Baaghi TV

Tag: Pakistani politics

  • لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے اسلام آباد میں درج مقدمات میں 7 دن جبکہ لاہور میں درج مقدمات میں 10 روز کی ضمانت منظور کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس پر دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ بینچ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور پولیس کو زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ تک سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی جس پر عمران خان جلوس کی صورت میں ایک گھنٹہ تاخیر سے عدالت پہنچے۔

    عدالت نے عمران خان کو عدالت میں پہنچنے کیلیے ساڑھے پانچ بجے کا وقت دیا تاہم راستے بند ہونے اور کارکنان کی بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ سے وہ سوا چھ بجے تک کمرہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ میڈیا کے مطابق عمران خان کی حفاظت کیلیے پولیس نفری اتنی نظر نہیں آئی تاہم پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس نے چیئرمین اور قیادت کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔ عمران خان کے وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایس ایل میچز، راستوں کی بندش اور کارکنان کے رش کی وجہ سے کمرہ عدالت پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔

    بعد ازاں عمران خان ساڑھے چھ بجے کے قریب کمرہ عدالت میں پہنچے جس کے بعد مقدمات کی سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی اور عمران خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس دوران عمران خان کے وکلا نے بینچ کے سامنے دلائل پیش کیے اور عمران خان روسٹرم پر آئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے خلاف پانچ مقدمات اسلام آباد میں ہیں ،تین مقدمات لاہور میں ہی ہیں، درخواست گزار کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کےلیے حفاظتی ضمانت درکار ہے، حفاظتی ضمانت عمران خان کا بنیاد حق ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ہم اسی مقدمے میں ضمانت دیں گے جن کی درخواست ہمارے سامنے ہیں۔ وکلا نے عمران خان کیخلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات پر درج مقدمات کی تفصیلات پڑھنا شروع کردیں۔

    فواد چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2500 افراد کیخلاف مقدمات درج کردئیے گیے ہیں، یہ 5 سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے جج صاحبان سے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اتنے زیادہ مقدمات ہوگئے ہیں سمجھ نہں آرہا کہاں پیش ہونا ہے، میرے گھر پر جو حملہ ہوا ہے وہ بتا نہیں سکتا، چیزیں میرے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ عدالت کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے تحفظ دیا اور بچا لیا‘۔

    جسٹس طارق شیخ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب آپ سسٹم کے ساتھ چلیں تو بہت سے مسائل حل ہونگے‘۔ عمران خان نے کہا کہ ’وزیر داخلہ کہہ رہا ہے میری جان خطرے میں ہیں، جس جگہ میری پیشی ہے وہ جگہ خطرے سے خالی نہیں ہے، کچہری والا کیس کہیں اور منتقل کردیا جائے کیونکہ وہ عدالت گلیوں میں ہے اور وہاں ججز پر بھی حملے ہوچکے ہیں، میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ساری زندگی کبھی قانون نہیں توڑا، میری صرف یہ استدعا ہے کہ کہچری والا کیس کہیں اور منتقل کردیا جائے‘۔

    جسٹس طارق شیخ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پھر وہی کہوں گا کہ آپ سسٹم کے اندر آئیں، یہ کیس کچھ نہیں تھا بس مس ہینڈل ہوگیا‘۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کے خلاف 6 مقدمات درج ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف 94 مقدمات درج ہیں حکومت 6 مقدمات مزید درج کر کے سنچری مکمل کرلے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے اس طنز پر کمرہ عدالت میں قہقے بلند ہوئے جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کمرہ عدالت میں ’آرڈر آرڈر‘ کہتے ہوئے عدالتی ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت کی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے اپکو سسٹم میں لائیں، اس کیس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا آپ لوگوں نے اسے مس ہینڈل کیا۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ’یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ دہشتگری کے پانچ مقدمات ہیں، لیکن عمران خان پر دہشتگردی کے چھ مقدمات ہیں‘۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمران خان کی 9 میں سے 8 مقدمات میں حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی اور انہیں اگلے جمعے 24 مارچ تک گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی۔ عمران خان کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے عدالت سے ضمانت کیلیے پندہ دن کی استدعا بھی کی اور کہا کہ عدالت 15 دن کا وقت دے تاکہ تمام مقدمات میں ضمانت فائل کر سکیں کیونکہ ابھی معلوم نہیں کہ مزید کتنے مقدمات درج ہونے ہیں۔

