Baaghi TV

Tag: pakistan

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کے نتائج پر مشتمل جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائیڈ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلہ حل ہوگیا، 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ نے رات گئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کتنے ارکان تھے رات کو پنجاب اسمبلی میں؟جس پر علی ظفرنے بتایا کہ 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی نےاعتمادکےووٹ کےنتائج پرمشتمل جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزرااسلم اقبال اور راجہ بشارت نےاعتمادکےووٹ کی قرار داد پیش کی ، بطوراسپیکر اعتماد کے ووٹ کے لئے نیا اجلاس بلاکر کارروائی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو 186 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا، اکثریتی ووٹ لینے پر چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرارہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا، گورنر پنجاب کا اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اسمبلی کے معاملات میں گورنر مداخلت نہیں کرسکتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 19 دسمبر کے گورنر کے حکم کو پورا کر دیا ہے، اس پر نہیں جاتا کہ وہ حکم درست تھا یا نہیں۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہوتا، ٹی وی میں رات 8 سے 9 بجے میں بتا دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ طریقہ بہت اسٹرینج ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ لے لیتے ہیں تو گراؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ نے اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا، پھر آپ نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے ہی چاہتے تھے اسمبلی کا مسئلہ وہیں پر حل ہو، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اب دوسرے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں، پہلے حکم پر نہیں جاتے، دوسرے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے تین سوال ہیں، پہلا گورنر کی تسلی، دوسرا ووٹنگ کے لئے مناسب وقت اور تیسرا سوال کیا رولز 22 کے تحت سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔

  • پیسے نہیں مانگ رہا، جمعہ کو مزید آڈیو جاری کروں گا۔ ہیکر کا پیغام

    پیسے نہیں مانگ رہا، جمعہ کو مزید آڈیو جاری کروں گا۔ ہیکر کا پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاوس کی لیکڈ آڈیوز کے ہر طرف چرچے ہیں وزیراعظم ہاوس کی ایک دو نہیں بلکہ دس کے قریب آڈیو لیک ہو چکی ہیں ان آڈیوز میں وزیراعظم شہباز شریف ۔ن لیگی رہنما مریم نواز ۔ رانا ثناء اللہ۔ خواجہ آصف سمیت دیگر کی گفتگو ہے

    وزیراعظم ہاؤس کی لیکڈ آڈیو ابھی تک جتنی بھی سامنے آئی ہیں ان میں اسحاق ڈار کی واپسی۔ مفتاح اسماعیل کی ناکامی۔ صحت کارڈ کے لیے فنڈ ختم کرنے سمیت دیگر امور پر بات کی گئی ہے۔ آڈیو سامنے آنے پر سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تو حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ تحقیقات کروائیں گے بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کروانے کا اعلان کیا تو تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا کہ اب وزیراعظم نے آڈیوز کو تسلیم کر لیا تحقیقات کی بجائے کاروائی ہونی چاہئے

    وزیراعظم ہاوس کی آڈیو لیکڈ ہونے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مسلسل تیسرا روز آڈیو لیکس ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ تحریک انصاف مسلسل تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے تو پی ڈی ایم کے سربراہ اور حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان بھی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں

    آڈیوز ایسے وقت میں لیک کی گئیں جب وزیراعظم شہباز شریف پاکستان سے باہر تھے شہباز شریف نے واپس پہنچ کر تحقیقات کا اعلان کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اخلاس بھی دوبارہ طلب کیا گیا ہے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ وفاقی وزرا سے بھی تحقیقات ہوں گی

    وزیراعظم ہاﺅس میں ہونے والی گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہونے کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ اب اگلی آڈیو مریم نواز کی آئے گی جس کے بعد مریم نواز کی ایک آڈیو آ گئی جس میں مریم نواز وزیراعظم سے اسحاق ڈار کو واپس لانے کے حوالے سے بات کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کیسے جانتے تھے کہ اگلی آڈیو کونسی ہو گی۔

    وزیراعظم ہاوس کی آڈیو لیک ہونے کے بعد ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی ہیکرز کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام لکھا گیا کہ میں پیسے نہیں مانگ رہا ۔ ٹویٹر پر انڈی شیل نامی ایک آئی ڈی سے ٹویٹ کی گئی ہیں یہ آئی ڈی مبینہ طور پر ہیکر کے زیر استعمال ہے اور اسی سے پیغام جاری کیا گیا ہے۔ آئی ڈی مین لکھا گیا ہے کہ یہ پیج 30 ستمبر کو ختم کر دیا جائے گا ۔ مبینہ ہیکر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام آڈیوز 30 ستمبر جمعہ کے روز جاری کر دی جائیں گی، اپنے کیلنڈر پر تاریخ کا نشان لگا لیں

