Baaghi TV

Tag: Pakistani politics

  • ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں احسن جمیل گجر اور ان کی اہلیہ فرح گوگی کو طلبی کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف آئی اے نوٹس کے مطابق دونوں کو 17 فروری کو طلب کیا گیا ہے۔

    جبکہ خیال رہے کہ فرح خان سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ خان کی دوست ہیں اور موجودہ حکمراں جماعتوں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جبکہ ان پر الزام ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان نے اپریل 2019 میں تقریباً 28 کروڑ روپے کے تحائف بیچے، پھر ایک مہینے بعد مئی 2019 میں شروع ہوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے تقریباً 33 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا تھا.

    معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ کے مطابق فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کا کہنا تھا کہ فرح خان نے عمران خان کے دور میں نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی کے دور میں ایمنسٹی لی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے 28 اپریل 2022 کو پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں ہی احسن جمیل یہ اقرار کرچکے ہیں کہ فرح نے 2019 میں عمران خان کے دور میں ایمنسٹی لی تھی۔

    فرح گوگی کےشوہر احسن جمیل گجر نے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کےساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ عمرفاروق کو فرح نہیں جانتی، نہ کبھی ان سے رابطہ ہوا، فرح دبئی گئی بھی ہے تو گھڑی کی فروخت سےتعلق نہیں، سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی گھڑی، زیورات کی شوقین نہیں، فرح نےکبھی یہ گھڑی عمران خان کے گھر یا بشریٰ کے پاس نہیں دیکھی۔

    احسن جمیل گجر نے نجی ٹی وی کو بتایا تھا کہ دو ملین ڈالر لے کر ایک خاتون خود کو کیسے محفوظ سمجھ سکتی ہے؟ فرح کی شہزاد اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، نہ میری ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم سے متعلق ہماری ٹیم مؤقف دے چکی ہے، عمران خان کے دور حکومت میں ہم نےکوئی ایمنسٹی نہیں لی، ہم نے شاہد خاقان عباسی کے دور میں 33 کروڑ روپےکی ایمنسٹی لی، شاہدخاقان کے دور میں ایمنسٹی لینےکی دستاویزات موجود ہیں۔

    احسن جمیل گجر نے یہ بھی کہا تھا کہ فرح کی بہن برطانیہ میں مستقل رہائش پذیر ہے، ہمارا ان سےکوئی لینا دینا نہیں، ملک میں زیادتیاں ہورہی ہیں، میں پاگل ہوں کہ اس حکومت کے دوران پاکستان آؤں، جب موجودہ وزیراعظم جائےگا ہم پاکستان آجائیں گے، ہم نے عمران خان سے کوئی مالی فائدہ نہیں لیا۔

  • نیب ترامیم؛ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تمام نیب کیسزکیلیےلارجر بنچ بنانے کا حکم

    نیب ترامیم؛ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تمام نیب کیسزکیلیےلارجر بنچ بنانے کا حکم

    اسلام آباد: نیب ترمیمی ایکٹ چیلنج کرنے کی اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ نیب ترامیم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تمام نیب کیسز لارجر بینچ سنے گا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق نیب ترامیم کے بعد کیسز کے مستقبل سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، سردار مظفر، ڈپٹی پراسیکوٹر نیب، محمد رافع اور یاسر راٹھور پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب کی ترمیم کے بعد کے اثرات کو دیکھنا ہے، کون سا کیس کس عدالت میں جائے گا یا ختم ہو گا یہ فیصلہ بھی ہونا ہے، نیب کے اس نوعیت کے تمام کیسز کو یکجا کر کے لارجر بینچ بنا کر سن لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے عدالت کے رجسٹرار آفس کو تمام کیس یکجا کر کے لارجر بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کردی۔

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کو نیب قانون میں ترمیم سے ریلیف مل گیا۔ احتساب عدالت نے نوازشریف کیخلاف نیب ریفرنس واپس بھجوا دیا، عدالت نے ریفرنس نیب ترمیمی ایکٹ کی بنیاد پر واپس بھجوایا۔نیب ترمیم سے پہلےعدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں نوازشریف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے جائیداد قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ نیب نے جون2020 میں نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایل ڈی اے) فیض رسول اور میاں بشیر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

  • طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی

    طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی

    ڈیرہ اسمٰعیل خان: گومل یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی کے حوالے سے جاری خبروں کی تصدیق ہوگئی ہے،اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کی گومل یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹی فکیشن میں چیف پروکٹر، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز اور سیکیورٹی آفیسر کے دستخط ہیں۔

