Baaghi TV

Tag: Pervez Khattak

  • عمران خان کو کئی بار الیکشن آفر ہوئی وہ کیوں قبول نہ کی؟ پرویز خٹک

    عمران خان کو کئی بار الیکشن آفر ہوئی وہ کیوں قبول نہ کی؟ پرویز خٹک

    سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے عمران خان کو پچھلے ایک سال میں تین سے چار مرتبہ الیکشن کی آفر کی گئی تھی جبکہ انہوں نے یہ الیکشن کی آفر کیوں نا قبول کی تھی؟ خیال رہے کہ پرویز خٹک نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ کیوں ذرائع کے مطابق جب بھی الیکشن کی آفر کی گئی تو بشریٰ بی بی نے جادو ٹونا کیا اور منع کر دیا کہ یہ تاریخ آپ کے لئے ٹھیک نہیں ہے اور یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث پی ٹی ائی کی تباہی شروع ہوئی اور اس کے ذمہ دار صرف عمران خان اور بشری بی بی ہے.


    پرویز خٹک نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم یعنی میں اور محمود خان یہاں کے پی میں وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور بہت سارے پروجیکٹ کیئے ہیں جیسے موٹرویز اور بلین ٹری منصوبہ جبکہ پشاور بی آر ٹی سمیت جنگلات کو بچایا، انہوں نے مزید کہا ہم نے سڑکوں کے جال بچھائے اور سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وہ مواقع کیوں گنوائے جو ہمیں مل چکے تھے.

    پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے جمہوریت کو فروغ دینا ہے یا پھر انتشار کو یہ سب کیلئے سوال ہے، کیونکہ یہ بہت بڑا راز ہے اور جس دن یہ راز کھلے گا سب کو پتہ چل جائے گا، لہذا ہم نے نئی جماعت کی بنیاد رکھ رہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    دوسری جانب تحریک انصاف خیبر پختون کے سابق ارکان اسمبلی نے پرویز خٹک کی نئی جماعت میں شمولیت کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ تحریک انصاف سے راہیں جدا کرکے اپنی جماعت بنانے والے سابق وفاقی وزیر پرویزخٹک نے نئی پارٹی میں 57 ارکان کی شمولیت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان میں سے متعدد پی ٹی آئی کے سابق ممبران اسمبلی کی تردید آنا شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما پیر مصور خان، اعظم خان، افتخارمشوانی اور نوابزادہ فرید کے بیانات سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے پرویزخٹک کی جماعت میں شمولیت کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ ہم اب تک پی ٹی آئی کا ہی حصہ ہیں، پرویز خٹک کی بنائی گئی فہرست میں تصویر ہماری مرضی سے نہیں لگائی گئی، ہم ان کی پارٹی اور تقریب میں بھی شریک نہیں تھے، ہم کسی اور جماعت میں گئے ہیں اور نہ شامل ہونے کا ارادہ ہے۔

    دوسری جانب پرویزخٹک کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں فضل مولا کی جگہ وقار خان کی تصویرلگا دی گئی تھی، جب کہ اے این پی کے رہنما وقار خان کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکے ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پی ٹی آئی سے راہیں جُدا کرنے کے بعد نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اپنی نئی جماعت کا نام پی ٹی آئی پارلیمینٹرینز رکھا ہے۔

  • پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    پی ٹی آئی نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی

    ترجمان تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے الزامات کی تردید کردی ہے جبکہ ان الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خٹک ممکن ہے کہ الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہا ہے جبکہ تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے حالیہ بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان سراسر لغو، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے جس کی کوئی صداقت نہیں اور پرویز خٹک پارٹی کے عہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان الزامات سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ عمران خان کو 9 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ ہے۔

    پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق پرویز خٹک بطور صوبائی صدر پارٹی کے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے لیکن اب انہیں پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کے فیصلے غلط نظر آنے لگے ہیں اور اگر ان کو پارٹی کے کئے ہوئے فیصلوں سے اختلاف تھا تو اسی وقت عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی کیوں نہ ہوئے تھے؟ لہذا کیا وجہ تھی کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے انہوں نے 9 مئی کا انتظار کیا اور قوم گواہ ہے کہ عمران خان نے اپنی 27 سالہ سیاست میں ہمیشہ پر امن احتجاج کی بات کی ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے پچھلے 1.5 سال میں 100 سے زائد جلسے کیے لیکن ایک گملا تک نہ ٹوٹا، عمران خان نے 25 مئی اور 26 نومبر کے دھرنے بھی انتشار کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کئے، عمران خان پر قاتلانہ حملے کے باوجود ملک میں کوئی پر تشدد کاررائیواں نہیں کی گئیں، نو مئی کے ہنگاموں کے وقت عمران خان ریاست کی قید میں تھے اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا،پرویز خٹک کو پارٹی رہنماؤں کو پارٹی چھوڑنے پر اکسانے کیلئے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔

    ترجمان پی ٹی آئی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز خٹک جھوٹے الزامات لگانے کی بجائے فیصلہ کریں کہ انہوں نے پارٹی میں رہنا ہے کہ نہیں، شاید پرویز خٹک اس قسم کے الزامات کے ذریعے نئی کنگز پارٹی میں اپنے لیے کسی مرکزی عہدے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، پرویز خٹک اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو چکا ہے، عمران خان یا پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزمات لگا کر یہ اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال نہیں کر سکتے ، پاکستانی قوم تمام لوٹوں کو پہلے ہی یکسر مسترد کر چکی ہے،ان جھوٹ پر مبنی بے ہودہ ہتھکنڈوں سے پرویز خٹک سمیت تمام منحرف اراکین قوم میں اپنی رہی سہی عزت بھی گنوا دیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    تاہم خیال رہے کہ عید کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کی جانب سے موصول ہونے والے شوکاز نوٹس پر کہا تھا کہ میں کوئی سرکاری ملازم تو نہیں جو مجھے شوکاز ملا ہے۔ میں نے ہمیشہ عوامی سیاست کی ہے۔ ہماری صوبے کی اپنی روایات ہیں، ہم سیاست میں دشمنی نہیں کرتے۔ پارٹی اراکین سے رابطے کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