Baaghi TV

Tag: Pakistani politics

  • عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنے وکیل ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پراگریس ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق ہمارے آفیشلز کی قائم مقام امریکی سفیر سے ملاقات ہوئی ہے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کافی اور کیک کی میٹنگ ہوئی؟مطلب وزیر خارجہ یا سیکرٹری خارجہ کو عدالتی حکم سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھایا گیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کچھ معلوم نہیں کہ اس ملاقات میں کیا ہوا ہے؟ وکیل فوزیہ صدیقی نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے لیے امریکہ میں ایک اور وکیل ہائر کیا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساتویں آٹھویں سماعت ہے حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی ہمارا بھی ایک دائرہ اختیار ہے اس کی حد تک ہی رہ سکتے ہیں، وکیل فوزیہ صدیقی نے کہا کہ حکومت بظاہر اس معاملے میں بے بس نظر آ رہی ہے،

    عدالت پیشی کے بعد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اور دن گزر گیا ایک اور پیشی گزری ہماری بیٹی اغیار کے ہاتھوں میں ہے بیس سال گزر گئے آپ نے اپنی بیٹی لاوارث چھوڑ دی آپ میں اتنی جرات نہیں کہ عافیہ کے لیے ایک لفظ بولا جائے

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے

  • توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ

    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ

    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ

    وفاقی وزیر داخلہ راناثنااللہ نے کہا ہے کہ نواز شریف پارٹی قائد ہیں، ووٹ اور سپورٹ ان کی ہے، ان کی انتخابات سے قبل واپسی ضروری ہے، نواز شریف کی قیادت میں تمام لوگ متحد ہیں۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پہلے کہا کہ وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے، پنجاب اسمبلی میں ہمارے نمبرزپورے تھے۔

    پی ٹی آئی کے کچھ اپنے لوگ ہی ان سے ناراض تھے، ہمارا 179 کا نمبر پیر کو بھی پورا تھا اور منگل کو بھی پورا تھا، عمران خان نے بار بار اسمبلیاں توڑنے کی تاریخیں دیں، انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے، عمران خان کی گرفتاری بنتی ہے تو اداروں کو گرفتار کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پنجاب کے الیکشن میں ن لیگ کامیابی حاصل کرے گی، آج نواز شریف سے رہنمائی لی ہے اس کے مطابق ہی آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار
    نوازشریف عام انتخابات میں ن لیگ کی مہم چلائیں گے، نواز شریف کی واپسی طے ہے بس کچھ قانونی رکاوٹیں ہیں، وہ پارٹی قائد ہیں، ووٹ اور سپورٹ ان کی ہے۔ مریم نواز کے پاکستان واپس آنے کے بارے میں کہا کہ مریم نواز اگلے ہفتے وطن واپس آئیں گی، ان کا 26،27 کو وطن واپسی کا پروگرام ہے۔

  • عمران خان کی ترقی صرف باتوں کی حد تک تھی،میاں نواز شریف

    عمران خان کی ترقی صرف باتوں کی حد تک تھی،میاں نواز شریف

    لندن: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ پاکستان مشکلات سے باہر نکلے گا، ہم نکالیں گے، ہمارے دور میں لوگ خوشحال تھے، عمران خان کی ترقی صرف باتوں کی حد تک تھی۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں ہر بات کھول کر رکھ دی تھی، ن لیگ کے دور میں بڑی خوشحالی تھی، نہ کسی کی شکل چھپی ہوئی ہے اور نہ ہی کسی کا نام چھپا ہوا ہے پاکستان کو اپنی ذات کے گرد گھمایا گیا اور گھناؤنا مذاق کیا گیا لیکن ہم پاکستان کو مشکلات سے باہر نکالیں گے۔

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پہلے کہا تھا کہ وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے، پنجاب اسمبلی میں ہمارے نمبر زپورے تھے، نواز شریف کی قیادت میں تمام لوگ متحد ہیں، پنجاب کے الیکشن میں ن لیگ کامیابی حاصل کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ آج نواز شریف سے رہنمائی لی ہے اس کے مطابق ہی آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے، مریم نواز اگلے ہفتے وطن واپس آئیں گی، مریم نواز کا 26،27 کو وطن واپسی کا پروگرام ہے، نواز شریف عام انتخابات میں ن لیگ کی مہم چلائیں گے، نواز شریف کی واپسی طے ہے، کچھ قانونی رکاوٹیں ہیں، نواز شریف پارٹی قائد ہیں، ووٹ اور سپورٹ ان کی ہے، نواز شریف کی انتخابات سے قبل واپسی ضروری ہے-