    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے گراونڈ سمیت کسی بھی جگہ طلبا وطالبات ایک ساتھ نہ بیٹھیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبات صرف کلاس روم اور کامن رومز تک محدود رہیں ، خلاف ورزی کرنے والے طلباء کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    کراچی: پاکستان کے مشہور گلوکار اور اداکار علی ظفر نے پی ایس ایل 8 کے ترانے پر اپنا ردِعمل دے دیا۔پی ایس ایل کےمشہور ترانے’سیٹی بجے گی اسٹیج سجے گا‘ کے گلوکار علی ظفر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہےجس میں انہیں پی ایس ایل 8 کےترانے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    علی ظفر سے سوال کیا گیا کہ ہر پی ایس ایل ترانے کے بعد لوگ علی ظفر کو کیوں یاد کرتےہیں؟ جس کے جواب میں گلوکار کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کا پیار ہے، پی ایس ایل 8 کا ترانہ ابھی ریلیز ہی ہوا ہے، ہمیں اسے کچھ وقت دینا چاہیے۔

    علی ظفرنے پی ایس ایل 8 کے ترانے کے گلوکاروں عاصم اظہر، شے گل اور فارس شفی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان تینوں کے مداح ہیں وہ جو بھی چیز کرتے ہیں اچھی ہوتی ہے۔پی ایس ایل 8 کے ترانے کے بارے میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر سُنا نہیں ہے مگر انہیں اُمید ہے کہ اچھا ہی ہوگا۔

    ساتھ ہی علی ظفر نے عوام کی محبت اور ترانے کیلئے ان کی خواہش پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سُپر لیگ کے آٹھویں سیزن کا آغاز ہو چکا ہے اور اس مرتبہ سپر لیگ کا آفیشل ترانہ پسوڑی گرل شے گل، عاصم اظہر اور فارس شفی نے گایا ہے جو مداحوں کو خاص متاثر نہیں کر سکے تاہم مداح اب بھی علی ظفر کے گائے ہوئے ترانے کو پسند کرتے ہیں۔

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

  • طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    لاہور: حفاظتی ضمانت کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کے لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ طاقتور کوقانون کے نیچے لانے کی بڑھکیں مارنے والا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے ٹوئٹر پربیان میں کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کا عدالت میں قانون کے سامنے پیش نہ ہونا اس ملک کے نظام عدل اور انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔


    اپنے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے، طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا کی بڑھکیں لگانے والا اس ملک کی عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔

  • حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا،عدالتی مہلت گزر گئی لیکن عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق ہدایات لے کر آرہے ہیں، کچھ وقت دے دیں جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دوسری مرتبہ وقفہ کردیا اور سماعت کے لیے 2 بجے کا وقت مقرر کردیا۔

    2 بجےعمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل اظہر صدیق اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ایک اور درخواست ضمانت دائر ہوئی ہے، ڈاکٹر سے میٹنگ ہوئی ہے، عدالت کے حکم پر عمل کے لیے تیار ہیں، ڈاکٹر طارق سلطان یہیں ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونہیں سننا شرط ہے کہ عمران خان پہلے عدالت میں پیش ہوں وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری درخواست ضمانت کا انتظار کرلیں اس پر عدالت نےکہا کہ اس کے انتظار کی ضرورت نہیں، آپ موجودہ درخواست پر دلائل شروع کریں۔

    جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق سے مکالمہ کیا کہ ابھی ایک مسئلہ ہے، درخواست، حلف نامے اورآپ کے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں، دستخط کیسے مختلف ہوگئے۔

    عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دیں، دیکھ لیتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ ابھی دیکھ لیں،کسی نے یہ فراڈکی کوشش کی ہے، اس میں آپ کویا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ میں موجودہ درخواست ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درخواست واپس لینےکی اجازت نہیں دوں گاجب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔

    عدالت کےریمارکس پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دستخط مختلف ہونے پر جواب کے لیے وقت مانگ لیا جس پر عدالت نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس درخواست کو التوا میں رکھ رہے ہیں۔

    عدالت نے سماعت 4 بجے تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ مملکت عارف علوی کو خط لکھا ہے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے صدرمملکت عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عوامی سطح پر نہایت ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔ منظر عام پر آنے والی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ اپنے حلف کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو ئے ہیں جنرل باجوہ نے صحافی سےاعتراف کیا کہ ’ہم عمران خان کو ملک کےلیےخطرہ سمجھتے تھے‘، جنرل باجوہ نےیہ بھی اعتراف کیا کہ ’عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو نقصان ہو گا‘ تحقیق کی جائے کہ جنرل باجوہ کے استعمال کیے گئے اس ’ہم‘ سے کیا مراد ہے؟

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    عمران خان نے صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ منتخب وزیرِ اعظم سے متعلق فیصلہ کریں، فیصلہ صرف عوام کا ہے کہ وہ کسے وزیرِ اعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں، جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین کے آرٹیکل 244 اور آئین میں تیسرے شیڈول میں درج حلف کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنی گفتگو میں نیب کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے شوکت ترین کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کرایا، جنرل باجوہ کا یہ دعویٰ بھی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے، آئین کے تحت افواجِ پاکستان وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈپارٹمنٹ ہے، آئینی نظم کے تحت سویلین حکام یا خود مختار ادارے فوج کے ماتحت نہیں۔

