Baaghi TV

Tag: Pm

  • اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ کرسچن برادری کا تحفظ امت محمدی پرفرض ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا اور مسیحی برادری سے ملاقات بھی کی ہے۔

    خیال رہے کہ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کوحلف لیے ہوئے 2 دن گزرے تھے اور یہ واقعہ ہوگیا، واقعہ پر بہت دکھی ہوں، آج آپ کے سامنے دل کی باتیں کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ اور انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کا کسی مذہب،زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں، یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے، سانحہ جڑانوالہ معاشرےمیں موجود ایک مرض کی نشاندہی کررہا ہے، کوئی بھی گروہ حملہ آور ہو گا تو ریاست ایکشن میں آئے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور ریاست کے قوانین مظلوم کے ساتھ ہیں، ایک دوسرے کے احساس سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے، کسی کو نہیں پتہ آنے والا کل کیا لیکر آئے گا، مستقبل میں آنے والا وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف سے ہی قائم رہ سکتا ہے، مجھے بہت خوشی ہوئی اگلے چیف جسٹس جڑانوالہ تشریف لائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں مسیحی برادری کا اہم کردار ہے، ملٹری لیڈر شپ نے یقین دلایا اقلیتوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

  • نگراں وزیراعظم نے کابینہ کا پہلا اجلاس کل طلب کرلیا

    نگراں وزیراعظم نے کابینہ کا پہلا اجلاس کل طلب کرلیا

    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے وفاقی کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد کل کابینہ کا پہلا اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ نگراں کابینہ کی پہلی بیٹھک جمعہ کی صبح گیارہ بجے ہوگی اور نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس بلالیا ہے تاکہ ملکی مسائل پر کام شروع کیا جاسکے.

    اطلاعات کے مطابق کابینہ اجلاس کی صدارت نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کریں گے جس میں ملکی معاشی اور امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ جبکہ نگراں وفاقی کابینہ نے آج حلف اٹھایا، ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں صدر مملکت عارف علوی نے کابینہ سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں شمشاد اختر، احمد عرفان اسلم، شاہد اشرف تارڑ اور سرفراز بگٹی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ڈاکٹر گوہر اعجاز ، محمد علی اور انیق احمد نے بھی حلف لیا ہے اور نگراں کابینہ میں جلیل عباس جیلانی ، جمال شاہ، سید انور علی حیدر اور مرتضیٰ سولنگی بھی شامل ہیں۔ جبکہ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں ڈاکٹر ندیم جان، مدد علی، خلیل جارج اور محمد سمیع سعید بھی شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    ائیر مارشل (ر) فرحت حسین، احد خان چیمہ ، وقار مسعود خان، مشعال حسین ملک، جواد سہراب ملک، وائس ایڈمرل (ر) افتخار راؤ، وصی شاہ، ڈاکٹر جہانزیب خان اور سیدہ عارفہ زہرہ نگراں کابینہ میں شامل ہیں۔

  • نگراں وزیراعظم کی  نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    نگراں وزیراعظم کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت مختلف وزارتوں کے اہم امور پر اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں مختلف وزارتوں کے اہم امور پر انہیں بریفنگ دی گئی اور وزیرِ اعظم کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو کوئٹہ سکھر ہائی وے پر پنجرا پُل اور کوئٹہ ژوب شاہرہ پر سوار پُل پر جاری کام پر پیشرفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا جبکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجرا پُل جو گزشتہ برس سیلاب سے تباہ ہو گیا تھا کی تعمیر نو پر کام آئندہ ماہ سے شروع ہوگا، اور گزشتہ برس سیلاب کے بعد پُل سے گزنے والی ٹریفک کے لیے کازوے بنا دیا گیا تھا جس سے ٹریفک میں خلل کو دور کر دیا گیا تھا۔ نگراں وزیرِاعظم نے پُل کی تعمیر کے لیے درکار وقت میں کمی لانے کی ہدایت بھی کی۔