    سندھ بلدیاتی انتخابات:نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوا،فافن

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ اپنے لوگ ہی ان سے ناراض تھے، ہمارا 179 کا نمبر پیر کو بھی پورا تھا اور منگل کو بھی پورا تھا، عمران خان نے بار بار اسمبلیاں توڑنے کی تاریخیں دیں،توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردارسامنے آیا ہےعمران خان کی گرفتاری بنتی ہے تو اداروں کو گرفتار کرنا چاہیے۔

    رانا ثنا اللہ نے ایک سوال کے جواب میں واضح طور پر کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی کوئی ناراضگی نہیں ہے، شاہد اسلم کی گرفتاری ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے پر ہوئی۔

    لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس

  • لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس

    لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس

    لندن: مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے پنجاب کے عام انتخابات کیلئے ن لیگی امیدواروں کی فہرست پارٹی سربراہ نواز شریف کے سامنے پیش کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے سرجوڑ لئے اس سلسلے میں لندن میں ن لیگ کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کی صورتحال پر اعلی سطح اجلاس ہوا،جس میں وفاقی وزیر داخلہ راناثنااللہ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی شریک تھیں۔

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اجلاس میں پنجاب میں آئندہ انتخابات میں پارٹی امیدواروں پر غور کیا گیا، رانا ثناءاللہ نے پارٹی قائد کو ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصلات سےآگاہ کیا اورپنجاب کےعام انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی فہرست میاں نواز شریف کے سامنے رکھی۔

    اجلاس کے دوران امیداوروں کے بیک گراؤنڈ اور وننگ کینیڈیت پر غور کیا گیا، اس دوران رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب نے پنجاب میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آگاہ کیا۔

    الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    اجلاس میں نواز شریف اور مریم نواز کی ناموں کی منظوری کے بعد پارٹی کو گو ہیڈ دیا جائے گا، پنجاب میں انتخابی مہم کی قیادت مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کریں گے۔

  • سندھ بلدیاتی انتخابات:نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوا،فافن

    سندھ بلدیاتی انتخابات:نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوا،فافن

    انتخابی امور پر نظر رکھنے والی غیرسرکاری تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سےسندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرن آؤٹ کم ہونے کے باوجود انتخابی نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوسرا مرحلے کے حوالے سے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ نتائج میں غیر ضروری تاخیر نے پرامن اور منظم انتخابی عمل کو گہنا دیاکراچی اورحیدرآباد ڈویژن میں ووٹ ڈالے جانے کی شرح میں خاصا فرق رہا البتہ انتخابی عمل پرامن اور نسبتاً منظم رہا،تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی نتائج میں تاخیر کی بنا پر لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات نے انتخابات کی شفافیت کو متاثر کیا ہے۔

    پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    فافن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بائیکاٹ سے کراچی اور شہری حیدرآباد میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، عام انتخابات کے سال میں انتخابی عمل پر شکوک و شبہات کے تنازعات سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوگا، شکوک و شبہات سے پاک انتخابات کے ذریعے ہی ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے جبکہ متنازع الیکشنز سے جمہوریت مزید کمزور ہوگی، اور شہریوں کا جمہوری عمل پر اعتماد متزلزل رہے گا۔

    رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ انتخابی قانون الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت خود کو حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے کے جائز خدشات کو دور ہر ممکن حد تک دور کرنے کی کوشش کرے تاکہ ایسے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے جن میں تمام شہری شامل ہوں اور کسی جماعت کے انتخابی بائیکاٹ کی نوبت پیش نہ آئے۔

    فافن رپورٹ کے مطابق سیاسی تنازعات اور انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود بدین، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، ٹھٹھہ اور ملیر کے اضلاع میں ووٹروں کی ایک نمایاں تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا البتہ کراچی سینٹرل ، کراچی ایسٹ ، کراچی ویسٹ ، کراچی ساؤتھ، کورنگی، حیدرآباد اور کیماڑی کے اضلاع میں ووٹر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا۔