    لاہور میں درج دہشت گردی کے تین مقدمات میں ضمانت منظور
    عدالت نے لاہور میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج تین مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت 27 مارچ تک مںظور کی جبکہ اسلام آباد میں دہشتگردی کی دفعات تک تحت درج 5 مقدمات میں ضمانت 24 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کی۔
    پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ ہلاکت کیس میں بھی ضمانت منظور
    بعد ازاں دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی ہلاکت پر تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے میں عمدان خان کی دس روزہ حفاظتی ضمانت منظور کی اور انہیں 27 مارچ تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔
    پنجاب بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات منگل تک طلب
    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومتی وکیل کو ہدایت کی کہ وہ منگل تک عمران خان کے خلاف پنجاب بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات پیش کریں۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی روک دی۔

    ضمانت منظور ہونے پر پی ٹی آئی کارکنان کا جشن

    لاہور ہائیکورٹ میں دہشتگردی کے مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی منظور ہونے ہر کارکنوں نے جشن منایا اور چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ اس دوران کچھ کارکنان خوشی میں والہانہ رقص بھی کرتے نظر آئے۔

  • لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی
    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دہشت گردی کے 6 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کو ساڑھے 5 بجے طلب کیا تھا،پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد احاطہ عدالت میں موجود ہے، بد نظمی کے باعث عمران خان گاڑی سے نہیں اتر پارہے تھے ،تاہم اب عمران خان گاڑی سے اتر کر کمرہ عدالت میں پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ عدالت نے غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی،ا س دوران وکلاء اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس بھی ہائیکورٹ میں داخل ہوگئی،پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سےاحاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنے اپکو سسٹم میں لائیں جبکہ اس کیس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا آپ لوگوں نے اسے مس ہینڈل کیا ۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ دہشتگری کے پانچ مقدمات ہیں ۔ لیکن عمران خان پر دہشتگردی کے چھ مقدمات ہیں ۔ جبکہ عمران خان نے کہا کہ میرے پر 94 مقدمات ہیں 6 اور ہو گئے تو سنچری پوری جائے گی جبکہ نان کرکٹرنگ سنچری ہو گی ۔ عمران خان کے بیان پر عدالت میں قہقہ لگ گئے.

    عدالت نے مزید کہا کہ آپ کو آئینی سسٹم میں آنا ہوگا اگر آپ سسٹم میں نہیں آئیں گے تو اس طرح کا حالات پیدا ہوں گے جبکہ عمران خان نے کہا میں قانون کی پاسداری کرنے والا ہوں بس سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اور جس جگہ مجھے بلایا جا رہا وہاں میرے قتل کا ٹریپ بنایا ہوا ہے ، وہ جگہ خطرے سے خالی نہیں 2 ججوں کا وہاں قتل ہو چکا ہے

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے لاہور میں آپریشن رکوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک کے باہر پولیس آپریشن روکنے سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت عالیہ نے عمران خان کو حفاظتی ضمانتوں کے کیس میں پیش ہونے کا حکم دیدیا اور کہا کہ آئی جی پنجاب عمران خان کو لاہور ہائیکورٹ پہنچنے تک سہولت دیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض کردیا۔ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ عمران خان کو عدالت میں تو آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین کو سارھے 5 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

    اس سے قبل کارروائی کے دوران آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بنانا۔ عدالت نے کہا کہ یہ مسائل اس لئے ہورہے ہیں ہم قوائد پر نہیں ہیں، صرف رولز کو فالو کریں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا ایک فوکل پرسن ہوگا۔

