Baaghi TV

Tag: pakistani films

  • ماضی کی نامور اداکارہ نشو کو ٹربیوٹ

    ماضی کی نامور اداکارہ نشو کو ٹربیوٹ

    پاکستان فلم انڈسٹری کی سینئر اداکارہ نشو بیگم کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شاکر علی میوزیم اور نیشنل کونسل آف آرٹس نے ٹریبیوٹ پیش کیا. اور اس موقع پر جرار رضوی ، حسن عسکری و دیگر موجود تھے، اداکارہ کے مشہور گیتوں‌ پر رقص پیش کی گیا، اس کے علاوہ اس شو میں ریما ، رانی اور انجمن کو بھی ٹربیوٹ پیش کیا گیا ان کے مشہور گیتوں پر ڈانس کیا گیا. نشو اس موقع پر بہت خوش تھیں انہوں نے کہا کہ لوگ آج بھی اپنے پرانے فنکاروں کو پسند کرتے ہیں. جرار رضوی نے کہا کہ ستر کی دہائی میں نشو نے کام شروع کیا اور آتے ہی سپر ہٹ

    فلمیں دیں انہوں نے خود کو ایک بڑی اداکارہ بہت جلد منوا لیا تھا. حسن عسکری نے کہا کہ میں نے نشو کے ساتھ بہت ساری فلموں میں‌کام کیا، اور اس کے بعد ان کی بیٹی صاحبہ اور داماد ریمبو کے ساتھ بھی بہت کام کیا. یہ پوری فیملی ہی بہت زیادہ باصلاحیت ہے. نشو کو دیکھنے کے لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہال میں‌موجود تھی جب وہ سٹیج پر آئیں تو ان کے لئے تالیاں بجائی گئیں.

  • گلیمر گرل نہیں‌ بننا چاہتی عروہ حسین

    گلیمر گرل نہیں‌ بننا چاہتی عروہ حسین

    اداکارہ عروہ حسین جنہوں نے ٹی وی پر منفی کرداروں کے زریعے اینٹری دی اس کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے ، چھا گئیں اور ان کو ہیروئین کے کردار ملنے لگے. عروہ حسین نے ڈراموں کے ساتھ بلاشبہ فلموں میں بھی کام کیا ہے ، ان کی فلم پنجاب نہیں جائونگی میں ان کا دردانہ کا کردار بہت سراہا گیا. اس فلم کے بعد عروہ حسین ٹی وی ڈراموں اور فلموں سے دور ہی نظر آ رہی ہیں‌، گزشتہ برس ان کی فلم ٹچ بٹن ریلیز ہوئی ، اس فلم کو عروہ نے پرڈیوس کیا تھا فلم بری طرح پٹ گئی، لیکن عروہ حسین کے حوصلے بلند ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ وہ نہ صرف فلموں میں کام

    کریں گی بلکہ فلمیں بنائیں گی بھی. عروہ حسین کہتی ہیں کہ مجھے گلیمر گرل بننا پسند نہیں ہے میرے کردار سنجیدہ ہونے چاہیں اور ایسے ہونے چاہیں جس میں‌صرف میک اپ کرکے اچھے کپڑے پہن کر کھڑنے نہ ہونا ہو کچھ اچھے ڈائیلاگزز بولنے ہوں مشکل فیشل ایکسپریشنز دکھانےہوں. انہوں نے کہا کہ فلم بلاشبہ ایک بہت بڑا میڈیم ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی بہتری کےلئے خاص اقدامات نہیں کئے گئے. لیکن میں پھر بھی اپنی فلم انڈسٹری کو لیکر پر امید ہوں.

  • فلموں کی بہتری کے لئے ایران ، ترکی اور چین کے ساتھ مشترکہ فلم سازی کری ہو گی ریما

    فلموں کی بہتری کے لئے ایران ، ترکی اور چین کے ساتھ مشترکہ فلم سازی کری ہو گی ریما

    لالی وڈ اداکارہ ریما خان نے کہا ہے کہ ہمارے دورمیں جو فلمیں‌بن رہی تھیں ان کو پاکستان میں ریلیز کیا جاتا تھا بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ دوسرے ممالک میں‌ہماری فلمیں ریلیز ہوتی تھیں، لیکن اب نیا رجحان یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ فلمیں دیگر ممالک میں بھی ریلیز کی جا تی ہیں. جو کہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے فلموں کی بہتر کمائی ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ اب یہ وقت ہے کہ ہم ایران ، چائنہ اور ترکی کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کریں اس سے ہماری

