Baaghi TV

Tag: Pakistani politics

  • شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد: سابق وفاقہ وزیرداخلہ اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ضمانت کی درخواستیں مجسٹریٹ اور سیشن عدالت سے مسترد کی جاچکی ہیں جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ہے۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ آصف زرداری کے خلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں ، آصف زرداری نےکوئی شکایت نہیں کی، تیسرےفریق کی شکایت پرمقدمہ بنا۔

    درخواست میں کہا گیا ہےکہ جیل میں ہوں، اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں، مچلکے جمع کرانے کے لیے تیار ہوں لہٰذا ضمانت منظور کی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 فروری کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاحکم

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

  • تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    لاہور :الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس جواد حسن نے درخوست پر سماعت کی آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے-

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں،عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گی عملدرآمد کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے ہمیں یقین دہانی چاہیے تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی وکیل نے کہا کہ جوڈیشری،چیف سیکریٹری، فنانس سب نے معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، کیس صرف تاریخ سے متعلق ہے،تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں کیس میں فریق نہیں بنایا جاسکتا-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،کیس میں صدر مملکت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ،عدالت نےکہا کہ ایسا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عملدرآمد نہ کرا سکیں،درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا ،ملک میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کروانا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کو 40 بلین کی رقم مانگے کے باوجود ضمنی الیکشن کے لیے جاری نہیں کی گئی-

    جسٹس جواد حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کے لیےا سٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے،جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے-

    گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں فیڈریشن اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق نہیں بنایا گیا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرے تو پھر گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر گورنر اس پراسس کا حصہ نہ بنے تو پھر گورنر الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے ،کیس میں گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں-

    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے ، صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد از نماز جمعہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 14 جنوری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پرپنجاب کی صوبائی اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی تھی اس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کیا تھا۔

    چنانچہ پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے دائر درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے فوری بعد گورنر کو الیکشن کا اعلان کرنا ہے، گورنر پنجاب الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، 10 روز سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور گورنر پنجاب کی جانب سے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ گورنر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔

  • بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ،غیر سرکاری غیر حتمی نتائج جاری

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ،غیر سرکاری غیر حتمی نتائج جاری

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ، میونسپل کارپوریشنز ، میونسپل کمیٹی، یونین کونسلز کے چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے-

    باغی ٹی وی: غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق میونسپل کارپوریشن سبی میں ڈومکی گروپ، ژوب ، لورالائی اور ڈیرہ مراد جمالی میں بی اے پی،مستونگ میں مستونگ گرینڈالأنس اورجمعیت کے اتحاد نے،پشین ، چمن اور ہرنائی میں پشتونخوا میپ اور اتحادی، ڈھاڈر میں رند پینل ،وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حلقے آواران اور تربت میں نیشنل پارٹی، پنجگور میں بی این پی عوامی،کوہلو میں پی ٹی آئی، ڈیرہ اللہ یار میں فائق جمالی کے عوامی پینل، ڈیرہ بگٹی میں جے ڈبلیو پی ، خضداراور سوراب میں پیپلزپارٹی اور اتحادیوں نےمیئرکی نشستیں جیت لیں ،سبی کے میونسپل کمیٹی میں ڈومکی پینل کے 31 اور اپوزیشن سبی کے 11 کونسلروں کی متفقہ رائے سے ڈومکی پینل کے سردار محمد خان خجک کو بلا مقابلہ میونسپل کمیٹی سبی کا چیئرمین اور ڈومکی پینل کے امیدوار سردار زادہ دینار خان ڈومکی بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہو گئے ۔قلات میں بلدیاتی انتخابات میں کچھ یونین کونسلوں پر چیئرمین اور وائس چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہوگئے اور دیگر یونین کونسلوں پر انتخابات ہوئے-

    یوسی نمبر 1نیمرغ پی پی کے عبدالخالد بلامقابلہ چیرمین اور پی پی کے محمد عمر بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ، یوسی نمبر 2 یوسفزئی الخالد پینل کے محمد جان اور الخالدپینل کے علی نواز چیرمین وائس ، یوسی نمبر 4 ملکی پی پی کے آغاعرفان کریم احمد زئی بلامقابلہ چیرمین اور پی پی کے محمد ابراہیم وائس چیرمین ، یوسی نمبر 5 اسکلکو پی پی کے غلام مصطفی چیرمین اور پی پی کے شیر محمدوائس چیرمین منتخب ہوگئے-

    یوسی نمبر 7 پندران پی پی کے محمد یوسف چیئرمین اور پی پی کے میر عبدالخالق وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 8 محمدتاوہ بی این پی کے حفیظ اللہ بلامقابلہ چیئرمین اور آزاد امیدوار بہاول خان وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 9 بینچہ پی پی کے عبدالوحید چیئرمین اور پی پی کے وائس چیئرمین الطاف حسین، یوسی نمبر 10 سالارزئی نیشنل پارٹی کے کامران عزیز چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے محمد ابراہیم وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 11 سور رحمت زئی الخالدپینل کے شیرمحمد بلامقابلہ چیئرمین اور الخالدپینل خیرمحمد بلامقابلہ وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 12 زرد غلام جان جمعیت علمائے اسلام کے خلیل الرحمٰن بلامقابلہ چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے مولوی ریاض الحق قریشی بلامقابلہ وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 13 زہرازئی الخالدپینل حاجی عبدالحمید زہرازئی لانگو بلامقابلہ چیئرمین اور الخالدپینل کے فیض الرحمٰن سمالانی بلامقابلہ وائس چیئرمین ، یوسی نمبر 14 کوہک نیشنل پارٹی کے میربہاول خان محمدشہی چیئرمین اور نیشنل پارٹی کے خالد محمود محمدشہی وائس چیئرمین اوریونین کونسل نمبر16 گزگ جمعیت علماء اسلام کےحافظ محمد قاسم لہڑی بلامقابلہ چیئرمین اور الخالدپینل کے داد محمد لہڑی بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ یونین کونسل 3 چھپر ، یونین کونسل نمبر 6 نیچارہ ، یونین کونسل نمبر 15 جوہان ، میونسپل کمیٹی نمبر 1 قلات اور میونسپل کمیٹی نمبر 2 خالق آباد منگچر میں مخصوص نشستوں پر انتخابات کے بعد حلف برداری اور چیرمینوں و وائس چیئرمین وں کے انتخابات کا اعلان کیا جائے گا-

    نوکنڈی میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلےمیں خان سنجرانی پینل نے ایک دفعہ پھر میدان مار لیا چیئرمین اور وائس چیئرمین کیلئےتمام امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ، یونین کونسل 21 نوکنڈی کے چیئرمین میر عبدالودودخان سنجرانی منتخب ہوئے جو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کے کزن ہیں اسی طرح یو سی 21 کے وائس چیئرمین صدام مشوانی منتخب قرار پائے یونین کونسل 20 نوکنڈی کے چیئرمین اسفندیار خان یارمحمدزئی اور وائس چیئرمین داؤد خان ایجباڑی بلامقابلہ منتخب ہوگئے چاروں منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین کا تعلق خان سنجرانی پینل سے ہے۔

