Baaghi TV

Tag: PML-N

  • تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھر پر پولیس کے چھاپے اور گرفتاریاں

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھر پر پولیس کے چھاپے اور گرفتاریاں

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھر پر پولیس کے چھاپے اور گرفتاریاں

    لاہور پولیس کے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے جبکہ چھاپوں کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد کارکن گرفتار کر لئے گئے۔ پولیس کے مطابق زمان پارک آپریشن کے دوران پولیس پر حملوں، جلاؤ گھیراؤ میں مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ادھر اسلام آباد میں بھی اسی طرح چھاپے اور گرفتاریاں شروع ہیں۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ میں بھی گزشتہ روز سڑک بلاک کرنے خلاف تحریک انصاف کے 80 کے قریب رہنماؤں اور کارکنوں کے ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ ایف آئی آر ایس ایچ او بجلی گھر تھانہ کی مدعیت میں درج کی گئی اور ایف آئی آر میں عوام کو مشکلات. نازیبا الفاظ کا استعمال سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں عبدالباری بڑیچ. آصف ترین. نواب خان دمڑ. نور خان خلجی. رحیم کاکڑ. زین البدین. موسی کاکڑ. عنایت کاکڑ. دیگر نامعلوم کارکن شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں رہنما پی ٹی آئی چوہدری عمر طالب ایڈووکیٹ ممبر کنٹونمنٹ بورڈ کے گھر پولیس کا چھاپہ ، پولیس نے ان کے بھائی چوہدری عمير طالب کو بھی گرفتار کر لیا گیا جبکہ ذرائع کے مطابق پولیس سینیٹر شبلی فراز کو گرفتار کرنے بھی ان کے گھر پہنچ گئی ہے علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ مطلوب شخص کے نا ملنے کی صورت میں بچوں اور والدین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے سینیٹر شبلی فراز کے گھر کی تلاشی لی جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پولیس نے شبلی فراز کے اہلِ خانہ اور ملازمین کو ہراساں کیا۔

    چھاپے کے وقت سینیٹر شبلی فراز اسلام آباد میں موجود نہیں تھے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹرشبلی فراز کے گھر چھاپے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو چاہیے کہ چادراور چار دیواری کا احترام کرے، آئی جی اسلام آباد فوری واقعے کی تفصیلی رپورٹ دیں۔ واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر اور رہنما تحریک انصاف شبلی فراز کو پولیس نے عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔

    توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شبلی فراز کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، جس پر جج نے پی ٹی آئی رہنما کو پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالتی حکم پر شبلی فراز کو عدالت میں پیش کیا گیا، شبلی فراز نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے ایس پی نے پکڑا اور گالیاں دیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی کو بھی کمرہ عدالت میں طلب کیا، ایف سی کے زخمی اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں پیش کئے جانے کے بعد شبلی فراز کو پولیس کی جانب سے چھوڑ دیا گیا تھا۔

    میڈیا خبروں کے مطابق سینیئر نائب صدر پاکستان تحریک انصاف خواتین ونگ پنجاب کنیز فاطمہ چدھڑ کی رہائش گاہ پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ ، پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء کے گھر پولیس دیواریں چھلانگ کر داخل ہوئی پولیس نے پی ٹی آئی کی خاتون رہنماء کنیز فاطمہ چدھٹر کے گھر کی چار دیواری کے تقدس کو پامال کردیا خواتین اور بچوں کو حراسہ کرنے کی کوشش جبکہ کینر فاطمہ چدھٹر کا کہنا ہے کہ پولیس نے میرے گھر گپر چھاپہ مارکر میری فیملی کو ہراساں کیا. اور پولیس کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈوں نے گھر میں موجود بچوں پرتشددکیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ پُرامن جلسہ کوروکنے کے لیےامپورٹڈ حکمرانوں نےاوچھی حرکتیں شروع کردی ہیں چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہےمگر یہ یاد رکھیں یہ جلسہ اب ہوگا اور یہ کہاں کا قانون ہے یہ رات کے وقت پولیس عام شہریوں کے گھر پر داخل ہوں.

