Baaghi TV

Tag: pakistani drama

  • اچھے سکرپٹ کے حصول کے لئے جنگ لڑنی پڑتی ہے سجل علی

    اچھے سکرپٹ کے حصول کے لئے جنگ لڑنی پڑتی ہے سجل علی

    ورسٹائل اداکارہ سجل علی نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان ٹی وی ایک ایسا میڈیم ہے جو لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کر سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں جو ڈرامے بن رہے ہیں ان کی کہانیاں ایک جیسی ہیں ، یہاں تک کہ ڈراموں میں ہراسمنٹ بھی دکھائی جا رہی ہے اور بعد میں ہراسر کے ساتھ ہی لڑکی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔ میں ایسی کہانیوں کو سپورٹ نہیں کرتی۔ ایک اچھا سکرپٹ پانے کےلئے بہت سارے سکرپٹس کو نہ کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہ کہا کہ میرے پاس بہت سارے ایسے سکرپٹس آتے ہیں جن کو پڑھتے ہی نہ کر دیتی ہوں بہت سارے

    لوگ برا بھی مناتے ہیں کہ ان کے پراجیکٹ کے لئے منع کیا۔ لیکن میں ہمیشہ اچھے سکرپٹ کی متلاشی رہتی ہوں۔ سجل علی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آڈینز سمارٹ نہیں ہے لیکن آڈینز سمارٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ زہین بھی ہے۔ ہمیں ایسے ڈرامے بنانے چاہیں جو سبق آموز ہوں ۔ ہمارے ہاں بہترین ڈرامہ بنتا ہے لیکن افئیرز اور سازشوں والی کہانیوں سے اب باہر نکلنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ سجل علی پاکستان کی وہ فنکارہ ہیں جنہیں انٹرنیشنل لیول پر ان کے کام کی وجہ سے خاصی پذیرائی ملتی ہے۔

  • وہ سب کرنے کی کوشش کی جس سے شوہر خوش رہے بشری انصاری

    وہ سب کرنے کی کوشش کی جس سے شوہر خوش رہے بشری انصاری

    سینئراداکارہ بشری انصاری کے انٹرویو کا ایک کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ ان کی شادی کیسے ہوئی. بشری انصاری اس انٹرویو میں کہہ رہی ہیں کہ میری شادی میرے شوہر سے ملاقات کے محض تین ماہ میں ہو گئی اور میں نے وہ سب کرنے کی کوشش کی جس سے وہ خوش ہوں . میں نے وہ تمام شوق ختم کر دئیے جو لڑکیوں‌ کے ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ میرے شوہر نے کہا کہ کس دوست کو ملنا ہے کس کو نہیں‌ملنا میں نے ان کی خوشی کی خاطر یہ بھی کیا، مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں شوہر کی ہر بات مانوں گی تو وہ بہت خوش ہو گا اور وہ خوش ہو گا

    تو میں خوش ہوں گی. انہوں نے کہا کہ میں کوئی اپنی تعریفیں نہیں‌کررہی ، لیکن ہمارے دور میں لڑکیاں ایسا ہی سوچتی تھیں کہ شوہر کو خوش کرنا ہے چاہیے کچھ بھی ہوجائے. لیکن مجھے نہیں‌پتہ تھا کہ رشتے ایسے نہیں چلتے. اور نہ ہی شوہر کی ہر بات ماننے سے رشتے پکے ہوتے ہیں. یاد رہے کہ بشری انصاری کی طلاق شادی کے پینتیس سال کے بعد ہوئی اس کے بعد انہوں نے اپنے سے کم عمر ڈائریکٹر کے ساتھ شادی کی.

  • محسن عباس حیدر کس بات پر بھڑک جاتے ہیں ؟‌

    محسن عباس حیدر کس بات پر بھڑک جاتے ہیں ؟‌

    اداکار محسن عباس حیدر جو کہ کسی نہ کسی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتے ہیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میرے ساتھ جب کوئی فرینک ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس وقت مجھے بہت غصہ آتا ہے. اگر میں‌کہیں جا رہا ہوں گا اور کوئی مجھے کہے گا کہ یار ایک تصویر تو دیدو تو میں اسکو بولوں گا کہ تصویر تو میں تم کو دے دیتا ہوں لیکن میں تمہارا یار نہیں ہوں. انہوں نے مزید کہا کہ میں سب سے آپ جناب کرکے بات کرتا ہوں اور یہی توقع کرتا ہوں کہ مجھے بھی آپ کرکے بات کی جائے، میرے پرانے دوست آج بھی مجھ سے آپ جناب