    ژوب میں بی اے پی کے امیدوار سردار ناصر خان ناصر میونسپل کمیٹی کے چیئرمین اور تحریک انصاف کے داؤد خان مندوخیل ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے،پی ڈی ایم کے امیدوار کامیاب نہ ہو سکے ، غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سردار ناصر خان ناصر نے 32 ووٹ لیکر چیئرمین میونسپل کمیٹی جبکہ انکے اتحادی تحریک انصاف کے داؤد خان مندوخیل نے 33 ووٹ لیکر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے اسی طرح پی ڈی ایم کے امیدوار برائے چیئرمین قطب خان مندوخیل نے 22 ووٹ ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار نور محمد صافی نے 23 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے اسی طرح یونین کونسل گستوئی مندوخیل پر چیئرمین گل مرجان ساقی خیل اور ملا حسن خان جانی خیل ڈپٹی چیئرمین یونین کونسل سمبازہ ون پر چیئرمین محمود خان اور ڈپٹی چیئرمین قدیر خان مندوخیل بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔

    ضلع کچھی مین بلدیاتی انتخابات میونسپل کمیٹی ڈھاڈر میں رند پینل نے میدان مار لیا چیئرمین سید فرید احمد شاہ دوپاسی اور وائس چیئرمین حاجی محمد یوسف رند بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔جبکہ صدر ڈھاڈر اور بالاناڑی کے دیگر یونین کونسلوں پر بھی آر او ڈھاڈر نے کونسلران سے حلف لیااور الیکشن کرائے یونین کونسل مٹھڑی سے گیلو پینل کے نامزد امیدوار حاجی تاج محمد رئیسانی بلامقابلہ صدر جبکہ وائس چیئرمین فضل الرحمان منتخب ہوئے یونین کونسل ایری سے چیئرمین گیلو پینل میر زوہیب بنگلزئی جبکہ وائس چیئرمین رند پینل کے نصراللہ منتخب ہوئے اسی طرح یونین کونسل مشکاف سے گیلو پینل کے وڈیرہ عبدالسلام کھوسہ چیئرمین وائس چیئرمین خیر محمد بنگلزئی منتخب ہوئے یونین کونسل کاموئی سے گیلو پینل کےآدم خان بنگلزئی چیئرمین وائس چیئرمین محمد گل جلبانی منتخب ہوئے یونین کونسل کوٹ رئیسانی سے گیلو پینل کے چیئرمین ٹھیکیدار محمد انور بھٹو وائس چیئرمین عبدالحق بنگلزئی منتخب ہوئے-

    یونین کونسل چنڈر سے گیلو پینل کے فیض محمد چیئرمین جبکہ وائس چیئرمین عبدالفتح بنگلزئی منتخب ہوئے یونین کونسل حاجی شہر سے چیئرمین حاجی میر محمد ہاشم شاہوانی وائس چیئرمین حاجی ابراہیم بلامقابلہ منتخب ہوئے۔دکی میونسپل کمیٹی پر ملک کلیم اللہ ترین پینل کے ملک کلیم اللہ ترین بلامقابلہ چیئرمین اور حیات اللہ شادوزئی بلامقابلہ ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ علاقہ لونی کے 7یونین کونسلز پر سردارخوشدل خان لونی پینل نے میدان مارلیا جبکہ دیگریونین کونسلز پر یو سی 16اور 17پر عوامی اتحاد نے میدان مارلیا 16_ویالہ دکی پر سردارعالم زیب خان ترین چیئرمین اور صالح محمد ڈپٹی چیئرمین یو سی 17پر دلاور خان ترین چیئرمین اور ڈاکٹرمحمدعثمان ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ۔

    یو سی 8تھل چوٹیالی سے صحبت خان ترین چیئرمین عمرجان ترین ڈپٹی چیئرمین یو سی 10 غربی تھل سے محمدعثمان چیئرمین فیض محمد ڈپٹی چیئرمین یو سی 18سے آزاداتحاد پینل کےمحمداخلاص بلوچ چیئرمین غلام مصطفی ڈپٹی چیئرمین یونین کونسل 14پر حاجی محمدرسول چیئرمین محمدرحیم ڈپٹی چیئرمین یونین کونسل 15سےحاجی محمدیونس چیئرمین محمدانور ڈپٹی چیئرمین یونین کونسل 13سے ریٹائرڈ سوشل ویلفیئر آفیسر حاجی دلبر ناصر چیئرمین اور عبدالمالک ناصر ڈپٹی چیئر مین یونین کونسل 12سے حاجی فتح محمد ناصر چیئرمین اللہ نور ڈپٹی چیئرمین یو سی 11 سے حاجی خیراللہ ناصر چیئرمین ولی جان زرکون ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ میونسپل کمیٹی اور یو سی 16اور17پرکامیابی حاصل کرنے پرعوامی اتحاد پینل کیجانب سے شہر میں ریلی نکالی گئی۔

    آواران میں میونسپل کمیٹی ٹائون اواران کے چیئرمین نیشنل پارٹی آواران کے ضلعی صدر عابد حسین نے دس ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ باپ پارٹی کے نصیر احمد نے چھ ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہےمیونسپل کمیٹی آواران ٹاؤن کے وائس چیئرمین بی این پی کے ضلعی صدر میر حبیب اللہ محمد حسنی دس ووٹ حاصل کر کے کامیاب اور باپ پارٹی کے بختیار احمد چھ ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ ضلع آواران کے ٹوٹل 9 یونین کونسلوں کی چیئرمین شپ اور وائس چیئرمین شپ میں چھ یوسی کے چیرمین اور وائس چیئرمین کیلئے باپ کے امیدوار بلامقابلہ برتری حاصل ہوئی جبکہ تین سے اتحادی بازی لےگئے۔

    یوسی نمبر1نوکجو مشکے سے چیئرمین سلال گل جبکہ وائس چیئرمین منصور احمد منتخب ہوئے،تحصیل مشکے سے یوسی نمبر 2 پروار سے چیئرمین محمد اکرم میروانی جبکہ وائس چیئرمین مسلم لعل منتخب ہوئے۔یوسی نمبر 3 کورک جھاؤ سےمیر نصیر احمد بزنجو چیئرمین اور وائس چیئرمین جمال منتخب ہوئے،یوسی نمبر 4 واجہ باغ جھاؤ سے یوسی چیئرمین میر جمیل احمد بزنجو اور وائس چیئرمین ثناءاللہ منتخب ہوئے-