    عدالت نے فواد چوہدری سے مکالمے میں کہا کہ اگر آپ لوگوں کو سیکیورٹی نہیں ملتی تو آپ آئی جی پنجاب کو درخواست دیں جو طریقہ کار ہے، اگر آپ مطمئن نہیں ہوتے تو عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کنٹینرز لگانا مناسب نہیں یہ ہمیں ایکسپورٹ کیلئے استعمال کرنے چاہئیں۔ عدالت کا مزید کہنا ہے کہ آپ جو بھی چاہتے ہیں اس کے طریقۂ کار سے کریں اور باقاعدہ درخواست دیں۔

    فواد چوہدری نے عدالت میں کہا کہ اب یہ لوگوں کی گرفتاریوں کیلئے رسائی مانگ رہے ہیں، ایک مقدمے میں 500 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے، ایک مقدمے میں 2500 نامعلوم افراد شامل ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ اس سے ایک بار پھر حالات خراب ہوں گے، ان کو چاہئے ملوث افراد کو نامزد کریں، وہ افراد اپنا لیگل حق استعمال کریں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کچھ دیر بعد آپ (لاہور ہائیکورٹ) کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر کردی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر لاہور ہائیکورٹ تک رسائی کی اجازت کی درخواست آئے گی تو جائزہ لیا جائے گا۔

    ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ سرچ وارنٹ آنے کے بعد ہمیں قانونی کارروائی کی اجازت ہونی چاہئے، اگر سرچ وارنٹ آتا ہے تو ہم ان کی کمیٹی سے بات کریں اور انہیں عملدرآمد کی ہدایت کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ قانون میں آپ کے تمام تحفظات کا حل موجود ہے، جو مہذب دنیا میں ہوتا ہے معاملہ عدالت کے سامنے لایا جائے۔ عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی؟۔

    صدر لاہور ہائیکورٹ اشتیاق اے خان نے عدالت کو بتایا کہ اس کے دو طریقۂ کار ہیں، میں سی سی پی او کے پاس انڈر ٹیکنگ لیکر گیا. وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ قانون میں وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کا طریقۂ کار دیا گیا ہے، وارنٹ گرفتاری تعمیل کنندہ لیکر جائے گا اور تعمیل کرائے گا۔

    عدالت نے کہا کہ اگر رکاوٹیں ہوں گی تو پھر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی؟ ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ اگر ہمیں سرچ وارنٹ کی تعمیل کرانی ہے تو اس پر بھی عدالت حکم جاری کرے، قانونی معاملات پورے کرنے کیلئے پولیس کی زمان پارک تک رسائی نہیں ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ اس سارے معاملے میں شفافیت کیسے لائیں گے؟۔ آئی جی نے کہا کہ میں ان سے اجازت نہیں لوں گا کہ فلاں بندے نے پولیس پر پیٹرول بم مارا ہے ہم اسے گرفتار کرنے لگے ہیں۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر حل نکالیں۔

    ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے وارنٹ منسوخ کی درخواست خارج ہوچکی ہے، عدالت اس بارے میں بھی فیصلہ کر دے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے زمان پارک آپریشن 3 بجے تک روکنے کے حکم میں ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ 3 بجے دوبارہ کیسے سنیں گے۔ سابق وزیراعطم کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے، لاہور پولیس نے منگل کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کیلئے آپریشن شروع کیا تھا تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کی مزاحمت کے باعث تاحال گرفتار نہیں کرسکی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور پیٹرول بم بھی پھینکے گئے، پرتشدد واقعات میں 50 سے زائد پولیس اہلکاروں سمیت تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک آپریشن روکنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔ عدالت عالیہ نے آئی جی پنجاب کو جزوی طور پر آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا، جس میں گزشتہ روز مزید ایک روز کی توسیع کردی گئی تھی۔

  • پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی

    پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی

    پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی
    لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر پی ٹی آئی وفد نے آئی جی پنجاب سے ملاقات کی جبکہ تحریک انصاف کے وفد میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر اور سینئر نائب صدر فواد چودھری شامل تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور سینیٹر اعظم سواتی بھی آئی جی پنجاب سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل تھے۔ وفد لاہور ہائیکورٹ کی ہدایات پر آئی جی پنجاب سے ملاقات کرنے آیا تھا.

