Baaghi TV

Tag: pakistani drama

  • پی ٹی وی کو اسکے اپنے نے برباد کیا ہے عرفان کھوسٹ

    پی ٹی وی کو اسکے اپنے نے برباد کیا ہے عرفان کھوسٹ

    سینئر اداکار عرفان کھوسٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ ہم نے پی ٹی وی کا وہ دور دیکھا ہے جب ڈرامہ لگنا ہوتا تھا تو سڑکیں اور شاہراہیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں. اس کے بعد ایک ایسا وقت بھی آیا کہ پی ٹی وی نے ڈرامے بنانا ہی بند کر دئیے. انہوں نے کہا کہ جس طرح فلم انڈسٹری کو فلم والوں نے تباہ کیا اسی طرح سے پی ٹی وی کو اسکے اپنوں نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ آج وہاں ایک ڈرامہ نہیں بن رہا. عرفان کھوسٹ نے مزید کہا کہ آج یہ عالم ہے کہ کوئی بھی پی ٹی وی کے لئے اپنا کام چھوڑ کر آنے کو تیار نہیں ہو گا، کیونکہ اب حالات ہی ایسے بن گئے ہیں کہ کوئی پی ٹی وی میں آکر کام کرنے کو تیار نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ” ابھی بھی وقت ہے پی ٹی وی کو بہتر کر لیا جائے اور اسکو اسکے اپنے ہی بچائیں” ، یہاں بھی رونقیں بحال ہو سکتی ہیں. انہوں نے کہا کہ ایسے ایسے شاہکار ڈرامے پی ٹی وی نے بنائے جو کہ آج بھی اپی مثال آپ ہیں یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے اگر چاہیں تو.

     

    اپنی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر نہ لائیں ہانیہ عامر کی مداحوں کو نصیحت

    عمرہ کرنے اپنے پیسوں سے آئے ہو یا کسی نے دئیے؟ فہد مصطفی سے ایسا …

    ماہرہ خان کی شادی کی افواہیں

  • ڈرامہ سیریل بے بی باجی اختتام پذیر

    ڈرامہ سیریل بے بی باجی اختتام پذیر

    معروف ڈرامہ سیریل بے بی اختتام پذیر ہو گیا ہے، آج اس کی آخری قسط نشر کی گئی. ڈرامے کی آخری قسط میں دکھایا گیا ہے کہ والدین سے ان کی زندگی میں پیار کریں ، ان کو عزت دیں ان کے ساتھ رہیں ان کی ضرورتوں کا خیال کریں . ان کے چلے جانے کے بعد ان کی قبر پر جا کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. ڈرامے کی کہانی جوائنٹ فیملی کے گرد گھومتی ہے ، ایک ماں کے چار بیٹے ہیں تین بیٹوں کی شادی کرنے کے بعد بے بی باجی جو کہ گھر کی سربراہ ہے پریشان رہنے لگتی ہے ، بہت کوشش کرتی ہے لیکن گھر کو نہیں بچا پاتی ، بہوئیں اپنے شوہروں‌کو لیکر الگ ہوجاتی ہیں.

    ؛؛بڑی بہو جویریا عباسی سب کی لڑائیاں جھگڑے کرتی اور کرواتی ہے اسی کی وجہ سے سب بھائی الگ ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں؛؛ ، جب سب بیٹے الگ ہوتے ہیں تو ماں کو کوئی بھی بیٹا بیویوں کی وجہ سے رکھنے کےلئے تیار نہیں ہوتا.، آخر کار بے بی باجی کو اولڈ ہائوس جانا پڑتا ہے، اس کہانی کو بہت ہی اچھے طریقے سے لکھا گیا ہے اور ہر کردار بہت ہی خوبی کے ساتھ نبھایا گیا ہے. یہی وجہ ہے کہ شائقین نے بے بی باجی کو بہت سراہا .