    یوسی نمبر 5 ارہ کنڈ جھاؤ سے علی یوسی چیئرمین اور صادق وائس چیئرمین منتخب ہوئے،یوسی نمبر 6 کیمپ جھاؤ محمد کریم عمرانی یوسی چیئرمین جبکہ خداد بزنجو وائس چیئرمین منتخب ہوئے،آواران کے تحصیل جھاؤ یوسی 7 شندی سے باپ پارٹی کے رہنما اورنگزیب بزنجو یوسی چیئرمین اور اللہ یار میروانی وائس چیئرمین منتخب ہوئے،یوسی نمبر 8 گیشکور کے چیئرمین محمد اقبال اور وائس چیئرمین اللہ بخش منتخب ہوئے، یو نمبر 9 سی گیشکور کے چیئرمین اللہ داد ساجن جبکہ وائس چیئرمین محمد اسماعیل منتخب ہوگئے۔پنجگور میں میونسپل کارپوریشن چتکان خدابادان اور میونسپل کمیٹی وشبود میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے میدان مار لیا جبکہ میونسپل کمیٹی تسپ میں آزاد امیدوار میر عبدالرحمٰن بلا مقابلہ چیئرمین اورشیر علی وائس چیئرمین منتخب ہو گئے-

    غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق میونسپل کارپوریشن چتکان خدابادان سوردو میں بی این پی عوامی کے شکیل احمد نے 28 ووٹ لیکر میئر جبکہ بی این پی عوامی کے حاجی عبدالباقی بلوچ نے 26 ووٹنگ لیکر ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے جبکہ اس کے مدمقابل نیشنل پارٹی کے شبیر احمد نے 11 ووٹنگ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وشبود میں بی این پی عوامی کے نوراحمد ایڈوکیٹ چیئرمین جبکہ ذاکر علی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے،میونسپل کمیٹی تسپ میں آزاد امیدوار میرعبدالرحمٰن بلا مقابلہ چیئرمین جبکہ نیشنل پارٹی کے شیر علی وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔پنجگور کے کل 20 یونین کونسلوں میں سخت مقابلے کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے 8اور نیشنل پارٹی کے بھی 8 چیئرمین منتخب ہوگئےجبکہ دو یونین کونسلوں میں جمعیت علماء اسلام اور دو یونین کونسلوں میں بی این پی اپنا یو سی چیئرمین منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئے۔

    بھاگ سےنامہ نگارکے مطابق میونسپل کمیٹی بھاگ میں مفتی کفایت اللہ بلا مقابلہ چیئرمین ، رئیس محمد عثمان ہانبھی وائس چیئرمین منتخب ہوئے ۔ یونین کونسل نوشہرہ سے چیئرمین وڈیرہ عبدالواحدمندرانی،وائس چیئرمین میر طارق خان حاجیجہ منتخب ہوئے،یونین کونسل محرم سے چیئرمین عبدالمستقیم کٹبار،وائس چیئرمین سید محبوب علی شاہ منتخب ہوئے،یونین کونسل جلال خان سے چیئرمین سردارزادہ بابو شیردل خان مغیری،وائس چیئرمین نوید اکبر بلوچ منتخب ہوئے،یونین کونسل پہوڑ سے چیئرمین عبدالستار بنگلزئی،وائس چیئرمین عزیزاللہ ابڑو منتخب ہوئے،یونین کونسل حامد بستی سے چیئرمین محمد اقبال سولنگی،وائس چیئرمین محمد عظیم منتخب ہوئے-

    یونین کونسل چھلگری سے چیئرمین محمد اسلم منتخب ہوئے۔مستونگ میونسپل کمیٹی کے لئے عوامی پینل کے نامزد امیدوار سردار شاہ زمان علیزئی چیئرمین اور سردار زادہ میر مختیار الزمان محمد شہی وائس چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ مستونگ کی 27 یونین کونسلز میں جمعیت علماء اسلام اور گرینڈ الائنس کے اتحاد نے واضح برتری حاصل کرکے 16 یونین کونسلز کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستیں جیت لیں، چیف آف ساراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کے فرزند نوابزادہ رئیس رئیسانی نے اپنی یونین کونسل کی چیئرمین شپ جیت لی، وہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کے لئے مضبوط امیدوار کے طور پرسامنے آگئے۔

    کوہلو میں ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا،میر نصیب اللہ مری کے حمایت یافتہ سردارزادہ شیر افغان زرکون چیئرمین منتخب ہو گئے، کوہلو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون وائس چیئرمین منتخب ہوئی۔23یو نین کونسلوں میں سے 11کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 8یونین کونسلوں میں اپنے چیئرمین منتخب کرانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دو یونین کونسلز میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات روک دیئے گئے۔

    کاہان میں منعقد ہونے والے 10یونین کونسلز کے نتائج موصول نہ ہوسکے۔کامیاب یونین کونسل چیئرمینوں میں میر نثار احمدمری،میر مہروز مری،نذیراحمد مری،جھنڈا خان مری،شمس الحق مری،زنگل خان،جمیل احمد،وسیم اکرم،محمد بخش پوادی،حبیب الرحمن،وڈیرہ نیاز محمد شامل ہیں۔نوشکی میں یونین کونسل 1 گزنلی سے میر فتح محمد بادینی چیئرمین ، حاجی مجیب الرحمٰن وائس چیئرمین یونین کونسل 2 خیصار میر عزیز احمد مینگل چیئرمین محمد الیاس مینگل وائس چیئرمین ، یونین کونسل کیشنگی 3محمد انور مینگل چیئرمین عنایت اللہ مینگل وائس چیئرمین یونین کونسل 5 جمالدینی ٹکری شفیع محمد جمالدینی چیئرمین ہدایت اللہ جمالدینی وائس چیئرمین ، یونین کونسل 6 مینگل میر محمد علی خان مینگل چیئرمین ملک شبیر احمد مینگل وائس چیئرمین یونین کونسل 8 قادر آباد محمد صادق مینگل چیئرمین اعجاز الحق وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 10باغک مل میر عبد الرحمان لانگو چیئرمین شبیر احمد ساسولی وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 11 احمد وال سردار زادہ خلیل احمد محمد حسنی چیئرمین میر ثناء اللہ لانگو وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 13 عبد الحمید بادینی چیئرمین محمد اقبال محمد حسنی وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 14 میر منظور احمد گورگیج چیئرمین حافظ محمد عابد وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 15 ڈاک میر آزاد خان مینگل چیئرمین میر منصور احمد مینگل وائس چیئرمین یونین کونسل نمبر 16 انام بوستان عبد الرازق نورزی چیئرمین ثناء اللہ محمد حسنی وائس چیئرمین منتخب ہوگئے-

    149 کونسلروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا یونین کونسل 3 کیشنگی سے میر محمد انور مینگل ا ور میر سیلمان مینگل نے پانچ پانچ ووٹ حاصل کیے ٹاس کےذریعے میر محمد انور مینگل کامیاب قرار پائے۔ضلع کچھی کی تحصیل مچ کی ایک میونسپل کمیٹی اور2 یونین کونسلوں میں گیلو گروپ نے میدان مار لیا جبکہ ایک یو سی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور رند گروپ کے وائس چیئرمین منتخب ہو گئےغیر حتمی نتائج کے مطابق ایک میونسپل کمیٹی، دو یونین کونسلوں کے چیئرمین و وائس چیئرمین گیلو گروپ کے بلا مقابلہ منتخب ہوئے ایک یونین کونسل آب گم پر الیکشن ہوئے،میونسپل کمیٹی مچ کے چیئرمین میر سعد کرد اور وائس چیئرمین ٹکری میر سودا گر سمالانی یونین کونسل کولپور کے لئے چیئرمین سردار توکل خان کردُ وائس چیئرمین ماما عبدالقدوس سمالانی جبکہ سردار ساتکزئی یونین کونسل سے اسد اللہ سمالانی کو چیئرمین اور وائس چیئرمین عطا اللہ بنگلزئی بغیر مقابلہ منتخب ہوئے-