    اعلامیہ کے مطابق پنجرا پُل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 118 کلومیٹر طویل کوئٹہ دھادر روڈ اور 188 کلومیٹر طویل دھادر جیکب آباد روڈ کی ازسر نو تعمیر و بحالی بھی کی جائے گی جس سے نہ صرف وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ ٹریفک کا رش بھی کم ہوگا۔ علاوہ ازیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سوار پُل کی ازسر نو تعمیر پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا جس میں درکار مدت کا تخمینہ 6 ماہ لگایا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو جاری منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    جبکہ اس موقع پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بہترین انفراسٹرکچر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ملک میں سڑکوں کی تعمیر و نگرانی کے حوالے سے بہترین کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کے ایسے حصوں میں روڈ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر بنانے کی ضرورت ہے اور بیرونی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

  • نگراں وزیراعظم نے منصب سنبھالتے ہی  وزارتوں سے اہم امور پر بریفنگ طلب کرلی

    نگراں وزیراعظم نے منصب سنبھالتے ہی وزارتوں سے اہم امور پر بریفنگ طلب کرلی

    نگران وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ نے وزارتِ عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی تمام وزارتوں سے اہم امور پر بریفنگ طلب کرلی۔ جبکہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ملک کے 8 ویں نگراں وزیر اعظم کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ جس کے ساتھ ہی شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت ختم ہوگئی ہے۔ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نومنتخب نگراں وزیراعظم سے حلف لیا۔

    حلف برداری کے بعد وزارت عظمیٰ کا دفتر سنبھالنے والے نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ سے بلوچستان کے وفد کی ملاقات کی جبکہ ملاقات میں سینیٹر سرفراز بگٹی اور میر خالد لانگو شامل تھے۔ وفد نے وزیرِاعظم کو وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    یاد رہے کہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ حلف برداری کے فوری بعد وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے تھے جہاں ان سے پی ایم ہاؤس کے اسٹاف و عملے کا تعارف کروایا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر انوار الحق کاکڑ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انوار الحق کو تینوں مسلح افواج کے دستوں نے سلامی دی۔ اور نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، تقریب میں قومی ترانہ بجایا گیا۔

    نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوگئے ہیں جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کاکڑ 2018 میں آزاد حیثیت سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے انوار الحق کاکڑ کا استعفیٰ منظور کرلیا، جس کے بعد ان کی سینیٹ کی نشست خالی قرار دے دی گئی۔

  • آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم آئین کے راستے سے آئے تھے اور اسی راستے سے واپس جا رہے ہیں، قوم کے اختیارات، وسائل کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی ہے، 16 ماہ کا سفر کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، اور اپنی سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا ہے۔ جبکہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئینی راستے سے اقتدار میں آئے اسی راستے سے واپس جارہے ہیں، آئینی طریقے سے نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہوا ہے ملک کی باگ دوڑ نگراں وزیراعظم کے حوالے کررہا ہوں اور نگراں وزیراعظم کا تعلق ملک کے عظیم صوبے سے ہے۔

    شہبازشریف نے مزید کہا کہ ارض پاک اور عوام کی نگہبانی کی، 16 ماہ کا سفر بہت کٹھن تھا، 16 ماہ کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، الحمد اللہ قوم کی امانت میں کوئی خیانت نہ کی، مختصر مدت میں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، قومی مفاد پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عظیم دوستوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا، مہنگائی اس رفتار سے کم نہ ہوئی جس کی توقع تھی، قرض لینا کوئی کامیابی نہیں ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا، سابق حکومت ڈیفالٹ کی شکل میں مشکل سرنگ بچھا کرگئی، ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو ایک تباہ کن صورتحال ہوتی۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی آزادی اور ورکرز کو حقوق دیے، 9 مئی کا سیاہ دن قوم کبھی نہیں بھلا سکتی، 5 ہزارمیگا واڑ بجلی نیئشنل گرڈ میں شامل کی، 2 ہزار ارب کا رمضان پیکج دیا، نواجوانوں کو 80 ارب کا وزیراعظم پیکج مہیا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دانش اسکول کا دائرہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک بڑھا رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینش میں اضافہ کیا، صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کا ہرافسراورسپاہی ہمارے لیے فخر ہے، آنے والے وقت میں اربوں روپے کے غیرملکی منصوبے شروع ہونے والے ہیں، محنت اور دیانت سے مشکل سے نکل سکتے ہیں۔ تاہم اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ معدنی خزانوں سے ملک کی تقدیربدلیں گے، پاکستان دنیا میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، قرضوں کی دلدل سے نکل کر خود انحصاری کی جانب جانا ہوگا۔

  • نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ آج رات یا کل تک ہو جائے گا جبکہ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ صدرمملکت کو کس بات کی جلدی ہے جو خط لکھ دیا ہے، خط لکھنے سے قبل صدر مملکت کو آئین پڑھ لینا چاہیے تھا، میرے پورے 8 دن ابھی باقی ہیں، لہذا صدر مملکت عارف علوی کو چاہئے آئین پڑھیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں فیصلہ نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی تین دن میں فیصلہ کرے گی اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے گا۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج رات اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، تمام اتحادیوں کو مشاورت کیلئے آج بلایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت مشکل ترین حکومت تھی، سابق حکومت نے معیشت کے ساتھ خارجہ تعلقات کوبھی نقصان پہنچایا، امریکہ کے ساتھ گزشتہ دورمیں تقریبا تعلقات ختم ہو چکے تھے، اب تعلقات بہتری کی طرف آئے ہیں اور انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو پھر ترقی کی راہ پرگامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کےساتھ محاذ آرائی کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کےدورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانےکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔

    جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلےمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوںگے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

  • نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی کیونکہ انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے اور حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم زیادہ نہیں ہوں گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنا چاہیئے اور سوسائٹی بیلنس ہوگی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے، 30 سال تک ملک میں آمریت رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، بلاول بھٹو نے بات حکومت کی جانب سے کہی۔

    قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں ہم مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہیں پاسکے ہیں لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے پیٹرول مہنگا کیا گیا مگر ذرا سوچیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرنا کیا آسان فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریاست کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے، بلاول بھٹو کے بیان پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا، پیمرا ایکٹ میں ترامیم کرکے بل دوبارہ پیش کیا گیا، اس کا مطلب ہے کسی کے کہنے پر ٹھپے نہیں لگ رہے، تیز رفتار قانون سازی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ارکان مزے کررہے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے ایوان میں اعتراض اٹھایا جاتا ہے، جمہوریت کے لیے ہم ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے جاتے ہیں، جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انتخابات سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات آئینی ضرورت ہیں، 90 دن میں ہوتے نظر نہیں آرہے، سی سی آئی نے 2017 کی مردم شماری کو مشکوک قرار دیا، 2022 میں نئی مردم شماری کا آغاز ہوا تھا، مردم شماری پر ایم کیوایم کو شدید تحفظات تھے، سی سی آئی نے متفقہ طور پر مردم شماری کی منظوری دی، مردم شماری کے نتائج پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونا قومی تقاضہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی، نگراں وزیراعلیٰ کی سی سی آئی میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے، نگراں حکومت 90 دن میں ختم نہیں ہوتی، حکومت سازی میں مزید 15 دن لگتے ہیں، نگراں حکومت رہتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں میں پنجاب کی کوئی نشست کم نہیں ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے لیے اب آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہی ہے لہذا حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم یا زیادہ نہیں ہوں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےکہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا ہے اور وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر اس پر کل مشاورت کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلے جبکہ آئین پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

  • اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں۔ جبکہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں پاکستان کانام روشن کررہے ہیں،ہم اوور سیز پارکستانیوں کیلئے جنتا بھی کر سکتے ہیں،کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام اوورسیز پاکستان کے سفیر ہیں ،اگر لیبر کو اسکیل پر ٹریننگ دی جائے تو وہ زیادہ ریمیٹنس بنا سکیں گے، دنیا میں نوجوانوں کو کمال ٹریننگ دی جا رہی ہے ،نوجوانوں کوا سکیل ٹریننگ دی جائے تو باہر جا کر یہ اور بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔ آج اوور سیز پاکستانیوں کیلئے پیکج کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ،اگلی حکومت اس پیکج کو عملی جامہ پہنائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، تمام پبلک سیکٹر ہاوسنگ اسکیموں میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی ڈسکاونٹ دیا جائے گا، سال میں سب سےترسیلات زر بھیجنے والے 10اوورسیزپاکستانیوں کو ایوارڈ دیئے جائیں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ یونیورسٹیز میں 5فیصد کوٹا اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کیلئے رکھا جائے گا، سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