    تحریک انصاف کے مزید استعفے منظور ہونے کا امکان

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حیدرآباد ڈویژن میں ٹرن آؤٹ 40 فیصد سے زائد رہا جبکہ کراچی میں ملیر کے علاوہ 20 فیصد سے بھی کم رہا۔ واضح رہے کہ 2015 کے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں ٹرن آؤٹ بالترتیب 36 اور 58 فیصد تھا۔

    فافن کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے کے مقابلے میں حالیہ مرحلے کے دوران ووٹنگ کا عمل زیادہ منظم رہا تاہم پولنگ اسٹیشن کے اندر اور ان کے اطراف میں انتخابی اشتہارات اور تشہیری مہم سے متعلق بے ضابطگیوں کے ساتھ ساتھ بیلٹ پیپر کے اجرا سے متعلق بے قاعدگیاں دوسرے مرحلے میں بھی برقرار رہیں۔ دوسرے مرحلے میں انتخابات کے دن کا ماحول بڑی حد تک پرامن رہا۔

    پولنگ کے دوران فافن کے مشاہدہ کاروں نے پولنگ اسٹیشنوں پر تلخ کلامی کے 14 واقعات رپورٹ کیے جبکہ پہلے مرحلے کے دوران تشدد کے 55 واقعات دیکھنے میں آئے تھے جن میں مسلح جھڑپیں بھی شامل تھیں۔

    دھاندلی کے الزامات کے باوجود کراچی ڈویژن کے عبوری نتائج دو دن کے اندر موصول ہو گئے تھے لیکن حیدرآباد ڈویژن کے مجموعی نتائج کا ابھی بھی انتظار ہے۔

    فافن کےمشاہدہ کاروں کے مطابق پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے تیار کردہ پولنگ اسٹیشن کے نتیجے کے فارموں ( فارم 11 ) میں کئی طرح کی خامیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں فافن کو موصول ہونے والے کئی فارموں میں پولنگ سٹیشنوں کے نام، رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ، مردوں اور عورتوں کے ووٹوں کی الگ الگ تعداد ، اور پریزائیڈنگ افسران کے دستخط سمیت اہم معلومات درج نہیں کی گئیں۔

    الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    حالیہ انتخابی عمل کے مشاہدے کی روشنی میں فافن کی سفارش ہے کہ الیکشن کے دن انتخابی مہم چلانے سے متعلق ضابطہ اخلاق کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا جائے جبکہ ووٹروں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پولنگ بوتھوں کے لیے مناسب جگہ رکھی جائے۔

    فافن کی یہ رپورٹ 343 پولنگ اسٹیشنوں (کل تعداد کا چار فیصد) سے موصول ہونے والے مشاہدات پر مبنی ہے جن میں 225 مشترکہ، 61 مردانہ اور 57 زنانہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں فافن نے انتخابی عمل کے مشاہدے کے لیے کل 104 تربیت یافتہ شہری مشاہدہ کاروں کو تعینات کیا تھا جن میں 66 مرد اور 38 خواتین شامل تھیں۔

    رپورت کے مطابق مشاہدہ کاروں نے الیکشن کے دن 90 پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کے آغاز ، 953 پولنگ بوتھوں پر انتخابی عملے اور سامان کی دستیابی اور 74 پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی کے عمل کا مشاہدہ کیا نیز 1,121 ووٹروں کی شناخت اور انہیں بیلٹ پیپر کے اجرا کے مراحل کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔

    بہتر مستقبل کے لیے جماعت اسلامی بات چیت کا راستہ اختیار کرے،وقار مہدی

  • پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    کراچی: بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے تحفظات دور کرنے کے لیے پی پی کا وفد سعید غنی کی قیادت میں ادارہ نور حق پہنچ گیا،جس میں نجمی عالم، امتیاز شیخ اور دیگر شامل تھے-

    تفصیلات کے مطابق وفد نے امیرجماعت اسلامی کراچی انجینئر حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی پی پی وفد نے جماعت اسلامی کو انتخابی نتائج پر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کو تحفظات دور کرنے سے مشروط کردیا۔

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    دونوں جماعتوں کے درمیان کراچی میں بلدیات انتخابات اور میئرشپ کےلیےاتحاد قائم کرنے کے معاملات پر بات چیت ہوئی جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کو انتخابات میں دھاندلی، نتائج میں تاخیر اور شفافیت نہ ہونے کے تحفظات سے آگاہ کیا جسے پیپلز پارٹی نے دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بات چیت کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے-