    یونین کونسل آب گم میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حاجی میر مولا داد راہیجہ 6 ووٹ لے کے منتخب ہوئے جبکہ اس کے مد مقابل گیلو گروپ کے امیدوار میر محمد قدوس کھیازئی نے 3 ووٹ حاصل کیے رند گروپ کے وائس چیئرمین کے امیدوار مبارک شاہ 6 ووٹ لے کے کامیاب ہوئے اس کے مد مقابل گیلو گروپ کے امیدوار عبدالرو ف کھیازئی 3 ووٹ حاصل کئے ۔لورالائی میونسپل کمیٹی لورالائی چیئرمین بلوچستان عوامی پارٹی کے عزیز الرحمن پٹھان اور وائس چیئرمین آزاد امیدوار محمد طاہر ناصر بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ یونین کونسل نمبر 1 سے چیئرمین پی پی پی کے امیدوار شیردل جوگیزئی اور وائس چیئرمین نور محمد منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 2 سےجمعیت علمائے اسلام کے مولوی شوکت اور عبدالشکور منتخب ہوئے۔ یونین کونسل 4 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار جعفر خان اور وائس چیئرمین شاہ فیصل ملازئی منتخب ہوئے-

    یونین کونسل 5 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار داود خان چیئرمین اورکشمیر خان وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل 6 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے فرید خان چیئرمین اور سلطان محمد وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 7 سے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار قاضی اسلم چیئرمین اور نواب خان وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل 8 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے اصغر خان چیئرمین اور حاجی عبدالمجید ناصر وائس چیئرمین تخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 9 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد عیسیٰ چیئرمین اور نصیر الدیں وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل 10 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار حبیب الرحمن چیئرمین اور امین اللہ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔

    یونین کونسل نمبر 11 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ہزار خان چیئرمین اور نوروز شیخ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 12 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار عبدالباری چیئرمین اور آمان اللہ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل 13 سے پشتونخوا میپ کے امیدوار حاجی عبدالواحد چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے مولوی محمد اکبر وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 14 سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار محمد ابراہیم کنڈی چیئرمین اور محمد ہاشم غورنی وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 16 سے پی ٹی آئی کے امیدوار نقیب اللہ کاکڑ چیئرمین اور جمیعت علمائے اسلام کے عبدالرشید وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔

    یونین کونسل نمبر 17 سے پی پی پی کے امیدوار حبیب اللہ چیئرمین اور محمد امین کاکڑ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 18 سے پی پی پی کے امیدوار عبداللہ چیئرمین اور محمد رفیق کاکڑ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 19 سے پی پی پی کے امیدوار مسعود خان کاکڑ چیئرمین اور بسم اللہ وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔یونین کونسل نمبر 20 پی پی پی اور جمیعت علمائے اسلام کے مشترکہ امیدوار خوشحال خان کاکڑ چیئرمین اور عبدالستار وائس چیئرمین منتخب ہوئے جبکہ یونین کونسل نمبر 21 سے پی پی پی کے امیدوار پیر محمد حمزازئی چیئرمین اور مزار خان حمزازئی وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔

    جعفرآباد میں 20 یونین کونسلوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب میں فائق جمالی کے عوامی پینل نے میدان مارلیا چھ یونین کونسلو پر جمالی پینل جبکہ ایک پر جماعت اسلامی کا پینل کامیاب ہوا۔ ضلع کونسل میں 20 میں سے 14 یونین کونسلوں پر چیئرمین اور وائس چیئرمین بلامقابلہ منتخب جبکہ چھ یونین کونسلوں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب کے لئے ووٹنگ ہوئی۔

    غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق یونین کونسل نمبر ایک جڈھیر پر عوامی پینل کے عبدالوہاب بگٹی 8 ووٹ لے کر چیئرمین جبکہ عبدالسلام عمرانی بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوئے یوسی نمبر 2 مانجھوٹی میں جماعت اسلامی کے مٹھا خان بادینی ، چیئرمین جبکہ منظور احمد وائس چیئرمین منتخب یوسی نمبر3 رمزے پور میں زبیر عباس چیئرمین جبکہ محمد رفیق وائس چیئرمین منتخب ،یوسی 4 بگو بند میں سہیل احمد چیئرمین جبکہ بخش علی وائس چیئرمین منتخب یوسی 5 سموں میں ۔پیربخش۔ چیئرمین جبکہ سوناخان وائس چیئرمین منتخب یوسی 6 میںگھاڑی میں احسان علی ۔ چیئرمین جبکہ گل حسن۔وائس چیئرمین منتخب ۔ یوسی 7 بندمانک میں نظرحسین ۔ چیئرمین جبکہ حبیب اللہ وائس چیئرمین منتخب ۔

    یوسی 8 تھرڑی میں سجادعلی۔ چیئرمین جبکہ خادم حسین ۔وائس چیئرمین منتخب۔ یوسی 9 حفیظ آباد میں مٹھا خان ۔7 ووٹ لے کر چیئرمین جبکہ۔محمد مرید وائس چیئرمین منتخب ۔یوسی 10 میں روجھان جمالی میں برہان خان ۔ چیئرمین جبکہ سارنگ خان ۔وائس چیئرمین منتخب یو سی 11 تاج پور میں شہزادہ۔ چیئرمین جبکہ ۔اللہ داد۔وائس چیئرمین منتخب ۔ یوسی 12 محبت پور میں غلام فرید ۔۔ چیئرمین جبکہ میر محمدوائس چیئرمین منتخب ۔یوسی 13 سوڑھا میں افغان 6 ووٹ لے کر۔ چیئرمین جبکہ محمد لقمان۔وائس چیئرمین منتخب ۔یوسی 14 رن پٹانی میں سلیم اختر 6 ووٹ لے کر۔ چیئرمین جبکہ جاوید احمد۔وائس چیئرمین منتخب ۔ یوسی 15 ببرجمالی میں عطاء اللہ ۔ چیئرمین جبکہ عبدالکریم۔وائس چیئرمین منتخب یوسی 16 چھلگری میں شیرمحمد چیئرمین جبکہ محمدبخش۔وائس چیئرمین منتخب-