    فلم انڈسٹری کو بہت سہارا ملے گا. ریما خان نے کہا کہ دوست ممالک کے ساتھ اس قسم کا ایڈوانچر بہت مددگار ثابت ہوگا. انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے ہاں‌دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلمیں‌بن رہی ہیں ، اس فلم نے دنیا بھر میں‌بزنس کیا ہے اور پاکستان کا نام روشن کیاہے. اسی طرح‌سے مسلسل فلمیں بنتی رہنی چاہیں جہاں‌سینئرز کی کی ضرورت ہے ان کی خدمات لی جائیں. ریما نے کہا کہ پاکستان میں بہت باصلاحیت لوگ ہیں سب کو اس وقت بس مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے.

  • میاں امجد فرزند نے  پنجاب فلم سنسر بورڈ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    میاں امجد فرزند نے پنجاب فلم سنسر بورڈ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین میاں امجد فرزند نے ذاتی مصروفیات کی بناء پر پنجاب فلم سنسر بورڈ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔میاں امجد فرزند نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں اور پاکستان فلم انڈسٹری اس وقت جن حالات سے گزر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔میری دعائیں پاکستان فلم میکرز کے ساتھ ہیں۔اچھی فلمیں بن رہی ہیں دعا ہے کہ اسی طرح اچھی اور تسلسل کے ساتھ فلمیں بنتی رہیں ، فلمیں تسلسل کے ساتھ بنتی رہیں گی تو یقینا سینما مالکان اور فلم انڈسٹری کو فائدہ پہنچے گا.

    حکومت پنجاب کا شکریہ جس نے انہیں پنجاب فلم سنسر بورڈ کا رکن بنایا ہے لیکن میں اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے یہ ذمہ داری قبول نہیں کرسکتا۔کسی اور کو یہ ذمہ داری دے دی جائے۔پرڈیوسر ایسوسی ایشن سے الگ ہو کر بھی میں اسکے ساتھ ہوں اور رہوں گا . یاد رہے چند روز قبل ہی پنجاب فلم سنسر بورڈ کی تشکیل نو کی گئی ہے اور توقیر ناصر کو چیئرمین بنایا گیا ہے ۔میاں امجد فرزند کو پاکستان فلم انڈسٹری کی جانب سے بورڈ میں نمائندگی دی گئی ہے۔

  • فلم دوڑ کے میکرز پریشان

    فلم دوڑ کے میکرز پریشان

    اس عید پر چار اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ایک دوڑ تھی ، اس فلم کے میکرز ہیں کافی پریشان ، ان کا دعوی ہے کہ فلم دوڑ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ، کیونکہ اسکو شو نہیں دئیے گئے ، اگر کوئی شو دیا بھی گیا ہے تو وہ رات گئے دیا ہے . ہم نے ایک اچھی فلم تیار کی شائقین کے لئے لیکن شائقین کو اس فلم سے دور رکھ کر ان کے ساتھ بے حد زیادتی کی گئی ہے اگر ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا تو ہم فلمیں نہیں‌بنائیں گے. دوسری طرف دوڑ فلم کی کاسٹ چند روز قبل فلم دیکھنے کےلئے سینما گھر پہنچ گئی فلم کی ساری کاسٹ شبستان سینما میں موجود تھی اور انہوں نے

    لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی. اس فلم کو ندیم چیمہ نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ لکھا کامران رفیق نے ہے. اگر ہم سینما کی رپورٹس لیں تو پتہ چلتا ہے کہ فلم دوڑ شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ دوڑ فلم کے میکرز کا دعوی ہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ، بڑے بجٹ کی بڑی فلموں کو مکمل طور پر شوز دئیے گئے . چھوٹی فلموں کو بھی شوز دئیے جانے چاہیں اس طرح کی زیادتی فلم میکرز کا حوصلہ توڑتی ہے.

  • سیاستدانوں کو اداکار ہونا چاہیے شان شاہد

    سیاستدانوں کو اداکار ہونا چاہیے شان شاہد

    اداکار شان شاہد جو کہ عمران خان کے بہت بڑے سپورٹر ہیں اور وہ ہر وقت سوشل میڈیا پر انہی کے گیت گاتے ہوئے نظر آتے ہیں. جبکہ دیگر سیاستدانوں کو وہ کرپٹ اور چور مانتے ہیں. اپنے حالیہ انٹرویو میں اداکار نے کہا ہے کہ ہمارے کچھ سیاستدان تو ایسے ہیں کہ وہ جھوٹ ایسے بولتے ہیں کہ سچ کا گمان ہونے لگتا ہے . میں تو کہتا ہوں کہ ان کو تو اداکار ہونا چاہیے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں میں ایک دوسرے کے لئے بالکل بھی برداشت نہیں ہے. اور مجھے تو سوشل میڈیا پر بالکل بھی معاف نہیں کیا جاتا. ہم آپس کی لڑائیوں میں ہی

    اتنے مصروف ہیں کہ ملک کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے. شان شاہد نے لگے ہاتھوں کچھ اداکاروں کو بھی دھو دیا ، بولے کہ کچھ اداکار تو ایسے ہیں کہ وہ ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر سب کچھ سیکھ جاتے ہیں اور بہت کچھ کر لیتے ہیں. اداکار نے کہا کہ دنیا بھر میں سکرپٹ ڈاکٹرز ہوتے ہیں ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے نہ ہی یہاں پر سیکھنے سکھانے کا رواج ہے. میری خواہش ہے کہ میں آن لائن ایکٹنگ کی ٹریننگ دوں اور بہت جلد میں یہ سلسلہ شروع کروں گا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں پنجابی اردو کیا پشتو فلموں میں بھی کام کیا ہوا ہے. لیکن لوگوں کا صرف پنجابی فلموں پر ہی تنقید کرنا میری سمجھ سے باہر ہے.

  • موسیقار نثار بزمی کی آج 16 ویں برسی

    موسیقار نثار بزمی کی آج 16 ویں برسی

    پاکستان کے معروف موسیقار نثار بزمی کو ہم سے بچھڑے 16 برس بیت گئے ہیں آج ان کی 16 ویں برسی ہے. ان کا اصل نام سید نثار احمد تھا. نثار بزمی کے والد سید قدرت علی کا تعلق موسیقی سے نہ تھا لیکن بچپن سے ہی نثار بزمی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے۔ ان ہی کی رفاقت کی وجہ سے 13 سال کی عمر میں نثار بزمی بہت سے راگوں پر عبور حاصل کر چکے تھے۔1962میں نثار بزمی پاکستان آئے۔ بمبئی میں وہ ایک نام ور موسیقار شمار ہوتے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال جیسے میوزیشن اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے۔پاکستان آئے تو اس وقت
    خواجہ خورشید انور اور رشید عطرے ، بابا جی اے چشتی، فیروز نظامی، رابن گھوش، ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداللہ، سہیل رعنا اور حسن لطیف پہلے سے کام کررہے تھے ،یوں معروف موسیقاروں کے اس جھرمٹ میں اپنے لیے جگہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انہوں نے اپنے فن کا

    لوہا منوایا . فلم ہیڈ کانسٹیبل کے لئے موسیقی ترتیب دی تو اس کے بعد اہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا لاکھوں میں ایک کی موسیقی ترتیب دی جو کہ بہت پسند کی گئی اس کے بعد نثار بزمی کو موسیقی کے میدان میں پچھاڑنا اب دوسروں کے لئے آسان نہ رہا. انہوں نے رنجیشیں ہی سہی دل ہی دکھانے آ، دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں ، اک ستم اور سہی جیسے بے شمار گیتوں کی موسیقی ترتیب دی اور نام کمایا. آج بھی مداح ان کی دھنوں کو سنتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں.

  • اداکار محمد علی کی 17 ویں برسی

    اداکار محمد علی کی 17 ویں برسی

    پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور فنکار محمد علی جناح کی آج 17 ویں برسی منائی جا رہی ہے. ان کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کا بام عروج پر پہنچایا. ان کے کردار اور فلمیں آج بھی شائقین کے زہنوں پر نقش ہیں. محمد علی کا گھرانہ بہت مذہبی تھا وہ انگریزی تعلیم اور شوبز کو اچھا نہیں سمجھتے تھے لہذا محمد علی اپنے والد جو کہ خطیب تھے کے ساتھ مسجد میں کئی سال تک رہے، لیکن ایسا وقت بھی آیا کہ محمد علی کے والد کو لگا کہ تعلیم ضروری ہے لہذا انہیں 1949ء میں اسلامیہ اسکول ملتان میں داخل کرا دیا یوں محمد علی نے اپنی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا . محمد علی کے گھر میں بہت زیادہ تنگدستی تھی وہ پائلٹ بننا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اداکار بن گئے. یوں پیسے کمانے اور گھر کا خرچ چلانے کےلئے انہوں نے ریڈیو پاکستان

    جوائن کر لیا. اس کے بعد انہوں نے فلم انڈسٹری کا رخ کیا اور فلم 1962ء میں فِلم ’ چراغ جلتا رہا سے فلمی کیرئیر کا اغاز کیا. یہاں سے سلسلہ چل نکلا اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا. انہوں نے 300 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ محمد علی نے زیبا کے ساتھ شادی کی دونوں کی آن سکرین جوڑی کو بھی بہت سراہا گیا. "علی زیب” کی جوڑی اتنی کامیاب تھی کہ انہوں تقریباً 75 فلموں میں اکٹھے کام کیا۔ انہیں انکی فنی خدمات کے اعتراف میں تمغمہ امتیاز اور پرائیڈ پرفارمنس دیا گیا. محمد علی 19 مارچ 2006 کو اچانک دل کا دورہ پڑنے پر دنیا سے رخصت ہو گئے .

  • دھوکہ دینے والے سے دور ہوجاتا ہوں شمعون عباسی

    دھوکہ دینے والے سے دور ہوجاتا ہوں شمعون عباسی

    اداکار شمعون عباسی جو میڈیا سے اب دور ہی رہتے ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ میں جس کے ساتھ چلتا ہوں دل سے چلتا ہوں اور اگر کوئی مجھے دھوکہ دے اور میرے ساتھ مخلص نہ ہو میں محسوس کرنے کے بعد اس سے دور ہوجاتا ہوں ، میں نے کبھی لڑائی جھگڑا نہیں کیا لیکن اس شخص پر دوبارہ کبھی بھی اعتبار نہیں کرتا. انہوں نے مزید کہا کہ میں سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہتا ہوں اور جس پر ضروری ہو اس مسئلے پر بات کر لیتا ہوں. انہوں نے کہا کہ حالانکہ سٹارز کے سکینڈلز بنتے ہیں لیکن میرے ساتھ ایسا کم ہی ہوا ہے. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں

    کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنی پوسٹ پر آنے والے تمام کمنٹس پڑھوں اور ان کے جواب بھی دوں. انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے میں تقریبا ہر چیزپسند ہے بس مزے کی بنی ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ کچھ ڈشز ہیں جو میں بہت اچھی بنالیتا ہوں،. انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں رہنا پسند کرتا ہوں جو میرے جیسے ہیں . میں پارٹیز کاحصہ بنناپسند نہیں کرتا. عید پر میری فلم ہوئے تم اجنبی آرہی ہے جس سے مجھے بہت امیدیں ہیں . اسکے علاوہ دادل بھی ایک الگ اور منفرد فلم ثابت ہو گی.

  • شان شاہد آج کی فلموں پر برس پڑے

    شان شاہد آج کی فلموں پر برس پڑے

    شان شاہد نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن میں شرکت کی اس سیشن کو معروف رائٹر بی گل نے ہوسٹ کیا. بی گل کے ساتھ گفتگو میں شان شاہد نے کہا کہ جو ہسٹری ہوتی ہے اس کو پڑھ کر سیکھا جاتا ہے اسی طرح‌سے پرانی فلموں کو دیکھ کر بھی سیکھا جاتا ہے ، اب دیکھیے نا کہ پنجابی فلموں اور سینما کی بحالی کے لئے نئے دور والوں کو مولا جٹ بنانی پڑی. ہم نے جب کام کیا وہ دورآج کے دور سے مختلف تھا، آج تشہر کے بہت سارے زرائع ہیں ، معاوضے زیادہ ملتے ہیں. میں نے جو بھی کام کیا ہے اس پر فخر محسوس

    کرتا ہوں. میں نے ہمیشہ یہ بات یاد رکھی ہے کہ میں نیلو اور ریاض شاہد کا بیٹا ہوں. شان شاہد نے کہا کہ میں آج جو بھی ہوں اپنے مداحوں کی وجہ سے ہوں. شان نے کہا کہ اگر میری بیٹیاں‌ شوبز میں آنا چاہیں گی تو میں انہیں‌روکوں گا. انہوں نے کہا کہ مجھے جب جب اچھا کام ملے گا میں کروں گا. فلم بناتے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ ہر طبقے نے اسکو دیکھنا ہے ، ایسی فلم نہیں‌ہونی چاہیے کہ جس کو ایک خاص طبقہ دیکھے. آج ایسی فلمیں بن رہی ہیں جو کہ ایک خاص طبقے کے لئےہوتی ہیں. فلم وہ ہوتی ہے جس کو ہر طبقہ دیکھے.