Baaghi TV

Tag: Pakistani politics

  • توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ ریفرنس:عمران خان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    اناسلام آباد: توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر آج بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی-

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نےکی۔

    عمران خان کے وکیل گوہر علی خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے جب کہ عمران خان آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، وکلاء کی جانب سے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کل لاہور ہائیکورٹ اپنے پاؤں پرکھڑے ہوکرگئے۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ گئے، سکیورٹی کے باعث وقت لگا، اسلام آباد کچہری میں پیشی تھوڑی مشکل ہے، عمران خان کو ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے، ڈاکٹروں کی ہدایت اور سکیورٹی وجوہات کے باعث عمران خان نہیں آئے، ان پر انسداد دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں بھی کیسز ہیں، 28 فروری کو عمران خان کا ایکسرے ہو جائےگا۔

    عدالت نے کہا کہ 28 فروری کو بھی ایکسرے ہونے ہیں؟ 9 سے 21 تاریخ تک عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آرہی ہیں، ایسے رہا تو ٹرائل لمبا ہوتا چلا جائےگا۔

    جج نے ریمارکس دیئےکہ عمران خان کی پمز سے طبی رپورٹ بنوا لیتے ہیں، عمران خان کی میڈیکو لیگل رپورٹ دکھا دیں تاکہ انجری کی نوعیت دیکھ لیں، قانون کے مطابق کیس کی کاپیاں ملزم کو دی جاتی ہیں، عمران خان کو آج بھی ذاتی حیثیت میں عدالت نے طلب کر رکھا تھا، عمران خان کو ہر تاریخ پر حاضری سے استثنیٰ دیا جارہا ہے ہم مسلسل آپ لوگوں کی مان ہی رہے ہیں، صرف کاپیاں فراہم کرکے فرد جرم عائدکرنی ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے وکلاء کو کاپیاں فراہم کرنےکی ہدایت کردی۔

    وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ پر آج اعتراض نہیں کریں گے، اگلی سماعت پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں عدالت نےکہا کہ28 فروری کی تاریخ دے دیتے ہیں، عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نےکیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجوایا تھا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پرکرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے.

    توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کےسیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا ہے، ریفرنس میں استدعا کی گئی ہےکہ عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، ریفرنس میں 3 سال جیل اور جرمانےکی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت عدالت نے منظور کر لی

    عمران خان عدالت مین پیش ہوئے۔ روسٹرم پر آ کر عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا عدالتون پر اعتماد ہے۔ عدالت تین مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کرے۔ ڈاکٹرز نے مجھے چلنے کی اجازت نہین دی

    عمران خان دس منٹ عدالت میں رہے جبکہ پانچ منٹ کی سماعت ہوئی۔ پیشی سے قبل دو گھنٹے عمران خان گاڑی میں بیٹھے رہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عام طور پر دس روز کی اجازت دیتے ہین ۔ عدالت نے عمران خان کی 3 مارچ تک ضمانت منظور کر لی

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے جبکہ ان کے ہمراہ کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی اور کچھ کارکنوں نے عدالت عالیہ کے گیٹ پر چڑھنے کی بھی کوشش کی. خیال رہےلاہور ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت پر دستخط کی تصدیق کے متعلق معاملے میں تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان کو 5 بجے تک پیش ہونے کا آخری موقع دیا تھا دیا۔

    عدالت عالیہ کے حکم پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قافلے کی صورت میں لاہور ہائیکورٹ پہنچے، ان کے ہمراہ کارکنوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں نے عدالت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ ایک کارکن نے دروازے پر ڈنڈے بھی برسادیئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے گیٹ کے اندر چلی گئی، جس کے بعد کارکنان پیچھے رہ گئے، اس موقع پر انتظامیہ اور کارکنان میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

    لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کیلئے عمران خان کی پیشی کیلئے سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ عمران خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ہائی کورٹ سب کے لیے معزز اور قابل عزت ہے، عدالت ہمیں موقع فراہم کرے ہم عمران خان کو پیش کردیں گے۔

    خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ عدالت نے درخواست اوربیان حلف پردستخط کےفرق کی نشاندہی کی،عمران خان نے یہ حفاظتی ضمانت دائر نہیں کی۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پھر یہ درخواست کس نے فائل کی۔ جواب میں خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ یہ بات تو اظہرصدیق آکر بہتر بتائیں گے۔