  • وزیراعظم نے تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم نے تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے جج کی اہلیہ کے مبینہ تشدد کا شکار رضوانہ کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم کون ہے، اسے خاطر میں نہ لایا جائے، پولیس کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون پر سختی سے عمل کرے۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی رضوانہ پر مبینہ طور پر جج کی اہلیہ نے بدترین تشدد کیا، اور گزشتہ 6 روز سے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیرعلاج ہے، وزیر اعظم شہبازشریف نے بچی پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں اور اس کی زندگی بچانے کے لئے پوری کوشش کی جائے، جب کہ مظلوم لڑکی کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ ظالم اور قانون شکن رعایت کے مستحق نہیں، معاشرہ ایسی اندھیرنگری اور ظلم وجبر کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملزم کون ہے اسے خاطر میں نہ لایا جائے، پولیس کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون پر سختی سے عمل کرے۔

    واضح رہے کہ لاہور کے جنرل اسپتال کے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر فرید ظفر نے انکشاف کیا تھا کہ بچی کو زہر دیا گیا ہے، اور میڈیکل بورڈ نے رضوانہ کو زہر دینے کا ٹیسٹ لیبارٹری بھجوا دیا ہے، بچی کے لیے 48 گھنٹے اہم قرار دیے گئے ہیں۔ پروفیسر فرید ظفر نے مزید بتایا کہ رضوانہ کو سیپسیس کی بیماری ہو چکی ہے، سیپسیس کی وجہ خون میں انفیکشن ہے، جو پورے جسم کو متاثر کر رہا ہے، آکسیجن میں کمی کے باعث رضوانہ کی برونکو سکوپی مکمل کر لی گئی ہے۔

    میڈیکل بورڈ سربراہ کا کہنا ہے کہ رضوانہ کے ایک سائیڈ کے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہے، دوسرے پھیپھڑے میں خون کے لوتھڑے ہیں۔ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ انفیکشن اور کلاٹ کی وجہ سے سیچوریشین کم ہو رہی تھی۔ پرنسپل جنرل اسپتال پروفیسر فرید ظفر نے رضوانہ کے میڈیکل بورڈ کے چیک اپ سے قبل بھی آج نیوز سے گفتگو کی تھی ۔ انھوں نے بتایا تھا کہ رضوانہ کی طبیعت آج صبح دوبارہ خراب ہوگئی تھی، رضوانہ کا آکسیجن لیول کم ہوگیا تھا۔
    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ آج دوبارہ بچی کا معائنہ کرے گا، وزیر صحت جاوید اکرم نے بھی ایڈوائس دی ہیں، رضوانہ کے میڈیکل بورڈ میں مزید 2 ڈاکٹر شامل کررہے ہیں، بورڈ میں جناح اسپتال کے کارڈیالوجسٹ کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز پروفیسر فرید ظفر نے بتایا تھا کہ رضوانہ کو ابھی بھی آکسیجن کی ضرورت پڑرہی ہے، لیول بہتر ہونے پرآکسیجن اتاردی جاتی ہے جبکہ طبعیت خراب ہوتو دوبارہ لگا دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رضوانہ کو نرم غذا دی جارہی ہے، اس کے پلیٹ لیٹس پہلے سے بہتر ہیں لیکن ابھی بھی کم ہیں جن میں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پروفیسر فرید ظفر نے مزید بتایا کہ کینسر سے متعلق خون کے نمونہ کی رپورٹ کلیئر ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری 12 اگست سے قبل صدر مملکت کو بھجوائی جائے گی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کی آدھی رات 12 بجے مکمل ہوگی۔ نواز شریف وطن واپسی پر قانون کا سامنا کریں گے۔تین بار سابق وزیر اعظم – جو 2019 سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں – اگلے چند ہفتوں میں وطن پہنچیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم شہباز نے 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری سے شروع ہونے والے فسادات کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو اس کا ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فسادات کا مقصد فوجی قیادت کو گرانا اور ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا تھا۔ واضح معلومات کی بنیاد پر انکشافات کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے علاوہ، سیاستدانوں کا ایک گروپ، کچھ فوجی جوان اور ان کے اہل خانہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، جسے فوج نے ”یوم سیاہ“ قرار دیا تھا۔9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد عسکری قیادت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ منصوبہ ساز ملک میں ’انتشار‘ اور ’خانہ جنگی‘ چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کو پہلے سے طے شدہ خطرے سے نکالا اور گزشتہ 15 ماہ کے دوران ملک کا کھویا ہوا وقار بحال کیا۔