    خوشامدیوں کو زندگی سے نکال باہر کریں مشی خان کا پیغام

    ماضی کی اداکارہ ممتاز کی کینڈا سے وطن واپسی

    عدنان صدیقی کا بھارتیوں سے گلہ

  • جسمانی طور پر معذور ہونے والی لڑکیوں کے مسائل کو کہانیوں کی صورت میں دکھانے کی ضرورت ہے حبا بخاری

    جسمانی طور پر معذور ہونے والی لڑکیوں کے مسائل کو کہانیوں کی صورت میں دکھانے کی ضرورت ہے حبا بخاری

    اداکارہ حبا بخاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ خواتین کے بہت سارے مسائل ہیں جن پر بات ہی نہیں کی جاتی نہ ہی ان پر ڈرامے بنائے جاتے ہیں، ہمارے معاشرے میں بہت ساری ایسی لڑکیاں ہیں جو جسمانی طور پر معذور ہوجاتی ہیں، معذور ہونے کے بعد ان کے بہت سارے مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، ان کوئی رشتہ نہیں آتا ان کو کوئی اپنانے کو تیار نہیں ہوتا ، اگرکوئی اپنائے بھی تو صورتحال یہ ہوتی ہے کہ اس لڑکی کو اپنی ہی زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے.

    ایسے دیگر موضوعات سے ہماری سوسائٹی بھری پڑی ہے ، ان پر لکھا جانا چاہیے ، مسائل ڈسکس کئے جانے چاہیے. ضروری نہیں ہر ڈرامہ روایتی کہانی ہو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ. انہوں نے کہاکہ ”میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے کردار ایسے ہوں کہ جو دوسروں کو موٹیویشن دیں”، لیکن ایسے کردار کم کم لکھے جاتے ہیں، لہذا ہمیں‌جو چوائس دی جاتی ہے اسی میں رہتے ہوئے ہمیں بھی کرداروں اور کہانیوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے.یاد رہے کہ حبا بخاری وہ اداکارہ ہیں‌جنہوں نے نہایت کم عرصے میں‌اپنا نام اور مقام بنایا، انہوں نے اریز احمد جو کہ ان کا ساتھی اداکار ہے کے ساتھ شادی کی.

    میرا اور فیروز خان کا موازنہ سمجھ سے باہر ہے ہارون کادوانی

    خواتین کے لئے بہترین کردار کس نے لکھے ؟ حنا خواجہ بیات نے بتا دیا

    کراچی میں بے بی لیشس کا پریمئیر

  • اشنا شاہ برس پڑی ایک سوشل میڈیا صارف پر لیکن کیوں؟‌

    اشنا شاہ برس پڑی ایک سوشل میڈیا صارف پر لیکن کیوں؟‌

    اداکارہ اشنا شاہ جو کہ سوشل میڈیا پر انتہائی متحرک ہیں، وہ اکثر اپنی پوسٹوں پر کمنٹس کرنے والوں کو سنا دیتی ہیں کھری کھری کھری ، ایسا حال ہی میں‌اس وقت ہوا جب ٹوئٹر پر حسن ہے سہانا‘ کے نام سے ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ بین الاقوامی ڈراموں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری منفرد کہانیوں کے حوالے سے کتنی محدود ہے، جب تک پاکستانی ڈراموں میں نئی کہانیاں متعارف نہیں کروائی جاتیں تب تک میں پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھوں گی۔اشنا شاہ اس پر بھڑک اٹھیں اور اسکو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو اندازہ ہے کہ ہم کتنی مشکلات میں کام کرتے ہیں اور ہماے پاس بجٹ کتنا محدود ہوتا ہے. پروڈکشن اور پیمرا کی اجارہ داری ہے،

    پروڈیوسرز روایتی کہانیوں سے ہٹ کر کہانیوں پر پیسہ خرچ کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے کیونکہ جب کبھی وہ کسی ایسے پراجیکٹس پر پیسے لگاتے ہیں جو روایت سے ہٹ کر ہوتے ہیں تو ناظرین اسے دیکھتے ہی نہیں یا پھر وہ پابندی کی نظر ہو جاتے ہیں۔اشنا شاہ نے کہا کہ روٹین سے ہٹ کر ہونے والے کام کو پذیرائی جب شائقین خود نہیں دیتے تو ہم سے کیا گلہ.

  • پری زاد اب عربی  زبان میں

    پری زاد اب عربی زبان میں

    ہاشم ندیم کا تحریر کردہ ڈرامہ سیریل پری زاد اب عربی زبان میں سعودی عرب کے لوگوں کے لئے پیش کیا جائیگا. اس ڈرامے کی مقبولیت پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ان ممالک میں بھی ہے جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے. پری زاد ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب یہ ڈرامہ سعودی عرب میں عربی زبان میں پیش کیا جائیگا. اس ڈرامے کی کہانی ایک غریب اور سانولی رنگت کے سادہ مزاج لیکن سچے انسان کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار اداکار احمد علی اکبر نے نبھایا تھا۔ شہزاد کشمیری کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامہ سیریل کو