    حافظ نعیم نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ تکلیف فارم 11 اور 12 کے اجراء پر ہوئی جس کے لیے بڑی تگ و دو کرنی پڑی اور اس کے بعد نتائج کی تبدیلی پرتکلیف ہوئی جس پر ہم نے احتجاج کیا، الیکشن کمیشن اور پی پی سے رابطہ کیا بعد ازاں کچھ یوسیز میں ہماری فتح سامنے آئی تاہم کچھ یوسیز میں ری کاؤنٹنگ کے نتیجے میں جوخرابیاں پیدا ہورہی اورنتائج تبدیل ہورہےہیں ہمیں ان پر تحفظات ہیں امید ہے کہ سعید غنی اور ان کی ٹیم ان مسائل کو حل کرے گی، ہم انتظار کریں گے چیزیں بہتر ہوگئیں تو آگے بھی بات چیت بھی ہوگی۔

    پی پی رہنما سعید غنی نے جماعت اسلامی کو کراچی میں انتخابی نشستیں جیتنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے کہنے پر ہم یہاں آئے ہیں تاکہ شکایات کو سناجاسکے، یہ بلدیاتی اداروں کے لیے اچھا موقع ہے کہ دو میچور جماعتیں اس شہر کے حالات کو ٹھیک کرنا چاہتی ہیں۔

    پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے تحفظات اور شکایت ہیں جن کا وہ اظہار کرچکے، انتخابات کا سارا سیٹ اپ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتا ہے، حکومت کے اختیار میں بہت سے چیزیں براہ راست نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی یقین دلاتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے اعتراضات دور کرنے میں کہیں حکومت سندھ کا کوئی کردار ہوا تو اسے ضرور ادا کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی شکایات کو دور کرنے کے لیے جو قانونی کارروائی کرے گی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، جن یوسیز پر الیکشن کمیشن نے ایکشن لیا ہے وہ جو فیصلہ کرے گا قبول کریں گے، 23 تاریخ کو جو بھی فیصلہ ہوگا وہ تسلیم کریں گے، تمام مسائل کو حل کریں گے اور آگے بھی ملیں گے-

  • عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پارٹی کی تنظیمی معاملات اور پاکستان کی سیاسی صورت حال پر پارٹ قائد نواز شریف سے رہنمائی لیں گے،عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے اس مرتبہ اس کا پٹہ کھول دیں گے،زیادہ امکان ہے کہ پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں نہیں جائے گی،دو مہینے کے الیکشن میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،ہم انشاللہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیں گے،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ اگر بات آپ کرتے ہیں کوئی حقیقت سامنے لے کر آئے،اس کو گرفتار کیا جائے جو ہم سن رہے ہیں میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں،ہماری حکومت میں ماضی میں بھی ہمارے خلاف کاروائی ہوئی،کسی کو قانون سے ماوار کردار نہیں ہونا چاہئیے ،پارٹی سربراہ نواز شریف کسی کو بھی رہنمائی کے لیے طلب کر سکتے ہیں، حکومت ملے سات آٹھ ماہ نہیں بلکہ ڈیڑھ ماہ ہوا ہے، 23 نومبر کے بعد آزادانہ حکومت وجود میں آئی،میری حکومت میں بھی میرے خلاف پرچے درج ہوئے،

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

  • عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی

    پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری کر دیا گیا، پارلیمانی پارٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے تین تین افراد کو شامل کیا گیا ہے پارلیمانی کمیٹی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کی جانب سے راجہ بشارت، میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت شامل ہیں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک احمد خان، ملک ندیم کامران اور سید حسن مرتضی شامل ہیں کمیٹی تین دن میں وزیراعلی پرویز الہی اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دئے گئے ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرے گی ،پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق نہ ہونے پر عبوری وزیراعلی کی تعیناتی کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا پی ٹی آئی کے راجہ بشارت سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ ملک احمد خان نے رات تک ملاقات کا عندیہ دیا ،پی ٹی آئی کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے د یئے گئے نام بہترین ہیں،

