Baaghi TV

Tag: pakistan

  • الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی کے رہنماء قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشنز کے آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے اور ہمیں الیکشن میں دیر نہیں کرنی چاہیئے، الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ جبکہ قمر زمان کائرہ کا نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن میں حلقہ بندیوں کا وقت 4 مہینے کا ہوتا ہے، فیصلے اکثر آخری دن ہی ہوتے ہیں، مجھے سندھ کے اندرونی معاملات کا پتہ نہیں ہوتا، اگر کوئی بندہ اس قابل ہے کہ وہ کام کرسکتا ہے اس کی مدد کرنی چاہیئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی بگڑتی سیکیورٹی کی حالت ہمارے لیے چیلنج ہے، ہماری مرکزی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ کون سے پارٹی کب چھوڑنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے وہ کارمہ نامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، شہداء کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عوام نے ان کے منصوبے کو ناکام بنایا، کچھ لوگ جماعت اندررہ کربھی اختلاف کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ جبکہ ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ مجھے تو شہزاد اکبر کسی میٹنگ میں نظر نہیں آیا، یہ سب بیرون لوگوں کی سازش تھی، ان لوگوں نے ملک کو تباہ برباد کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹرسرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بہت سے چیلنجز ہیں، یہ چیلنجز صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں پوری قوم کے لیے ہیں، پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشن آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے، مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے چیئرمین پی ٹی آئی نےسیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی جانب سے انوار الحق کاکڑ صاحب کا نام نگراں وزیراعظم کے لیے آیا تھا، کاکڑ صاحب ایک بہتر چوائس تھے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار اختر مینگل صاحب ہمارے بزرگ ہیں، سردار اختر مینگل صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں، اختر مینگل صاحب نے ہمارے چیئرمین سینیٹ پر اعتراض نہیں کیا، انہوں نے میرعبدالقدوس پر اعتراض نہیں کیا، میرے لیے تعجب کی بات ہے سردار صاحب چاہتے کیا ہیں۔

  • قومی اسمبلی؛ 5 سالہ کارکردگی پر فافن رپورٹ جاری

    قومی اسمبلی؛ 5 سالہ کارکردگی پر فافن رپورٹ جاری

    فافن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے 15 ویں قومی اسمبلی کو پیچیدہ سیاسی،اقتصادی،عدالتی اور آئینی چیلنجز کا سامنا رہا، قومی اسمبلی نے تمام تر چیلنجز کا بھرپور سامنا کیا، 3سابق اسمبلیوں سے زیادہ قانون سازی کی اور 322 قوانین پاس کئے جبکہ اس اسمبلی نے بہت بڑی تعداد میں نجی بل بھی پاس کئے جن کی تعداد 99 رہی۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے کامیاب تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ وزیراعظم کواقتدار سےالگ کیا، 15 ویں اسمبلی 1977 کے بعد وزیراعظم کی رضاکارانہ تحلیل کی گئی پہلی اسمبلی تھی، پی ڈی ایم حکومت کے 16 ماہ میں مجموعی قانون سازی کا 54 فیصد کیا گیا،پی ٹی آئی کی حکومت کے ساڑھے 3 سال میں 46 فیصد قانون سازی کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے 52 اجلاسوں میں 1310 گھنٹے 47 منٹ کارروائی ہوئی، سابق وزیراعظم نے 9 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی، وزیراعظم کے طور پر شہباز شریف 17 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے، بطور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف27 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے 108 اجلاسوں میں 131 مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی، 5 سال میں کورم نہ ہونے کی وجہ سے 96 مرتبہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا، قومی اسمبلی اجلاسوں میں 74 مرتبہ ایوان کے اندر احتجاج کیا گیا، ان احتجاجوں کا دورانیہ 34 گھنٹے 54 منٹ رہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    رپورٹ کے مطابق اسمبلی نے تعلیم و تحقیق بارے 69 بل پاس کئے تھے، اعلی تعلیم و تحقیق کے 62 اداروں کو چارٹر دینے کے بل پاس کئے گئے جبکہ فیٹف قواعد، کاروباراورمعیشت کےحوالے سے 63 بل پاس کئے گئے اور اعلیٰ و ضلعی عدلیہ کے حوالے سے 33 قانون پاس کئے گئے۔ واضح رہے کہ اسمبلی نے مختلف ایشوز پر 152 قراردادیں منظور کیں، اجلاسوں میں 9775 سوالات اور 423 توجہ دلاؤ نوٹس پوچھے گئے، اجلاس کے آغاز میں قومی ترانہ اور ایک حدیث کو لازم قراردیا، 5 سال میں 7 کوچھوڑ کر تمام ارکان نے کسی نہ کسی طور کارروائی میں حصہ لیا۔

