Baaghi TV

Tag: Pakistan latest

  • اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    اکبر الہ آبادی

    اکبر کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی ۔

    لسان العصراکبرالہ آبادی(سیداکبرحسین رضوی (1921-1846)الہ آباد کےقصبےبارہ میں پیدا ہوئےطنزیہ اورمزاحیہ شاعری کےلیے مشہور اکبرکی ملازمت عرضی نویسی سےشروع ہوکروکالت،پھرسیشن جج کےعہدےپرختم ہوتی ہے ۔ان کادورنوآبادیاتی دورہے،اورشاید یہ اس دور کا ہی اثر تھا، جس نےداغ اور امیر مینائی کے رنگ میں روایتی غزل کہنے والے اکبر کی شاعری کا اندازہی بدل دیا۔ ان کی شاعری اسی بدلے ہوئے رنگ کی شاعری ہے جس میں اکبر کا عہد سانس لیتا ہے-

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    شاعری سے قطع نظر اگر اکبر کی زندگی یا شخصیت کی بات کریں تو ایسے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں،جن پر مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاًاکبر نے دو شادیاں کیں، اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ دوسرے 1898میں برطانیہ حکومت سے ’خان بہادر‘کا خطاب لیا،پھر 1903میں اپنی دوسری بیوی کے بیٹے سید عشرت حسین رضوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا، جہاں ان کے بیٹے نے 3 سال کی پڑھائی کوختم کرنے میں 7سال لگا دیے اور واپس اس وقت آئے جب اکبر نے انھیں خرچ دینےسے منع کر دیا، خود اکبر نے اپنے ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کیاہے-

    عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
    کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

    ان سوالات کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن یہ بات شاید اس سے زیادہ اہم ہے کہ ان کی شاعری ہندوستان میں بہہ رہی لندنی ہوا سے پھیلنے والے امراض کی صرف نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دیر پا اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے-

    افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
    شاخ گل تر سوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
    ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبر
    ہم تو گنگا ہی پہ مار کے آسن بیٹھے
    میں کہتا ہوں ہندو مسلمان سے کہ بھائی
    موجوں کی طرح لڑومگر ایک رہو

    اکبر کی شاعری اس انسان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہےجو غیرمعمولی ذہن رکھتا ہے۔وہ پرانی قدروں سے محبت بھی کرتا ہے اور زمانے کے مزاج کو بھی دیکھ رہا ہے،لوگوں کے متغیر کردارکودیکھ رہا ہےاوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ دے ،لیکن وہ اس کو چپ چاپ قبول کر لینے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا وہ انگریزی تہذیب پر ہنستا ہے ،طنز کرتا ہے ،اس کامذاق اڑاتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قدیم وجدید کی اس لڑائی میں نقصان صرف ہندوستانیوں کا ہی ہے-

    قدیم و ضع پہ قائم ہوں میں اگر اکبر
    تو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
    جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں
    تو اپنی قوم مچاتی ہے شور واویلا
    غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
    بلائے صحبت ِ لیلیٰ و فرقت لیلیٰ

    اکبر اپنے دور میں اتنے مقبول شاعر تھے کہ ان کے اشعار عوام میں ضرب المثل بن گئے تھے۔عموما ًانھیں رجعت پسند کہا جاتا ہے ، لیکن اکبر اپنی شاعری میں ایسےشخص نظر آتےہیں جوبدلتی ہوئی قدروں پر گہری نظررکھتاہے اوراسی وقت ان تبدیلیوں کی آہٹ کو بھی سن رہا ہے جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والا تھا۔اکبرنوآبادیاتی سیاست اوراس کے مضر اثرات کو بھی سمجھ رہے تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں کھل کر ہواہے۔ جب اکبر جوڈیشل سروس میں تھے اس وقت بھی ان کی شاعری میں حکومت کے خلاف شدیداحتجاجی بیانیہ اپنی راہ بنا رہا تھا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس پر طنز و مزاح کا شوخ رنگ چڑھا دیا تھا-

    نیٹو نہیں ہو سکتے جو گورے تو ہے کیا غم
    گورے بھی تو بندے سے خدا ہو نہیں سکتے
    یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
    ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

    ان کی شاعری کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اپنےثقافتی اقدار کا ایسا مرثیہ کوئی ’رجعت پسند‘ہی پڑھ سکتا ہے،جو نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر مر رہی تھی-
    اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
    ٹکٹی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
    اس قوم سے وہ عادت دیرینہ طاعت
    بالکل نہیں چھوٹی ہے مگر چھوٹ رہی ہے

    اکبرکی شاعری میں ریل، انجن،موٹر،ایروپلین ،کمپ (Camp)،پمپ،جیسی دوسری ‘جدید’اشیا کاعلامتی استعمال،ان کی پس نوآبادیاتی (Postcolonial) فکر کا علامیہ ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ان تمام اشیاکو ایسی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے جو ہندوستان کی ترقی کے نام پر نوآبادیاتی نظام کے استحکام سے عبارت تھیں۔

    آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انگریزوں نے اگر ہندوستان میں ریل چلائی تو اس کے پیچھے ان کا مقصد ہندوستان کی ترقی نہیں بلکہ ان اندرونی علاقوں تک رسائی حاصل کرنا تھی،جہاں خام مال کا ذخیرہ موجود تھا۔یہی خام مال برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب میں کیا اہمیت رکھتا ہے ، اس کوتاریخ کی کتابوں میں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ اس عمل نے ہندوستان کی صنعتی ترقی پر کیا اثر ڈالا یہ بات بھی اب چھپی نہیں۔

    نوآبادیاتی دور میں یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا، جبکہ اس وقت ہر کوئی آسانی سے’ نوآبادیاتی چکر‘ کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نقطہ نظر کو دھیان میں رکھ کر جب ہم اکبر کی شاعری سے معاملہ کرتے ہیں تو نوآبادیاتی ڈسکورس کے خلاف اکبر کا احتجاج اتنا سطحی نہیں لگتا جتنا باور کرایا جاتا ہے۔اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند تھے اورجدید تعلیم کے خلاف تھے۔حالاں کہ اکبر اس وقت بھی نوآبادیاتی نقاب کے پیچھے چھپی سچائی کو جانتے تھے ،جب سر سید حالی اور آزاد مغربی تعلیم حاصل کرنے کو زندگی کا اول و آخر مقصد تسلیم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر پس نوآبادیاتی مطالعات کی ایک اہم آواز ہیں اور ان کی شاعری پس نوآبادیاتی ردعمل کا شدید بیانیہ ہے ؛
    مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
    اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

    اکبر جانتے تھے کہ انگریز ہندوستانی ذہن کو ناکارہ بنا رہا ہے۔جدید تعلیم اور تہذیب کے نام پر جو چیزیں ہمیں دکھا رہا ہے ، ان کا تعلق صرف اور صرف اس کا ذاتی مفاد ہےاور کچھ نہیں۔اکبر اوردوسرے لوگ اپنی جو پہچان مذہب میں تلاش رہے تھے وہ بھی نوآبادیات کے’محدودو تشخص’ کی ایک چال کہی جا سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اکبر نوآبادیاتی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے تھے۔نظم ‘برق کلیسا’ میں شامل ان کے ان ا شعار میں چھپے طنز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے-

    مجھ پہ کچھ وجہ عتابا آپ کو اے جان نہیں
    نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
    میرے اسلام کو اک قصہ ماضی سمجھو
    ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

    حسن عسکری نے اکبر کو اردو کا ’جدید ترین شاعر‘ کہا ہے تو شمس الرحمن فاروقی انھیں پہلے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جنھوں نے نوآبادیات کی حقیقت کو بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا-

    اکبر پہلے شخص ہیں جن کو بدلتے ہوئے زمانے ،اس زمانے میں اپنی تہذیبی اقدار کے لئے خطرہ، اور انگریزی تعلیم و ترقی کو انگریزی سامراج کے قوت مند ہتھیارہونے کا احساس شدت سے تھا اور انہوں نے اس کے مضمرات کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس معاملے میں مہاتما گاندھی اور اقبال بھی ان کے بعد ہیں۔

    مزید لکھتے ہیں؛’مغربی تہذیب کے لئے اکبر نے بعض الفاظ وضع کئے مثلاًبرگڈ(Brigade)،کمپ (Camp)،توپ ،انجن ،وغیرہ جو علامت کا حکم رکھتے ہیں اور جن کی کارفرمائی ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔برگڈ سے ان کی مراد وہ ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے وفادار تھے۔اور کیمپ سے ان کی مراد مغربی معاشرت تھی ۔

    توپ ،استعماری قوت کے اظہار اور انجن اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہیں ۔‘عسکری صاحب نے بہت درست کہا ہے کہ’اکبر اس زمانے میں واحد شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور اکبر کے سوا کوئی ایسا نہ ہوا جو ’نشان‘کو ’علامت ‘کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ہو۔‘علامت کی اپنی اہمیت ہے جو معنوی سیاق کو وسعت عطا کرتی ہے۔ لیکن ہم ان الفاظ کو علامت کے علاوہ یوں بھی دیکھیں تو اس کی معنوی اہمیت کم نہیں ہوتی-

    ازراہ تعلق کوئی جوڑا کرے رشتہ
    انگریز تو نیٹو کے چچا ہو نہیں سکتے
    ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
    ہم ان سے کبھی عہدہ براہو نہیں سکتے