    جسٹس طارق شیخ ںے ریمارکس دیئے کہ ہم عمران خان کوشوکازنوٹس جاری کرتے ہیں، آپ شوکاز کا جواب دیں اگرعدالت مطمئن ہوئی تو پھر ہم نمٹادیں گے۔ جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عدالت ایسا نہ کرے ہم عمران خان کو پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عدالت ہمیں مہلت فراہم کرے، ہم 5 بجے تک عمران خان کوپیش کردیتے ہیں، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کیلئے عمران خان ایلیٹ فورس کی جیمر کی گاڑی میں پہنچیں گے۔ پیر کی صبح تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے سلسلے میں عمران خان کے وکلاء نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے انتظامی سطح پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔جبکہ جسٹس عابد عزیز شیخ نے بطور انتظامی جج عمران خان کی گاڑی کوہائیکورٹ کےاحاطےمیں داخلے کی اجازت مسترد کر دی۔ اور ہائی کورٹ میں پیشی کے حوالے سے عمران خان سے ان کی قانونی ٹیم دوبارہ مشاورت کرے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    یاد رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملےکےکیس عمران خان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد عمران خان نے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کے مختلف دستخط کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں آج (پیر20 فروری ) طلب کیا تھا۔

    تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ عمران خان آج عدالت ضرور پیش ہوں گے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے باہر مظاہرہ کرنے اور رکن قومی اسمبلی پر حملے کے کیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • لایور ہائی کورٹ میں عمران خان کیخلاف گھڑی چور کے نعرے

    لایور ہائی کورٹ میں عمران خان کیخلاف گھڑی چور کے نعرے

    لایور ہائی کورٹ میں عمران خان کیخلاف گھڑی چور کے نعرے
    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وکلاء اور لوگوں کے عمران خان کے خلاف گھڑی چور گھڑی چور کے نعرے لگ گئے ہیں کیونکہ آج عمران خان عدالت میں پیش ہورہے اس لیئے لوگوں نے ان کی پیشی پر نعرے لگائے ہیں.

    صحافی ملک رمضان اسراء نے ویڈیو ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کے خلاف احاطہ عدالت میں گھڑی چور گھڑی چور کے نعرے لگ گئے ہیں . جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ اس چور کے خلاف ایسے ہی نعرے لگنے چاہئے کیونکہ یہ ایک جھوٹا اور ذانی انسان ہے جس نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے.


    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کے خلاف کئی بار ایسے نعرے لگ چکے ہیں اور اس کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارف نے کہا کہ "یہ دن بھی دیکھنا پڑنا تھا ۔۔۔۔تمام سیاسی جماعتوں کو کرپٹ اور چور کہنے والے عمران خان کیخلاف بھی گھڑی چور گھڑی چور کے نعرے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    علاوہ ازیں گزشتہ سال کو لاہور کے جیلانی پارک میں پنجاب حکومت کے ونٹر فیملی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں بھی شہریوں نے عمران خان کے خلاف نعرے لگائے تھے جبکہ خواتین اور بچے ’’گھڑی چور‘‘ کے نعرے لگاتے رہے . لاہور کے جیلانی پارک میں پی ایچ اے کے زیر اہتمام ونٹر فیملی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے اس وقت کے سینئرصوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے خطاب کے دوران عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی. جبکہ عمران خان کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں نے اسٹیج کی طرف بڑھنے کی کوشش کی توسکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا تھا.

  • صدر مملکت نے پنجاب اورخیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دیدی

    صدر مملکت نے پنجاب اورخیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دیدی

    صدر مملکت عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دیدی

    صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9اپریل اتوار کو الیکشن کرائے جائیں، الیکشن کمیشن ایکٹ کے سیکشن 57 دو کے تحت شیڈول جاری کرے،آئین کے تحت آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا، کسی بھی عدالتی فورم کی جانب سے کوئی حکم امتناع نہیں ،آئین اور قانون 90 دن سے زائد کی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا، آئین کی خلاف ورزی سے بچنے کیلئے الیکشن کی تاریخ دیناآئینی فرض سمجھتا ہوں دونوں گورنرز الیکشن کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے،الیکشن کمیشن بھی انتخابات کرانے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا،

    صدر کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے کل ہنگامی اجلاس طلب کرلیا جس میں صدر کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے لیٹر ملنے کے بعد الیکشن کمیشن قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہناہے کہ صدر مملکت اپنے لیڈر کی خواہش پر آزاد آئینی ادارے الیکشن کمیشن پر دباو نہ ڈالیں، وفاقی وزیر پی پی رہنما قمر زمان کائرہ نے صدر مملکت کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دیے جانے پر ردعمل میں کہا کہ دو اسمبلیوں کے انتخابات ہیں، صدر کا کوئی تعلق نہیں‘ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا صدر مملکت کا اختیار نہیں ،وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ کیا صدر مملکت نےانتخابات کی تاریخ دینے سے پہلے الیکشن کمیشن سے مشاور ت کی؟ صدر مملکت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنے طور پر انتخابات کا اعلان نہیں کر سکتے،

