Baaghi TV

Tag: PCB

  • آئی سی سی نےشاہین شاہ آفریدی،سعود شکیل اور کامران غلام پر جرمانہ عائد  کر دیا

    آئی سی سی نےشاہین شاہ آفریدی،سعود شکیل اور کامران غلام پر جرمانہ عائد کر دیا

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی، بیٹر سعود شکیل اور کامران غلام پر جرمانہ عائد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کے مطابق تینوں کھلاڑیوں پر آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیاشاہین آفریدی پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ سعود شکیل اور متبادل کھلاڑی کامران غلام پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔

    آئی سی سی کے مطابق شاہین آفریدی جان بوجھ کر جنوبی افریقا کے بیٹر میتھیو بریٹزکی کے راستے میں آئے اور غیر مناسب انداز سے باڈی کنٹیکٹ کیا اور مخالف ٹیم کے بیٹر سے بحث بھی کی جبکہ سعود شکیل اور کامران غلام نے ٹیمبا باووما کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کے قریب جا کر غیر مناسب انداز میں سیلیبریٹ کیا، تینوں کرکٹرز کو ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا-

    امریکا کےریویرامنصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے،سعودی سفیر

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تین ملکی سیریز کے جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں گرما گرمی ہوگئی تھی-

    پہلا واقعہ جنوبی افریقہ کی اننگز کے 28ویں اوور میں پیش آیا جب مہمان ٹیم کے نوجوان بیٹر بریٹزکی ایک رن لینے کےلیے نان اسٹرا ئیکنگ اینڈ کی جانب دوڑے اور فاسٹ بولر شاہین آفریدی سے ٹکرا گئے اس پر پاکستانی فاسٹ بولر غصہ ہوگئے اور اُنہوں نے بریٹزکی سے کچھ کہا جس پر دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے اُلجھ پڑے شاہین آفریدی زیادہ غصے میں دکھائی دیئے، بریٹزکی نے بھی اُن کو ترکی بہ ترکی جواب دیا لیکن پھر امپائرز نے آکر معاملہ رفع دفع کروایا۔

    مشی خان کا ڈکی بھائی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

    دوسرا واقعہ اگلے ہی اوور میں پیش آیا جب سعود شکیل نے جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما کو رن آؤٹ کیااس پر اسکوائر لیگ سے کامران غلام جنوبی افریقی کپتان کے سامنے آکر جارحانہ انداز دکھانے لگے باووما کو ڈائرکٹ تھرو پر رن آؤٹ کرنے والے سعود شکیل نے تو حد ہی کردی، بالکل باووما کے سامنے آکر شور مچایا اور اُن کا راستہ روکا ایک لمحے کےلیے باووما رُک گئے مگر اُنہوں نے دونوں میں سے کسی کرکٹر کو جواب نہیں دیا اور فوراً ہی امپائرز نے آکر کامران غلام اور سعود شکیل کو سمجھایا۔

    سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

  • پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا

    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک ویڈیو جاری کی یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو دیکھ کر کچھ لوگ کافی مشتعل ہو گئے اور بورڈ کو سخت تنقید کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر پاکستان کرکٹ کی کامیابیوں کا جشن منانے کیلئے یوم آزادی کی شام ایک ویڈیو شئیر کی لیکن اس ویڈیو میں سے ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نکال دیا گیا ہے،البتہ پی سی بی کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو کے تھمبنیل میں عمران خان کی تصویر ضرور ہے جس میں وہ دیگر 6 کھلاڑیوں کے ہمراہ 1992 کا ورلڈکپ پکڑے ہوئے ہیں۔
    https://twitter.com/TheRealPCB/status/1691091543350771712?s=20
    ویڈیو قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان سے شروع ہوتا ہے اور 1952 میں کھیلے گئے بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کے ڈیبیو کو دکھاتی ہے،1986 کے جاوید میانداد کے شارجہ کے تاریخی چھکے، اس کے بعد ویڈیو میں 1992 کا ورلڈ کپ، 2000 اور 2012 کے ایشیا کپ جیتنے، 2009 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 میں پاکستان کے جیتنے اور پاکستان کے موجودہ کپتان بابر اعظم کی کامیابیوں کا ذکر اور مناظر دکھائے گئے ہیں۔