  • جو دوپٹے پہن کر گئے، اب اتار کر پارٹیاں بنارہے. وزیر اعظم

    جو دوپٹے پہن کر گئے، اب اتار کر پارٹیاں بنارہے. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ نو مئی کے واقعات فوج میں بغاوت کی گھناؤنی سازش تھی جس کے سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والے واپس آ جائیں، راستہ بھولنے والوں کا خیر مقدم کریں گے، امید ہے الیکشن وقت پرہوں گے۔ دوبارہ موقع ملا تو ملک کی حالت بدل دیں گے۔

    نجی ٹی وی کو انٹرویو میں شہباز شریف نے مزید یہ بھی کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب میں دوپٹے کس کو پہنائے گئے؟ جہازوں میں بھر کر لوگوں کو بنی گالا لایا گیا؟ جو دوپٹے پہن کر گئے۔ اب اتار کر پارٹیاں بنارہے ہیں۔ جبکہ دانش سکولوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وڈیروں کوگوارانہیں کہ غریب کےبچےپڑھ لکھ جائیں، اس لیے وہ دانش اسکولوں کی مخالفت کرتے رہے، دانش اسکول کاوژن عرصہ سے میرے ذہن میں تھا، یہ وژن جلا وطنی کے دوران آیا اور 2008ء میں حکومت میں آ کر اس پر عمل کیا۔ 50ہزار کے قریب بچے اس پروگرام سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبوں کےحوالےسے مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہیں، ہمیں مشکل ترین حالات میں نظام کو سنبھالنا پڑا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاست چمکانے کیلئے نظام کو برباد کیا، نوازشریف کی حمایت کے بعد سب نےفیصلہ کیا سیاست جاتی ہے تو جائے ریاست بچانی ہے، اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آ چکا تھا، وفاق نے سیلاب کے دوران 100ارب روپے سے زائد خرچ کیے، صوبوں نے ساتھ مل کر بے پناہ کاوشیں کیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری سے بھی امداد ملی، دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی، یوکرین جنگ کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی تھیں، ہمیں مہنگائی اورسیلاب کاسامناتھا، سابق حکومت نے تباہی ہماری جھولی میں ڈالی تھی، تباہی سےنمٹنےکیلئےہم سب کو مل کر کام کرنا تھا، تحریک عدم اعتماد پر آئی ایم ایف معاہدےکی روگردانی کی گئی، آئی ایم ایف معاہدے سے روگردانی پر قیمتیں بڑھائی گئیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی رہنمائی میں آئی ایم ایف پروگرام منظورکرایا، سب سوال اٹھاتےتھےان حالات میں حکومت کیوں لی، سب کہتےہیں سارا گند چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹھانے دیتے، یہ حب الوطنی کاتقاضاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بین الاقوامی سے تعلقات خراب کیے، ایک شخص نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا تھا، چین، سعودی عرب، قطر، یو اے ای سے تعلقات پستی کی نچلی سطح پر تھے، آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدےکی دھجیاں اڑادی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ کرپشن کے روز نئے اسکینڈل آتے تھے، چینی، گندم، مالم جبہ، بی آر ٹی جیسے اسکینڈل ملکی جڑیں کاٹ رہے تھے، کیا ہم ان تمام حالات میں خاموش تماشائی بنے رہتے؟ کوئی شک نہیں سیاسی طورپرہماراووٹ بینک بہت متاثرہوا، مطمئن ہوں ریاست بچ گئی،سیاست کوداؤپرلگادیا، چین کےساتھ تعلقات میں بہت زیادہ خلیج آچکی تھی، بہت سےممالک سےتعلقات بحال ہوگئے، چیئرمین پی ٹی آئی نےملک دشمنی کی کوئی کسرنہ چھوڑی، چین کےخلاف بھری میٹنگزمیں بےہودہ الزمات لگاتےتھے، مجھ پرالزام لگایاگیاچینی کمپنیوں سے45فیصدکمیشن لیا، ہم نےآئی ایم ایف سےمعاہدہ کیا،روس سےسستاتیل لائے، کل ہمارےآذربائیجان سےسستی گیس کےایل این جی معاہدےپردستخط ہونگے، اپنی مرضی کے مطابق قدرتی گیس ہم سستے داموں لیں گے، ان حوالوں سے اب رات کو میں بہت سکون سے سوتا ہوں۔ اتحادی حکومت نے اپنی کوششوں سے سنگ میل عبور کیے۔