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعلیٰ کی تقرری ہونی ہے اور پھر الیکشن کا اعلان ہو گا، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور پارلیمانی اجلاس ہو رہے ہیں وہیں ساتھ ٹکٹ دینے کے لئے کمیٹیاں بھی بن رہی ہیں، ن لیگ نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی بھی متحرک ہو چکی ہے،

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون؟ قرعہ کس کے نام کا

  • خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اسے قانون سازی کا اختیار ہے، کالعدم کرنے پر عدالت کو بتانا ہوگا نیب ترامیم جیسی قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی،صرف وہی قانون کالعدم ہو سکتا ہے جو بنانے پر آئینی ممانعت ہو،عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کیلئے کی گئی قانون سازی کالعدم ہوسکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھانسی کی سزا ختم کرنا آئینی عمل ہوگا؟ اگر پارلیمنٹ نیب کو ہی ختم کردے تو کیا اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پارلیمان کو قانون سازی کیساتھ قانون واپس لینے کا بھی اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت یہ کہ کر نیب کو بحال کر سکتی ہے کہ احتساب ختم ہوگیا؟ کیا تعزیرات پاکستان ختم ہونے سے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونگے؟ نیب پبلک پراپرٹی کے مقدمات بناتا کے جو عوام کی ملکیت ہوتی ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت کسی جرم میں نہیں دی جاتی،سزائے موت کے خاتمے کے قانون کا اطلاق زیر التواء مقدمات پر بھی ہوا تھا، برطانیہ ان ممالک کیساتھ ملزمان حوالگی کا معاہدہ نہیں کرتا جہاں سزائے موت دی جاتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شرعی قانون میں سزائے موت موجود ہے، کیا شرعی اصولوں کیخلاف قانون سازی کی جا سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام میں دیت اور قصاص کا تصور بھی موجود ہے، ورثاء دیت کے عوض جرم معاف کر سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق احتساب اسلام اور آئین کا بنیادی جزو ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قوانین کا جائزہ آئین اور بنیادی حقوق کے تناظر میں ہی لے سکتی ہے، کیا عدالت کچھ اور نہ ملنے پر شرعی تناظر میں قوانین کا جائزہ لے سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شریعت کے تحت قوانین کا جائزہ صرف شرعی عدالت لے سکتی ہے،نیب ترامیم کا جائزہ اسلامی اصولوں کے تناظر میں نہیں لیا جا سکتا،اجماع اور اجتہاد کے اصول ریاستی ادارہ پارلیمان استعمال کر رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں امانت اور خیانت کے اصول واضح ہیں، خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں، عدالت میں بحث جرم کی حیت تبدیل کرنے کی ہے، سزا کچھ بھی ہو جرم تو جرم ہی رہتا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہمیشہ ماضی سے ہوا ہے، نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

    بھارت نے 2008 میں چاند کی طرف اپنا پہلا مشن روانہ کیا لیکن یہ پہلا مشن چندریان ون چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام ہوگیا تھا لیکن اس دوران خلائی مشن نے اپنے ریڈارز کے ذریعے سے چاند کی سطح پر سب سے پہلے پانی کی موجودگی کو دریافت کر لیا تھا۔ بھارت نے چاند کی طرف روانہ کیے جانے والے اپنے دوسرے مشن کے ذریعے سے چاند کے جنوبی قطب پر اترنے کی منصوبہ بندی پہلے سے کر رکھی تھی۔

    ایک انگریزی جریدے کے مطابق چاند کے اس انتہائی دور اور تاریک حصے پر اترنے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے کوئی اور ملک نہیں کر سکا تھا اس مشن کے لئے بھارت نے اپنے پاس موجود ملکی ساختہ سب سے بھاری اور طاقتور راکٹ جی ایس ایل وی مارک تھری استعمال کیا تھا جبکہ اس کا وزن 640 ٹن تھا اور اس کی لمبائی 44 میٹر تھی جو کہ کسی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اس سیٹلائٹ سے منسلک خلائی گاڑی کا وزن 3792 کلو تھا اور اس کے تین واضح مختلف حصے تھے، جن میں مدار پر گھومنے والا حصہ ‘آربیٹر’، چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ ‘لینڈر’ اور سطح پر گھومنے والا حصہ ‘روور’ شامل تھے۔