    بھارتی کپتان روہت شرما، مچل اسٹارک اورشاہین آفریدی کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟

    جہاں متعدد سوشل صارفین نے پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں کچھ صارفین نے نشاندہی کی کہ ویڈیو میں عمران خان موجود ہیں لیکن کچھ لمحوں کے لئے تاہم انہوں نے ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ویڈیو میں عمران خان کو زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تھی۔


    جہاں صارفین نے پی سی بی پر شدید تنقیدکی وہیں پاکستان ویمن ٹیم کی سابق کپتان اور کمنٹیٹر عروج ممتاز نے بھی ردعمل دیا انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کی یاد تازہ کرتے ہوئے، 1992 کے ورلڈ کپ کی جیت کی 11 تصاویر ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک میں اس عظیم کھلاڑی کا ذکر نہیں جس نے پاکستان کے لیے کھیلا ہو، عمران خان ہمیشہ دنیا کی تاریخ میں عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر یاد کیے جائیں گے-


    مریم خان نامی سوشل میڈیا صارف نے پی سی بی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں؟ آپ اس کھیل میں بھی (سیاست کی طرح) پولرائزیشن لانا چاہتے ہیں، فیصلہ آپ نہیں، عوام کرے گی-

    بابراعظم کی شادی کب تک؟

    ڈاکٹر سیما خان نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ دنیائے عمران خان کے بغیر نامکمل ہے اور پی سی بی نے یہی ادھوری تاریخ بیان کی ہے۔

    انڈیا سے ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ مجھے عمران خان پسند نہیں لیکن وہ آپ کے سب سے بڑے کرکٹر تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ نے انہیں (ویڈیو میں) شامل نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے اپنے شاندار کرکٹ کیرئیر کے دوران پاکستان کے لیے 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے میچز کھیلےبیٹنگ میں ان کی ایوریج 37 اور بولنگ میں 22 اوسط نے انہیں اسٹار آل راؤنڈرز کی چوٹی میں سب سے اوپر درجے رکھا، عمران خان کے بین الاقوامی کرکٹ کیرئیر کے آخری 10 سالوں کے دوران انہوں نے 51 ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا سابق کپتان نے 1987 میں انگلینڈ میں پاکستان کو اپنی پہلی سیریز میں فتح دلائی لیکن ان کے کیرئیر کا بہترین لمحہ اس وقت آیا جب پاکستانی ٹیم نے ان کی قیادت میں 1992 کے ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی۔

    نیمار سعودی کلب الہلال کے ساتھ 2 سالہ معاہدے پر رضا مند

  • تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ سیریز؛ سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ سیریز؛ سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز 22 سے 26 اگست تک سری لنکا میں کھیلی جائے گی، افغانستان بورڈ کی تصدیق

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز 22 سے 26 اگست تک سری لنکا میں کھیلی جائے گی جبکہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کی تصدیق کردی ہے۔ یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے۔ پہلا ون ڈے انٹرنیشنل 22 اگست کو ہمبنٹوٹا میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا ون ڈے بھی 24 اگست کو ہمبنٹوٹا میں ہی کھیلا جائے گا جبکہ کولمبو 26 اگست کو تیسرے اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل کی میزبانی کرے گا۔

    تاپم یاد رہے کہ پاکستان اسوقت آئی سی سی کی عالمی ون ڈے رینکنگ مین دوسرے نمبر پر ہے جبکہ افغانستان کا نمبر آٹھواں ہے۔ پاکستانی ٹیم سترہ اگست کو سری لنکا پہنچے گی اورانیس سے اکیس اگست تک ہمبنٹوٹا میں ٹریننگ کرے گی،ٹیم 27 اگست کو وطن واپس روانہ ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تین ون ڈےمیچز کی سیریزہوگی پی سی بی کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے بھی ون ڈے سیریز کی تصدیق کردی تھی یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہے،