    اس کی کہانی اور کرداروں کو قدرے حقیقی انداز میں دکھائے جانے کی وجہ سے کافی سراہا گیا تھا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ سعودی عرب میں دکھایا جانے والے اس ڈرامے کا نام پری زاد نہیں ہو گا بلکہ قریبا ہو گا. یاد رہے کہ پری زاد میں احمد علی اکبر کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا تھا، احمد علی اکبر نے اس کردار کے ساتھ بے حد انصاف کیا اس میں حقیقت کے رنگ بھر دئیے آج بھی اس ڈرامے کو یاد کیا جاتا ہے ، اور احمد علی اکبر کے کیرئیر کی جب بھی بات ہوگی سب سے پہلے ان کے اس ڈرامے کا نام لیا جائیگا.

  • جسکی ریٹنگ آرہی ہو ضروری نہیں وہ کام معیاری بھی ہے؟‌

    جسکی ریٹنگ آرہی ہو ضروری نہیں وہ کام معیاری بھی ہے؟‌

    اداکارہ کبری خان جنہیں ان کی اداکاری کی وجہ سے بے ھد سراہا جاتا ہے ، انہوں نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں آج کل بہت سارے پراجیکٹس پر کام کررہی ہوں. میرے پاس بہت سارے پراجیکٹس ایسے ہیں جو کہ بہت ہی دلچپسپ ہیں. کبری خان نے کہا کہ آج کل ریٹنگ کے چکر کی وجہ سے بہت سارے مسائل ہیں ، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جن پراجیکٹس کی کی ریٹنگ آرہی ہو اس سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس سے جڑے اداکار بہت زیادہ ہٹ ہیں اور انکی عوام میں بہت زیادہ پذیرائی ہے ، حالانکہ ریٹنگ اور معیار دو الگ الگ چیزیں ہیں اس کے فرق کو

    سمجھنے کی ضرورت ہے . کبری خان نے کہا کہ تنقید ہونی چاہیے میں یہ نہیں کہتی کہ نہیں ہونی چاہیے لیکن مثبت تنقید ہو تو انسان کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور وہ اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اگر مثبت کی بجائے منفی انداز میں‌تنقید کی جائے تو یقینا اس سے اگلے انسان کی زہنی صحت پر اثر پڑتا ہے. کبری خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسا کام کروں‌ جسکو عوام قبول کرے اور پسند کرے.

  • پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    سینئر اداکارہ ثانیہ سعید جو کہ حقیقت کے قریب اداکاری کرنے کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، انہوں نے آج تک جتنے بھی کردار کئے ہیں ان میں انہوں نے کمال اداکاری کرکے شائقین کا دل موہ لیا ہے. ثانیہ سعید اپنی ذات میں اکیڈمی کی حیثیت رکھتی ہیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامے کا دنیا بھر میں مقابلہ نہ کل کیا جا سکتا تھا نہ آج کیا جا سکتا ہے. یہاں تک کہ انڈیا بھی ہمارے ڈراموں کا مقابلہ نہیں کر سکتا.انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈراموں نے آج تک اپنے کلچر اور روایات کو نہیں چھوڑا ، ہماری سٹوری لائن اتنی اچھی ہوتی ہے کہ ہر گزرتی

    قسط کے ساتھ اسکی دلچپسی بڑھتی جا تی ہے. ثانیہ سعید نے یہ بھی کہا کہ نئے آرٹسٹ بہت ہی باصلاحیت ہیں ان کی اداکاری رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے. میں تو حیران ہوں کہ نئے آرٹسٹ کیسے بغیر ٹریننگ کے اتنی اچھی اداکاری کر لیتے ہیں. میں تو نئے فنکاروں کے کام سے بہت متاثر ہوں ، یہاں تک کہ آج کل کے رائٹرز بھی بہت اچھا لکھ رہے ہیں. آج بھی ہمارا ڈرامہ پوری دنیا میں شوق سے دیکھا جاتا ہےآخر کوئی وجہ ہے تو ایسا ہے.

