Baaghi TV

Tag: pakistani drama

  • اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے کہا ہے کہ جس طرح کی آج کہانیاں بن رہی ہیں وہ ہماری دلچسپی میں نہیں ہیں‌ نہ ہم اس طرح کی کہانیاں لکھ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ رائٹرز کے ہاتھ بندھے نہیں ہونے چاہیں نہ ہی ان کو انسٹرکٹ کیا جانا چاہیے کہ یہ لکھیں اور یہ نہ لکھیں . انہوں نے مزید کہا کہ آج کل چینلز کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ڈرامہ بنانے میں بہت زیادہ انوالو ہوتا ہے یہ وہ شعبہ ہے جس کا نام نہیں‌لیا جاتا. یہی طے کرتا ہے کہ کون سے ایکٹرز ہوں گے اور کہانی کیسی ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی کچھ دکھا رہے ہیں بھئی نور الہدی شاہ سے زیادہ سندھ کی خواتین کے مسائل کس کو پتہ ہیں ؟ کیوں ان سے نہیں لکھوایا جا رہا. ہم جو لکھتے ہیں اس کے

    بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ یہ پسند نہیں کیا جائےیہ چلے گا. مجھے کسی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بندے نے کہا کہ میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا لکھ دیں اس کے ہٹ ہونے کی گارنٹی میں دیتا ہوں تومیں نے کہا کہ جو چل رہا ہےاسکو چلانے میں آپ کا کیا کمال ، جو نہیں چل رہا اسکو اگر چلائو تو وہ ہو گا آپ کا کمال . اس بات کے بعد وہ بندہ بول نہ سکا.

  • وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    سینئر اداکار منور سعید جو کافی عرصےکے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ اچھے ہیں اور آج کے دور کے مطابق ہیں. پی ٹی وی کا دور گزر گیا ہے اور جو گزر چکا ہو اسکا حال سے مقابلہ نہیں‌ کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں آج کل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کررہا ہوں اب میں اپنے مداحوں کو نظر آیا کروں گا. انہوں نے کہا کہ آج بہت زیادہ چینلز ہیں اور سال میں بہت بڑی تعداد میں ڈرامہ بنتا ہے. لہذا کام زرا تیز ہو گیا ہے. پہلے تو ریہرسلز ہوتی تھیں اور کئی کئی دن تک چلتی

    تھیں پھر جا کر کہیں شوٹنگ ہوتی تھی. اب ریہرسلز کا تصور ختم ہو گیا ہے. پہلے ایک چینل ہوتا تھا رات کو آٹھ سے نو بجے تک ڈرامہ لگتا تھا لہذا بہت زیادہ ڈرامہ کوئی بنتا نہیں تھا. کسی آرٹسٹ کا کسی ڈرامے میں ایک بھی سین آجاتا تو اسکے لئے بہت غنیمت ہوتی تھی. منور سعید نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ڈرامہ بنانا جن کا کام ہے وہی بنائیں. اور کہانیوں میں یکسانیت نہیں‌ہونی چاہیے. مجھے اچھے کردار ملتے رہے تو میں ضرور کروں گا.

  • کیا زینب شبیر اور اسامہ خان کی شادی ہو چکی ہے؟ِ دونوں بول پڑے

    کیا زینب شبیر اور اسامہ خان کی شادی ہو چکی ہے؟ِ دونوں بول پڑے

    اداکار زینب شبیر اور اسامہ خان اکثر ایک دوسرے کے ساتھ دیکھے جاتےہیں دونوں ہر جگہ ایک ساتھ سفر کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر بھ یشئیر کرتے رہتےہیں. تصاویر اور ان کا ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے عمل کو دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان دونوں نے شادی کر لی ہے. دونوں سے ایک بار ندا یاسر نے بھی اپنے شو میں پوچھا تھا کہ کیا آپ دونوں نے شادی کر لی ہے تو دونوں نے انکار کر دیا تھا. حال ہی میں ان دونوں نے واسع چوہدری کے پروگرام میں شرکت کی وہاں بھی ان سے جب یہ سوال ہوا کہ کیا آپ دونو‌ں نے شادی کرلی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے ہم نے شادی نہیں کی ، ہم ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست ہیں ایک ساتھ کئی ڈراموں میں‌

    کام کیا ہے بلکہ ایک ساتھ ہی شوبز کیرئیر کا آغاز کیا. ہمارے درمیان اچھی دوستی ہے جسے لوگ اکثر شادی کا ہی رنگ دیتے ہیں. شادی چھپانے والا عمل نہیں ہے جب کریں گے تو یقینا بتا دیں گے لیکن ابھی ایسا بالکل بھی کچھ نہیں ہے لوگ غلط اندازے لگا رہے ہیں. ایک دوسرے کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنے کے مطلب یہ نہیں کہ انہیں سکینڈلائز ہی کر دیا جائے.

  • گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    آج پاکستانی ڈرامہ جتنا بھی بدل چکا ہے لیکن ان کو پسند کرنے والی ایک بڑی تعداد ہے. ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ڈرامہ نہ صرف بن رہا ہے بلکہ دیکھا بھی جاتا ہے. اداکار عثمان مختار کی اہلیہ جو کہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ اکثر ٹی وی ڈراموں اور سوشل ایشوز پر بات کرتی نظر آتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈراموں میں گلے لگا لینے یا پیار محبت کے جذبات دکھانا لوگوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن لڑکیوں کو تھپڑ مارنا اور تشدد ان کے لئے قابل قبول ہے اس پر تو پیمرا بھی حرکت میں نہیں آتا وہ بھی تشدد پر پابندی نہیں‌لگاتا لیکن گلے لگانے جیسے دیگر معاملات پر فورا نوٹس لیتا ہے.

    زنیرہ انعام خان کی اس بات سے بہت سارے سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا. اور کہا کہ ہمارے ہاں لوگوں کا دوہرا معیار ہے اور ویسا ہی دوہرا معیار پیمرا کا بھی ہے جن باتوں پر نوٹس لیا جانا چاہیے اس پر نوٹس نہیں‌لیا جاتا. یاد رہے کہ ہمارے اکثر ڈراموں میں لڑکیوں کو نہایت تابعدار دکھایا جاتا ہے، وہ شوہر کی مار پیٹ سہہ لیتی ہیں‌ اور قربانی دینے والی دیوی بن جاتی ہیں اسی چیز پر زنیرہ انعام خان نے آواز اٹھائی ہے.