    ہیکر کی جانب سے جمعہ کو آڈیو ریلیز کرنے کے پیغام کے بعد غداری کے مقدمہ میں جیل سے حال ہی میں رہا ہونیوالے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ لگتا یے آنیوالا جمعہ کسی پر بھاری ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

  • وزیر خزانہ نے اے آر وائی کی آئی ایم ایف بارے خبر کو مکمل جھوٹ قرار دے دیا

    وزیر خزانہ نے اے آر وائی کی آئی ایم ایف بارے خبر کو مکمل جھوٹ قرار دے دیا

    پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی نے خبر چلائی جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ایک بیان منسوب کرکے کہا گیا کہ: "آئی ایم ایف سے اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔” جس پر وزیر خزانہ مفتاح سماعیل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا: یہ کیسا مکمل جھوٹ ہے اور شرم کی بات ہے کہ اے آر وائی اس طرح کی چیزیں بناتا ہے۔

    برمنگھم میں مقیم ایک پاکستانی محمد نواز نے ردعمل دیتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا کا حوالہ دیکر بتایا: ‏‎پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان آئندہ 3 ماہ میں تیل کی قیمت 28 روپے فی لیٹر اور بجلی 6 روپے فی یونٹ مہنگی کرے گا۔

    پاکستان کی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے ایک انٹرویو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا: پاکستان اور آئی ایم ایف مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان کے مطابق اس پروگرام کی بحالی کے سلسلے میں جلد پیش رفت ہونے والی ہے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا : آئی ایم ایف اپنی شرائط میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں اور پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے باوجود بھی آئی ایم ایف نے اب تک معاہدہ جاری رکھنے پر دستخط نہیں کیے.

  • ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کیلئے فیصل آباد میں Diabetes سنٹر اسلام آباد کی برانچ قائم کی جائے گی

    ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کیلئے فیصل آباد میں Diabetes سنٹر اسلام آباد کی برانچ قائم کی جائے گی

    فیصل آباد (عثمان صادق) ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کیلئے فیصل آباد میں (Diabetes ) سنٹر اسلام آباد کی برانچ قائم کی جائے گی جس میں تشخیص سے لے کر علاج تک کی جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ Diabetes سنٹر اسلام آباد کے ایک وفد نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر نائب صدر عمران محمود شیخ سے ملاقات کی اور انھیں اپنی خدمات، کارکردگی اور توسیعی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ عمران محمود شیخ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ صدر عاطف منیر شیخ کے ہمراہ بہت جلد اسلام آباد کا دورہ کریں گے تاہم سنٹر کے ماہرین کو ذیابیطس کے موذی مرض پر قابو پانے کیلئے فیصل آباد چیمبر میں آگاہی سیشن کے علاوہ فری میڈیکل کیمپ بھی لگانا چاہیے تاکہ لوگوں کو اس سنٹر کی خدمات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں ضروری معلومات مہیا کرنے کے علاوہ بزنس کمیونٹی کو عطیات دینے کی بھی ترغیب دی جا سکے۔ انہوں نے فیصل آباد میں لاہور کی طرز پر Diabetes سنٹر کے قیام پر زور دیا تاکہ یہاں کے لوگوں کو بھی اس موذی بیماری کے علاج کی جدید سہولتیں مہیا کی جا سکیں۔ انہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کی خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہاں کے لوگ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور وہ یقینا اس سنٹر کے قیام میں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے وفد کے ممبران سے کہا کہ وہ چیمبر کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر حبیب اسلم گابا سے رابطہ رکھیں تاکہ فیصل آباد میں تقریب کے انتظامات کو آئندہ ماہ تک حتمی شکل دی جا سکے۔ اس سے قبل Diabetes سنٹر اسلام آباد کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر خضر پرویزنے اس ادارہ کی کارکردگی، خدمات اور مستقبل کے توسیعی منصوبوں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ذیابیطس کا مرض کووڈ سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد سنٹر میں عالمی معیار کی جدید ترین سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں جبکہ 64فیصد مریضوں کا زکوۃ سے علاج کیا جاتا ہے جس کو 70فیصد تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے سنٹر کے شعبہ”ڈایا بیٹک فٹ“ کا خاص طور پر ذکر کیا اور بتایا کہ شوگر سے پاؤں کے السر اور اس سے gangrene پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے پاؤں کاٹنے تک کی نوبت آجاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈایا بیٹک فٹ کی بروقت آگاہی اور علاج سے اب تک ڈھائی ہزار مریضوں کے پاؤں کٹنے سے بچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اسلام آباد سنٹر نے مظفر آباد کے سی ایم ایچ میں بھی یہ سہولت مہیا کر دی ہے جبکہ لاہور اور ساہیوال میں Diabetes سنٹر کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرز پر فیصل آباد میں بھی جدید شاخ قائم کی جا سکتی ہے، جس کیلئے مقامی مخیر لوگوں کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ بہت جلد اس بارے میں تفصیلات چیمبر سے شیئر کریں گے جبکہ فیصل آباد چیمبر میں آگاہی سیشن کے علاوہ فری کیمپ بھی لگایا جائے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حبیب اسلم گابا اور چیف کنسلٹنٹ ٹی دی سی عباس بلگرامی بھی موجود تھے۔

  • قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    فیصل آباد (عثمان صادق) قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت اس شعبہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ بات کامرس اور سرمایہ کاری بارے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے ایس ایم ای بارے جامع پالیسی کی تشکیل کے سلسلہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صنعت و پیداوار بارے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کے علاوہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے مختلف چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ اس شعبہ کو ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ ملکی برآمدات میں نوے فیصد حصہ ایس ایم ای سیکٹر کا ہے مگر محدود وسائل سے کام کرنے والے اِن اداروں کا سرمایہ حکومتی ٹیکسوں کے چکر میں پھنس جانے سے انھیں مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس شعبہ کیلئے زیر و ریٹنگ کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں پہلے ٹیکس دینے اور پھر اس کی واپسی کیلئے دفتروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایس ایم ای شعبہ کی مالی حیثیت کا بھی از سر نو تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور یہی شعبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس شعبہ کے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومت اِن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    فیصل آباد (عثمان صادق) 160ملین یورو کے ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے ایسے قابل عمل اور منافع بخش منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ بات ورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان کے ڈائریکٹر جنگلی حیات ڈاکٹر طاہر رشید نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ڈچ فنڈ کے بارے میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے دنیا کو 4.2کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں امیر ملکوں نے 1.7کھرب ڈالر دیئے ہیں جبکہ تیسری دنیا کے ملک اپنی اقتصادی مجبوریوں کی وجہ سے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کے پاس اپنے عوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وسائل نہیں وہ ماحول کے تحفظ کیلئے بھاری بھر کم اخراجات کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے 160ملین یورو کا ڈچ فنڈ برائے ماحول و ترقی قائم کیا گیا ہے جو ایسے ماحول دوست اور منافع بخش منصوبوں کیلئے سرمایہ مہیا کرے گا جولوگوں کیلئے روزگار بھی مہیا کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی سٹڈی کیلئے 60ہزار یورو کی گرانٹ دی جائے گی جبکہ پائلٹ پراجیکٹ کیلئے مزید 3لاکھ 50ہزار یوروکی گرانٹ دی جا سکتی ہے۔ اِس کے بعداِس منصوبے کیلئے مارکیٹ کے مطابق قرض بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں میں اِن منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ اَب انڈیا اور انڈونیشیا اَب اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چاول کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے 17شہروں میں اس فنڈ کے ذریعے چاول کی فصل کی باقیات کو انرجی اور بجلی بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح جہاں ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے بچاجا رہا ہے وہاں متعلقہ کسانوں کو معقول رقم بھی مل رہی ہے۔ انہوں نے انڈس ڈیلٹا میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان کیلئے 7ملین یورو کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں یا منظوری کے قریب ہیں۔ انہوں نے کھارے پانی کے منافع بخش استعمال کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ اس پر 14.9ملین یورو کی گرانٹ ملے گی جبکہ شوگر ملوں کے بیگاس کو بھی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر منیجر فریش واٹر پروگرام سہیل علی نقوی نے بتایا کہ آئی ایل او کے تعاون سے ٹیکسٹائل اور لیدر کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ صنعتوں کے گندے پانی کو ٹریٹ کر کے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ایگزیکٹو ممبر ثناء اللہ نیازی نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ محمد فاضل نے مہمانوں کا شکریہ اد اکیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جبکہ ڈاکٹر طاہر رشید نے محمد فاضل کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شیلڈ دی جبکہ ثناء اللہ نیازی کو بھی اجرک پہنائی گئی۔

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