    کر کے بات کرتے ہیں اور میں بھی ان سے ایسے ہی بات کرتا ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اگر کسی سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ کیسے ہو اور وہ فرینک ہو کر کہے تو کیسا ہے تو بتا تو میں یقینا ناراضگی کا اظہار کروں گا. محسن عباس حیدر نے کہا کہ میری ایک پرستار ہے جس کا تعلق کوئٹہ سے ہے وہ کئی سال سے مجھے میرے جم میں میری سالگرہ اور عید کے موقع پر کپڑے جوتے پرفیومز بھیجتی ہے. انہوں نے کہا کہ پرستاروں کو پبلک فیگرز سے کبھی بھی توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہیے.

  • بشری انصاری سکرین پر کس وقت اور کیوں نروس ہوتی ہیں؟‌

    بشری انصاری سکرین پر کس وقت اور کیوں نروس ہوتی ہیں؟‌

    سینئراداکارہ بشری انصاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں‌ ویسے تو بہت ہی بااعتماد ہوں ساری دنیا جانتی ہے لیکن میں نروس ہو جاتی ہوں اس وقت جب مجھے کسی لڑکی یا لڑکے کو تھپڑ مارنے کے لئے کہا جاتا ہے. میں سکرین پر میکال ذوالفقار اور احسن خان جیسے ہیروز کو بھی تھپٹر مار چکی ہوں لیکن میں بہت سخت مزاج نہیں ہوں لیکن کبھی کبھی کرداروں کے لئے سخت مزاج بننا پڑتا ہے. میں نے بہت بار ڈائریکٹرز سے کہا ہے کہ تھپڑ مارنے والے سین کو تبدیل کریں لیکن ان کا ماننا ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا. میں چونکہ بطور ایکٹر کام کررہی

    ہوتی ہوں لہٌذا میں خاموش ہوجاتی ہوں کیونکہ ڈائریکٹر کی بات تو ماننی پڑتی ہے. یاد رہے کہ بشری انصاری نے بارہا اپنے انٹرویوز میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک ڈرامے میں اپنی بہو کو تھپڑ مارا تو ان کی بیٹی نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ آپ مار پیٹ کو پرموٹ کررہی ہیں بیٹی نےجب ایسی بات کہی تو بشری انصاری کا کہنا ہے کہ میں بہت شرمندہ ہوئی. بشری انصاری ایک منجھی ہوئی اداکارہ ہیں لیکن آج کل وہ ڈراموں میں کم کم نظر آتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مجھے کردار میری پسند کے آفر نہیں ہو رہے.

  • آئمن خان شوبز میں واپسی کب کریں گی اداکارہ نے بتا دیا

    آئمن خان شوبز میں واپسی کب کریں گی اداکارہ نے بتا دیا

    چھوٹی سکرین کی نہایت خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ آئمن خان اور منیب بٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کی ہیں کچھ اہم باتیں۔ آئمن خان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ شادی کے بعد مسلسل گھر میں بیٹھی ہیں تو کیسا محسوس کررہی ہیں اسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے میں بیٹی پر پوری توجہ رہی ہوں، یہی وہ وقت ہے جس میں اسکو میری سب سے زیادہ ضرورت ہے تومیں گھر رہ کر کافی اچھا محسوس کررہی ہوں۔ جب ان سے سوال ہوا کہ سکرین پہ واپسی ہوگی ؟ تو اسکے جواب میں انہوں نے کہ شاید، جب مزید سوال ہوا کہ ڈرامہ یا فلم

    ہوگی تو آئمن خان نے کہا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ منیب سے جب سوال ہوا کہ یہ فلم سے واپسی کریں گی یا ڈرامہ سے تو آئمن جھٹ سے بولیں یہ منیب کے لیے بھی سرپرائز ہوگا۔ تو منیب بٹ بولے کہ یہ مکمل طور پر اسکا فیصلہ ہوگا۔میں اسکو اس کے ہر فیصلے میں سپورٹ‌ کرتا ہوں. جب اس کا دل کرے یہ کام کر سکتی ہے ، اس کو گھر اور پروفیشنل لائف کو ایک ساتھ مینج کرنے کا ہنر تو آتا ہی ہے . لہذا میں اس کے ہر فیصلے میں اس کے ساتھ ہوں.