    انگریزوں کا مقصد ظاہر ہے ہندوستان کی ترقی کسی صورت نہ تھا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑا بہت فرق پڑبھی گیا ’ترقی‘کے خانے میں تو اسے ترقی قرار دینا نادانی ہے کہ یہ ترقی برسوں کے استحصال اور ہندوستان کی لوٹ پاٹ کے سامنے ’ترقی‘تو کسی بھی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ انگریزوں کی آمد اور ان کے دور حکومت میں ہندوستانیوں کا استحصال کسی بھی ’ترقی‘سے زیادہ بڑا اور افسوس ناک المیہ ہے۔ اکبر ان چیزوں سے باخبر تھے اور نئے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی تصویر یوں اتار رہے تھے-

    میری نصیحتوں کو سن کر وہ شوخ بولا
    نیٹو کی کیا سند ہے صاحب کہیں تو مانوں

    ‘نیٹو’اور ‘صاحب’کے درمیان کادوجاپن(otherness)اور اس کی پوری نفسیات کو اس ایک شعر میں اکبر نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔یہاں Hybridاشخاص کی وہ ذہنیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے تحت ان میں حاکم کا ‘دوجا’ رویہ (otherness) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی نظر میں اپنے ہندوستانی بھائی بہن ہی ‘نیٹو ‘(کالے)بن جاتے ہیں۔ایک شعر اورملاحظہ کریں-

    مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو تو اپنا کام کرتے ہیں
    مجھے حیرت تو ان پر ہے جو اس مٹنے پہ مٹتے ہیں

    اکبر نہ صرف حاکم کی سیاسی پالیسی، نوآبادیاتی بیانیہ اور اس کے پس پشت کام کر رہے عناصر سے واقف تھے بلکہ محکوم قوم کی نفسیاتی حالت کا بھی انھیں بخوبی اندازہ تھا۔یوں اکبر کا شعری بیانیہ پس نوآبادیات کی مستحکم آواز کہا جا سکتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم یا ترقی کے مخالف نہیں تھے بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کے متعلقات کے خلاف تھے۔ وہ طنز و مزاح کے بڑے اور غیر معمولی شاعر اسی لیے بھی ہیں کہ انہوں نے پس نوآبادیاتی بیانیہ کی شعری زبان دریافت کی اور اس میں ظلم وجبر کے علائم کو خلق کر دیا ۔یہ وہ شعری بیانیہ ہے جن میں تاریخی صداقتوں کی طرح تعصب نہیں ہے ،اپنوں کا درد ہے اور اس میں زندگی کر نے کا حوصلہ بھی-

    چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں
    بات وہ ہے جو پانیر میں چھپے

    ہماری تہذیب و ثقافت کے سارے تذکرے اب صرف کتابوں کی زینت ہو کر رہ گئےہیں۔ ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں ان کا گلا گھونٹا۔ دیکھیے اکبر کیا کہتے ہیں-

    ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
    لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
    بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
    زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
    گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
    کتابوں میں ہی دفن افسانہ جاہ و حشم ہوں گے

    اکبر کایہ شعری بیانیہ ہمارے زمانے کی سچائی ہے اور کئی زمانوں کی ہمعصر تاریخ بھی اس میں گویا ہے۔ نوآبادیات نے ہندوستان کی ہندوستانیت کو بدل دیا ۔ تہذیب و ثقافت کو مسخ کیا اور’کلچر‘کو نئے معنی دیے۔صرف یورپی کلچر’کلچر‘قرار پایا۔ہم آج بھی اس سے نبردآزماہیں اور تاریخی سیاق بدل جانے کے بعد بھی ان کے شعر بامعنی ہیں-

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    اس طرح کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اکبر کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    عشق نازک مزاج ہے بے حد
    عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
    حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

    جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
    ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
    لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

    آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
    مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

    رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
    ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

    لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

    الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
    کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

    میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
    علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

    بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
    تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

    بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
    محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

    آہ جو دل سے نکالی جائے گی
    کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

    لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
    نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
    میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

    خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
    یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

    ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
    بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
    حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

    اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
    وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

    دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
    چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

    جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
    مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

    بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
    پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

    مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
    شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

    محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
    نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

    عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
    ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
    جاگنا رات بھر مصیبت ہے

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
    کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
    سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

    بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
    بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

    سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
    پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

    جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
    ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

    ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
    مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
    مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

  • پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے پرجوش ہوں: ریسی ون ڈر ڈسن

    پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے پرجوش ہوں: ریسی ون ڈر ڈسن

    لاہور:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل جنوبی افریقی کرکٹر ریسی ون ڈر ڈسن کا کہنا ہے پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے کافی پرجوش ہوںانہوں نے کہا کہ کہ پاکستان سپر لیگ 8 میں ٹیموں کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں کافی سخت مقابلہ ہوگا ابتدائی دو میچز میں ہونے والے مقابلے نے اس کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔

    جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ بالآخر پاکستان سپر لیگ کھیل پا رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے دو بار منتخب ہونے کے باوجود بھی وہ کسی نہ کسی وجہ سے لیگ کھیلنے سے محروم رہ گئے تھے۔جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ یہاں پہلے ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں، گو کہ وہ مختلف بال کی کرکٹ تھی مگر اس سے کنڈیشنز کا اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں کس طرح بیٹنگ کرنی ہے۔

    ریسی ون ڈر ڈسن نے کہا کہ انہیں پاکستان پسند ہے اور یہاں کے لوگ کافی مہمان نواز ہیں، پہلے کووڈ ببل کی پابندیاں تھیں لیکن اس بار ان کے پاس موقع ہے کہ وہ لوگوں سے ملاقات کرسکیں۔ریسی ون ڈر ڈسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی ٹیم جارح مزاج کرکٹ کھیلتی ہے، ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اسلام آباد کے برانڈ آف کرکٹ کےسانچے میں خود کو ڈھالیں، ٹیم کیلئے تسلسل کے ساتھ پرفارم کریں، ان کا کہنا تھا کہ انفرادی اہداف زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں، زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اس اسکواڈ کا حصہ ہوں جو ٹائٹل جیتیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ذمہ داری کے ساتھ ٹورنامنٹ میں ایسی کارکردگی دکھائیں جس سے ٹیم کو فائدہ ہو۔

    ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹر نے کہا کہ پی ایس ایل میں تمام ٹیمیں مضبوط ہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی ٹیم زیادہ اچھی ہوگی، ہر ٹیم کے پاس بہتر سے بہتر بولنگ اٹیک ہے اور اس صورتحال میں یہ لیگ بیٹرز کیلئے کافی چیلنجنگ ہوگی۔ریسی ون ڈر ڈسن نے مزید کہا کہ وہ پی ایس ایل کو ہمیشہ فالو کرتے رہے ہیں، دیگر پلیئرز سے بھی لیگ کے بارے میں بات ہوئی اور ہر کسی نے اس کو اعلیٰ معیار کی لیگ قرار دیا، یہاں ہر ٹیم کے پاس ایسے بولرز ہیں جو تسلسل کے ساتھ 140 کی رفتار سے بولنگ کرسکتے ہیں، ٹاپ کلاس اسپنرز اور اچھے بیٹسمین بھی ہیں، اس ٹورنامنٹ میں کافی سخت مقابلہ ہونا ہے جس کی جھلک ابتدائی دو میچز میں نظر آچکی ہے۔

    ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹسمین نے کہا کہ ماضی میں ہر لیگ کی چیمپئن ٹیم کے درمیان ہونے والا چیمپئنز لیگ زبردست ٹورنامنٹ تھا، اگر ایسا ٹورنامنٹ دوبارہ ہوا تو مزہ آئے گا، دنیا بھر کی لیگز کھیل کر پلیئرز کو فائدہ ہوتا ہے مگر ہر پلیئر کی ترجیح انٹرنیشنل کرکٹ ہی ہوتی ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے ملک کیلئے کھیلنا چاہتا ہے، ضروری ہے کہ لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں توازن برقرار رہے

  • پشاور زلمی نے دلچسپ مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 2 رنز سے شکست دے دی

    پشاور زلمی نے دلچسپ مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 2 رنز سے شکست دے دی

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 8 کے دوسرے میچ میں پشاور زلمی نے دلچسپ مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 2 رنز سے شکست دیدی۔

    نیشنل اسٹیڈیم کرکٹ ایرینا میں کھیلے جانے والے اس میچ میں 200 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کی ٹیم 197 رنز بناسکی۔ کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ اننگز کے آغاز میں پشاور زلمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جہاں اسے 16 کے مجموعے پر ہی دو اہم وکٹوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد حارث 10 رنز بنا کر میر حمزہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے جبکہ صائم ایوب ایک رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

    ایسے میں کپتان بابر اعظم اور ٹام کوہلر کیڈمور نے شاندار پارٹنرشپ بنا کر ٹیم کو بڑے اسکور کی جانب گامزن کیا۔ کیڈمور نے 28 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ بابر اعظم اور کیڈمور کے درمیان 81 گیندوں پر 139 رنز کی شاندار پارٹنر شپ بنی جس کے بعد 155 کے مجموعے پر بابر اعظم 68 رنز کی اننگز کھیل عمران طاہر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ نئے آنے والے بلے باز بھانوکا راجاپکسے تھے، جو صرف 6 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد کیچ آؤٹ ہوگئے۔

    بعدازاں جمی نیشم نے کیڈمور کا ساتھ دیا اور اسکور 197 تک پہنچایا۔ جہاں کیڈمور 92 رنز کے مجموعے پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ تاہم پشاور زلمی کی ٹیم 5 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ کراچی کنگز کی جانب میر حمزہ، اینڈریو ٹائے، عمران طاہر اور بین کٹنگ نے ایک ایک وکٹ لی۔ ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز اچھا نہ تھا جہاں اس کے جارح مزاج بلے باز شرجیل خان بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