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ صدر علوی ”آ بیل مجھے مار“ والے کام نہ کریں، آئین کی حد میں رہیں، صدر کے دفتر کو بلیک میلنگ کا اڈہ نہ بنائیں؛ الیکشن کی تاریخ دینے سے صدر کا کوئی لینا دینا نہیں، عارف علوی خوامخواہ ٹانگ نہ اڑائیں، صدر الیکشن کمشن کو غیرقانونی اور غیر آئینی احکامات پر مجبور نہیں کر سکتا۔ الیکشن کمشن آپ کا غلام نہیں کہ جو آپ کہیں وہ مانے۔ عمران نے معیشت، خارجہ تعلقات اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایا، اب ریاستی سربراہ کے منصب کو سازش کے لئے استعمال کر رہے ہیں،

  • عدالت پیشی کے لئے عمران خان روانہ

    عدالت پیشی کے لئے عمران خان روانہ

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں حاضری کیلئے زمان پارک سے سخت سیکیورٹی میں روانہ ہو گئے ہیں

    عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما بھی موجود ہیں، پی ٹی آئی کارکنان بھی عمران خان کے ساتھ موجود ہیں، عدالت پیشی کے لئے روانگی سے قبل عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم حق اور سچ کی آواز بلند کرتے ہیں گے ،عدالتوں کا احترام کرتاہوں ، آج عدالت میں پیش ہو رہا ہوں جیل بھرو تحریک سے پیچھے نہیں ہٹوں گا عدالت نے جب بھی بلایا پیش ہوا سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت اوراداروں کی ذمہ داری ہے ملک میں ظلم اور نا انصافیاں ہورہی ہیں، عدالت کو اس کا بھی نوٹس لینا چاہیے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان تاحال لاہور ہائیکورٹ نہیں پہنچ سکے جسٹس علی باقر نجفی کے عدالتی عملہ نے عمران خان کے وکیل کو ہدایات پہنچا دیں، عدالتی عملہ نے کہا کہ عمران خان کی درخواست پر سماعت کیلئے مزید 10 منٹ تک انتظار کیا جائے گا، 10منٹ کے بعد ججز صاحبان ہائیکورٹ سے روانہ ہوجائیں گے، وکلاء کی جانب سے کچھ دیر تک عمران خان کی پیشی کی یقین دہانی کروائی گئی وکلاء نے ہدایات چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پہنچا دیں

    واضح رہے کہ دہشتگردی کیس میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ کچھ دیر بعد سماعت کرے گا مران خان کی وکلا ٹیم نے نئی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی ،درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے عدم پیروی کی بنا پر درخواست مسترد کی ،سکیورٹی معاملات اور وہیل چیئردستیاب نہ ہونے سے عدالت پہنچنے میں تاخیر ہوئی عدالت عدم پیروی کی بنا پر مسترد درخواست کی دوبارہ سماعت کرے

  • عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں اسد عمر سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا

    عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں اسد عمر سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے دہشتگردی کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور علی نواز اعوان سمیت 9 ملزمان کو کل طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کےخلاف احتجاج پردرج دہشتگردی کے مقدمے میں 9 ملزمان کو کل طلب کیا ہے جس میں اسد عمر اور علی نواز اعوان بھی شامل ہیں۔

    عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں شریک ملزمان کو کل عدالت طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے صبح 9 بجے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا۔ قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اس کیس میں عبوری ضمانت خارج ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ فیصلے کے خلاف احتجاج پر درج مقدمے میں عمران خان کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کردیئے۔

    عمران خان کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات نکالنے کی درخواست پر اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے بائیومیٹرک نہیں کرائی جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر التوا مقدمے کی دستاویزات منسلک نہیں کی گئی۔

    عمران خان اور علی اعوان کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری اور علی بخاری کی وساطت سے دائر درخواست میں عمران خان کی پٹیشن کے حتمی فیصلے تک ایف آئی آر کا آپریشن فوری معطل کرنے کی استدعا کی گئی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی ایما پر عمران خان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ پر امن احتجاج بنیادی حق ہے اور دہشت گردی کا مقدمہ سیاسی انتقام ہے۔