  • والد کے مداح نے امریکہ میں ٹیکسی کا کرایہ نہ لیا زاویار

    والد کے مداح نے امریکہ میں ٹیکسی کا کرایہ نہ لیا زاویار

    نعمان اعجاز کے بیٹے زاویار نعمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں جب تعلیم کی غرض سے بیرون ملک رہتا تھا تو میں ایک دن یونیورسٹی جا رہا تھا میرا کرایہ پچیس ڈالر بنا، ٹیکسی ڈائیور پاکستانی تھا اس نے مجھ سے پوچھا تم بھلا کون ہو ، میں نے کہا کہ میرا نام زاویار ہے اس نے کہا کہ تم کہاں رہتے ہو میں نے کہا پاکستان لاہور میں تو اس نے آگے بولا تم نعمان اعجاز کے بیٹے ہو میں نے کہا جی ہاں تو اس نے کہا کہ میں ان کا بہت بڑا مداح ہوں ، لہذا میں‌ان کے بیٹے سے بالکل بھی کرایہ نہیں‌لوں گا. اس نے مجھے میرے پچیس ڈالرواپس کرتے ہوئے کہا کہ میں نعمان اعجاز کی اداکاری کا دیوانہ ہوں اور تمہاری شکل اپنے والد سے بہت زیادہ ملتی ہے. زاویار نے کہا کہ

    میرے والد کو لوگ اتنا پسند کرتے ہیں مجھے پہلے کبھی اندازہ نہیں‌ تھا لیکن اب جب میں ایکٹنگ میں آیا تو مجھے ان کی اور ان کے کام کی اہمیت کا انداز ہوا. بہت سارے لوگوں کی طرح میں بھی ان کو بہت پسند کرتا ہوں اور ان کی اداکاری کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتا ہوں. میں نے کام کو جی جان لگا کر کرنا اپنے والد سے ہی سیکھا ہے.

  • صنم جنگ نے پیاری مونا ڈرامہ کرنے سے منع کیوں کیا؟

    صنم جنگ نے پیاری مونا ڈرامہ کرنے سے منع کیوں کیا؟

    ٹی وی اداکارہ صنم جنگ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ جب مجھے پہلی بار پیاری مونا آفر ہوا تو میں نے کرنے سے منع کر دیا کیونکہ مجھے ایسا لگتا تھا کہ اگر میں نے یہ کردار کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ اس کے بعد مجھے ایک بار پھر ایک سال کے بعد یہ ڈرامہ آفر ہوا ، اس وقت مجھے لگا کہ مجھے یہ کردار کرنا چاہیے۔ میں نے ڈرامے کا سکرپٹ پڑھا اپنا کردار پڑھا تو مجھے مونا سے محبت ہو گئی۔ مجھے لگا کہ اس کردار میں بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو میری اور بہت ساری لڑکیوں کی زندگیوں سے ملتی جلتی ہیں۔ لہذامیں نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہ کردار کرنا چاہیے۔ صنم نے کہا کہ یہ کردار ایک میسج دیتا ہے ان سب کو جو موٹی لڑکیوں کو صرف اس لئے رد کر دیتے ہیں کیونکہ وہ موٹی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے گھر جب بیٹی پیدا ہوئی تو اس کے بعد میرا بہت زیادہ

    وزن بڑھ گیا، کام کرنا چونکہ میں نے چھوڑا نہیں تھا، مارننگ شو کرتی تھی اس شو کی تصاویر سوشل میڈیا پر آتیں تو لوگ مجھے موٹی بھینس کہتے ۔ ایسے کمنٹس پڑھ کر مجھے دکھ ہوتا اور میں نے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا میرے شوہر نے کہا کہ ہمت ایسے ہی ہار کر بیٹھ جاﺅ گی گھر ۔ پھر میں نے سوچا کہ مجھے ہمت اور بہادری کے ساتھ لوگوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ بس ایسی ہی فیلنگنز میری مونا کے کریکٹر کے لئے جاگیں تو میں نے ہاں کردی۔

  • سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    ٹی وی اداکارہ ژالے سرحدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سلمی آغا رشتے میں میری پھوپھو لگتی ہیں. میرے دادا ضیاء سرحدی تھے ضیاء سرحدی وہ ہیں جنہوں نے دلیپ کمار سے بھی کام کروایا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلمی آغا سے میں نے بہت کچھ سیکھا میری آدھی فیملی شوبز سے تعلق رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ اداکاری میں مجھے کبھی بھی دلچپسی نہیں تھی. مجھے گلوکاری میں دلچپسی تھی. لیکن قسمت میں اداکارہ بننا لکھا ہوا تھا تو اداکارہ بن گئی. ژالے سرحدی نے کہا کہ میں‌کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں. اسی لئے میں سکرینز پر