  • گودام پر چھاپہ؛  24ہزار8سومیٹرک ٹن چینی برآمد

    گودام پر چھاپہ؛ 24ہزار8سومیٹرک ٹن چینی برآمد

    ہنزہ ٹو شوگر ملز جھنگ میں کچھ بڑی کمپنیوں اورتاجروں نے تقریباً چوبیس ہزار آٹھ سو میٹرک ٹن چینی رکھی ہوئی تھی۔ جسے حکام نے ایک چھاپہ کے ذریعے پکڑ لیا ہے جبکہ حکام نے ان لوگوں کے خلاف ذخیرہ اندوزی ایکٹ قانون کے تحت مقدمہ بھی درج کرلیا ہے کیونکہ قانون کے مطابق ایسا کرنا بالکل بھی ناجائز ہے.

    ہنزہ ٹو شوگرملز میں چینی کی مقدار چیک کرنے پر پتہ چلا کہ بہت زیادہ چینی فروخت ہو چکی ہے۔ دوسرے ملک کے مشہور برانڈ نے ہنزہ ٹوشوگرملز سے 2,180 میٹرک ٹن چینی خرید کر محفوظ کی تھی۔ کچھ کمپنیوں نے بہت زیادہ چینی خریدی تھی جبکہ ایک کمپنی نے 2،124 ٹن خریدا، دوسری نے 500 ٹن خریدا، دوسری نے 960 ٹن خریدا، اور دوسری نے 1،680 ٹن خریدا۔

    جبکہ بروکر عدیل کے پاس بہت زیادہ چینی تھی جس کا وزن تقریباً 16 ہزار 954 میٹرک ٹن تھا۔ لیکن اب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اور دیگر کمپنیاں اور بروکرز بہت زیادہ چینی رکھ کر اور اس کے لیے بہت زیادہ رقم وصول کر کے کچھ غلط کر رہے ہیں۔ لہذا، انہوں نے پرائس کنٹرول منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ کے نام سے ایک قانون بنایا ہے، اور وہ تحقیقات کرنے جا رہے ہیں اور شاید کمپنیوں اور بروکرز کو سزا دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    جبکہ قانون کے مطابق اگر کوئی چینی ذخیرہ کرتا ہے، تو اسے 3 سال تک جیل میں ڈالا جا سکتا ہے اور جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا جو چینی کی قیمت کے برابر ہے۔ کیس ڈی سی جھنگ نے شروع کیا تھا اور اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ کمشنر نے انہیں بتایا تھا۔

  • حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    جمعیت علماء اسلام ( فضل گروپ ) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل کا نتیجہ ہے۔ جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جے یو آئی ایف حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت جادو ٹونے کے اثر میں تھی اور یہ ڈائری سے ثابت ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت کی خاتون اول چلاتی تھیں.

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں درج ہے ویسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو اس کی حقیقت کا ثبوت ہیں اور 9 مئی کو سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا تھا پی ٹی آئی حکومت میں مخالفین پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ان کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ٹرسٹ کی زمین اور 190 ملین پاؤنڈ کی حقیقت سامنے آنی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں اب معلوم ہونا چاہئے علاوہ ازیں نگران وزیراعظم بارے کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعظم وہی اچھا ہے جوایک بیگ میں آئے اور وہی لے کر جائے یعنی یہاں پر ان کا اشارہ بدعنوانی کی طرف تھا کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ کرے.