  • ذکاء اشرف چیئرمین پی سی بی  مقرر

    ذکاء اشرف چیئرمین پی سی بی مقرر

    وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے پی سی بی کی نئی مینجمنٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دے دی ہے جبکہ نئی کمیٹی میں ذکا اشرف کو پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے حکومت نے پی سی بی کے چیف الیکشن کمشنر احمد شہزاد فاروق رانا کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ محمود اقبال خاکوانی کو پی سی بی کا نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی مینجمنٹ کمیٹی 4 ماہ کے لیے بنائی گئی ہے، نجی ٹی وی کے مطابق مینجمنٹ کمیٹی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے ساتھ معاملات طے کرے گی، یہ کمیٹی چوہدری ذکاء اشرف کی سربراہی میں کام کرے گی۔ پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی 10 اراکان پر مشتمل ہے، کمیٹی میں کلیم اللہ خان، اشفاق اختر، مصدق اسلام، عظمت پرویز، ظہیر عباس، خرم سومرو، خواجہ ندیم، مصطفیٰ رمدے اور ذوالفقار ملک شامل ہیں۔

    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    پی سی بی کی مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس کل لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے جبکہ پی سی بی چیئرمین کے الیکشن اور ذکا اشرف کی اہلیت کا معاملہ عدالتوں میں زیر التوا ہے۔ تاہم خیال رہے کہ ذکا اشرف سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات نجم سیٹھی چلا رہے تھے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین پی سی بی کے لیے ذکا اشرف کا نام تجویز کیا تھا۔

  • کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے،نجم سیٹھی

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور میں اسٹیڈیم کے ساتھ ہوٹل بنانے کا پلان ہے-

    باغی ٹی وی: یہ اعلان انہوں نےاس وقت کیا جب وہ لاہور اور یو کے میڈیا کے درمیان میچ کے موقع پر چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے

    نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے چیف سکریٹری پنجاب کو خط لکھ دیا ہے کہ ہوٹل کےلیے زمین کی نشاندہی کردیں تاکہ اس پر کام شروع کیا جاسکے۔

    اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے نمائندوں کو کھیلتا دیکھ کر دل کر رہا ہے کہ میں بھی کھیلوں۔نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے۔

    نجم سیٹھی نے کہا کہ اس قسم کے ایونٹس ہی سے کھیل کو فروغ ملتا ہے لاہوریوں نے پی ایس ایل کے میچز میں رنگ بھر دیے ہیں، شائقین کرکٹ کے بڑی تعداد میں آنے سے اسٹیڈیم چھوٹے پڑگئے ہیں پی ایس ایل نے ہمیشہ ہی پاکستان کو اچھا ٹیلنٹ دیا ہے۔

    چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نے بتایا کہ آئی سی سی اور اے سی سی اجلاسوں میں ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پر غور ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹس اور ریجنز کے انتخابات کروا کر گورننگ بورڈ مکمل کردیں گے، آئندہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے لیے ڈیپارٹمنٹس نے ہامی بھر لی۔

  • عمران طاہر اور کولن منرو پاکستان جونیئر لیگ کی ٹیموں کے مینٹورز مقرر

    عمران طاہر اور کولن منرو پاکستان جونیئر لیگ کی ٹیموں کے مینٹورز مقرر

    عمران طاہر اور کولن منرو پاکستان جونیئر لیگ کی ٹیموں کے مینٹورز مقرر

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کےسابق کپتانوں شاہد آفریدی ، شعیب ملک اور ڈیرن سیمی کے بعد اب پاکستانی نژاد جنوبی افریقی اسپنر عمران طاہر اور نیوزی لینڈ کے جارحانہ مزاج بیٹر کولن منرو بھی پاکستان جونیئر لیگ کی ٹیموں کے مینٹورز مقرر ہوگئے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا افتتاحی ایڈیشن 4 سے 17 اکتوبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    ان پانچ نامور کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان کے سابق کپتان اور شہرہ آفاق بیٹر جاوید میانداد کو پہلے ہی ٹورنامنٹ کا مینٹور مقرر کیا جاچکا ہے۔ ایونٹ کی چھٹی ٹیم کے لیے مینٹور کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    عمران طاہر نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ1998 میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی تاہم وہ 2005 میں جنوبی افریقہ منتقل ہوئے اور 2011 میں وہاں سے اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیرئیر کا آغاز کردیا۔انہوں نے مجموعی طور پر 20 ٹیسٹ، 107 ون ڈے اور 38 ٹی ٹونٹی میچز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کُل 293 انٹرنیشنل وکٹیں حاصل کیں۔