    آئی پنجاب سے ملاقات کے بعد وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید ہے کہ کل ہمیں عدالت سے ضمانت مل جائے گی یا کچھ وقت دیا جائے گا جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خون خرابہ چاہتی ہے اور ابھی اطلاع ہے کہ ہمارے پانچ لوگوں کی گرفتاری کے احکامات ہیں لیکن ایسا کرنے سے مزید حالات خراب ہوں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ ابھی آئی جی صاحب کو بھی بتایا ہے کہ عمران خان گرفتاری کیلئے بالکل تیار تھے لیکن پولیس کی شیلنگ سے حالات مزید خراب ہوئے جبکہ ہم پر الزام عائد کیا جارہا ہے لیکن میں وضاحت کرتا ہوں کہ ہمارا کسیہمارا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت سیاسی ہے اور پرامن ہے جبکہ ہم پرامن ہی رہنا چاہتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ

    شاہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے ہیں اور یہ راستہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے لہذا ہم آج بھی بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں اور وزیراعظم نے ساتھ بیٹھنے کی آفر کی ہے تو کم از کم اپنی پولیس کو توروکیں تاکہ بات آگے بڑھے. ان کا کہنا تھا ہمارے کارکنان پر جھوٹے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں دوسری طرف ہمیں بات چیت کی دعوت دی جارہی ہے یہ کسی منطق ہے لیکن ہاں 18 کو عمران خان عدالت میں پیش ہوں گے اور امید ہے عدالت تب تک ہمیں وقت دے گی.

  • زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    نگراں وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے کہا ہے کہ جب فیصلہ کر لیا تو پھر عمران خان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ جبکہ پنجاب کے نگران وزیراطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ زمان پارک میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، چاہتے ہیں کہ جانی نقصان نہ ہو لیکن جب فیصلہ کر لیا تو پھر عمران خان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور سی سی پی او لاہور بلال کمیانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے پی نے صوفی محمد کی کالعدم تنظیم کے اہم رکن کو پارٹی میں شامل کیا، وہ دہشت گرد 8 سال جیل کاٹ چکا ہے، اب ایسےلوگ زمان پارک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کی لیکن جب عمران خان کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا تو تین چار گھنٹوں میں کر لیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ پولیس غیر مسلح تھی، افسران سمیت 58 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے کارکن اپنے ہی ساتھیوں کی حرکتوں سے زخمی ہوئے ، گلگت بلتستان پولیس سےکوئی تصادم نہیں ہوا ، صبح 10 بجے لاہور ہائیکورٹ میں پیشی ہے ، عدالتی فیصلے پر 100 فیصد عمل ہوگا ۔ جبکہ پولیس حکام کا کہناتھاکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گاڑیاں جلائیں، رینجرز پر حملے ہوئے، ان تمام واقعات کے مقدمات درج ہیں اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

  • عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ معطل کرنے کی استدعا عدالت نے مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی، بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جبکہ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان کو عدالتی کارروائی کی خلاف ورزی پر ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا،قانون معاشرے کے طاقت ور اور کمزور تمام طبقوں کے لیے برابر ہے، یہ کوئی مذاق نہیں قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے بعد انڈرٹیکنگ دے دی جائے لاہور میں قومی خزانے، املاک اور لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا.

