور اسحلہ کی اس طرح فروخت ایک غیر قانونی عمل ہے اور یہی وجہ ہے ملک میں اور خاص کر کراچی میں حالات خراب ہیں.

  • پشاور: پولیس نے کاروائی کرکے  منشیات سمگلر گرفتار کرلئے

    پشاور: پولیس نے کاروائی کرکے منشیات سمگلر گرفتار کرلئے

    پشاور: پولیس نے کاروائی کرکے منشیات سمگلر گرفتار کرلئے

    تھانہ سربند پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بین الصوبائی منشیات سمگلر گرفتار کرلیئے ہیں جبکہ ایس ایچ او تھانہ سربند عبدالقیوم نے خفیہ اطلاع ملنے کاروائی کے دوران بین الصوبائی منشیات سمگلر کو گرفتار کرلیا، گرفتارملزم ارسلان ولد نعمت گل پشاور شہرکا رہائشی ہے اور ملزم کا تعلق منظم منشیات سمگلر گروہ سے ہے

    ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم گاڑی کے زریعے منشیات ملک کے دوسرے شہروں کو سمگل کرنے کی کوشش کر رہاتھا، جس کو خفیہ اطلاع ملنے پر اہم کارروائی کے دوران اچنی بریکر سروس روڈ ناکہ بندی کے دوران دھر لیا جبکہ گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے کے ساتھ دیگر ساتھیوں کی بھی نشاندہی کی ہے،

    گاڑی کے خفیہ خانوں سے مجموعی طور پر 8 کلوگرام اعلی کوالٹی چرس برآمد کرلی گئی ہے، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے. دوسری جانب تھانہ پہاڑی پورہ کی اہم کارروائی کے دوران سوارریوں کی گاڑی کے زریعے اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے. ایس ایچ او تھانہ پہاڑی پورہ بلال حسین نے خفیہ اطلاع ملنے پر اہم کارروائی کے دوران اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے.

    ترجامن کے مطابق کارروائی کے دوران صوبہ پنجاب وہاڑی سے تعلق رکھنے میں ملوث ملزم فہیم ولد شمشاد گرفتار کرلیا، ملزم کاتعلق منظم اسلحہ سمگلرز گروہ سے ہے جوکہ سواریوں کی گاڑی کے زریعے اسلحہ پنجاب سمگل کرنے کی کوشش کر رہاتھا، جس کو خفیہ اطلا ع ملنے پر اہم کارروائی کے دوران رنگ روڈ کے قریب کرفتار کرلیاگیا، جبکہ جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، ملزم کے قبضے سے ایک عدد رائفل، چار عدد پستول سمیت متعدد میگزین بھی برآمد کرلئے گئے ہیں، جس کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے

  • سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ایشوز کیا ہیں؟ وہ کس کرب میں مبتلا ہیں؟ انہوں نے جینا ہے ،روزانہ روٹی کا انتظام کرنا ہے، علاج اور بچوں کو تعلیم دلوانی ہے ۔زندگی کی ضروریات کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام کو نہ تو آئین اور نہ ہی قانون کی پیچیدگیوں سے دلچسپی ہے نہ سوشل میڈیا کی نورا کشتیوں ،کردار کشیوں سے کوئی غرض ہے ۔ان کے روزانہ کے بنیادی مسائل ہر روز ان کی چوکھٹ پر دستک دیتے ہیں سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں اور الزام تراشیاں کتنی ہی بڑھتی چلی جائیں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیا کمال کا اتفاق ہوتا ہے۔

    آمدہ قومی انتخابات کے لئے سیاسی نورا کشتیاں جاری ہیں آج کی مہنگائی کا ملبہ کسی ایک سیاسی جماعت پر نہیں ڈالا جا سکتا اس کے ذمہ دار سابقہ حکومت سے ہٹا کر ایک دوسرے کی آڈیو ، ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور آج کی اس سیاست میں اداروں معزز ججز صاحبان کو بھی نہیں بخشا جا رہا ۔حیرت ہے ملک و قوم کو مسائل کے گرداب میں پہنچا کر آج ایک دوسرے پر گھٹیا اور غلیظ زبان سمیت آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل شروع کر دیئے گئے ہیں۔ ان حرکات سے پاکستان بطور ریاست اور اس ریاست کے مستقبل نوجوانوں کا کیا ہوگا؟ اج کے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں جس گھوڑے پر سوار ہیں ان کی ان حرکتوں سے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔

    فیصلہ ساز اداروں کو وطن عزیز اور عوام کی خاطرہ موجودہ شور شرابے معاشی اور ایک مقروض ملک کی خاطر نواز شریف، عمران خان، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اس ملک و قوم کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کروانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کو دفن کرنا ہوگا ملک کے بہتر مستقبل اور ملک کے وسائل پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اس ملک و قوم کی نوازشریف ، عمران خان اور بلاول بھٹو سمیت دوسری جماعتوں کو تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں اور نہ ہی عمران خان کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے اور نہ دیگر خداراہ اس ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے فیصلہ ساز ادارے اپنا کردار ادا کریں اور سیاسی جماعتیں بھی اس ملک پر رحم کریں سیاسی عدم استحکام، معاشی گراوٹ سماجی انتشار کیا اس ملک کا مقدر ہیں؟

  • الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے اور وہ اس کے لیے بھی مزید وقت مانگ رہا ہے۔

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    سپریم کورٹ میں سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کی طلبی سے متعلق استفسار کیا اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے تقرر و تبادلے کے لیے رابطہ کس نے کیا؟ الیکشن کمشنر الیکشن ایکٹ کی کس شق کے تحت خود ہی یہ حکم دے سکتے ہیں کہ تقرر و تبادلے کردو؟

    عدالت نے کہا کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے، ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟

    سماعت کے دوران سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے بار بار بولنے پر جسٹس منیب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات کرنے کے دوران مجھے ٹوکنے کی جرات نہ کریں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے بنیادی قانون معلوم ہے، اس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ بنیادی قانون پتا ہونے سے آپ وکیل نہیں کہلائیں گے۔

    عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے، 90 روز ختم ہونے کو ہیں اور الیکشن کمیشن مزید وقت مانگ رہا ہے، الیکشن کمیشن کا کام ہی شفاف الیکشن کرانا ہے، اس کے لیے بھی وقت مانگ رہے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے 90 دنوں میں انتخابات نہ کرانے کے خلاف درخواست پر سماعت سے انکارکردیا اور سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا کیس نمٹا دیا۔

  • پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    لاہور:پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا جس کی نقول چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہیں۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد میں نے گورنر پنجاب کو 90 روز کی آئینی مدت کے دوران انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ کے تعین کی نشاندہی کی، الیکشن کمیشن نے بھی گورنر پنجاب سے انتخابات کی تاریخ کے تعین کا تقاضا کیا جس پر گورنر پنجاب نے جوابی خط میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلی ان کے دستخطوں سے تحلیل نہیں ہوئی اس لیے آئینی طور وہ انتخابات کی تاریخ دینے کے پابند نہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے تعین کے احکامات صادر کیے، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر گورنر اور الیکشن کمیشن کے مابین ناقابل جواز تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا، آئینی فرائض کی انجام دہی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں ناکامی آئین سے صریح انحراف ہے، آئین سے انحراف کی راہ روکنے کیلئے سربراہِ ریاست کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

    سپیکر نے اپنے خط میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا آرٹیکل 57(1) آپ کو انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضے کی انجام دہی کے اختیارات سونپتا ہے لہٰذا آپ آئین سے مزید انحراف کی راہ روکنے کیلئے فوری طور پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، خود کش بمبار ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، خود کش بمبار ہلاک

    چمن:سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران اہم دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔ ہلاک ہونے والا دہشت گرد خود کش جیکٹ پھٹنےسے مرا۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے اسپنکی میں خفیہ اطلاع پر جمعرات 16 فروری کو آپریشن کیا گیا۔

    آپریشن کے دوران خود کش بمبار نیک رحمان محسود عرف نیکرو ہلاک ہوگیا۔ خود کش بمبار فائرنگ کے تبادلے میں خودکش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہلاک دہشت گرد لوگر ( افغانستان ) سے پاکستان آ یا تھا۔ ہلاک مذکورہ دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے جنگجوؤں عظمت اللّٰہ اور خیربان کا قریبی ساتھی تھا۔دہشت گرد ماضی میں سیکیورٹی اداروں پر کیے گئے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا تھا۔

    ادھررات کوپنجاب کے ضلع میانوالی کے علاقے کالا باغ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کی ٹیم پر دہشت گردوں کا حملہ، جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کا اہم کمانڈر ہلاک ہو گیا۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق کالاباغ میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی میانوالی کی ٹیم پرحملہ کیا، جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور بیس منٹ تک دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوا جس کی شناخت حبیب الرحمان کے نام سے ہوئی ہے جو کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر ہے جبکہ اُس کے دو ساتھی فرار ہوگئے، دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوف، خودکش جیکٹ اورٹی ٹی پی کے سٹیکرز برآمد ہوئے ہیں۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے واقعہ کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی سرگودھا میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے دو دہشت گردوں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیاتھا۔

  • کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالاباغ؛ سی ٹی ڈی پر حملہ جوابی فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    کالا باغ کے علاقے میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی میانوالی کی ٹیم پر حملہ کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ 2 فرار ہوگئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کالا باغ میں مسلح دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی کی ٹیم پر حملہ کیا، 20 منٹ تک دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور اس کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگرد کی شناخت کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر حبیب الرحمان کے نام سے ہوئی ہے، دہشتگرد کے قبضے سے کلاشنکوف، خودکش جیکٹ اور ٹی ٹی پی کے اسٹیکرز برآمد ہوئے ہیں جبکہ مزید تفتیش کی جاری ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    سی ٹی ڈی کے مطابق فرار ہونیوالے دونوں دہشتگردوں کی تلاش میں گرینڈ سرچ آپریشن جاری ہے، دہشتگردی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ٹی سرگودھا میں درج کرلیا گیا ہے۔

  • ڈاکٹر نے 12 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    ڈاکٹر نے 12 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    ڈاکٹر نے 12 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ڈاکٹر نے 12 سالہ قریبی رشتہ دار لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ لڑکی نے بہنوئی کے خلاف مقدمہ اندراج کے لیے تھانے میں درخواست دی اور پولیس نے واقعے کے ایک ہفتے بعد مقدمہ درج کر لیا۔ حیات آباد فیز فور سیکٹر میں ڈاکٹر قیصر نے جواں سالہ سالی کو گھر میں اکیلا دیکھ کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    متاثرہ لڑکی نے ملزم کے خلاف تھانہ حیات آباد میں مقدمہ اندراج کے لیے درخواست جمع کرائی۔ پولیس نے واقعے کے 8 روز بعد دفعہ 376 اور 53 سی پی اے کے تحت مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب

    FIR
    ایف آئی آر

    دوسری جانب اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 12 میں ناکے پر مبینہ پولیس مقابلے میں ایف نائین پارک میں خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزمان ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق پولیس ناکے پر مسلح ملزمان نے حملہ کر دیا، پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 2 ملزمان ہلاک ہو گئے، گزشتہ روز ملزمان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی تھی۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران ناکے پر 2 نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزمان زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ زخمی حملہ آوروں کو اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق پولیس اہلکار حفاظتی اقدامات کی وجہ سے محفوظ رہے۔