    کولن منرو نے 65 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کی۔اس دوران انہوں نے تین سنچریاں اور11 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ جارحانہ مزاج بیٹر 57 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں کھیلنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

    عمران طاہر:

    عمران طاہر کا کہنا ہے کہ لاہور ان کا آبائی شہر ہے اور پاکستان جونیئر لیگ میں ٹیم مینٹور کی حیثیت سے شرکت کے لیے لاہور واپسی پر وہ بہت خوش ہیں۔یہ ان کے پاس نوجوان اور ابھرتے ہوئے اسپنرز کی معاونت کا بہترین موقع ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ کے فلسفے کی مکمل حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ نوجوان کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے مکمل اظہار کے لیے ایک سخت اور مشکل ماحول فراہم کرے گا۔ یہ ایونٹ پاکستان میں کھلاڑیوں کا پول بڑھانے میں بھی معاونت کرے گا۔

    کولن منرو:

    کولن منرو کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ کے افتتاحی ایڈیشن کا حصہ بننے کے لیے بہت پرجوش ہیں، یہ ایونٹ پاکستان کی کرکٹ میں گیم چینجر ثابت ہوگا ۔ نوجوانوں میں سرمایہ کاری، کھیل کے مستقبل کو محفوظ اوراپنی قومی ٹیموں کی ترقی کو یقینی بنانا تمام منتظمین کا مقصد ہونا چاہیے۔ پی سی بی نے اس قسم کا ٹورنامنٹ شروع کر کے دیگر ممالک پر سبقت لےلی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان جونیئر لیگ میں شرکت کے منتظر ہیں کیونکہ یہاں انہیں نوجوان کھلاڑیوں کو علم بانٹنے اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار لانے کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔ بلاشبہ پاکستان جونیئر لیگ مستقبل میں ورلڈ چیمپئنز پیدا کرے گی۔

  • پی سی بی نے ملازمین فارغ کرنا شروع کر  دئیے

    پی سی بی نے ملازمین فارغ کرنا شروع کر دئیے

    لوئر رینک کے ملازمین کو فارغ کیا جارہاہے.پی سی بی نے ملازمین فارغ کرنا شروع کر دیا.آفس بوائے اور ہیلپرز کو پہلے مرحلے میں نوکریوں سے برخاست کیا گیا.آفس بوائز اور ہیلپرز عر صہ دراز سے پی سئ بی میں ملازم تھے پھربھی ملازمین کو ٹرمینیشن لیٹرز دے دیئے گئے. پی سی بی نے گذشتہ ہفتے ہی بھاری تنخواہوں پر ہائی پرفارمنس سنٹر میں تقرریاں کیں.

  • آن لائن خواتین کے فٹنس ٹیسٹ پر پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کا جواب

    آن لائن خواتین کے فٹنس ٹیسٹ پر پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کا جواب

    آن لائن فٹنس ٹیسٹنگ ہم سب کے لیے ایک نیا تجربہ تھا.لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن ٹیسٹنگ کا فائدہ ہوگا. آج کل کرکٹ بہت تیز ہوگئی لہذا فٹنس ٹیسٹ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے.مقصد یہ ہے کہ گراؤنڈ میں واپسی پر اسکلز میں کمی کو ذہنی مضبوطی سے دور کریں، جویریہ خان

    آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا سنا تو بہت نروس تھے،پہلی بار آن لائن فٹنس ٹیسٹ دینے کے لیے پرجوش تھے.کائنات امتیاز
    Fast bowler @kainatimtiaz16 reflects on the online women’s fitness tests

