Baaghi TV

Tag: pari zad

  • احمد علی اکبر اپنا ڈرامہ پری زاد سعودی عرب میں دکھانے پر خوش

    احمد علی اکبر اپنا ڈرامہ پری زاد سعودی عرب میں دکھانے پر خوش

    ڈرامہ سیریل پری زاد میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے احمد علی اکبر نے اپنا ڈرامہ سعودی عرب میں دکھانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے ، انہوں‌نے کہا ہے کہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان کا ڈرامہ سعودی عرب میں دکھایا جا رہا ہے. انہوں‌نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے صرف سعودی عرب میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں ہی دکھائے جانے چاہیں، پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے کرنے چاہیں، ہمارے ڈرامے اس قابل ہیں کہ ان کو دنیا کے کسی بھی ملک میں دکھایا جا سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ آج اگر سعودی عرب میں ڈرامہ دکھایا جا رہا ہے تو

    کل کو اس سے پاکستانی ڈرامے کے لئے مزید راستے کھلیں گے ، جس کا فائدہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو ہو گا. انہوں‌ نے کہا کہ پاکستانی ڈرامہ دنیا کے کسی بھی ڈرامے کا مقابلہ کر سکتا ہے ہمارے ہاں لکھنے والے بنانے اور کام کرنے والے سب زبردست ہیں. انہوں نے کہا کہ میں ہاشم ندیم کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ہمیں پری زاد کی صورت میں ایک اچھی کہانی دی، اور ڈائریکٹر شہزاد کشمیری کا بھی شکر گزار ہوں‌جنہوں نے مجھے پری زاد کے لئے چنا.

  • پری زاد اب عربی  زبان میں

    پری زاد اب عربی زبان میں

    ہاشم ندیم کا تحریر کردہ ڈرامہ سیریل پری زاد اب عربی زبان میں سعودی عرب کے لوگوں کے لئے پیش کیا جائیگا. اس ڈرامے کی مقبولیت پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ان ممالک میں بھی ہے جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے. پری زاد ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب یہ ڈرامہ سعودی عرب میں عربی زبان میں پیش کیا جائیگا. اس ڈرامے کی کہانی ایک غریب اور سانولی رنگت کے سادہ مزاج لیکن سچے انسان کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار اداکار احمد علی اکبر نے نبھایا تھا۔ شہزاد کشمیری کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامہ سیریل کو

    اس کی کہانی اور کرداروں کو قدرے حقیقی انداز میں دکھائے جانے کی وجہ سے کافی سراہا گیا تھا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ سعودی عرب میں دکھایا جانے والے اس ڈرامے کا نام پری زاد نہیں ہو گا بلکہ قریبا ہو گا. یاد رہے کہ پری زاد میں احمد علی اکبر کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا تھا، احمد علی اکبر نے اس کردار کے ساتھ بے حد انصاف کیا اس میں حقیقت کے رنگ بھر دئیے آج بھی اس ڈرامے کو یاد کیا جاتا ہے ، اور احمد علی اکبر کے کیرئیر کی جب بھی بات ہوگی سب سے پہلے ان کے اس ڈرامے کا نام لیا جائیگا.