    درخواست گزاروں نے متعلقہ پولیس افسران کو وقتا فوقتاً آگاہ کیا، کیس میں دہشت گردی کی دفعات نہیں بنتی موجودہ سیاسی صورتحال میں درخواست گزاروں کے خلاف جھوٹا دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا عدالت مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات حذف کرنے کا حکم دے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او اور پراسیکیوٹر اے ٹی سی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اس کیس میں عبوری ضمانت خارج ہوچکی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے آج ہی اسٹے آرڈر لینے کےلیے کاوشیں تیز کردی ہیں عمران خان نے دہشتگردی کے مقدمے کی کارروائی کے لیے ایک درخواست دائر کی ہے جسے آج ہی سننے کی استدعا کی ہے۔

  • عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    لاہور:عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں گرفتاری سے متعلق ایف آئی اے نے بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نےعمران خان کی گرفتاری سے متعلق مختلف نیوز چینلز پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،نیوز چینلز پر اس حوالے سے چلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں-

    پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ،وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل

    واضح رہے کہ یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ ایف آئی اے نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے،خبریں تھیں کہ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے لاہور کی 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے،ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز خان ورک کی قیادت میں ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتار کرے گی۔ عمران خان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد سے آئی ہوئی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

    عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    ایف آئی اے ذرائع کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے پہلے عمران خان کو زمان پارک سےگرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر کارکنوں کے شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے اب ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اور پولیس نے تیاری مکمل کر لی ہے،پولیس ایف آئی اے کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ایف آئی اے اور پولیس کے اعلی حکام نے اس سلسلے میں وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ وکلاء سے تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

  • عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    لاہور،عمران خان کی پارٹی سینئر رہنماوں سے مشاور ت جاری ہے،لاہور ہائیکورٹ میں پیشی اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی مشاورت کی جائے گی-

    باغی ٹی وی :فوادچودھری ،شفقت محمود،حماداظہراوردیگر مشاورتی اجلاس میں شریک ہیں جبکہ پی ٹی آئی رہنماوں کی قافلوں کی صورت میں زمان پارک آمد کاسلسلہ جاری ہے،پی ٹی آئی کارکنوں کی گاڑیوں کے باعث کینال روڈ پر ٹریفک سست روی کا شکار ہوگئی-

    زمان پارک میں عمران خان کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ جہاں جہاں عدالتوں نے عمران خان کو بلایا وہ پیش ہوئے،عمران خان پر 70سے زائد مقدمات درج ہیں،عمران خان کی جان کو سیریس تھریٹس ہیں،لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو پیشی کیلئے بلایا ہے،عمران خان نے ہمیشہ عدالتوں اور قانون کااحترام کیا ہے-

    فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان 5 بجے لاہورہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، عدالت کے سامنے عمران خان کی میڈیکل رپورٹس بھی رکھیں ،ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہر قسم کی دھکم پیل سے بچانا ہے،جو سیکیورٹی خدشات ہیں ان کا ذکر عمران خان صاحب خود بھی کر چکے ہیں-

    حماداظہر نے کہا کہ عمران خان آدھے گھنٹے میں زمان پارک سے لاہورہائیکورٹ کیلئے روانہ ہوں گے،عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے-

  • مریم نواز کے ہاتھ میں گلاس کیوں ہوتا؟ خود ہی حقیقت بتا دی

    مریم نواز کے ہاتھ میں گلاس کیوں ہوتا؟ خود ہی حقیقت بتا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما مریم نواز ہاتھ میں گلاس پکڑے ہمیشہ نظر آتی ہیں، مریم نواز کے گلاس میں کیا ہوتا ہے اور یہ گلاس انکے ہاتھ میں کیوں ہوتا ہے اس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث چلتی رہی تا ہم اب مریم نواز نے خود اس گلاس کے بارے میں بتا دیا ہے

    نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مریم نواز سے اینکر سلیم صافی نے سوال کیا کہ جادو ٹونے سے مجھے یاد آیا کہ آپ بھی ایک مخصوص قسم کا گلاس ہاتھ میں لیے پھرتی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ جادو سے بچنا چاہتی ہیں؟ جس کے جواب میں ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ جو گلاس کی آپ نے بات کی وہ بھی سن لیں وہ میرا کافی کا مگ ہے اگر ایک تجسس برقرار ہے تو رہنے دیں ، اینکرسلیم صافی نے پھر استفسار کیا کہ یہ جادو ٹونے کا اثر توڑ دیں یہ جادو کرنے کے لیے نہیں ہے جس پرن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ جادو ہمارے دین میں حرام ہے