    شہبازشریف نے کہا کہ 9مئی بدترین ملک دشمنی کاواقعہ تھا، 9مئی واقعات سےبڑی دشمنی ہونہیں سکتی ، ان واقعات کی فروری 2019کےبھارتی حملےکی مماثلت ہے، فرروی 2019ء کوبھارتی طیاروں نےپاکستان میں حملہ کیاتھا، ہم نےبھارتی پائلٹ ابھی نندن کوگرفتارکیا، یہ پاکستان کےاندرسےپاکستان کےخلاف سازش ہوئی ، سرغنہ چیئرمین پی ٹی آئی اوراسکےحواری تھے، فرق وہاں دشمن آیا یہاں چیئر مین پی ٹی آئی اوران کےجتھوں نےحملےکیے،ان واقعات کی بھرپورتیاری کی گئی جوکئی ڈیڑھ سال پرمحیط تھی، 9مئی کے دن پورا ملک اشکبار تھا، یہ کوئی معاملہ واقعہ نہیں بلکہ فوج میں“کو“کی قبیح حرکت تھی، 9 مئی کے واقعات فوج کے خلاف بدترین سازش تھی، اللہ نے اپنے فضل سے سازش کو ناکام بنایا اور پاکستان بچ گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ افواج اورعوام ایک تھے، ناصرف مذمت کی بلکہ الگ تھلک رہے، چندجتھوں نے شہداء اورغازیوں کی بے حرمتی کی، 9مئی کے دن شہداء کے اہل خانہ پر گیا گزری ہو گی، یہ چیئرمین پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ اورسازش تھی، ادارے اورحکومت ایک پیج پرتھے،آئینی اورقانونی راستہ اپنانےکافیصلہ کیاگیا، فیصلہ کیا گیا کسی کو بھی رعایت نہیں ملے گی، چیئرمین پی ٹی آئی کا اپرچیمبرخالی ہے، اس کوگا ئیڈاورسپورٹ کرنےکیلئےبےپناہ کوششیں اوروسائل صرف کیےگئے، اس نے اپنے لگانے والوں اور پاکستان کےخلاف بھی سازش کی، فیصلہ ہوا جنہوں نے سویلین مقامات پر حملہ کیا ان کے مقدمات سویلین عدالتوں میں چلیں گے، فیصلہ ہوا ملٹری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے، ایسی سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا کہ دوبارہ کوئی ایسی مذموم حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ 9ا لیون ہوا تو گونتاناموبے وجود میں آیا، کیپیٹل ہل پرحملہ ہواتوسخت ترین سزائیں دی گئیں، لندن میں حملہ ہوا تو راتوں عدالتیں لگیں، 13سالہ بچی کوبھی سزاملی، یہاں توپاکستان اور افواج کےخلاف سازش کی گئی، کیا 9مئی کے بدلے ان کو لڈو اور پیڑے دیئےجائیں؟بھٹوکوجب پھانسی دی گئی،ایک جج نے خود کہا یہ عدالتی قتل تھا، کیاپیپلزپارٹی نے جلاؤ گھیراؤ اور تشددکےمعاملات کیے؟ بینظیرکوشہیدکیاگیاتوآصف زرداری نےکہاپاکستان کھپے۔ سندھ،پنجاب میں واقعات شروع ہوئے مگرآصف زرداری نےانہیں روکا۔
    ہم پاکستان کیخلاف واقعات نہیں ہونے دیں گے