    جبکہ عمران خان کے اس کنڈکٹ اور عمل کے بعد محض انڈرٹیکنگ پر وارنٹ منسوخ نہیں کئے جا سکتے،عمران خان نے ریاست، ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا،عمران خان کے فالورز نے کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا، عمران خان کے فالورز نے پولیس کے وارنٹ گرفتاری تعمیل میں رکاوٹ ڈالی،عدالت طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ جاری کرتی ہے، عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ میں پولیس کو ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتی ہے، وارنٹ گرفتاری ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر منسوخ ہو جاتے ہیں،پولیس نے عمران خان کو بلاتاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے،

    تحریری فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج ظفر اقبال نے جاری کیا، قبل ازیں جب عدالت میں سماعت ہوئی تھی تو جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کافی تفصیل سے باتیں ہوئیں، اب آرڈر بھی تفصیل سے ہی آئے گا،عمران خان اب بھی سرینڈر کردیں تو میں آئی جی کو آرڈر کردیتاہوں کہ ان کوگرفتار نہ کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    عمران خان ابھی تک زمان پارک میں ہیں اور اسلام آباد پولیس لاہور پولیس کے ساتھ ملکر انکی گرفتاری کے لئے 20 گھنٹے طویل آپریشن کر چکی ہے ، تحریک انصاف نے آپریشن رکوانے کے لئے عدالت کا سہارا لیا، گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے آپریشن روکنے کا حکم دیا، آج لاہور ہائیکورٹ نےد وبارہ سماعت کر کے ایک روز کی توسیع کی، اب کل جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہو گی

  • ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ سرچ آپریشن  کی اجازت دی جائے. آئی جی پنجاب

    ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ سرچ آپریشن کی اجازت دی جائے. آئی جی پنجاب

    کارکنان کے حملے کے بعد پولیس نے شیلنگ کیساتھ واٹرکینن کااستعمال کیا. آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے ہائی کورٹ میں پیش ہوکر کہنا تھا کہ کارکنان کے حملے کے بعد پولیس نے شیلنگ کیساتھ واٹرکینن کااستعمال کیا. جبکہ ہمارا ارادہ زمان پارک میں آپریشن کرنے کا نہیں تھا لیکن جب تصادم میں پولیس کے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ناصرف وہ زخمی ہوئے بلکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے.

    آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پر سیاسی جماعت کے جتھوں نے پٹرول اور پتھروں سے حملہ کیا ہے جبکہ ڈی آئی جی اسلام آباد زمان پارک گئے تو ان پر حملہ کیا گیا جس سے 60 سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے اور اس حملے کے بعد ہم ان سے شرمندہ ہوئے کیونکہ ہمارے علاقہ میں ان پر حملہ ہوا.

    آئی پنجاب عثمان انور نے یہ بھی بتایا کہ ہماری طرف سے پولیس کو یہ ہدایت تھی کہ کوئی بھی اپنے ساتھ کوئی اسلحہ یا ایسا ہتھیار لے جار کر نہ جائے تاہم اس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ آپ قانون کے مطابق چلیں اور کسی قسم کے تصادم سے بچیں تاکہ مزید کوئی جانی نقصان نہ ہو. جبکہ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر سو فیصد عمل ہوگا.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    آئی جی پنجاب عثمان انور نے عدالت کو مزید بتایا کہ جو وردی پہن لیتا ہے وہ کسی ایک صوبہ کا نہیں ریاست کا ملازم اور وفادار ہوتا ہے لہذا ہم ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ سرچ آپریشن کی اجازت دی جائے اور یہ بھی التماس ہے کہ اس سلسلہ میں عدالت ہماری مدد کرے اور یہ بھی کہ گلگت پولیس بھی زمان پارک میں موجود تھی.