    بلال اسلم بھٹی نے کہا ہے کہ پولیس کے چھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جبکہ شہباز سرکار اور نگران حکومت پنجاب کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اور تحریک انصاف کے کارکنان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں اور شہباز سرکار عمران خان سے سیاسی طور پر خوفزدہ ہے۔

    دوسری جانب ملتان میں سابق صوبائی وزیر سید علی حیدر گیلانی نے گزشتہ روز زمان پارک میں دروازہ توڑ کر داخلے کی پرزور مذمت کی ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی مذمت کرتا ہوں اور پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ سیاست میں روادری کی قائل ہے، عمران خان کی غیر موجودگی میں پولیس کا عمران خان کے گھر آپریشن انتہائی نامناسب عمل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا
    پاکستان اور کرغزستان علاقائی اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے. مہر کاشف
    گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلیسز کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے واقعات کا متحمل نہیں ہوسکتا، حکومت اور پی ٹی ئی دونوں کو چاہیئے کہ تحمل سے کام لے اور معاملات کو پیچیدگی سے بچایا جائے۔ سیاست میں روادری قائم رہنی چاہیئے، سیاست کو تشدد اور بدامنی سے پاک ہونا چاہیئ.

  • چوہدری سرور ق لیگ کے چیف آرگنائزر و صوبائی صدر مقرر

    چوہدری سرور ق لیگ کے چیف آرگنائزر و صوبائی صدر مقرر

    سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کو مسلم لیگ (ق) کے مرکزی چیف آرگنائزر اور پنجاب کے صدر مقرر کردیا گیا۔

    مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کی زیرصدارت جنرل کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں صوبائی کونسل نے چوہدری سرور کوپنجاب کاصدر منتخب کیا۔ صوبائی کونسل نے چوہدری شافع حسین کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا جبکہ چوہدری سرور اور چوہدری شافع حسین بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چوہدری سرورپارٹی کے مرکزی چیف آرگنائزر بھی ہوں گے۔

    وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین مرکزی سنئیرنائب صدر اور مصطفیٰ ملک مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب ہوئے۔
    چوہدری سرور نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کرلی مرکزی جنرل کونسل نے 150 ارکین سینٹرل ورکنگ کمیٹی بھی منتخب کیے۔ اس موقع پر چوہدری شجاعت کا کہنا تھاکہ سیاسی سفر کے 50 سال ہوگئے، اتنے پیچیدہ حالات نہیں دیکھے، سیاستدان جلتی آگ پر پانی ڈالیں، ملک جلاؤگھیراؤ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا
    پاکستان اور کرغزستان علاقائی اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے. مہر کاشف
    گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلیسز کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ
    انہوں نے تجویز دی کہ حکومت نیشنل ڈائیلاگ شروع کرے، ناراض قومی رہنماؤں کے پاس جانے کو تیار ہوں۔ انہوں نےکہا تھاکہ ہنگاموں، دھرنوں سے قوم پریشان، ڈپریشن اور مایوسی بڑھ رہی ہے، مسائل کا حل سیاست دانوں کے پاس ہے، تمام قوتیں مل کرپاکستان کاسوچیں۔

    اس موقع پر چوہدری سرور کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ کے بھرپور اعتماد پر چوہدری شجاعت اورپوری جماعت کاشکرگزار ہوں، سب مل کر مسلم لیگ کو متبادل سیاسی قوت بنائیں گے، آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کلیدی کامیابی حاصل کرےگی، 5 برسوں میں ملک کا قرضہ اتاریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی تھی۔

  • مائیک چھیننے پر پی ٹی آئی رہنما آپس میں الجھ پڑے

    مائیک چھیننے پر پی ٹی آئی رہنما آپس میں الجھ پڑے

    کراچی میں راشد منہاس روڈ کے قریب مظاہرے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما آپس میں الجھ پڑے۔

    کراچی میں راشد منہاس روڈ کے قریب مظاہرے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما آپس میں الجھ پڑے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی نے تقریر کے دوران فردوس شمیم نقوی سے مائیک چھین لیا۔ فردوس شمیم نے دوران تقریرکارکنان سےکہاکہ آپ کسی پیغام کا انتظار مت کیجیے گا۔ اس پر آفتاب صدیقی نے آکر فردوس شمیم نقوی سے مائیک چھین لیا اور کہا کہ سب کو معلوم ہے کیسے چلنا ہے، آپ چھوڑیں۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا
    پاکستان اور کرغزستان علاقائی اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے. مہر کاشف
    گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلیسز کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ
    مائیک چھیننے پر فردوس شمیم نقوی اور آفتاب صدیقی کے درمیان اسٹیج پر ہی تلخ کلامی ہوئی۔ اس واقعے کے بعد فردوس شمیم نقوی ناراض ہوکر اسٹیج سے نیچے اتر گئے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے ٹویٹر پر صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف خان کے کارکن پولیس سے لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے دونوں رہنما آپس میں لڑ رہے ہیں.جب ملک کی سیاسی پارٹی اور رہنماوں کا یہ حال ہے تو عوام کس طرف جائیں.