  • نگران وزیراعظم کا سینیٹ اور  پارٹی رکنیت سے علیحدگی کا فیصلہ

    نگران وزیراعظم کا سینیٹ اور پارٹی رکنیت سے علیحدگی کا فیصلہ

    نگران وزیراعظم کا سینیٹ اور پارٹی رکنیت سے علیحدگی کا فیصلہ

    نامزد نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سینیٹ کی رکنیت اور بلوچستان عوامی پارٹی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ وہ نگراں وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے سے پہلے یعنی کل تک استعفی دے دیں گے۔ جبکہ نگراں وزیراعظم حلف برداری کی تقریب سے پہلے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بھجوادیں گے۔

    خیال رہے کہ انوار الحق کاکڑ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کریں گے اور نامزد نگراں وزیراعظم مارچ 2024 تک سینیٹ کے رکن ہیں، انوار الحق کاکڑ 2018 میں آزاد حثیت سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم اگلے 2 سے 3 دن میں اپنی کابینہ کو حتمی شکل بھی دے دیں گے، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو نگراں کابینہ میں وزارت خزانہ کا قلمدان جبکہ سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کو وزیر خارجہ بنائے جانے پر غور کیا جارہا ہے دیگر اہم وزارتوں پر نامزدگیوں پر بھی غور کیا جارہا ہے.

    تاہم دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حلف برداری کی تقریب کل سہ پہر3 بجے ایوان صدر میں ہوگی۔ جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نامزد وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے حلف لیں گے۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے جبکہ تقریب میں شرکت کے دعوت نامے جاری کردیے گئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    واضح رہے کہ اس کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی گورنرز کو بھی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے جبکہ حلف برداری کی تقریب میں سابق وفاقی کابینہ کے اراکین کی شرکت بھی متوقع ہے۔
    انوار الحق کاکڑ حلف برداری کے فوری بعد وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نامزد وزیراعظم انوار الحق کاکڑ حلف برداری کے فوری بعد وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے۔ تاہم وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر انوار الحق کاکڑ کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، نگراں وزیراعظم سے وزیراعظم ہاؤس کے عملے کا تعارف کروایا جائے گا۔

  • اسپیکر قومی اسمبلی کی باجوڑ، گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت

    اسپیکر قومی اسمبلی کی باجوڑ، گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا باجوڑ اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی ہے جبکہ اسپیکر کی باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف مقابلے دوران سپاہی محمد شعیب کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسپیکر نے سپاہی محمد شعیب کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں جبکہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی ماند کھڑی ہے، دشمن اپنے مذموم مقاصد کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردی کے خلاف غیر متزلزل جذبے کو متزلزل نہیں کر سکتا.

    اسپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ جش آزادی کے موقع پر ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کے ذریعے ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے چاہتا ہے.لیکن ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شہید سپاہی محمد شعیب کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کرتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    خیال رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گوادر اور باجوڑ میں مختلف کارروائیوں میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دہشت گردوں نے آج صبح 10 بجے فوجی قافلے پر حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز کے مؤثر ردعمل کے نتیجے میں 2 دہشت گرد جہنم واصل جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے باجوڑ چارمنگ میں فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ سپاہی محمد شعیب نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔ ترجمان کے مطابق دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل اور خودکش دھماکوں میں سرگرم رہے۔دہشتگردوں سے خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔ تاہم خیال رہے کہ رہے کہ دو روز قبل بھی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

  • راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ

    راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ

    راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے اور نوٹیفیکشن کے مطابق یہ دفعہ 7 روز کیلئے نافذ کیا گیا ہے. ڈپٹی کمشنر کے مطابق پابندی کا اطلاق 13 اور 14 اگست کی رات تک نافذ العمل رہے گا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ عوام کی پریشانی کے خدشے کے پیش نظرکیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ اس بارے میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر ہارن بجانے یا خریدنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی اس اصول کو توڑتا ہے تو وہ قانون کے شکنجے میں آجائے گا۔ اور اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جاوے گی.

    اسلام آباد میں یوم آزادی کے موقع پر پولیس افسران اور اہلکار سب کی حفاظت کے لیے موجود ہوں گے۔ علاوہ ازیں ان میں سے 1500 سے زیادہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی قسم کے ناگہانی واقعہ سے بچا جاسکے، مزید برآں، 550 افسران ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے۔

    نوٹیفیکشن میں مزید کہا گیا ہے 14 اگست کے دن فیلڈ میں افسران بھی موجود ہونگے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر چیز پرامن ہے اور ٹریفک میں رکاوٹ نہ بنے جبکہ لوگوں کو ایک پہیے پر بائیک چلانے سے روکنے کے لیے خصوصی اشارے لگائے گئے ہیں، اور پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر اضافی پولیس بھی بھیج دی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    خیال رہے کہ پولیس موبائل گشت بھی جاری رہے گا اور سی ٹی ڈی کمانڈوز اور ڈولفن فورس کی خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جبکہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں جو خطرناک اسٹنٹ کے لیے استعمال ہونے والی بائیک تیار کرتے ہیں جبکہ پولیس کسی بھی برے رویے یا قواعد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔ یوم آزادی پر، وہ خاص طور پر قانون شکنی کرنے والوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جاوے گی.

  • بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کا معاملہ التوا کا شکار ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ کل شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔ جبکہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو اسمبلی تحلیل کی سمری کل ( ہفتے کو) رات تک گورنر کو بھیج دیں گے۔ جس کے بعد گورنر کے سائن/دستخط ہوتے یہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔

  • پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔  بیرسٹر سیف

    پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ بیرسٹر سیف

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی ڈائری جھوٹ کا پلندہ ہے، ان الزامات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیئے، آڈیولیکس کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خیال آیا نگراں کابینہ سیاسی ہے، الیکشن کمیشن کو 6 ماہ پہلے یہ خیال آجاتا تو بہتر تھا، نگراں حکومت کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرنا تھا۔

    بیرسٹر سیف کامزید کہنا تھا کہ بالآخر الیکشن کمیشن کل خواب خرگوش سے جاگی ہے، نگراں حکومت کا کام 90 دن میں الیکشن کرانا تھا، نگراں حکومت غیر آئینی طور پر بیٹھی رہی، پالیسی معاملات چلانا نگراں حکومت کا کام نہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے فیصلے واپس لینے چاہئیں، پرویز خٹک کی واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی، پرویزخٹک الیکشن تک نہیں جیت سکیں گے، ہوسکتا ہے پرویزخٹک کے لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ غیرجانبدار کابینہ بنائیں، پرویز خٹک کی خواہش تھی وہ وزیراعلیٰ بنے رہیں، پرویز خٹک 5 سال اسلام آباد میں منہ بناکر بیٹھے رہے، پاکستان میں کسی کے خلاف کرپشن کی فائل بنانا مشکل نہیں۔ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری منظرعام پر آنے کے حوالے سے بیرسٹر سیف نے کہا کہ کیسے ثابت ہوگیا یہ بشریٰ بی بی کی ڈائری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے، ان الزامات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیئے، بشریٰ بی بی کی ڈائری جھوٹ کا پلندہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ آڈیو لیکس کے حوالے سے بیریسٹر سیف کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، سابق وفاقی وزیر نے آڈیو لیکس کی فرانزک کیوں نہیں کرائی، ان معاملات کو اٹھانا صرف بدنام کرنے کی کوشش ہے، یہ اپنی چوری پر پردا ڈالنا چاہتے ہیں۔

  • سندھ اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا

    سندھ اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جانب سے سندھ اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرنے کے بعد سمری لے کر گورنر ہاؤس گئے جہاں ان کا استقبال کامران ٹیسوری نے کیا اور اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ سابق صوبائی وزراء سعیدغنی، ناصرحسین شاہ، شبیربجارانی اور مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے گورنر سندھ کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دی جس پر ان کی جانب سے دستخط کر دیئے گئے جس کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل ہوگئی۔ جبکہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد سندھ کابینہ بھی ختم ہو گئی تاہم یاد رے کہ سندھ اسمبلی چار سال 11 ماہ اور 29 دن رہی۔

    جبکہ ترجمان گورنر کے مطابق گورنر سندھ نے وزیراعلیٰ کی سفارش پر آرٹیکل 112 شق نمبر ایک کے تحت سمری پردستخط کیے۔ مدت مکمل ہونے سے قبل اسمبلی ٹوٹنے پر 3 دن میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے مشاورت کرنی ہے۔علاوہ ازیں آج سندھ اسمبلی کا الوداعی اجلاس بھی ہوا جس کی صدارت اسپیکر آغا سراج درانی نے کی جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    تاہم خیال رہے کہ قومی اسمبلی 9 اگست کو توڑ دی گئی تھی جس کے بعد اب نگران وزیراعظم کیلئے مشاورت کی جا رہی ہے۔