    یو۔ سی 17 میں محمدعلی جتک 8 ووٹ جبکہ محمدقاسم بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب۔یوسی 19 کیٹل فارم میں غلام حسین ۔ چیئرمین جبکہ محمد زیب وائس چیئرمین منتخب یوسی20 ساتھی میں جان محمد چیئرمین جبکہ عبدالحق وائس چیئرمین منتخب ہوگئے ۔گنداواہ میں تمام چیئرمین اور وائس چیئر مین بلا مقابلہ منتخب ہو گئے میونسپل کمیٹی گنداواہ کے چیئر مین ایڈوکیٹ مشتاق احمد ترین،وائس چیر مین سید غلام رسول شاہ،یونین کونسل درگاہ فتح پور شریف چیر مین سید یونس علی شاہ اور وائس چیر مین وڈیرہ علی گوہر،یونین کونسل پتری چیر مین سردار جلال خان لاشاری اور وائس چیر مین احمد خان،یونین کونسل میر پور چیر مین عابد حسین کٹوہر وائس چیر مین امام الدین جویہ،یو سی شکار پور چیر مین سردار عبدالقادر رد وائس چیر مین نذیر احد چنجنی،یو سی کھاری چیر مین مولوی مجیب الرحمن وائس چیر مین رسول بخش بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

    ڈیرہ بگٹی ضلع میں بلدیاتی الیکشن کا تیسرا مرحلہ پرامن طریقے سے تکمیل تک پہنچ گیا ،ڈیرہ بگٹی اور سوئی ٹاؤنز کے چیئرمین و وائس ٹاؤن چیئرمین نے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد حلف اٹھالیاذرائع کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے نوابزادہ چاکر خان بگٹی بلامقابلہ ڈیرہ بگٹی کے ٹاؤن چیئرمین اور جمہوری وطن پارٹی کے ہی حاجی خان مرہٹہ بگٹی بلامقابلہ وائس ٹاؤن چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار میر حماد کلپر بگٹی سوئی کے بلامقابلہ ٹاؤن چیئرمین اور ویزی موندرانی بگٹی بلامقابلہ وائس ٹاؤن چیئرمین منتخب ہوگئے-

    ضلع کے تمام یونین کونسلز کے تمام ٹاؤن چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یوسی 1 بیکڑ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے میر جان محمد مسوری بگٹی یوسی چیئرمین بی اے پی کے محمد ناصر وائس چیئرمین یوسی نمبر 2 سے بی اے پی کے سید محمد یوسی چیئرمین محمد خان وائس چیئرمین یوسی نمبر 3 سرفراز احمد یوسی چیئرمین یوسی 4 سے آزاد امیدوار جلمب خان عرف خان صاحب یوسی 5 سے بی اے پی کے وڈیرہ شاہ مراد نوحقانی یو سی چیئرمین آزاد امیدوار محمد آصف وائس چیئرمین یو سی 6 سے وڈیرہ میراخان مسوری بلامقابلہ یو سی چیئرمین منتخب ہوگئے-

    یو سی 10 سے آزاد امیدوار نذیر احمد چیرمین جبکہ چنگیز خان وائس چیئرمین منتخب یو سی 11 سے آزاد امیدوار ظفر علی جبکہ وائس چیئرمین محمد بخش منتخب یو سی 12 سے آزاد امیدوار وڈیرہ شاہد حسین جبکہ وائس چیئرمین غلام مرتضٰی منتخب یو سی 13 سے آزاد امیدوار راضی خان جبکہ وائس چیئرمین ربنواز منتخب ہو گئے یونین کونسل 23 زین کوہ سے محمد شریف یوسی چیئرمین محمد بخش بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یونین کونسل 17 سے میران خان بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یو سی سیاہ آف 25 سے وڈیرہ دوست محمد چیئرمین اور فرید احمد بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یو سی 16 پیش بوگی سے اللہ بخش چیئرمین جبکہ وڈیرہ عبداللہ بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے-

    یونین کونسل 20 گنڈوئی سے وڈیرہ میاں خان موندرانی چیئرمین ناصر علی بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یونین کونسل 22 سے میرلیاقت راہیجہ بگٹی چیئرمین جبکہ لال محمد بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یو سی 14 بیہہ لوٹی سے بی اے پی کے وڈیرہ ہدایت خان چیئرمین جبکہ رحیم داد بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یوسی 15 بیہہ لوٹی سے بی اے پی کے وڈیرہ غلام نبی شمبانی چیئرمین اور گزی خان بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یوسی 24 حبیب رائی سے سعید احمد چیئرمین اور بابر خان بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے یوسی کٹھن 19 نبی بخش چیئرمین جبکہ محمد قاسم مقابلے کے بعد وائس منتخب ہوگئے۔

    خضدار، میونسپل کارپوریشن خضدار کے انتخابات میں سہ جماعتی اتحاد کو شکست،پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار میر محمدآصف جمالدینی مئیر اور پیپلز پارٹی کے رہنماء جمیل قادر زہری ڈپٹی میئر خضدار منتخب ہو گئے،میونسپل کمیٹی نال سے نیشنل پارٹی کے حاجی احمد نواز بلوچ اورمیونسپل کمیٹی زہری سے پیپلز پارٹی کے میر فیصل رحیم زہری چیئرمین منتخب ہو گئے-

    سہ جماعتی اتحاد کے نامزد امیدواربرائے مئیر میر عبدالرحیم کرد اور ڈپٹی مئیر مولانا عنایت اللہ رودینی نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نتائج کے خلاف اپیل دائر کرینگےعلاوہ ازیں میونسپل کمیٹی نال کےچیئرمین حاجی احمد نواز بلوچ اور وائس چیئرمین میر محمد طیب بزنجو بلا مقابلہ منتخب ہو گئے جبکہ میونسپل کمیٹی زہری کے لئے میر فیصل رحیم زہری چیئرمین اور میر راوت خان زہری بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہو گئے۔

    ہرنائی میں میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے انتخاب میں پشتونخوامیپ نے میدان مارلیا،میونسپل کمیٹی ہرنائی سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین عبدالجلیل میانی ترین، وائس چیئرمین غلام محمد ترین شاہرگ میونسپل کمیٹی سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین عطاء اللہ شاہ، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک محمد زمان ترین وائس چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوگئے8 یونین کونسلوں میں سات یونین کونسلوں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستوں پر انتخاب ہوئے 6 یونین کونسلوں میں چیئرمین شپ پر پشتونخوامیپ کے نامزد امیدوار ان کامیاب جبکہ وائس چیئرمین پر جمعیت وعلماء اسلام اور دیگر کامیاب ہوئے –