  • اعجاز الحق پی ٹی آئی میں شامل

    اعجاز الحق پی ٹی آئی میں شامل

    اعجاز الحق پی ٹی آئی میں شامل

    مسلم لیگ (ضیا) کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کافی عرصے سے عمران خان کے ساتھ رابطے میں تھا، عمران خان کے ساتھ بلے کے نشان پر انتخاب لڑوں گا۔


    سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے خبردار کرتے ہوئے کہا یہ وقت ہے معاملات ٹھیک کرلیں ورنہ کچھ نہیں ملے گا، پارٹی ضیاء الحق کے نام پر ہے وہ زندہ رہے گی، میں خود تحریکِ انصاف میں شامل ہوگیا ہوں۔ جبکہ انہوں نے کہا بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہئے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہے، اگر یہ خود نہیں بیٹھ سکتے تو کوئی انہیں بیٹھا بھی سکتا ہے ، عمران خان نے بھی کہا ہے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن الیکشن پر بات کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کہتے تھےعدالت جاؤں گا تو قتل ہوجاؤں گا اب کل پیش ہوئے تو کیا قتل ہوگئے؟ مریم اورنگزیب
    ایکواڈوراورپیرو میں زلزلہ،15 افراد ہلاک اور 125 سے زائد زخمی،بلوچستان میں بھی زلزلے کے جھٹکے
    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم
    ٹیم غازی نے نیشنل برج فیڈریشن آف ایشیاء اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کوالیفائی کرلیا
    پاکستان اور کرغزستان علاقائی اقتصادی انضمام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے. مہر کاشف
    گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلیسز کی لاگت میں 40 فیصد اضافہ
    سابق صدر پاکستان جنرل ضیا الحق کے صاحبزادے اعجازالحق نے کہا عمران خان نے کہا ہے وہ الیکشن کے معاملے پر کسی سے بھی بات کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان نے کہا ہے کہ آئیں اور الیکشن کے طریقہ کار پر بات چیت کریں۔

  • لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ؛ عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی، عدالت نے اسلام آباد میں درج مقدمات میں 7 دن جبکہ لاہور میں درج مقدمات میں 10 روز کی ضمانت منظور کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس پر دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ بینچ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور پولیس کو زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ تک سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی جس پر عمران خان جلوس کی صورت میں ایک گھنٹہ تاخیر سے عدالت پہنچے۔

    عدالت نے عمران خان کو عدالت میں پہنچنے کیلیے ساڑھے پانچ بجے کا وقت دیا تاہم راستے بند ہونے اور کارکنان کی بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ سے وہ سوا چھ بجے تک کمرہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ میڈیا کے مطابق عمران خان کی حفاظت کیلیے پولیس نفری اتنی نظر نہیں آئی تاہم پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس نے چیئرمین اور قیادت کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔ عمران خان کے وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایس ایل میچز، راستوں کی بندش اور کارکنان کے رش کی وجہ سے کمرہ عدالت پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔

    بعد ازاں عمران خان ساڑھے چھ بجے کے قریب کمرہ عدالت میں پہنچے جس کے بعد مقدمات کی سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی اور عمران خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس دوران عمران خان کے وکلا نے بینچ کے سامنے دلائل پیش کیے اور عمران خان روسٹرم پر آئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے خلاف پانچ مقدمات اسلام آباد میں ہیں ،تین مقدمات لاہور میں ہی ہیں، درخواست گزار کو متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کےلیے حفاظتی ضمانت درکار ہے، حفاظتی ضمانت عمران خان کا بنیاد حق ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ہم اسی مقدمے میں ضمانت دیں گے جن کی درخواست ہمارے سامنے ہیں۔ وکلا نے عمران خان کیخلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات پر درج مقدمات کی تفصیلات پڑھنا شروع کردیں۔

    فواد چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2500 افراد کیخلاف مقدمات درج کردئیے گیے ہیں، یہ 5 سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ عمران خان نے جج صاحبان سے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اتنے زیادہ مقدمات ہوگئے ہیں سمجھ نہں آرہا کہاں پیش ہونا ہے، میرے گھر پر جو حملہ ہوا ہے وہ بتا نہیں سکتا، چیزیں میرے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ عدالت کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے تحفظ دیا اور بچا لیا‘۔