  • زمان پارک؛ ڈنڈا برداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے

    زمان پارک؛ ڈنڈا برداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے

    زمان پارک؛ ڈنڈا برداروں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے

    لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کچھ گھنٹوں کے لیے گرفتار کرنے سے روک دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی لاہور میں گزشتہ روز سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتحال کچھ بہتر ہو گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں دوران کینال روڈ پر جو کچھ ہوا، وہ لاہور کے شہریوں کے لیے ایک خوفناک خواب سے کم نہیں، اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے حکم پراسلام آباد پولیس عمران خان کی گرفتاری کے لیے لاہور پہنچی تھی لیکن پنجاب پولیس کے ساتھ کئی گھنٹوں سے جاری مشترکہ کوشش کے باوجود پولیس عمران خان کو گرفتار نہیں کر پائی۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کو روکنے کے لیے پارٹی ورکرز نے ہر حربہ استعمال کیا اور اس وقت تک مزاحمت کی جب تک لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان کی گرفتاری سے روک نہیں دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے پولیس کو پسپا کرنے کے لیے پتھر برسائے، پیٹرول بم پھینکے۔ اس مشترکہ کارروائی کے دوران ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت 54 پولیس افسر و اہلکار زخمی ہوئے۔

    سماء کے مطابق عدالت نے پولیس کوعمران خان کی زمان پارک میں واقع رہائش گاہ سے 500 میٹر دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی حکم آنے کے بعد کینال روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ بدھ کی شام کو ہم نے کینال روڈ کہ اس حصے کا جو کئی گھنٹوں تک میدان جنگ بنا رہا، کا دورہ کیا تو پولیس وہاں دور دور تک موجود نہیں تھی۔ کینال روڈ شہر کی مرکزی شاہراہ ہے، نہر کے دونوں طرف 29 کلومیٹر لمبی یہ شاہراہ لاہور کی پہچان ہے۔ ہم نے دیکھا فیض احمد فیض انڈر پاس سے حسین شہید سہروردی انڈر پاس تک کینال روڈ کا یہ حصہ کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

    سڑک کے اس ٹکڑے پر ہر جگہ چھوٹے بڑے پتھر پڑے ہوئے تھے، چونکہ اس ٹریک پر ٹریفک بحال ہو چکی تھی لیکن سڑک پر پڑے پتھروں کی وجہ سے گاڑی کا چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ کئی مقامات پر ٹائر نذرآتش کیے گئے تھے جن سے اس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ دو مقامات تو ایسے بھی تھے جہاں لکڑیاں نہیں بلکے درخت کے تنوں کو کاٹ کر آگ لگائی گئی تھی جو اس وقت بھی جل رہے تھے۔ عمران خان کی زمان پارک میں واقع رہائش گاہ کی ایک طرف کینال روڈ کے درمیان ایک فائر ٹینڈر کھڑا تھا جو کہ مکمل جل چکا تھا۔ تھوڑا آگے بڑھے تو دیکھا ایک شہزور ٹرک کھڑا تھا جو کہ جزوی طور پر جلا ہوا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف کچھ فاصلے پر کرسیاں پڑی ہوئی تھیں، جو کہ جلی ہوئی تھیں۔

    تاہم پولیس عدالتی حکم آنے کے بعد کئی گھنٹوں پہلے زمان پارک سے روانہ ہو گئی تھی لیکن شام کے اوقات میں جب کینال روڈ کے اس حصے کا دورہ کیا گیا جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان چوبیس گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں، وہاں اس وقت بھی تھوڑی دیر رکنا ممکن نہیں تھا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی آنسو گیس کے اثرات محسوس کیے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    لاہورہائی کورٹ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے پولیس زمان پارک سے روانہ ہو چکی تھی اور پولیس کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان اپنی جگہ واپس پہنچ چکے ہیں اور اس وقت بھی عمران خان کی رہائش گاہ کے گرد بڑی تعداد میں کارکنان موجود ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کارکنان نے کینال روڈ کا وہ حصہ جہاں زمان پارک واقع ہے، کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ کینال روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے لیکن عمران خان کی رہائش گاہ کے باہرڈنڈا بردار پی ٹی آئی کارکنان موجود ہیں تا کہ پارٹی چیئرمین کو گرفتار کرنے کی کوشش پر فوری جوابی کارروائی کی جا سکے۔