    علاوہ ازیں مدار میں گردش کرنے والا حصہ ایک سال تک خلا میں زیرگردش رہ کر وہاں کی تصاویر لیتا۔ سطح چاند پر اترنے والے حصے کا نام اسرو کے بانی کے نام پر ‘وکرم’ رکھا گیا تھا۔ اس کا وزن نصف تھا اور اس کے اندر 27 کلو کی چاند پر چلنے والی گاڑی’ پراگیان تھی جس پر ایسے آلات نصب کیئے گئے تھے کہ جو چاند کی سرزمین کی جانچ پڑتال کر سکیں اور وہاں پر موجود پانی کے بارے ٹھوس معلومات جمع کر سکیں۔ جبکہ اس کی زندگی 14 دن کی تھی۔ اور یہ لینڈر سے نصف کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی اہلیت رکھتا تھا.

    جریدے میں لکھا گیا ہے کہ جہاں سے وہ زمین پر تصاویر اور اعدادوشمار تجزیے کے لیے روانہ کرتا۔ بدقسمتی سے بھارتی خلائی گاڑی وکرم چاند کی سطح سے محض 1۔2 کلومیٹر پہلے بے قابو ہو گئی اور 172 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرائی۔ اور یوں بنی نوع انسان کی چاند کے قطب جنوبی پر اترنے کی پہلی کوشش بظاہر ناکام ہو گئی تھی.

    باغی ٹی وی کی ریسرچ کے مطابق پوری دنیا کی نظریں اس مشن پر تھیں کیونکہ اس طرح کی کسی بھی سائنسی کوشش کو عام طور پر پوری دنیا کی مشترکہ سائنسی کاوش گردانا جاتا ہے. بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (INCOSPAR) کا قیام 1962 میں عمل میں آیا تھا، جس کو 1969 میں انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کا مختصر نام دے دیا گیا۔ اس کے بانی اور پہلے سربراہ خلائی سائنسدان وکرم سارا بھائی تھے جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر بھارتی شہر بنگلور میں واقع ہے ۔اس وقت اس خلائی تحقیقاتی ادارے کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب ڈالرز ہے ،اور اس میں 16800 سے زیادہ سائنسدان کام کر رہے ہیں۔

    ایک بھارتی ادارے کے مطابق اسرو نے 19 اپریل 1975 کو اپنا پہلا مصنوعی سیارہ ‘آریہ بھاٹیا’سوویت یونین کی مدد سے خلا میں پہنچایا۔1980 میں بھارتی ساختہ پہلےخلائی راکٹ(SLV3)کے ذریعے سے’روہنی’نامی مصنوعی سیارے کو کامیابی سے خلائی مدار میں چھوڑا گیا۔اس کے بعد بھارت نے مقامی طور پر دو خلائی راکٹ ڈیویلپ کیے،جن میں سے ایک(PSLV) پولر مدار کے لئے اور دوسرا (GSLV)جیو سٹیشنری مدار تک مصنوعی سیارے پہنچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان کے ذریعے سے ‘گگن’ اور (IRNSS) جیسے متعدد مواصلاتی سیارے اور نیوی گیشن سسٹم کامیابی سے خلا میں پہنچائے گئے۔2014 میں اسرو نے ہندوستانی ساختہ (GSLV.D5) راکٹ کی مدد سےاپنے مواصلاتی سیارے GSAT 14 کو کامیابی سے خلا میں چھوڑا۔

    22 اکتوبر2008 کو بھارت کا پہلا خلائی مشن چندریان ون چاند کے مدار میں بھیجا گیا۔اور 5 نومبر 2015 کو مریخ کی طرف پہلا بھارتی خلائی مشن روانہ ہوا،جو کہ24 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے داخل ہونے والا دنیا کا پہلا خلائی مشن بن گیا۔18 جون 2016 کو انڈیا نے ایک ہی راکٹ کے ذریعے سے 20 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں بھیج دیے،اور 15 فروری کو اپنے ہی تیار کردہ طاقتور خلائی جہاز(PSLV_C37) کے ذریعے ایک ہی فلائٹ میں 104 مصنوعی سیارے خلا میں کامیابی سے بھیج کر اب تک کا نہ ٹوٹنے والا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    اسرو نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا،بلکہ5 جون 2017 کو اپنے جدید ترین خلائی راکٹ (GSLV_MK3) کے ذریعے سے 4 ٹن وزنی مواصلاتی سیارے GSAT19 کو خلائی مدار میں بھیج کر امریکہ اور روس کے ساتھ خلا میں سب سے وزنی سیارے بھیجنے والے ممالک میں اپنی جگہ بنا لی۔ اسرو کا حالیہ مشن چندریان ٹو تھا،جس میں اسے جزوی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