    یونین کونسل خوست / زرغون غر سے پشتونخوامیپ کے حبیب اللہ دمڑ چیئرمین جبکہ جمعیت وعلماء اسلام کے اختر محمد وائس چیئرمین ، یونین کونسل سزو سے پشتونخوامیپ کے ملک سوراب خان عبدلانی چیئرمین اور وائس چیئرمین صمد خان عبدلانی، یونین کونسل ہرنائی صدر ٹو سے پشتونخوامیپ کے ملک عمل خان ترین چیئرمین ، وائس چیئرمین بسم اللہ، یونین کونسل شاہرگ سے پشتونخوامیپ کے عبدالواحد چیئرمین ، جبکہ جمعیت علماء اسلام کے نصیب اللہ وائس چیئرمین ،یونین کونسل بابہان 3 سے پشتونخوامیپ کے ٹکاخان چیئرمین عبدالشکور وائس چیئرمین ،یونین کونسل بابہان ٹو سے پشتونخوامیپ کے ملک سیدال خان چیئرمین جبکہ وائس چیئرمین مولوی نصراللہ منتخب یونین کونسل ناکس گچینہ سے این ڈی ایم کے نقیب اللہ شاہ چیئرمین جبکہ جمعیت وعلماء اسلام کے محمد صابر وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    سوراب سےنامہ نگارکے مطابق 22میں سے 21یونین کونسلز کے کونسلرز کا حلف برداری سمیت چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے گیارہ یونین کونسلز میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ جمعیت علماء اسلام نے دس یونین کونسلز میں کامیابی حاصل کی ،نتائج کے مطابق یونین کونسل 1 دشت گوران سےپاکستان پیپلز پارٹی کے نعمت اللہ چیئرمین جبکہ بشیر احمد بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 2 سیاہ کمب سےپاکستان پیپلز پارٹی کے میر حبیب اللہ مڑداشئی چیئرمین جبکہ جان محمد بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 3 ماراپ سےپاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹرمحمد علی چیئرمین جبکہ احمد دین بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    یونین کونسل 4 مصطفے آباد ماراپ سےپاکستان پیپلز پارٹی کے خلیل احمد لانگو چیئرمین جبکہ اسد اللہ بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 5 حاجیکہ سےپاکستان پیپلز پارٹی کے سفر خان سناڑی چیئرمین جبکہ میر امیر الملک ہارونی بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئےیونین کونسل 6 نغاڑ سے جمیعت علماء اسلام کے محمد یعقوب رئیسانی چیئرمین جبکہ سفر خان بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 7 ڈن سے جمعیت علماء اسلام کے محمد کریم محمدشہی چیئرمین جبکہ محمد رحیم بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 8 گوندان سے جمیعت علماء اسلام کے عبدالقدوس چیئرمین جبکہ عبدالغفور وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    یونین کونسل 9 ریکی زئی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سراج احمد چیئرمین منتخب جبکہ حفیظ اللہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 10 ہتھیاری گدر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے میر نوراحمد ریکی چیئرمین جبکہ محمد یونس بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 11 چھڈ شیرعلی گدر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے میر بھٹل گرگناڑی چیئرمین جبکہ میر قمر گرگناڑی بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل12 ٹوبہ سے جمیعت علماء اسلام کے میر گل فراز سمالانی چیئرمین جبکہ غلام سرور بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 13 رودینی گدر سےپاکستان پیپلز پارٹی کے میرخدائے رحیم رودینی چیئرمین جبکہ میر شاہ زمان گرگناڑی بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    یونین کونسل 14 زبر شکر ڈن سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سعید احمدہارونی چیئرمین منتخب ہوگئےجبکہ محمد رفیق ہارونی وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 15 شہدا زئی سے جمعیت علماء اسلام کے حافظ محمد ابراہیم چیئرمین اور سیف اللہ گوارانجو وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 16 شانہ سے جمعیت علماء اسلام کے محمد اکبر لانگو چیئرمین اور عبدالحئی زہری وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 17 مولی سے جمعیت علماء اسلام کے مولانا خلیل الرحمٰن لہڑی چیئرمین جبکہ میر سکندر خان لہڑی بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    یونین کونسل 18 جیوا اللہ آباد سے جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالرحمن ساسولی 7 ووٹ لےکر چیئرمین اور مولانا عبید اللہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 19 رحمت پور جیواء سےسوراب علماء اسلام کے مولانا عبداللیف عمرانی چیئرمین جبکہ قمیصٰی خان وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 20آڑچنو میں تین خواتین کے ووٹ برابر ہونے کے سبب انتخاب نہیں ہوسکاہے۔یونین کونسل 21 لاکھوریان سے جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد ہاشم چیئرمین جبکہ مولانا محمد رمضان بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔یونین کونسل 22 انجیرہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام یاسین چیئرمین جبکہ سعد اللہ بلا مقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    ڈسٹرکٹ خاران کی 13 یونین کونسلوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب میں بی این پی مینگل کے چار، میر کریم نوشیروانی پینل کے تین ،جمعیت ف کے تین، نیشنل پارٹی کے دو اوردو آزاد امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ایک یوسی کے وائس چیئرمین کاتعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ڈیرہ مرادجمالی سےنامہ نگارکے مطابق میونسپل کمیٹی ڈیرہ مرادجمالی میں بی اے پی کے چیئرمین وائس چیئرمین بھاری اکثیریت سے کامیاب جبکہ ضلع کی 44 یونین کونسلروں میں 37 یونین کونسل کے چیئرمین وائس چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہوئےمیونسپل کمیٹی ضلع کونسل پر بی اے پی کی کامیابی جبکہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار دوسرے نمبر پررہے،یونین کونسل کی پولنگ پر دوگرپوں میں فائرنگ سے وائس چیئرمین سمیت چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    میو نسپل کمیٹی ڈیرہ مرادجمالی کے44 وارڈ میں 56 کونسلران نےووٹ کاسٹ کئے بی اے پی کے نامزد امیدوار میر صفدر علی عمرانی 37 ووٹ لیکر میونسپل کمیٹی ڈیرہ مرادجمالی کے چیئرمین جبکہ شاہ محمد ہاڑا بلوچ نے 37 ووٹ لیکر وائس چیئرمین منتخب ہو ئے جبکہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ضلع کی 44 یونین کونسل میں 37 یونین کونسل کے چئرمین وائس چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہو ئے جبکہ 7 یونین کونسل پر انتخابات ہو ئے جن میں بی اے پی و متحدہ اپوزیشن کے امیدوار چیئرمین وائس چیئر من منتخب ہو ئے-

    ضلع پشین میں جمعیت علماء اسلام اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل اتحاد نے میدان مارلیا، میونسپل کارپوریشن پشین سمیت میونسپل کارپوریشن سرانان اور میونسپل کمیٹی خانوزئی میں دونوں پارٹیوں کے امیدوار بلا مقابلہ ہوگئے، جبکہ 62 یونین کونسلوں میں بھی دونوں پارٹیوں کے مشترکہ اتحاد کا پلڑہ بھاری رہا، میونسپل کارپوریشن میںپشتونخوا میپ کے سردار اکبرخان ترین بلامقابلہ مئیرجبکہ جمعیت علماء اسلام کے عبداللہ کاکڑ بلامقابلہ ڈپٹی مئیر منتخب ہوئے، اس طرح میونسپل کمیٹی سرانان میں جمعیت علماء اسلام کے مولوی حفیظ اللہ چئیرمین، جبکہ پشتونخوا میپ کے ساجد خان ترین بلامقابلہ وائس چئیرمین منتخب ہوئے-