    🎧 PCB Podcast: https://t.co/O6IYKkFz9J https://t.co/YtB96PkmeE

    ہمارے ٹرینر نے سمجھایا کہ گھر میں رہتے ہوئے کیسے ٹیسٹ کی تیاری کرنی.خواتین کرکٹرز کے لیے آن لائن سیشن اور آن لائن فٹنس ٹیسٹ دونوں مفید رہے.امید ہے جہاں سے کرکٹ چھوڑی لاک ڈاؤن کے بعد وہی سے شروع کریں گے، سدرہ نواز

  • اتار چڑھاو کھیل کا حصہ ہے ، اصل ہدف ٹیم میں و اپسی ہے ۔ سرفراز احمد

    اتار چڑھاو کھیل کا حصہ ہے ، اصل ہدف ٹیم میں و اپسی ہے ۔ سرفراز احمد

    سنٹرل کنٹریکٹ کی اے ، بی یا سی کٹگری معانی نہیں رکھتی۔ اتار چڑھاو کھیل کا حصہ ہے ، اصل ہدف ٹیم میں و اپسی ہے ۔ شاہین شاہ آفریدی باصلاحیت کرکٹر ہے ، عمدہ کارکردگی میں تسلسل کنٹٹریکٹ میں ترقی کی وجہ ہے ۔ سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل سبھی کرکٹرز شاندار ہیں ۔بی کٹگری میں بھی بہترین کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل ہے ۔ سنٹرل کنٹریکٹ میں حال ہی میں سرفراز احمد کو اے سے بی کٹگری میں بھیج دیا گیا تھا.