    میتھیو ویڈ نے 23 رنز کی اننگز کھیلی اور حیدر علی 12 رنز بناسکے جبکہ قاسم اکرم 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کراچی کنگز 46 رنز پر چار اہم وکٹوں سے محروم ہونے کے بعد کراچی کنگز کی بیٹنگ لائن کو اس کے تجربہ کار بلے بازوں شعیب ملک اور کپتان عماد وسیم نے 131 رنز کی شاندار شراکت دی۔ شعیب ملک 177 کے مجموعے پر 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن اس کے بعد عماد وسیم اور بین کٹنگ کے درمیان ہوئی پارٹنرشپ بھی ٹیم کو جیت نہ دلواسکی اور پشاور زلمی یہ میچ 2 رنز سے ہار گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    پشاور زلمی کی جانب سے وہاب ریاض اور جمی نیشم نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سلمان ارشاد نے ایک وکٹ لی۔ زلمی کے ٹام کوہلر کیڈمور کو 92 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

  • ایندھن کی قلت سے ایدھی ائیر ایمبولینس سمیت ملک بھر میں 157 طیارے گراؤنڈ ہوگئے

    ایندھن کی قلت سے ایدھی ائیر ایمبولینس سمیت ملک بھر میں 157 طیارے گراؤنڈ ہوگئے

    ایندھن کی قلت سے ایدھی ائیر ایمبولینس سمیت ملک بھر میں 157 طیارے گراؤنڈ ہوگئے.

    ملک میں ایندھن کی کمی کے باعث جنرل ایوی ایشن کو مشکلات کا سامنا ہے، ایندھن کی قلت سے ایدھی ائیر ایمبولینس سمیت ملک بھر میں 157 طیارے گراؤنڈ ہوگئے اور 12 فلائنگ اسکولوں کی سرگرمیاں بند پڑی ہیں۔ ایدھی ائیر ایمبولینس کے طیارے کو ٹیسٹ فلائٹ کیلئے ہینگرسے نکالا گیا لیکن پھر ایندھن کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے پرواز ملتوی کردی گئی۔

    چھوٹے طیاروں میں اے وی گیسولین بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ ملک بھر میں جنرل ایوی ایشن کے طیاروں کو تین ماہ سے ایندھن کی کمی کا سامنا ہے۔ فلائنگ اسکولز اور ایوی ایشن انجینئرنگ سمیت جنرل ایوی ایشن کی دیگر سرگرمیاں بند ہونے سے روزگار کے ذرائع بھی ختم ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چھوٹے طیاروں کا 72 ہزار لیٹر ایندھن دسمبر سے کراچی کی بندرگاہ پر پڑا ہے لیکن ایل سی نہ کھلنے کی وجہ سے ناصرف ایدھی ائیرایمبولینس سمیت 157 طیارے گرؤانڈ ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ذرائع نے بتایا کہ مسلسل تاخیر سے ڈیمریج اور دیگر واجبات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور طیاروں کا ایندھن 320 روپے فی لیٹر سے بڑھ 850 روپے فی لیٹر تک جاپہنچا جس کے باعث پہلے ہی مشکلات سے دوچار جنرل ایوی ایشن ایک نئے بحران میں گھر گئی ہے۔

  • پاکستان کو بیچی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار مارکیٹ پر ہوگا۔ روسی سفیر

    پاکستان کو بیچی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار مارکیٹ پر ہوگا۔ روسی سفیر

    پاکستان کو بیچی جانے والی روسی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مارکیٹ بیسڈ ہوں گی.

    پاکستان میں روس کے سفیر ڈینیلا گانش کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بیچی جانے والی ہماری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار مارکیٹ پر ہوگا. نجی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں روسی سفیر نے پاکستان کے ساتھ مختلف معاہدوں ، روس یوکرین جنگ اور دیگر مضوعات پر گفتگو کی۔ پاکستان اور روس کے درمیان نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن اور پاکستان اسٹریم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ حالیہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم یہ منصوبے بہت تیزی سے شروع کر سکتے ہیں یہ کچھ تجارتی معاہدوں پر منحصر ہے۔ ہم ان کمرشل پیپرز پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ سرکاری اور کچھ نجی کمپنیاں ہیں جو براہ راست رابطے میں ہیں۔