    جسٹس طارق شیخ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب آپ سسٹم کے ساتھ چلیں تو بہت سے مسائل حل ہونگے‘۔ عمران خان نے کہا کہ ’وزیر داخلہ کہہ رہا ہے میری جان خطرے میں ہیں، جس جگہ میری پیشی ہے وہ جگہ خطرے سے خالی نہیں ہے، کچہری والا کیس کہیں اور منتقل کردیا جائے کیونکہ وہ عدالت گلیوں میں ہے اور وہاں ججز پر بھی حملے ہوچکے ہیں، میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ساری زندگی کبھی قانون نہیں توڑا، میری صرف یہ استدعا ہے کہ کہچری والا کیس کہیں اور منتقل کردیا جائے‘۔

    جسٹس طارق شیخ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پھر وہی کہوں گا کہ آپ سسٹم کے اندر آئیں، یہ کیس کچھ نہیں تھا بس مس ہینڈل ہوگیا‘۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کے خلاف 6 مقدمات درج ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف 94 مقدمات درج ہیں حکومت 6 مقدمات مزید درج کر کے سنچری مکمل کرلے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے اس طنز پر کمرہ عدالت میں قہقے بلند ہوئے جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کمرہ عدالت میں ’آرڈر آرڈر‘ کہتے ہوئے عدالتی ضابطہ اخلاق کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ہدایت کی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے اپکو سسٹم میں لائیں، اس کیس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا آپ لوگوں نے اسے مس ہینڈل کیا۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ’یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ دہشتگری کے پانچ مقدمات ہیں، لیکن عمران خان پر دہشتگردی کے چھ مقدمات ہیں‘۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمران خان کی 9 میں سے 8 مقدمات میں حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی اور انہیں اگلے جمعے 24 مارچ تک گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی۔ عمران خان کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے عدالت سے ضمانت کیلیے پندہ دن کی استدعا بھی کی اور کہا کہ عدالت 15 دن کا وقت دے تاکہ تمام مقدمات میں ضمانت فائل کر سکیں کیونکہ ابھی معلوم نہیں کہ مزید کتنے مقدمات درج ہونے ہیں۔

    لاہور میں درج دہشت گردی کے تین مقدمات میں ضمانت منظور
    عدالت نے لاہور میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج تین مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت 27 مارچ تک مںظور کی جبکہ اسلام آباد میں دہشتگردی کی دفعات تک تحت درج 5 مقدمات میں ضمانت 24 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کی۔
    پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ ہلاکت کیس میں بھی ضمانت منظور
    بعد ازاں دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی ہلاکت پر تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے میں عمدان خان کی دس روزہ حفاظتی ضمانت منظور کی اور انہیں 27 مارچ تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔
    پنجاب بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات منگل تک طلب
    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومتی وکیل کو ہدایت کی کہ وہ منگل تک عمران خان کے خلاف پنجاب بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات پیش کریں۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی روک دی۔

    ضمانت منظور ہونے پر پی ٹی آئی کارکنان کا جشن

    لاہور ہائیکورٹ میں دہشتگردی کے مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی منظور ہونے ہر کارکنوں نے جشن منایا اور چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ اس دوران کچھ کارکنان خوشی میں والہانہ رقص بھی کرتے نظر آئے۔

  • لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی
    لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دہشت گردی کے 6 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کو ساڑھے 5 بجے طلب کیا تھا،پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد احاطہ عدالت میں موجود ہے، بد نظمی کے باعث عمران خان گاڑی سے نہیں اتر پارہے تھے ،تاہم اب عمران خان گاڑی سے اتر کر کمرہ عدالت میں پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ عدالت نے غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی،ا س دوران وکلاء اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس بھی ہائیکورٹ میں داخل ہوگئی،پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سےاحاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنے اپکو سسٹم میں لائیں جبکہ اس کیس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا آپ لوگوں نے اسے مس ہینڈل کیا ۔ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ دہشتگری کے پانچ مقدمات ہیں ۔ لیکن عمران خان پر دہشتگردی کے چھ مقدمات ہیں ۔ جبکہ عمران خان نے کہا کہ میرے پر 94 مقدمات ہیں 6 اور ہو گئے تو سنچری پوری جائے گی جبکہ نان کرکٹرنگ سنچری ہو گی ۔ عمران خان کے بیان پر عدالت میں قہقہ لگ گئے.