    یاد رہے کہ بھارت کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں مکمل ہندوستانی خلائی اسٹیشن کی تعمیر، مصنوعی سیارے چھوڑنے والا،انتہائی چھوٹا کم خرچ خلائی جہاز ،انسان بردار خلائی مشن،بار بار استعمال ہو سکنے والا خلائی راکٹ اور شمسی توانائی سے چلنے والا خلائی جہاز شامل ہیں۔ جبکہ ان کامیابیوں کے دوران کئی بار بھارتی سائنسدانوں کو ناکامیوں کا منہ بھی سامنا کرنا پڑا تھا.

    پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو (SUPARCO) کا قیام بھارت سے ایک سال پہلے 1961 میں عمل وجود میں آیا تھا ایک انگریزی جریدے کے مطابق انڈیا کے اسرو کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کے مقابلے میں سپارکو کا بجٹ محض چار کروڑ اور تیس ڈالرز رکھا گیا ہے سپارکو کا پورا نام ‘اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن ‘ ہے جو کہ افواج پاکستان کے اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا جبکہ شروع میں اس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں تھا جسے پاکستان ائیر فورس کے ماتحت کر دیا گیا اور اب اس کا مرکز آرمی ڈسٹرکٹ چکلالہ میں ہے۔

    واضح رہے کہ قیام کے ابتدائی برسوں میں اس کی ترقی کی رفتار شاندار تھی۔1962 میں اس نے مقامی ساختہ پہلے سالڈ فیول کے حامل بغیر انسان بردار راکٹ ‘رہبر’ کی کامیاب اڑان بھری ،اور اسطرح پاکستان ایشیا کا تیسرا اور دنیا کا دسواں ایسا ملک بن گیا جس نے خلائی راکٹ کا کامیاب تجربہ حاصل کیا تھا جبکہ اس وقت کے خلائی پروگرام میں پاکستانیوں کو امریکہ کی بھی تکنیکی معاونت میسر تھی۔1967 تک پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں کامیاب پرواز کرنے کی اہلیت رکھنے والا جنوبی ایشیا کا واحد ملک تھا۔ اور یہ خلائی تجربات 1970 تک جاری رہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو بہتر معاشی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے. امریکہ
    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا اقتدار چھوڑنے کا اعلان
    بلوچستان میں زلزلہ کے جھٹکے
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری
    جبکہ سونمیانی کے خلائی اسٹیشن سے 200 کے قریب ایسے راکٹ چھوڑے گئے۔ تاہم بعدازاں بدقسمتی سے کئی طرح کی مالی،انتظامی اور سیاسی مشکلات کے علاوہ سائنسی بجٹ کا زیادہ حصہ جوہری صلاحیت کے حصول کی طرف لگانے کی وجہ سے خلائی تحقیق کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا تاہم 1991 میں پاکستان نے چینی تعاون سے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ چینی راکٹ کے ذریعے سے خلا میں بھیجا تھا۔ لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے خلائی تحقیق کو فضول گردان کر کئی ترقیاتی منصوبے منسوخ کردیے۔ اور سپارکو کے سائنسدانوں کو میزائل سازی کے منصوبوں میں مصروف کر دیا گیا جبکہ آج سپارکو کے نام سے شاید اسکولوں کے بچے بھی واقف نہ ہوں۔ علاوہ ازیں کئی سال بعد چین کی مدد سے دو مصنوعی سیارے فضا میں بھیجے گئے تھے۔ جبکہ سپارکو کی تحقیق کا محور اب نظام شمسی کا مشاہدہ،خلائی موسم،آسٹرو فزکس،خلائی مشاہدات،ماحولیاتی تحقیق،سپیس اینڈ ٹیلی میڈیسن،ریموٹ سینسنگ،زمین کا مشاہدہ اور رویت ہلال تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اور یوں اب تک پاکستان اس خلائی ایجادات میں عدم دلچسپی کے سبب مزید کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا ہے جو انتہائی افسوس ناک بات ہے.