  • ہمارے گھر میں ایک بھی کام کرنے والا نہیں ہے آغا علی

    ہمارے گھر میں ایک بھی کام کرنے والا نہیں ہے آغا علی

    اداکار آغا علی اورحنا الطاف شوبز انڈسٹری کی ایک خوبصورت جوڑی ہے. دونوں نے محبت کی شادی کی اور ایک دوسرے کے ساتھ کافی خوش دکھائی دیتے ہیں. آغا علی اور حنا الطاف نے ندا یاسر کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ہمارے گھر میں نہ کپڑے دھونے والا کوئی ہے نہ کپڑے استری کرنے ، برتن دھونے کھانا بنانے، صفائی کرنے کے لئے کوئی نہیں ہے. ہم دونوں اپنے گھر میں اپنے سارے کام خود کرتے ہیں. آغا علی نے کہا کہ میں سحر و افطار کی تیاری ساری خود کرتا ہوں، حنا گھر کی صفائیاں کرتی ہے، ہم دونوں کی کوشش ہوتی ہےکہ اپنے گھر کے سارے کام خود کریں اور گھر کے سارے کام خود کرکے جو سکون ملتا ہے اسکو لفظوں میں بیان کرنا

    مشکل ہے. آغا علی نے کہا کہ مجھے بہت اچھی چیزیں بنانی آتی ہیں اور حنا کو میرے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں‌بہت پسند ہیں، انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ سحر و افطار کے بعد ہم اپنا کچن صاف کر لیتے ہیں ، باتھ روم کلین کر لیتے ہیںجو جو کام کر سکتے ہوں کر لیتے ہیں. یاد رہے کہ حنا سے پہلے آغا علی سارا خان کے دیوانے تھے لیکن ان کے ساتھ ان کی دوستی شادی تک نہ پہنچ سکی.

  • ثروت گیلانی کو کس سے اور کیا ہے گلہ ؟‌

    ثروت گیلانی کو کس سے اور کیا ہے گلہ ؟‌

    منجھی ہوئی اداکارہ ثروت گیلانی جو کہ ایک بڑی فین فالونگ رکھتی ہیں حقیقت کے قریب اداکاری ان کا خاصا ہے. ثروت جیسا کہ بہت سارے موضوعات پر بات کرتی رہتی ہیں ھال ہی میں انہوں نے زہنی صحت کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اس پر بات کی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں ہر موضوع پر ڈرامہ بنتا ہے لیکن ذہنی صحت کے جیسے مسائل کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ میڈیا اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اسکا کردار اس معاملے میں زیرو نظر آرہا ہے. ثروت گیلانی نے کہا کہ آج کل کا ماحول گھٹا ہوا ہے ، سوسائٹی میں ڈپریشن کا

    مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ، ایسے میں زہنی صحت بھی متاثر ہورہی ہے ، یہی وقت ہے کہ ہم میڈیا کے زریعے ایسے مسائل کو اجاگر کریں ان پر بات کریں ، چونکہ ہم فنکار ہیں لہذا ہماری بات لوگ زیادہ سنتے ہیں اسلئےہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے موضوعات پر اپنی اداکاری اور کہانیوں کے زریعے بات چیت کریں اور میڈیا ہمارا ساتھ دے. ثروت گیلانی نے کہا کہ میں رائٹر سے بھی کہوں گی کہ وہ ایسے مسائل پر لکھیں اور چینلز مالکان ان کو ہائی لائٹ کریں .

  • محمود اسلم کی جنت سے لی گئی پہلی تصویر

    محمود اسلم کی جنت سے لی گئی پہلی تصویر

    سینئر اداکار محمود اسلم جن کے بارے میں گزشتہ دنوں خبر اڑائی گئی تھی کہ انتقال کر گئے ہیں ، محمود اسلم تک جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں زندہ سلامت ہوں شرم آنی چاہیے میرے انتقال کی جھوٹی خبر اڑانے والوں کو. لگتا ہے اس خبر کے بعد ابھی تک محمود اسلم کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے اپنی ایک تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر لگا کر اسکا کیپشن لکھا کہ جنت سے لی گئی تصویر، کیونکہ میرے پاکستانیوں نے مجھے مار دیا ہے. محمود اسلم نے جو تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی وہ انہوں نے نمک کی کان

    کھیوڑہ میں‌ لی . واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی آرٹسٹ کے انتقال کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر اڑائی گئی ہے اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے، جیسے دلیپ کمار ، گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی و دیگر نام قابل زکر ہیں. عطااللہ کے انتقال کی خبر تومتعدد مرتبہ اڑائی گئی . اسی طرح‌ سے دلیپ کمار کے انتقال کی خبر بھی کئی بار سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی. لہذا فنکاروں کے انتقال کی خبر جان بوجھ کر پلاننگ کے تحت اڑائی جاتی ہے تاکہ ایسا کرنے والوں کو ہٹس اور لائکس مل سکیں.