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کہاگیاصبرکریں ہم پاکستان کےخلاف واقعات نہیں ہونےدیں گے، نوازشریف کےخلاف 2017میں دوبارہ سازش کی گئی، ثاقب نثارنوازشریف کےخلاف سازش کےسرغنہ اور پلیئر تھے، پانامہ میں 400 اور نام بھی تھے لیکن نوازشریف کو نشانہ بنایا گیا، نوازشریف نے 2013 سے 18 تک ملک کی حالت بدل کررکھ دی، نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کی، سڑکوں کا جال بچھایاتھا، نوازشریف کو اقتدار سے ہٹانے کا پلان بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف100دن بیٹی کےساتھ عدالتوں میں پیش ہوتےرہے، نوازشریف نےملک تودورکی بات کسی فرد کیخلاف بھی نہیں سوچا، میں نے کہا تھا جسے لانا چاہ رہے ہیں بعد میں نوازشریف فرشتہ صفت لگے گا، اب جتنا مرضی احساس ہو، وقت گزر گیا بربادی ہو گئی، قوم کی رگوں میں زہرگھول کر انہیں تقسیم کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے سو اسب کو چور ڈاکو بنانے کا پروپیگنڈا کیا گیا، ایسے واقعات درگزر کرنا مناسب نہیں ہو گا، پورا فریم ورک اور شفاف احتساب کا پلان بننا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےسازش کی، عمران خان بغیرکسی شک9مئی واقعات میں ملوث رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اپنی ویڈیوزموجودہیں، کہا گیا مجھے کچھ ہوا تو یہ لوگ بدلہ لیں گے میں ذمہ دارنہیں، ان کے چیلے چانٹوں کے میسجز بھی موجود ہیں، قریب ترین چیلے لوگوں کو مختلف مقامات پر بلا رہے تھے، 9 مئی کو وردیاں کس نے لٹکائیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی اس سازش کا موجدہے، سب کچھ اسی نے کیا، سابق وزیراعظم ہی سازش کا سب سے بڑا پلانر ہے۔ سویلین والے سویلین، ملٹری والے ملٹری کورٹ میں مقدمات پرسب متفق ہیں، اس معاملےمیں کوئی تمیزنہیں ہونی چاہیے، قانون حرکت میں آئےگا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدت پوری ہونےسےکچھ دن قبل اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کرینگے، 75سال گزرنے کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف کا مرہون منت ہے، ابھی بھی آئی ایم ایف کی شرائط ہم پرلاگو ہیں، آزاد قوم کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ختم ہو چکا، ہمارے زر مبادلہ زخائر میں استحکام آ رہا ہے، معیشت کو ترقی اور خوشحالی کے سفر پر لے کر جا رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ملکی ترقی کا پلان بن چکا، ایس آئی ایف سی پاکستان کی معاشی ریکوری کا پلان ہے، ایس آئی ایف سی پروگرام میں زراعت، آئی ٹی و دیگر پروگرام شامل ہیں، ملکی آبادی میں 60 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے، الیکشن کے بعد جسے بھی موقع ملا امید ہے وہ کام کرے گا، موقع ملا تو 5 سال میں پاکستان کی حالت بدل دیں گے، قرضوں سے جان چھڑائیں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، ہم نے پلان دے دیا اور عملی طور پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوڈس مینٹل کیا گیا، جنوبی پنجاب میں دوپٹے کس کو پہنائے گئے؟ جہازوں میں بھر کر کن کو بنی گالا لایا گیا؟ آرٹی ایس بند کیا گیا تاکہ ن لیگ کی حکومت نہ بنے، 2018ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی، شہروں میں نتائج روکے گئے کیونکہ ن لیگ جیت رہی تھی، دوپٹے پہن کر پی ٹی آئی میں جانے والے آج اپنی پارٹیاں بنا رہے ہیں، وہ سیاستدان ہیں ووٹ بینک ہے ان کا حق ہے جہاں مرضی جائیں، راستہ بھولنے والے ہمارے لوگ واپس گھر آئیں تو ویلکم کہیں گے، انہیں زبردستی راستے سے ہٹایا گیا تھا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کا احترام کریں گے، وعدہ کرتاہوں پانچ سالہ مینڈیٹ ملاتوسب ملکرپاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پاکستان اورترقی اورخوشحالی کے سفر پر گامزن کردیں گے، انشاءاللہ پاکستان 10 سال میں معاشی میدان میں بھارت سے ٹکر لے گا۔