    عدالت نے مزید کہا کہ آپ کو آئینی سسٹم میں آنا ہوگا اگر آپ سسٹم میں نہیں آئیں گے تو اس طرح کا حالات پیدا ہوں گے جبکہ عمران خان نے کہا میں قانون کی پاسداری کرنے والا ہوں بس سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اور جس جگہ مجھے بلایا جا رہا وہاں میرے قتل کا ٹریپ بنایا ہوا ہے ، وہ جگہ خطرے سے خالی نہیں 2 ججوں کا وہاں قتل ہو چکا ہے

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے لاہور میں آپریشن رکوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک کے باہر پولیس آپریشن روکنے سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت عالیہ نے عمران خان کو حفاظتی ضمانتوں کے کیس میں پیش ہونے کا حکم دیدیا اور کہا کہ آئی جی پنجاب عمران خان کو لاہور ہائیکورٹ پہنچنے تک سہولت دیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض کردیا۔ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ عمران خان کو عدالت میں تو آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین کو سارھے 5 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

    اس سے قبل کارروائی کے دوران آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ہم نے کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بنانا۔ عدالت نے کہا کہ یہ مسائل اس لئے ہورہے ہیں ہم قوائد پر نہیں ہیں، صرف رولز کو فالو کریں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ہمارا فیصلہ ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا ایک فوکل پرسن ہوگا۔

    عدالت نے فواد چوہدری سے مکالمے میں کہا کہ اگر آپ لوگوں کو سیکیورٹی نہیں ملتی تو آپ آئی جی پنجاب کو درخواست دیں جو طریقہ کار ہے، اگر آپ مطمئن نہیں ہوتے تو عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ کنٹینرز لگانا مناسب نہیں یہ ہمیں ایکسپورٹ کیلئے استعمال کرنے چاہئیں۔ عدالت کا مزید کہنا ہے کہ آپ جو بھی چاہتے ہیں اس کے طریقۂ کار سے کریں اور باقاعدہ درخواست دیں۔

    فواد چوہدری نے عدالت میں کہا کہ اب یہ لوگوں کی گرفتاریوں کیلئے رسائی مانگ رہے ہیں، ایک مقدمے میں 500 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے، ایک مقدمے میں 2500 نامعلوم افراد شامل ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ اس سے ایک بار پھر حالات خراب ہوں گے، ان کو چاہئے ملوث افراد کو نامزد کریں، وہ افراد اپنا لیگل حق استعمال کریں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کچھ دیر بعد آپ (لاہور ہائیکورٹ) کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر کردی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر لاہور ہائیکورٹ تک رسائی کی اجازت کی درخواست آئے گی تو جائزہ لیا جائے گا۔

    ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ سرچ وارنٹ آنے کے بعد ہمیں قانونی کارروائی کی اجازت ہونی چاہئے، اگر سرچ وارنٹ آتا ہے تو ہم ان کی کمیٹی سے بات کریں اور انہیں عملدرآمد کی ہدایت کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ قانون میں آپ کے تمام تحفظات کا حل موجود ہے، جو مہذب دنیا میں ہوتا ہے معاملہ عدالت کے سامنے لایا جائے۔ عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی؟۔

    صدر لاہور ہائیکورٹ اشتیاق اے خان نے عدالت کو بتایا کہ اس کے دو طریقۂ کار ہیں، میں سی سی پی او کے پاس انڈر ٹیکنگ لیکر گیا. وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ قانون میں وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کا طریقۂ کار دیا گیا ہے، وارنٹ گرفتاری تعمیل کنندہ لیکر جائے گا اور تعمیل کرائے گا۔

    عدالت نے کہا کہ اگر رکاوٹیں ہوں گی تو پھر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی؟ ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ اگر ہمیں سرچ وارنٹ کی تعمیل کرانی ہے تو اس پر بھی عدالت حکم جاری کرے، قانونی معاملات پورے کرنے کیلئے پولیس کی زمان پارک تک رسائی نہیں ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ اس سارے معاملے میں شفافیت کیسے لائیں گے؟۔ آئی جی نے کہا کہ میں ان سے اجازت نہیں لوں گا کہ فلاں بندے نے پولیس پر پیٹرول بم مارا ہے ہم اسے گرفتار کرنے لگے ہیں۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ فریقین آپس میں بیٹھ کر حل نکالیں۔

    ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے وارنٹ منسوخ کی درخواست خارج ہوچکی ہے، عدالت اس بارے میں بھی فیصلہ کر دے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے زمان پارک آپریشن 3 بجے تک روکنے کے حکم میں ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ 3 بجے دوبارہ کیسے سنیں گے۔ سابق وزیراعطم کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے، لاہور پولیس نے منگل کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کیلئے آپریشن شروع کیا تھا تاہم پی ٹی آئی کارکنوں کی مزاحمت کے باعث تاحال گرفتار نہیں کرسکی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور پیٹرول بم بھی پھینکے گئے، پرتشدد واقعات میں 50 سے زائد پولیس اہلکاروں سمیت تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک آپریشن روکنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔ عدالت عالیہ نے آئی جی پنجاب کو جزوی طور پر آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا، جس میں گزشتہ روز مزید ایک روز کی توسیع کردی گئی تھی۔

  • پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی

    پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی

    پولیس کو کہا تھا کہ درمیانی راستہ نکالیں گے. شاہ محمود قریشی
    لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر پی ٹی آئی وفد نے آئی جی پنجاب سے ملاقات کی جبکہ تحریک انصاف کے وفد میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر اور سینئر نائب صدر فواد چودھری شامل تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اور سینیٹر اعظم سواتی بھی آئی جی پنجاب سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل تھے۔ وفد لاہور ہائیکورٹ کی ہدایات پر آئی جی پنجاب سے ملاقات کرنے آیا تھا.

    آئی پنجاب سے ملاقات کے بعد وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید ہے کہ کل ہمیں عدالت سے ضمانت مل جائے گی یا کچھ وقت دیا جائے گا جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خون خرابہ چاہتی ہے اور ابھی اطلاع ہے کہ ہمارے پانچ لوگوں کی گرفتاری کے احکامات ہیں لیکن ایسا کرنے سے مزید حالات خراب ہوں گے.

    انہوں نے مزید کہا کہ ابھی آئی جی صاحب کو بھی بتایا ہے کہ عمران خان گرفتاری کیلئے بالکل تیار تھے لیکن پولیس کی شیلنگ سے حالات مزید خراب ہوئے جبکہ ہم پر الزام عائد کیا جارہا ہے لیکن میں وضاحت کرتا ہوں کہ ہمارا کسیہمارا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت سیاسی ہے اور پرامن ہے جبکہ ہم پرامن ہی رہنا چاہتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ

    شاہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے ہیں اور یہ راستہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے لہذا ہم آج بھی بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں اور وزیراعظم نے ساتھ بیٹھنے کی آفر کی ہے تو کم از کم اپنی پولیس کو توروکیں تاکہ بات آگے بڑھے. ان کا کہنا تھا ہمارے کارکنان پر جھوٹے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں دوسری طرف ہمیں بات چیت کی دعوت دی جارہی ہے یہ کسی منطق ہے لیکن ہاں 18 کو عمران خان عدالت میں پیش ہوں گے اور امید ہے عدالت تب تک ہمیں وقت دے گی.

  • زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    زمان پارک میں دہشت گردوں کی اطلاعات بھی ہیں. نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر

    نگراں وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے کہا ہے کہ جب فیصلہ کر لیا تو پھر عمران خان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ جبکہ پنجاب کے نگران وزیراطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ زمان پارک میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، چاہتے ہیں کہ جانی نقصان نہ ہو لیکن جب فیصلہ کر لیا تو پھر عمران خان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور سی سی پی او لاہور بلال کمیانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے پی نے صوفی محمد کی کالعدم تنظیم کے اہم رکن کو پارٹی میں شامل کیا، وہ دہشت گرد 8 سال جیل کاٹ چکا ہے، اب ایسےلوگ زمان پارک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کی لیکن جب عمران خان کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا تو تین چار گھنٹوں میں کر لیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا کہ پولیس غیر مسلح تھی، افسران سمیت 58 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے کارکن اپنے ہی ساتھیوں کی حرکتوں سے زخمی ہوئے ، گلگت بلتستان پولیس سےکوئی تصادم نہیں ہوا ، صبح 10 بجے لاہور ہائیکورٹ میں پیشی ہے ، عدالتی فیصلے پر 100 فیصد عمل ہوگا ۔ جبکہ پولیس حکام کا کہناتھاکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گاڑیاں جلائیں، رینجرز پر حملے ہوئے، ان تمام واقعات کے مقدمات درج ہیں اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

  • عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    عمران خان نے ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا. تحریری فیصلہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ معطل کرنے کی استدعا عدالت نے مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی، بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جبکہ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ عمران خان کو عدالتی کارروائی کی خلاف ورزی پر ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا،قانون معاشرے کے طاقت ور اور کمزور تمام طبقوں کے لیے برابر ہے، یہ کوئی مذاق نہیں قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے بعد انڈرٹیکنگ دے دی جائے لاہور میں قومی خزانے، املاک اور لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا.