  • اینکر نے عمران خان کو چبھتا سوال کرکے خاموش کردیا

    اینکر نے عمران خان کو چبھتا سوال کرکے خاموش کردیا

    اینکر نے عمران خان کو چبھتا سوال کرکے خاموش کردیا

    سابق وزیراعظم عمران خان سے برطانوی نشریاتی ادارے کی اینکر نے چبھتا سوال کر کے انہیں لاجواب کردیا ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں جب عمران خان نے قانون کی بالادستی کی بات کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو بھی ریاستی قانون توڑے اسے سزا ملنی چاہیے۔


    اس موقع پر خاتون اینکر نے سوال کردیا کہ آپ کے خلاف وارنٹ تو ریاستی قانون کے تحت جاری ہوئے ہیں، پھر آپ گرفتاری کیوں نہیں دے رہے؟ تاہم عمران خان نے جواز پیش کیا کہ ریاستی نہیں جنگل کا قانون ہے، وہ 18 مارچ تک حفاظتی ضمانت پر ہیں، یہ لوگ 14 مارچ کو گرفتار کرنے آگئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    جبکہ اے ایف پی سے گفتگو میں عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجھے گرفتار کرنے والے مہینوں جیل میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ الیکشن نہ لڑ سکوں۔

  • زمان پارک؛ پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان گرفتار

    زمان پارک؛ پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان گرفتار

    زمان پارک؛ پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا

    لاہور پولیس نے زمان پارک میں جھڑپوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے 24 کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان پر جلاؤ، گھیراؤ، مار کٹائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتارکارکنوں میں 12 کا تعلق شیخوپورہ اور 7 کا لاہور سے ہے، اس کے علاوہ اپر دیر، لوئر دیر اور آزاد کشمیر کے کارکن بھی شامل ہیں۔


    نجی ٹی وی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملزمان کو ریمانڈ کیلئے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونےکے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ گزشتہ روز سے زمان پارک پر موجود ہے جہاں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے پتھراؤ کیا، غلیلیں چلائیں، ڈنڈے برسائے ، مارو مارو کے نعرے لگائے، پیٹرول بم پھی پھینکے۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے درجنوں پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

  • عمران خان پاکستان کوکمزور کرنےکاایجنڈا رکھتاہے. مولانا فضل الرحمان

    عمران خان پاکستان کوکمزور کرنےکاایجنڈا رکھتاہے. مولانا فضل الرحمان

    عمران خان پاکستان کوکمزور کرنےکاایجنڈا رکھتاہے. مولانا فضل الرحمان

    پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے سربراہ اور امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کےخاتمے کےایجنڈے پرکام کررہاہے۔ جبکہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملکی صورتحال بہت حساس ہے ،ٹی آئی جیسی سرگرمی کوئی مذہبی جماعت کرتی تو دہشتگرد قرار دی جاتی،بےرحم لیڈرنےکارکنوں کوڈھال کےطورپراستعمال کرنےکی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا عمران خان نےملک کوکمزورکرنےکاکلچردیا، عمران نےدنیاکوبتایاکہ میرا کارکن قانون کی عملداری روکنےکیلئےہے،باربارکہہ چکےعمران پاکستان کوکمزور کرنےکاایجنڈا رکھتاہے، دیکھتا ہونا گا کہ کون سی ایسی طاقتیں ہیں جو عمران خان فتنے کو تحفظ دے رہی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاقانون کی نظرمیں سب برابرہیں،کسی کواستثنیٰ نہیں، کارکنوں کو ڈھال بنانے کے بجائے عمران خان کو مقدموں کا سامنا کرنا چاہیے، عمران خان کو گرفتار کرکے ہر صورت میں پیش کرنا چاہیے، ریاست رٹ برقرار رکھنے کے لیے ضروری وسائل بروئے کار لائے، تحریک انصاف کوئی سیاسی جماعت نہیں، چند کھلنڈروں کا گروہ ہے۔