    موٹروےایم3سےمنسلک فیصل آبادستیانہ بائی پاس کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں جھر لو چلا، دھاندلی سے بہروپیے کامیاب کرائے گئے، آپ نےووٹ کی طاقت سےان بہروپیوں کو شکست دینی ہے، مولانا فضل الرحمان سے آئندہ بھی رشتہ چلتا رہے گا، پی ٹی آئی حکومت نےمنصوبوں میں ایک اینٹ کااضافہ نہیں کیا، 4سال پاکستان کےمعاشرےمیں زہر گھولتے رہے، 4سال بے تکے اور بے بنیاد بھونڈے الزامات لگاتے رہے، انہوں نے کہا کہ دوپٹےپہناکرہمارےلوگوں کوزبردستی اس طرف دھکیلاگیا، لوگوں کوجہازوں پربٹھاکرراتوں رات بنی گالہ پہنچایاگیا، پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کاراستہ روکا گیا، وفاق میں ہماری سیٹوں کوادھراُدھرکیاگیا، اس شخص نے4سال دن رات چور،ڈاکوکی گردان کی، کہتاتھا3ماہ میں لوٹےہوئے300ارب ڈالرواپس لےآؤں گا، پھر کہا مر جاؤں گا آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا،آئی ایم ایف سےمعاہدہ کیااورپھراسےتوڑکربوجھ ہماری حکومت پرڈالا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ایک سازش کےتحت نوازشریف کو بے بنیاد الزامات میں دھکیلا گیا ، اس سازش میں ثاقب نثار سازشی ٹولے کا سرغنہ تھا، ثاقب نثارکےساتھ دیگرلوگوں نےمل کرنوازشریف کو نااہل کرایا، نواز شریف کوپانامہ سےاقامہ میں نااہل کرایاگیا، افسران سے کہا تھا اس کا مکروہ چہرہ سامنےآئے گا تو نواز شریف فرشتہ نظر آئےگا، ہم نےپاکستان کوڈیفالٹ کےخطرےسےنکال لیا ، اب دوردور تک ڈیفالٹ کا کوئی نام ونشان نہیں،201یونٹ تک بجلی استعمال کرنےوالوں کیلئےکوئی اضافہ نہیں کیاگیا، آئی ایم ایف کی شرط پوری کرناہماری مجبوری تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس شخص نےآئی ایم ایف سےمعاہدہ توڑنےکیلئےسازش کی، ہم نےسیلاب متاثرین کو 100ارب روپےکی امداد پہنچائی، وعدہ کرتاہوں مینڈیٹ ملا تو سب ملکر پاکستان کی قسمت بدل دیں گے، مسلم لیگ ن کوموقع ملاتونوازشریف ہماراوزیراعظم ہوگا، عوام کےووٹوں سےمنتخب ہونےوالی حکومت کااحترام کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام کےووٹوں سےمنتخب ہونےوالی حکومت کااحترام کریں گے، مسلم لیگ ن کوموقع ملاتونوازشریف ہماراوزیراعظم ہوگا، نوازشریف کی سربراہی میں سب ساتھی کارکن کی طرح دن رات خدمت کریں گے، وعدہ کرتاہوں پانچ سالہ مینڈیٹ ملاتوسب ملکرپاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پاکستان اورترقی اورخوشحالی کےسفرپرگامزن کردیں گے، یہ کشکول توڑکراس کےحصےبنی گالہ کےآس پاس بچھادیں گے۔انشاءاللہ پاکستان10سال میں معاشی میدان میں بھارت سےٹکرلےگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف نےملک میں20،20گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ختم کی تھی، نوازشریف نےچین سے30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کرائی، نوازشریف کےدورمیں مہنگائی کی شرح3.5فیصدتھی، اگلی حکومت ن لیگ کوملی توپاکستان کوکھویاہوامقام دلانےکیلئےجان لڑادیں گے، یہ کشکول توڑکراس کےحصےبنی گالہ کےآس پاس بچھادیں گے، پاکستان کواپنےپیروں پرکھڑاکریں گے،یہ جادوٹونےاورموم بتی،لال ٹین جلانےسےنہیں ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ یہ نوازشریف کی قیادت میں محنت،امانت اوردیانت کےسفرسےہوگا، ملک بھرمیں کروڑوں بچوں اوربچیوں کولیپ ٹاپ دیں گے، معدنیات کی دولت سےپورےپاکستان کوفیض یاب کریں گے، اس طرح نہیں ہوگاکہ190ملین پاؤنڈکافراڈ کرکےچورڈاکوکہتارہے، ایسانہیں ہوگاکہ خانہ کعبہ کےماڈل کی گھڑی بیچ کرچورڈاکوکی گردان کی جائے، یہ پیسےدانش سکول کےبچیوں کو دے دیتا تو میں انہیں سلام کرتا، بتایا جائے یہ 50 ارب روپیہ پاکستان کے خزانے میں کیوں نہیں آیا؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے، انشاءاللہ پاکستان 10 سال میں معاشی میدان میں بھارت سے ٹکر لے گا، گردن میں سریے اور تکبر والے شخص کی بات سننی ہے تو پھر پاکستان کااللہ حافظ۔