    پاکستان کو ممکنہ طور پر بیچی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ہماری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق ہے، یقینی طور پر ان کا انحصار مارکیٹ پر ہوگا، کیونکہ ہم کسی بھی پرائس کیپ کو قبول نہیں کریں گے۔ روس کے تیل کی پیداوار کم کرنے کے اعلان پر پاکستان اور دیگر کمپنیوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوال پر ڈینیلا گانیش کا کہنا تھا کہ میں اس کا براہ راست تعلق نہیں دیکھتا، کیونکہ ہم دراصل پاکستان کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت نہیں کرتے، بنیادی طور پر روس نے تیل کی پیداوار میں کمی کا اقدام اس وقت اس لئے اٹھایا تاکہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں کو بڑھایا جاسکے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کے ساتھ قیمتوں کا تعلق ہے تو اس کا انحصار مقدار پر ہے کہ سپلائی کتنی کرنی ہے، لیکن قیمت مارکیٹ بیسڈ ہوگی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستان بھی روس سے مہنگا تیل خریدنے پر مجبور ہوگا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار مذاکرات پر ہوگا، ہوسکتا ہے پاکستان کو کوئی فائدہ یا رعایت دی جائے، لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس سے ہمیں کتنا فائدہ ہوگا۔ تجارت مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ایسے منصوبے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں جو ہمارے لئے قابل عمل اور فائدہ مند ہو۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے یوکرین کو ہتھیار بیچنے پر موجودہ ڈیلز میں مشکلات کے امکانات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے ردعمل میں محتاط رہنا ہوگا، اس بارے میں روس کی حکومت فیصلہ کرے گی، یہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مانیٹرنگ کر رہے ہیں ، اگر ثابت ہوگیا کہ کسی ملک نے ایسا کیا ہے تو ہم ضرور ردعمل دیں گے، میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ردعمل کیا ہوگا یہ میرے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ روسی سفیر نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے نیوٹرل مؤقف میں تبدیلی لاتا ہے تو جیسا کہ ہم روس میں کہتے ہیں جب ہوگا تب دیکھیں گے. تو ابھی تک ایسا ہوا نہیں ہے اور امید ہے ایسا ہوگا بھی نہیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان ہونے والی گندم تجارت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی پاکستان کو گندم فروخت کرچکے ہیں، پچھلے سال ہم نے سات ہزار ٹن سے زائد گندم پاکستان کو بیچی، میرے حساب سے گندم بیچنا ایم او یو سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

    روس اور پاکستان کے درمیان روبلز میں تجارت پر ان کا کہنا تھا کہ امریکا ڈالرز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے، تاکہ لین دین کے معاملات میں اپنا تسلط قائم رکھ سکے۔ اگر ہم واشنگٹن کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مقامی یا علاقائی کرنسی میں تجارت کرنی ہوگی۔ بیک وقت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے روسی سفیر نے کہا کہ ہم ملٹی ٹاسک کرسکتے ہیں، اگر ہمارے ہندوستان کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی اور قریبی تعلقات ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتے۔ کیا ماسکو افغانستان سے نکل رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی نہیں، ہمارے خصوصی نمائندے پاکستان، بھارت کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ طالبان کو روس مدعو نہ کرنے کے سوال پر ڈینیلا گانش نے کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، اگر طالبان کو اس مرتبہ مدعو نہیں کیا گیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں پہلے کبھی بلایا نہیں گیا یا انہیں اگلے سیشن میں نہیں بلایا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    انہوں نے مزید کہا کہ مختلف میٹنگز میں شرکاء کی مختلف تعداد ہوتی ہے، ہم طالبان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہم اپنے دوست پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ آپ طالبان کو کیسے معقول سجھ سکتے ہیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ بحران کی وجہ افغان مرکزی بینک کے سات بلیب ڈالرز کے منجمد فنڈز ہیں۔ امریکہ اس رقم کو روک رہا ہے اور پھر پابندیاں لگا رہا ہے، تاجروں کے افغان اداروں کے ساتھ معاملات کرنے کا خوف اور امریکہ کی طرف سے مناسب انفراسٹرکچر کی کمی، یہ بنیادی مسائل ہیں۔ ہم یقینی طور پر برابری اور حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور یورپی یونین کی طرح ہم بھی صنفی مساوات کے قائل ہیں، طالبان کا اقتدار میں آنا ایک انقلاب تھا، طالبان ایک سیاسی حقیقت ہیں، انہیں دھمکی دینے کی بجائے اُن کو قائل کیا جائے۔

  • آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل 15 اور 16 فروری کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل 15 اور 16 فروری کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) 15 اور 16 فروری کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) 15 اور 16 فروری کو پاکستان کا دورہ کریں گے. دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق رافیل ماریانو گروسی ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی 15 سے 16 فروری تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ڈی جی آئی اے ای اے اپنے دو روزہ دورے کے دوران اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے اور جوہری ٹیکنالوجی کے مختلف اداروں کے دورے کریں گے جن میں صحت، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کے شعبے کے ادارے شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور آئی اے ای اے کو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے شعبے میں جاری تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان 1957 سے ایجنسی کا بانی رکن ہے اور آئی اے ای اے کے ساتھ دیرینہ اور باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کر رہا ہے۔