    کم کم دکھائی دیتی ہوں انہوں نے مزید کہا کہ کام کوئی بھی آسان نہیں ہوتا. چاہیے وہ اداکاری ہو یا گلوکاری دونوں ہی کام مشکل ہیں. دونوں ہی کام شوق اور کوشش سے ہوتے ہیں. ژالے سرحدی نے کہا کہ بڑی یا چھوٹی سکرین پر کام کرنے کا چارم الگ ہے. میرا دونوں میڈیم میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ویب سیریز میں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ اچھی علامت ہے. یاد رہے کہ ژالے سرحدی نے لاتعداد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا شائقین ان کی اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں.

  • میرے بی گل کے ڈرامے زیادہ نہیں بکتے آمنہ مفتی نے ایسا کیوں کہا؟‌

    میرے بی گل کے ڈرامے زیادہ نہیں بکتے آمنہ مفتی نے ایسا کیوں کہا؟‌

    نوجوان نسل کی نمائندہ رائٹر آمنہ مفتی نے حال ہی میں کہا ہے کہ میرے اور بی گل کے ڈرامے کم بکتے ہیں ایسا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری کہانیاں زرا سنجیدہ ہوتی ہیں ہم طلاق شادی افئیر کو کم ڈسکس کرتی ہیں. ہم ایشوز کو ڈسکس کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، ہمیں اگر طلاقوں افئیرزوالی کہانیاں لکھنے کو کہا جائے تو یقینا ہم نہیں لکھیں گے کیونکہ ہمارا یہ مزاج ہی نہیں‌ہے. آمنہ مفتی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ڈرامے پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن ڈرامہ لکھنا مشکل کام ہے. میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسا لکھوں جو شائقین کو نہ صرف پسند آئے بلکہ اس میں کوئی پیغام بھی ہو. میں دیکھتی ہوں کہ آج کل ایک ہی طرح کی کہانیاں چل رہی ہوتی

    ہیں ، بعض اوقات تو شادی طلاق والی کہانیوں کی سٹوری کی بنت ایسی ہوتی ہے کہ سر پیٹ کر رہ جائیں، انہوں نے کہا کہ میں لکھتی رہوں گی لکھنا نہیں چھوڑوں گی اور جتنا بھی لکھوں گی اپنی شرائط پر ہی لکھوں گی مجھے خوشی ہے کہ میرے مداح میرے ڈراموں‌کو پسند کرتے ہیں. آمنہ نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے سیئنرز کے کام کو دیکھتی ہوں اس سے سیکھتی ہوں آج تو ایسا رجحان ہی نہیں رہ گیا کہ اپنے سے سیئنرزکا کام دیکھ کر سیکھا جائے.

  • نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    سینئر رائٹر نورالھدی شاہ جنہوں نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں شاہکار ڈرامے لکھے. انہوں نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کی. اس میں ان کے لئے ایک سیشن رکھا گیا جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم سے لکھوانا چھوڑ دیا گیا تو ہم نے بھی لکھنا چھوڑ دیا. ہاں جس طرح کی کہانیاں آج لکھی جا رہی ہیں اور جس طرح سے اس میں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ شامل ہوتا ہے وہ چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے. ویسے بھی ہم جو لکھتے ہیں وہ چینلز چلانے میں دلچسپی نہیں

    رکھتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ ڈرامہ ایسے نہیں ایسے لکھیں بھئی ہم نے تو موضوعات کو ڈراموں میں ڈسکس کرنا سیکھا اور ہم پیار عشق محبت افئیر اور طلاق کے گرد گھومتی ہوئی کہانیاں‌ نہیں‌ لکھ سکتے. اس کے باوجود ہمیں‌کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ، جب ایک کام جو کیا جا رہا ہے وہ ہمیں پسند نہیں‌وہ ہم کیوں‌کریں یا کیوں ناراضگی کااظہار کریں ہم خاموش ہی اچھے. اس لئے ہم خاموش بھی ہیں اور ایک سائیڈ پر بھی ہیں. یاد رہے کہ نورالہدی شاہ کی تحریروں کو شائقین دیوانہ وار پسند کرتے تھے.