  • پالیسی کون بناتا ہے ؟؟؟

    کیا کوئی سجاول ریاض کو جانتا ہے ؟؟ سجاول ،پاکستان انڈر 19 کا نائب کپتان ہے اور پاکستان کی طرف تمام لیول کی کرکٹ کھیل چکا ہے اور اسے زرعی ترقیاتی بینک کی طرف سے نوکری دی گئ۔مگر پاکستان میں کلب کرکٹ ختم ہونے کے بعد ZTBLنے ایک لیٹر کے زریعے مطلع کیا ہے کہ آپ کرکٹ کو خیر آباد کہیں اور واپس آکر ”Peon”کی نوکری کریں۔
    پی سی بی کے لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے دیسی بابوئوں نے آتے ہی ریجنز /ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند اس وجہ سے کی کہ اقربا پروری اور سفارش کلچر کو ختم کیا جا سکے۔وہ تو ختم نہ ہو ئے (حالیہ ٹیم سلیکشن سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے) لیکن اس پالیسی نے کھلاڑیوں کو بیروزگار ضرور کر دیا ہے۔اسی مد میں ایل سی سی اے میں 14 سال سے کام کرنے والے گراونڈ مین شوکت علی کو تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی اور نوکری سے فارغ کردیا گیا۔تو پوچھنا تھا ،پالیسی کون بناتا ہے؟؟
    بحیثیت ایک کرکٹ شائق اورکرکٹ کھیلتے اور دیکھتے اپنی عمر کی تیس بہاریں گزار چکا ہوں۔مجھے نہیں پتہ چلا آج تک کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کےلئے پالیسی کون بناتا ہے۔تحریر میں حقائق اس بات کے عکاس ہونگے کہ پالیسی بنانے اور اسے نافذ کرنے کےلئے کرکٹ کھیلنے اور کا با غور مشاہدہ صیحح پالیسی کو بنانے میںکتنا کار گر ثابت ہوتے ہیں۔
    وسیم خان ،حال ہی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ میںتعینات ہونے والے ایم ڈی ہیں۔ وزیر اعظم کے لائے ہوئے احسان مانی نے اُنہیں اپنے اقتدار کے فورا” بعد تعینات کیا۔سوال یہاں یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان میں ہونے والے کلب کرکٹ کو سمجھتے ہیں ؟؟ کیا محض ایک انگلش کاونٹی کے سی او کو پورے کرکٹ بورڈ کا ایم ڈی لگا دینا درست عمل ہے؟؟ تو یوںپرچیوں کا سلسلہ شروع ہوا چاہتا ہے۔
    مصباح الحق کو ایک ہی وقت میں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ بنانے کی لوجک ابھی عام عقل میں آنے والی نہیںتھی ک موصوف نے آسٹریلیا کےلئے ٹیم انائونس کرنے کی پریس کانفرنسز کر کے اپنی اہلیت اور پالیسی کے فیلئر کو ایک دفعہ پھر عیاں کر دیا۔
    مصباح،9 اکتوبر کو کی گئی پریس کانفرنس میںایک سوال کہ جواب میں کہتے ہیں ،عثمان قادر کیا ڈومیسٹک کھیلا ہے جو اُسے نیشنل ٹیم میں سلیکٹ کیا جائے ۔ (یہاں اس بات کو بالکل نہیں بھولنا چاہئیے کہ اس وقت کپتانی سرفراز کے پاس تھی)۔ٹھیک گیارہ دن بعد جب آسٹریلیا کے لئے تینوں فارمیٹس کےلئے ٹیمز کا اعلان ہوا تو ایک اور پریس کانفرنس داغ دی۔اور عثمان قادر کو نہ صرف ٹیم میں سلیکٹ کیوں کیا اس پر صحافیوں کو بھاشن دیا ، بلکہ قصیدہ گوئی بھی کہ جناب بگ بیش کھیل کر آئے ہیں اور بال گھوماتا اچھی ہے سکٹ اچھی کرتا بلا بلا۔۔اب عثمان قادر کو سلیکٹ کرنے کے پیچھے نئے ٹی ٹونٹی کے کپتان بابر اعظم کی دوستی کا عنصر بھی شامل ہے۔اگر ہندسوں پر جائیں، تو دائیں ہاتھ کے لیگ سپنرززاہد محمود نے حالیہ نیشنل ٹی 20 کپ میں سائو تھ پنجاب کی جانب سے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے 9 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔جبکہ عثمان قادر نے 4 میچز میں 16کی اوسط سے 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔
    دوسری طرف ایک الگ ہی دوڑ پنجاب اور سندھ کی لابیز کی شروع ہوئی ہوئی ہے۔مصباح الحق نے آتے ہی ذاتی حیثیت میں پرفارم نہ کرنے پر نہ صرف سرفراز احمد کوکپتانی سے ہٹا دیا ساتھ ہی ساتھ ٹیم سے بھی فارغ کر دیا۔اور کہا کہ ڈومیسٹک میں پرفارم کرے ٹیم کے دروازے اُس کےلئے کھلے ہیں۔تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کبھی بھی کپتانی سے نکالے شخص کو ٹیم میں نہیں رکھا۔پرفارمنس کی بنیاد پر اگر کم از کم ٹیسٹ میں کسی کو رکھا جاتا تو فواد عالم ضرورسلیکٹ کیا جاتا۔بیسیوں ایسے نام ہیں جن میں تابش خان (کراچی سے) ، سہیل تنویر ، ذیشان اشرف میرٹ ہوتا تو انہیں بھی آسٹریلیا ٹور میں شامل کیا جاتا۔اگلے سال 2020 میں ٹی 20 ورلڈکپ آرہا ہے اور ٹیم میں کوئی سینئر پلیئر نہیں ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا اگر محمد حفیظ یا شعیب ملک کی بھی جگی بنتی تا کہ جونئیر پلئرز ،سینئرز کے ساتھ ملکر کھیلتے اورہم ایک مضبوط ٹیم ورلڈ کپ میں اُتارتے۔
    ہم نے سوچا تھا کہ عمران خان کے آنے کے جہاں اور بہت سے ڈیپارٹمنٹ صحیح ہونگے وہیں کرکٹ تو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے مگر جہاں لوگ انڈے بیچتے ہوں یا وین چلا کر گزارا کرنے پر مجبور ہوں
    تو پو چھنا پڑے گا کہ پالیسی کون بناتا ہے ؟؟