    جبکہ عمران خان کے اس کنڈکٹ اور عمل کے بعد محض انڈرٹیکنگ پر وارنٹ منسوخ نہیں کئے جا سکتے،عمران خان نے ریاست، ریاست کے تقدس اور رٹ کو چیلنج کیا،عمران خان کے فالورز نے کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا، عمران خان کے فالورز نے پولیس کے وارنٹ گرفتاری تعمیل میں رکاوٹ ڈالی،عدالت طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ جاری کرتی ہے، عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ میں پولیس کو ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتی ہے، وارنٹ گرفتاری ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر منسوخ ہو جاتے ہیں،پولیس نے عمران خان کو بلاتاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے،

    تحریری فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج ظفر اقبال نے جاری کیا، قبل ازیں جب عدالت میں سماعت ہوئی تھی تو جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کافی تفصیل سے باتیں ہوئیں، اب آرڈر بھی تفصیل سے ہی آئے گا،عمران خان اب بھی سرینڈر کردیں تو میں آئی جی کو آرڈر کردیتاہوں کہ ان کوگرفتار نہ کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    عمران خان ابھی تک زمان پارک میں ہیں اور اسلام آباد پولیس لاہور پولیس کے ساتھ ملکر انکی گرفتاری کے لئے 20 گھنٹے طویل آپریشن کر چکی ہے ، تحریک انصاف نے آپریشن رکوانے کے لئے عدالت کا سہارا لیا، گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے آپریشن روکنے کا حکم دیا، آج لاہور ہائیکورٹ نےد وبارہ سماعت کر کے ایک روز کی توسیع کی، اب کل جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہو گی

  • ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ سرچ آپریشن  کی اجازت دی جائے. آئی جی پنجاب

    ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ سرچ آپریشن کی اجازت دی جائے. آئی جی پنجاب

    کارکنان کے حملے کے بعد پولیس نے شیلنگ کیساتھ واٹرکینن کااستعمال کیا. آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے ہائی کورٹ میں پیش ہوکر کہنا تھا کہ کارکنان کے حملے کے بعد پولیس نے شیلنگ کیساتھ واٹرکینن کااستعمال کیا. جبکہ ہمارا ارادہ زمان پارک میں آپریشن کرنے کا نہیں تھا لیکن جب تصادم میں پولیس کے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ناصرف وہ زخمی ہوئے بلکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے.

    آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پر سیاسی جماعت کے جتھوں نے پٹرول اور پتھروں سے حملہ کیا ہے جبکہ ڈی آئی جی اسلام آباد زمان پارک گئے تو ان پر حملہ کیا گیا جس سے 60 سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے اور اس حملے کے بعد ہم ان سے شرمندہ ہوئے کیونکہ ہمارے علاقہ میں ان پر حملہ ہوا.

    آئی پنجاب عثمان انور نے یہ بھی بتایا کہ ہماری طرف سے پولیس کو یہ ہدایت تھی کہ کوئی بھی اپنے ساتھ کوئی اسلحہ یا ایسا ہتھیار لے جار کر نہ جائے تاہم اس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ آپ قانون کے مطابق چلیں اور کسی قسم کے تصادم سے بچیں تاکہ مزید کوئی جانی نقصان نہ ہو. جبکہ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر سو فیصد عمل ہوگا.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    آئی جی پنجاب عثمان انور نے عدالت کو مزید بتایا کہ جو وردی پہن لیتا ہے وہ کسی ایک صوبہ کا نہیں ریاست کا ملازم اور وفادار ہوتا ہے لہذا ہم ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ سرچ آپریشن کی اجازت دی جائے اور یہ بھی التماس ہے کہ اس سلسلہ میں عدالت ہماری مدد کرے اور یہ بھی کہ گلگت پولیس بھی زمان پارک میں موجود تھی.