    مریم نواز گھر میں ہوں، سفر میں یا کسی میٹنگ میں، گلاس ہمیشہ مریم نواز کے ہاتھ میں نظر آتا ہے ،کار میں سواری کے دوران اور ملاقاتوں کے وقت بھی گلاس مریم کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے، مریم نواز سے اس گلاس کے بارے میں پہلے بھی ٹویٹر پر ایک صارف کو جواب دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ لسی نہیں پیتی بلکہ اس گلاس میں کافی پیتی ہیں

    مریم نواز کے ہاتھ میں گلاس کیوں؟ حقیقت سامنے آ‌ ہی گئی

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

  • عمران خان پانچ بجے پیش ہوں، عدالت نے دیا آخری موقع

    عمران خان پانچ بجے پیش ہوں، عدالت نے دیا آخری موقع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل استفسارکیا کہ عمران خان کہاں ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کچھ دیر تک لاہور ہائیکورٹ میں پہنچ جائینگے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ہم نے 2 بجے طلب کیا تھا،عمران خان اب تک پیش کیوں نہیں ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ سیکیورٹی اور ٹریفک مشکلات کے باعث عمران خان پیش نہیں ہوسکے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کے انتظامات میں نے تو نہیں کرنے، عمران خان کتنی دیر تک پیش ہوجائینگے؟ عمران خان کی حفاظتی ضمانت کیس کی سماعت 15منٹ تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ جتنی نشستیں ہیں اتنی ہی وکلاء کمرا عدالت میں بیٹھیں،وکیل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مال روڈ پر ٹریفک بہت زیادہ جام ہے،آئی جی پنجاب ایک گھنٹہ دے دیں ہم مال روڈ کلیئر کر دیں گے، عمران خان اپنی حفاظتی ضمانت کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی درخواست کس نے کس کے کہنے ہر فائل کی؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کے دستخطوں سے یہ درخواست فائل نہیں ہوئی،ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہاکہ میں نے کوئی درخواست فائل نہیں کی، وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ میں عدالت سے حفاظتی ضمانت مانگ ہی نہیں رہا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو چاہیے تھا معافی مانگتے، اب میں شوکاز نوٹس جاری کروں گا، آپ تسلی سے جواب تیار کیجیے گا،

    لاہور ہائیکورٹ نے وکلاء کو سیکشن 476 پڑھنے کی ہدایت کی،وکیل نے کہا کہ عدالت اگر کل تک کا وقت دے تو عمران خان پیش ہوجائیں گے، رجسٹرار نے گاڑی مسجد گیٹ سے داخل ہونے کی درخواست بھی مسترد کی، ہمیں کہا گیا تھا کہ مال روڈ ٹریفک کے لیے فری ہوگا ہم نے سیکیورٹی کے معاملے پر پولیس حکام سے ملاقاتیں بھی کیں، عدالت نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کی پیشی پر سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں شوکاز نوٹس اور توہین عدالت کا نوٹس دیتا ہوں،آپ تین ہفتے لے لیں، سکون سے جواب تیار کرلیجیے گا، وکیل خواجہ طارق نے کہا کہ میں عمران خان کو کل ہی پیش کر دوں گا،عدالت نے کہا کہ عمران خان لیڈر اور رول ماڈل ہیں ، وکیل نے کہا کہ ہم آنا چاہتے ہیں لیکن آنے نہیں دیا جا رہا،آپ کسی کو بھی ساتھ بھیج دیں بیشک چیک کرلیں،آپ 4یا5 بجے کےلیے رکھ دیں ہم ابھی پیش کر دیتے ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپکو بار بار موقع دیا، جس طرح آپکو سہولت دی ایسی کسی نے نہیں دی ہوگی،

    لاہو رہائیکورٹ نے عمران خان کو 5بجے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا وکیل نے عدالت کو عمران خان کو 5 بجے تک پیش کرنے کی یقین دہانی کروا دی،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو پیش کرنے کا آخری موقع دے دیا

    عدالت کے باہر پی ٹی آئی کارکنان نعرے بازی کر رہے ہیں تو وہیں زمان پارک میں بھی پی ٹی آئی کارکنان موجود ہیں، عمران خان کی پیشی کے لئے سیکورٹی کے انتظامات سخت کئے گئے ہیں،عمران خان کو ہائیکورٹ کے گیٹ سے جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت تک جانا پڑے گا،ہائیکورٹ کے گیٹ سے کمرہ عدالت تک کا فاصلہ 300 میٹر سے 400 میٹر تک کا ہے