    میونسپل کمیٹی خانوزئی میں جمعیت علماء اسلام کے حافظ خلیل احمد چئیرمین جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمد دین باچا وائس چئیرمین منتخب ہوئے، ضلع کونسل پشین میں شامل 67 یونین کونسلوں میں 62 یونین کونسلوں میں چئیرمین اور وائس چئیرمین کے انتخاب کا عمل مکمل ہوا، جبکہ 5 یونین کونسلوں میں بعض خالی مخصوص نشستوں کے باعث انتخابات ملتوی کردئیے گئے، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جمیعت علماء اسلام کے 38 یونین کونسلوں میں چیئرمین منتخب ہوئے،جبکہ پشتونخوا میپ کے 10 یونین کونسلوں میں چئیرمین منتخب ہوئے، بلوچستان عوامی پارٹی کے حصے میں چار اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک یونین کونسل میں چیئرمین شپ حاصل کرلی۔

    اس طرح نو یونین کونسلوں میں آزاد امیدوار بطور چیئرمین منتخب ہوگئے۔ یونین کونسل 36 تورہ شاہ ون میں جمعیت علماء اسلام کے عمران بریال ایڈوکیٹ چیئرمین جبکہ مولوی عبد الباقی وائس چیئرمین منتخب ہوئے، یونین کونسل چر بادیزئی میں پشتونخوا میپ کے عبدالواسیع بادیزئی چیئرمین ہوئے۔چمن سے نامہ نگار کے مطابق میونسپل کارپوریشن چمن کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کا عہدہ پشتونخوا میپ اور اتحادیوں نے جیت لیا جبکہ ضلع کونسل میں 14یونین کونسل کے چئیرمین ، 4یونین کونسل کے ڈپٹی چئیرمین عوامی نیشنل پارٹی نے جیت لیے، بلوچستان عوامی پارٹی 11 یونین کونسل، جمعیت علماء اسلام 11 یونین اور پشتونخوامیپ 6 یونین کونسل کےامیدوار کامیاب ہوئے-

    غیرسرکاری وغیر حتمی نتائج کےمطابق سہ فریقی اتحاد سے پشتونخوامیپ کے حاجی حبیب اللہ شادیزئی کارپوریشن کے مئیر اور بی اے پی کے مطیع اللہ اچکزئی ڈپٹی مئیر نے 35، 35 ووٹ لےکر کامیاب قرار پائےجبکہ مظلوم اولسی تحریک کے محمدصادق اچکزئی نے مئیر کیلئے 14 عوامی نیشنل پارٹی کے عنایت خان اچکزئی نے 14 ووٹ لیے۔

    میونسپل کارپوریشن تربت چئیرمین نیشنل پارٹی کے بلخ  شیر قاضی اور وائس چئیرمین نیشنل پارٹی کے نثار ملنگ کامیاب قرار پائے ۔ میونسپل کارپوریشن تربت کے 78 میں سے 77 کونسلرز نے حق رائے دہی استعمال کیا. بلخ شیر قاضی نے 31 ووٹ حاصل کئے اور ان کے 13 ووٹ مسترد کردیے گئے۔ نثار احمد ملنگ نے 30 ووٹ لیے اور وئس چیئرمین میونسپل کارپوریشن تربت منتخب ہوگئے۔ نیشنل پارٹی اور کاروان آسکانی کے امیدوار امین قریش واضح اکثریت سے میونسپل کمیٹی تمپ کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔ جبکہ مسلم یعقوب بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    کاروان آسکانی کے امیدوار امین قریش نے 20 ووٹ لیے جبکہ ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار تاج دوست رند 13 ووٹ حاصل کرسکے۔ کیچ یکجہتی پینل نے میونسپل کمیٹی بلیدہ کی چیئرمین شپ اور 11یونین کونسلوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی سیٹیں اپنے نام کرلیں، میونسپل کمیٹی بلیدہ سے کیچ یکجہتی کمیٹی کے چیئرمین کے امیدوار اسلام بہادربلیدی 21ووٹ لیکر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے جبکہ کیچ یکجہتی پینل اوربی این پی کے مشترکہ امیدواروائس چیئرمین محمد امین گچکی بلامقابلہ وائس چیئرمین منتخب ہوئے، جبکہ کیچ یکجہتی پینل نے 11یونین کونسلوں سے بھی کامیابی حاصل کرلی-

    جن میں یونین کونسل کیساک کے چیئرمین محمد اسلم،وائس چیئرمین جہانگیر، یونین کونسل شہرک کے چیئرمین نصرت، وائس چیئرمین نادل، یونین کونسل ہیرونک کے چیئرمین خان محمد، یونین کونسل بلور کے چیئرمین شاہ مراد، وائس چیئرمین ہزاری، یونین کونسل بالگتر کے وائس چیئرمین خیال ہوتمان، یونین کونسل پیدارک کے چیئرمین عبدالقیوم، وائس چیئرمین مومن، یونین کونسل ناگ کے چیئرمین میرمولابخش، وائس چیئرمین یحییٰ،یونین کونسل بادئی کے چیئرمین سلیم، وائس چیئرمین کہدہ فتح محمد، یونین کونسل تحتانی گتان کے چیئرمین منیر احمد، یونین کونسل دربلی کے چیئرمین رحمت اللہ، وائس چیئرمین فیصل، یونین کونسل گروک ہوشاپ سے چیئرمین محمد امین سربازی شامل ہیں۔

  • توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ اسلام آبادمیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلےکے بعد احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے ،ن لیگی رہنما اور مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنی ٰکی درخواست دائر کی گئی –

    عدالت نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ نے لکھا ہے 20،25 روز لگیں گے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ہے وہ یہاں اس لیے پیش نہیں ہو رہے –

    مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک پیش نہیں ہوئے،مدعی مقدمہ محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کے لیے پمز کا بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے-

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کہاجارہا ہے کہ لمبا ترین پلستر ہے لیکن ڈیڑھ سال سے پلیٹلیٹس سے لمبا نہیں ، عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے-

    ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ سول سائیڈ کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، ہم سول کیسز میں روزانہ بیانات ویڈیو لنک سے لکھتے رہتے ہیں ،ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ایسا نہیں ہوتا-

    عمران خان کے وکیل نے طبی بنیادوں پر اپنے مؤکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی اس پر عدالت نے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ پیدل چلتے نظر آئے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں 29 مارچ کو طلب کرلیا-

  • شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج ہوا، شیخ رشید کے مطابق عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق ان کے پاس شواہد موجود ہیں جو شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کو شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا گیا، شیخ رشید کا بیان بیرون ملک بھی نشر ہوا جس سے وہ انکاری نہیں۔

    عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرانسکرپٹ کے مطابق ثابت نہیں ہوتاکہ عمران خان نے شیخ رشید سے کوئی معلومات شیئر کی ہوں، شیخ رشیدکی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ملاقات کی تفصیل دیے- بغیر آصف زرداری پر الزام لگایاگیا-

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید ایک طرف کہتے ہیں قتل کی سازش سے متعلق تمام معلومات ہیں لیکن پولیس سے شیئر نہیں کیں، شیخ رشید کے بیان سے دونوں سیاسی کارکنان میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں اور ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سنجیدہ ہیں، شیخ رشید اپنے بیانات کے اثرات سے لاعلم ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کے غیرسنجیدہ بیان دے چکے ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں شیخ رشید کی جانب سے الزام کو بار بار دہرانا ضمانت کی استدعا مسترد ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہسابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔

    گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا  شرکت کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا شرکت کا فیصلہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا پارلیمنٹ لاجز میں اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی نے پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی نے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی معطلی کےبعد عدالتی حکم موصول ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ارکان کا کہنا ہےکہ عدالتی حکم ملنے سے قبل پارلیمنٹ آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکرکے مؤقف کےبعدپی ٹی آئی ممبران نےاپنا فیصلہ تبدیل کیا تھا اورعدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عدالت کے تحریری حکمنامے تک پی ٹی آئی ممبران کو اجلاس میں آنے سے روکنے کا کہا ہےاستعفوں کا معاملہ معطل کے بجائے کالعدم ہوتو ہی پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی میں واپس آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے سابق ممبرانِ اسمبلی پارلیمنٹ لاجز واپس جا رہے ہیں جبکہ 9 ممبران اب بھی مشاورت کے لیے سینیٹر شہزاد وسیم کے چیمبر میں موجود ہیں۔

    اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں اکٹھے ہوئے تھے یہ ارکان عدالتی تحریری فیصلہ ملنے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے ایوان میں آنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 43 ارکانِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کرتے ہوئے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے ریاض فتیانہ سمیت 43 ارکانِ اسمبلی نے اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور الیکشن کمیشن کی جانب سے استعفوں کی منظوری کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: نیب قوانین میں ترامیم کے کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے،موجودہ حکومت کے قیام کو 8 ماہ ہو چکے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے،موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے- الیکشن کمیشن نے اسپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ نومبر 2022ء میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے اس کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے، جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے۔ ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لا تھاعدالت نے 1993ء میں قراردیا کہ حکومت غلط طریقےسے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ اس کیس میں عمران خان کا حق دعویٰ ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے سوا کہاں جائے؟۔ جو بھی ضروری ہے اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انتخابات سے قبل قانون میں وضاحت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ملک میں انتخابات کے لیے ہر کسی کو ایک سے زائد نشست پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں ایک شخص کو ایک ہی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ایک سے زیادہ نشست سے انتخابات لڑنے سے ہار یا جیت کی صورت میں عوامی پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک سے زائد سیٹ پر انتخابات لڑے تھے۔ بلا مقابلہ نشست جیتی تو باقی انتخابات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔

    وکیل نے کہا کہ یہ 1970ء سے پہلے کا معاملہ تھا۔ عوام نے بھٹو کے بلا مقابلہ جیتنے کی بھاری قیمت ضیا کے 11 سالوں کی صورت میں اتاری تھی۔ ایک عدالت جمہوریت نہیں بچا سکتی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 40 سال پہلے ایک بین الاقوامی اخبار میں آرٹیکل لکھا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق لوگ سیاستدانوں کو اپنی پہچان چاہتے ہیں نہ ہی ججز سے حکومت کرانا۔عدالت حکومت نہ کرے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کوئی حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ عدالت ازخود نوٹس کے اختیار میں محتاط رہی ہے۔ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں۔

  • عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی:مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کو کاغذات نام زدگی میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کو نااہل کرنے کی درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ نے کی،لارجر بینچ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ہے، لارجربینچ بنانےکا فیصلہ سنگل بینچ پر اعتراض کے بعد چیف جسٹس نے کیا تھا ۔

    دوران سماعت عدالت نے عمران خان کیخلاف درخواست گزار کی نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی-

    درخواست گزار شہری محمد ساجد کےوکیل سلمان اکرم نےکہا کہ میں بھی کچھ دستاویزات جمع کراناچاہتا ہوں،عدالت کچھ وقت دیدے تاکہ میں بھی دستاویز ات جمع کروا دوں،عدالت نے عمران خان کی مزید دستاویزات جمع کرانے کی استدعا منظور کر لی-

    وکیل درخواست گزارسلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عمران خان کو کیس کے میرٹ پر تحریری جواب جمع کرانا چاہئے، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں ان کے خلاف کیس قابل سماعت ہے، عمران خان ممبر اسمبلی نہ بھی ہوں تو بھی کیس قابل سماعت ہیں، ان کو میرٹ پر جواب بھی ابتدائی جواب کے ساتھ ہی دینا چاہئے-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف نئی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست دائر کی گئی تھی،دستاویزات میں عمران خان کی 7 نشستوں سے ضمنی الیکشن میں کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی شامل تھانئی دستاویزات سے متعلق درخواست میں عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس سے متعلق پرانے فیصلے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    شہری محمد ساجد کی درخواست میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اپنی مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

  • صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں 3ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے جسٹس کامران حیات میاں خیل ، جسٹس محمد اعجاز خان اور جسٹس محمد فہیم ولی کی بطور ایڈیشنل ججز مستقلی کی منظوری دی گئی-

    صدرمملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں ججز کی مستقلی کی منظوری آئین آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی-

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے،الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے مطابق خیبر پختونخوا سے8 قومی اسمبلی کی نشستوں پر 79 امیدواروں نے کاغذات نامزدگیاں جمع کیں،امتیاز علی شاہ گولڈ میڈلسٹ ہیں، انہیں 9 امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا-

    الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 4 سوات 9،این اے 38 ڈیرہ اسما عیل خان پر 13امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے،این اے17ہر ی پور8،این اے18صوابی 11، این اے32کو ہاٹ پر7امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،این اے25 نوشہرہ ون 9، حلقہ این اے26 نوشہرہ ٹو پر12امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے43خیبر پر10امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے ہیں-

    الیکشن کمیشن کے پی کے مطابق 13فروری تک کاغذات جانچ پرتال کی جا ئے گی،23کو حتمی فہرست اور انتخابی نشانات الاٹ ہوں گے-

  • مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے  کاحکم

    مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاحکم

    الزامات کاکیس، مری کی عدالت نے شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو مری کی عدالت میں پیش کیا گیا، سول جج مری محمد ذیشان نے مری پولیس کی شیخ رشید کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا-

    سماعت کے دوران عدالت نے شیخ رشید کو ریمارکس دیئے کہ آپ کوئی بیان دینے کی بجائےہدایات لے لیں-

    خیال رہے کہ شیخ رشیدکو تھانہ مری میں درج مقدمے میں گزشتہ روز اڈیالہ جیل سے مری منتقل کیا گیا تھا شیخ رشیدکے خلاف گرفتاری کے دوران پولیس سے مزاحمت اور اہلکار کی وردی پھاڑنےکے الزام میں مقدمہ درج ہے۔

    دوسری جانب شیخ رشید نے عدالت سے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 62 سے میں قلم دوات کے نشان سے لڑ رہا ہوں،جیل سے لڑوں گا یا رمضان میں الیکشن لڑوں گا،میری جیت سے پاکستان اور غریب عوام کی فتح ہو گی،میرے خلاف کوئی پرچہ نہیں،یہ سب فراڈ ہے، اس سب کے پیچھے ایک چہرہ ہے جس کو جلد ایکسپوز کریں گے-