  • اسلام آباد یونائیٹڈ ایک بار پھر پی ایس ایل چیمپئن بنے گی. شاداب خان

    اسلام آباد یونائیٹڈ ایک بار پھر پی ایس ایل چیمپئن بنے گی. شاداب خان

    اسلام آباد یونائیٹڈ ایک بار پھر پی ایس ایل چیمپئن بنے گی. شاداب خان

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم پی ایس ایل میں ایک بار پھر چیمپئن بننے آئی ہے۔ کراچی میں نجی ٹی وی جیو کو انٹرویو دیتے ہوئے شاداب خان نے کہا کہ ان کی ٹیم اس بار کافی مختلف نظر آئی گی، ٹیم کا کامبی نیشن پچھلے سال کے مقابلے میں کافی اچھا ہے اور ان کی ٹیم کا ارادہ چیمپئن بننے کا ہے، اسی سوچ کے ساتھ ہی میدان میں اتریں گے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کے کھیلنے کا انداز ہے اس کو دیگر ٹیموں سے مختلف بناتا ہے، امید ہے فینز کو اس بار اسلام آباد کی ٹیم کافی اچھی لگے گی۔ شاداب خان نے کہا کہ ٹیم جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیلتی ہے اور اسی میں ہی اسے کامیابی ملی ہے، اس بار بھی ٹیم وہی انداز اپنائے گی کیونکہ اس طرح کھیلنے میں ٹیم کو کافی اعتماد ہے۔

    صحافی فیضان لاکھانی کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ڈرافٹ میں اور اس سے قبل پلیئرز ریٹینشن میں یہ سوچ اپنائی ہوئی تھی کہ بیٹنگ میں گہرائی ملے، جو پلیئرز درکار تھے، ڈرافٹ میں وہی کھلاڑی ملے ہیں، امید ہے کہ اس بار اسلام آباد یونائیٹڈ کیلئے ٹورنامنٹ کافی اچھا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال ٹیم کو انجریز کی وجہ سے کافی دھچکا لگا تھا، ٹیم کو اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر پلیئرز کو انجریز ہوجائیں گی لیکن اس بار پلان یہی تھا کہ ہر پلیئر کا بیک اپ بینچ پر تیار ہو تاکہ اگر کوئی انجری کی صورتحال ہو تو مشکلات پیش نہ آئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ایچ بی ایل پی ایس ایل 8 میں ذاتی اہداف کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاداب خان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی دکھا کر ایونٹ کے بہترین کرکٹر بنیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ببل تو ختم ہوگیا ہے لیکن سکیورٹی کی پابندیاں اب بھی ہیں اس لیے وہ اپنے ’’روٹی گینگ‘‘ کے ساتھ باہر جا کر کھانے انجوائے نہیں کر سکتے، جو کرنا ہے ہوٹل میں ہی کرنا ہے۔ شاداب خان نے کہا کہ پرسنل لائف اور کرکٹ لائف کو الگ رکھنے کی کوشش کریں گے، ان پر شادی کی وجہ سے کوئی پریشر نہیں ہے۔

  • بلوچستان کے 2اضلاع اور ایک تحصیل پر بلدیاتی الیکشن کل ہوگا

    بلوچستان کے 2اضلاع اور ایک تحصیل پر بلدیاتی الیکشن کل ہوگا

    بلوچستان کے 2اضلاع اور ایک تحصیل پر بلدیاتی الیکشن کل ہوگا. ضلع لسبیلہ، حب اور تحصیل حرمزئی کی مخصوص بلدیاتی نشستوں پر الیکشن ہوگا.

    بلوچستان کے 2 اضلاع اور ایک تحصیل کی مخصوص نشستوں پر بلدیاتی الیکشن کل (بدھ کو) ہوگا۔ الیکشن کمیشن بلوچستان کے مطابق کل (بدھ کو) ضلع لسبیلہ، حب اور تحصیل حرمزئی کی مخصوص بلدیاتی نشستوں پر الیکشن ہوگا جبکہ برابری کی بنیاد پر خالی رہ جانے والی 56 یونین کونسلوں کی 119 نشستوں پر بلدیاتی نمائندوں کا چناؤ بھی کل عمل میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب این اے 265 کوئٹہ ٹو کی نشست پر ضمنی الیکشن کیلئے جمع شدہ 32 امیداروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی۔ الیکشن کمیشن بلوچستان کا کہنا ہے کہ 32 میں سے 31 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ایک آزاد امیدوار ولی محمد کے کاغذات مسترد کردئیے گئے ہیں، کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں 16 فروری تک جمع کرائی جاسکیں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ایپلیٹ ٹریبونل کی جانب سے اپیلوں پر فیصلہ 20 فروری تک کیا جائیگا، 21 فروری کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی جائے گی، 22 فروری تک کاغذات نامزدگی واپس لئے جاسکیں گے، 23 فروری کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری اور انہیں انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے جبکہ پولنگ 16 مارچ کو ہوگی۔

  • شیخ رشید کی لال حویلی کا ایک اور یونٹ ڈی سیل

    شیخ رشید کی لال حویلی کا ایک اور یونٹ ڈی سیل

    شیخ رشید کی لال حویلی کا ایک اور یونٹ ڈی سیل

    لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے لال حویلی کا ایک یونٹ ڈی سیل کرنے کے بعد درخواست نمٹا دی ہے. لال حویلی کا ایک یونٹ ڈی سیل کرنے سے متعلق درخواست پر جسٹس مرزا وقاص رؤف نے سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر درخواست گزار شیخ رشید کی ہمشیرہ عابدہ شمیم کے وکیل سردار عبدالرازق خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    عابدہ شمیم نے لال حویلی کے یونٹ ڈی 156 کو سیل کرنے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے 30 جنوری کو غیرقانونی کریک ڈاؤن کیا اور درخواست گزار کی ملکیتی جائیداد ڈی 156 بھی سیل کر دی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    جبکہ پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کی ملکیتی جائیداد شیخ رشید کا الیکشن آفس رہا ہے۔علاوہ ازیں عدالت کو بتایا گیا کہ شیخ رشید اب بھی این اے 62 سے امیدوار ہیں، سیل شدہ جائیداد میں ان کا الیکشن آفس بننا ہے۔ عدالت سے متروکہ وقف املاک بورڈ کی کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

  • ملتان سلطانز کو جھٹکے پرجھٹکا لگ گیا

    ملتان سلطانز کو جھٹکے پرجھٹکا لگ گیا

    ملتان:پاکستان سپر لیگ 8 کے افتتاحی میچ کے بعد ہی ملتان سلطانز کی ٹیم کو بڑا جھٹکا لگ گیا، فاسٹ بولر شاہنواز دھانی انجری کا شکار ہوگئے، ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔پاکستان سپر لیگ 8 کا پہلا میچ پیر کو ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، افتتاحی میچ میں ہی ایک بڑا کھلاڑی انجرڈ ہوگیا۔

    ملتان سلطانز کے فاسٹ بولر شاہنواز دھانی 16ویں اوور کی آخری گیند پر سکندر رضا کا زور دار شاٹ روکنے کی کوشش میں انجرڈ ہوگئے، ان کے دائیں ہاتھ کی انگلی میں چوٹ لگی ہے۔رپورٹ کے مطابق گیند پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے شاہنواز دھانی کی دائیں انگلی پر گیند لگ گئی، ان کا ایکسرے کیا گیا جس میں شاہنواز کی انگلی میں فریکچر آیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ہاتھ میں شدید تکلیف ہے۔

    شاہنواز دھانی کا انجری کے باعث پی ایس ایل کے پورے ایونٹ سے باہر ہونے کا خدشہ ہے، ملتان سلطانز مینجمنٹ نے شاہنواز دھانی کے متبادل کھلاڑی کی تلاش شروع کردی۔رپورٹ کے مطابق ملتان سلطانز نے کارلوس بریتھ ویٹ کو بھی متبادل کے طور پر تیار رہنے کا کہہ دیا ہے، وہ پاکستانی ویزے کے منتظر اور یو اے ای میں موجود ہیں۔

    ادھر کل رات پاکستان سپر لیگ 8 کے افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رنز سے ہرا دیا۔
    لاہور قلندرز نے جیت کیلئے ملتان سلطانز کو 176 رنز کا ہدف دیا تھا، جواب میں ملتان سلطانز نے مقررہ 20 اوور میں 174 رنز بنائے۔ ملتان سلطانز کے محمد رضوان نے 50 گیندوں پر 75 رنز بنائے۔

    اس سے قبل ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 175 رنز بنائے۔لاہور قلندرز کی جانب سے فخر زمان 66 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، مرزا بیگ نے 32 رنز بنائے، شائے ہوپ 19، کامران غلام 3، حسین طلعت 20 اور ڈیوڈ ویزے 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، سکندر رضا نے ناقابل شکست 19 رنز بنائے۔

    ملتان سلطانز کی جانب سے احسان اللہ اور اسامہ میر نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔لاہور قلندرز میں کپتان شاہین شاہ آفریدی کے علاوہ حارث رؤف، فخر زمان، طاہر بیگ، ڈیوڈ ویزے، سکندر رضا، حسین طلعت، شائے ہوپ، زمان خان، لیام ڈاسن اور کامران غلام شامل تھے۔
    کپتان محمد رضوان، شان مسعود، عثمان خان، ڈیوڈ ملر، کیرن پولارڈ، خوشدل شاہ، عقیل حسین، عثمان میر، سمین گل، شاہنواز دھانی اور احسان اللہ ملتان سلطانز ٹیم کا حصہ تھے۔