    عمران خان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی وزیرِ اعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز آرمی چیف کے حلف کی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس سوال کا جواب اہم ہے کہ جنرل باجوہ کیوں اور کس حیثیت و اختیار سے خفیہ بات ریکارڈ کرتے تھے۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ پر حکومت کی غیر جانبداریت کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی جنرل باجوہ نے اپنےحلف کےتقاضوں کو پامال کیا، انہوں نے 2 اپریل 2022ء کو سیکیورٹی کانفرنس میں روس و یوکرین جنگ پر حکومتی پالیسی سے متضاد مؤقف اپنایا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نشاندہی کر دوں کہ معاملے پر حکومتِ پاکستان کی پالیسی کو وزارتِ خارجہ اور متعلقہ ماہرین سمیت تمام فریقین میں مکمل اتفاقِ رائے سے مرتب کیا گیا، آئین کا چیپٹر دوم اور خاص طور پر آرٹیکل 243، 244 افواجِ پاکستان کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

    صدر عارف علوی سے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونے کے ناتے آپ کی آئینی ذمے داری ہے کہ آپ معاملے کا فوری نوٹس لیں، تحقیقات کے ذریعے تعین کیا جائے کہ آیا آئین کے تحت آرمی چیف کے حلف کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں؟-

    جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حلف کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی صدر مملکت کو ارسال کر دی گئیں۔

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

  • مریم نواز نے خود کو موجودہ حکومت سے الگ قرار دے دیا

    مریم نواز نے خود کو موجودہ حکومت سے الگ قرار دے دیا

    لاہور: مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے خود کو موجودہ حکومت سے الگ قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی یوتھ نمائندوں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے جس میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ حکومتی کارکردگی کی ذمے دار مسلم لیگ ن نہیں۔

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    پارٹی ذرائع کے مطابق حکومتی ناقص کارکردگی پر اتحادیوں نے ملبہ ایک دوسرے پر گرانا شروع کر دیا ہے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے خود کو موجودہ حکومت سے الگ قرار دے کر پارٹی میں اندرونی اختلافات کی تصدیق کردی ہے-

    یوتھ کے نمائندوں سے ملاقات میں مریم نواز نے کہا کہ میں اس حکومت کا حصہ نہیں ہوں یہ میری حکومت نہیں ہے مریم نواز نے مسلم لیگ ن کو موجودہ حالات سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ہیں۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ اس حکومت کی کارگردگی کی ذمے داری مسلم لیگ ن پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ ہماری حکومت تو تب ہو گی جب نواز شریف پاکستان میں ہوں گے۔ نواز شریف ہی پاکستان کو آگے لے کر جا سکتے ہیں۔

  • خیبر پختو نخوا انتخابات: عدالت نے گورنر کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی

    خیبر پختو نخوا انتخابات: عدالت نے گورنر کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دے دی

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی انتخابات کے سلسلے میں گورنر پختونخوا کو جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دے دی۔

    باغی ٹی وی: 90 روز میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے انتخابات کے لیے دائردرخواستوں پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کےجسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ارشد علی نے کی پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز،شوکت یوسفزئی،شاہ فرمان اور عاطف خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ 2 دن کا وقت دیتے ہیں جس نے جواب جمع کرنا ہے کرلیں، جو نہیں کرنا چاہتے نہ کریں ہم کیس کو سنیں گے۔

    تحریک انصاف کے وکیل معظم بٹ نے کہا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر سے جواب طلب کیا تھا،جس پر عدالت نے کہا کہ ہمارے پاس الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کاجواب آیا ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر سے فوری رابطہ کیا،اس وقت مانسہرہ میں تھا گورنر گزشتہ رات پہنچے 2 دن میں جواب جمع کرا دیں گے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم آئندہ سماعت پر اس کیس کو سنیں گے، ہم درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل شمائل بٹ نے دلائل میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل گورنر کی نمائندگی نہیں کرسکتا-

    آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    جس پر عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے صرف جواب سے متعلق آگاہ کیا ہےایڈووکیٹ جنرل گورنر کی نمائندگی کرسکتا ہے یا نہیں،اس کو ہم دیکھ لیں گے۔

    عدالت نے کہا کہ جواب کے لیے مزید 2 دن دیتے ہیں گورنر دو دن میں جواب جمع کرائیں پیر کے روز اس کیس کو سنیں گے بعد ازاں عدالت نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختو نخوا میں الیکشن سے متعلق درخواست پر صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیادرخواست گزار کے وکیل نے بتایا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابات کیلئے تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری ہے اور اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات کرانا لازمی ہے۔

    جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دئیے تھے کہ قانون کے مطابق 90 روز میں الیکشن کرانا لازمی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر گورنر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو تو پھر کیا ہو گا؟-

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا