Baaghi TV

Tag: PML-N

  • عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    عمران خان نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا

    سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے بدھ سے جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کردیا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیں لیکن انتخابات کے انعقاد کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، دو صوبوں کے گورنر اور الیکشن کمیشن آئین پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم الیکشن سے نہیں، آکشن سے حکومت میں آئے ہیں، 90 روز میں الیکشن نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے، 91ویں دن گورنرز کے اوپر آئین کی خلاف ورزی کی سزائیں لاگو ہوجاتی ہیں۔ مہنگائی پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں تاریخ کے زیادہ ڈالرز لے آئے، اس حکومت نے لوگوں کی کمر توڑ دی، ٹیکس کلیکشن کم ہو رہی ہے، حل قرضے نہیں بلکہ ملکی دولت میں اضافہ کرنا ہے، آئی ایم ایف نے ہمیں بھی مہنگائی کرنے کا کہا لیکن ہم نے پاکستان کی دولت بڑھائی۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کار اپنے پیسےکو محفوظ نہیں سمجھتے، لوگ پاکستان میں پیسا رکھنے کو تیار نہیں، کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا نہیں چاہتا۔ انتخابات کے معاملے پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ انتخابات نہ ہوں یا پھر تاخیر سے ہوں، اتنی تاخیرکی جائے گی کہ کوئی انتخابی مہم نہ چلا سکے۔

    عمران خان نے کہا کہ 10 ماہ میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، شہباز گل کو برہنہ کرکے تشدد کیا گیا، اعظم سواتی کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا اور پاکستان کے بہترین تحقیقاتی صحافی ارشد شریف کو قتل کیا گیا، میں نے جنرل مشرف کے مارشل لاء میں بھی ایسے مظالم نہیں دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ مظالم کر کے لوگوں کو کنٹرول کرلیں گے، 13 فروری کو ملتان میں جھگڑا ہوا، ن لیگ کے کارکنوں کو کچھ نہیں کہا گیا لیکن پی ٹی آئی کارکنان کے گھر پر رات گئے چھاپے مارے گئے اور ان پر تشدد کیا گیا، ایسا ہونے کی صورت میں لوگ اپنی پولیس سے نفرت کریں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ نگراں حکومت ہمیشہ نیوٹرل ہوتی ہے تاہم آصف زرداری کے بغل بچےکو نگراں وزیر اعلیٰ بنایا گیا، جس نے ہمارے مخالف افسران کو تعینات کیا۔ پارٹی رہنماؤں پر تشدد سے متعلق سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علی سائیں کو گرفتار کرکے تشدد کیا گیا، جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، ہمارےکارکنوں کو گرفتار کرکے اعظم سواتی پر تشدد کی ویڈیو دکھائی گئی، ان سے کہا گیا کہ عمران خان کے ساتھ بھی ایساہی کریں گے، شہباز گل کو میرے خلاف گواہ بنانا چاہ رہے تھے، یہ کام وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں اپنا پیٹ کاٹ کر پالتے ہیں۔

    خود پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف، رانا ثناء اور ڈرٹی ہیری نے مجھ پر حملہ کرایا، انہوں نے ظاہر کیا کہ حملہ آور ایک اور دینی انتہا پسند تھا، جےآئی ٹی نے ثابت کردیا کہ حملہ آور تین تھے، بعد ازاں نگراں حکومت نےجے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک کر ریکارڈ سیز کردیا، اگر یہ تینوں لوگ طاقت میں ہوں گے تو میری جان کو ابھی بھی خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کا افسر جےآئی ٹی کو رپورٹ نہیں دے رہا، جےآئی ٹی کے 11 صفحات کے علاوہ تمام ریکارڈ غائب ہوگیا، جےآئی ٹی کو صرف 3 افراد سبوتاژ کر سکتے ہیں، لہٰذا اب ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ آڈیو لیک ہونے کے معاملے پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رانا ثناء نے اعتراف کیا کہ یہ فون ٹیپ کرتے ہیں، مافیاز فون ٹیپ کرکے بلیک میل کرتے ہیں، میری سکیور لائن اور پرنسپل سیکرٹری سے ذاتی گفتگو کو بھی ریکارڈ کیا گیا، اگر ایسے بلیک میل کیا جائے گا تو ملک میں قانون تو ختم ہوگیا۔

    اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ جہاں عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا، ملک میں قانون و انصاف کا نہ ہونا سب سے بڑا کینسر ہے، 26 سال پہلے انصاف کی تحریک کا آغاز کیا تھا، لہٰذا ہم سب کو انصاف کی حکمرانی کے لئے کھڑا ہونا ہوگا۔ جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بدھ سے جیل بھرو تحریک شروع کر رہا ہوں، تحریک آغاز لاہور سے کریں گے، بڑے شہروں سے ہر گزرتے دن گرفتاریاں دیں گے، یہ ہمیں جیل سےڈرارہے ہیں،ہم جیلیں بھردیں گے۔

  • صوبے کی بہتری کیلئے جو فیصلے کر رہے ان میں عدالتیں رکاوٹیں پیدا نہ کریں. وزیراعلیٰ بلوچستان

    صوبے کی بہتری کیلئے جو فیصلے کر رہے ان میں عدالتیں رکاوٹیں پیدا نہ کریں. وزیراعلیٰ بلوچستان

    صوبے کی بہتری کیلئے جو فیصلے کر رہے ہیں ان میں عدالتیں رکاوٹیں پیدا نہ کریں. وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کے فیصلوں میں مداخلت کرکے حکومتی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، آئندہ کابینہ کے فیصلوں میں کسی بھی قوت کی مداخلت برادشت نہیں کی جائے گی، عدالتوں نے افسران کے تبادلوں پر اسٹے دینے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو ایڈووکیٹ جنرل کی جگہ خود عدالت میں پیش ہوں گا۔

    بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجونے کہا کہ بلوچستان کابینہ کے فیصلوں کے خلاف مسلسل سٹے آرڈر جاری کرکے حکومتی معاملات اور فیصلہ سازی میں مداخلت کی جارہی ہے، ہم عدالتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، ہم صوبے کی بہتری کیلئے جو فیصلے کر رہے ہیں ان میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئندہ کابینہ کے فیصلوں اور حکومتی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اگر مجھے خود عدالت جانا پڑا تو بھی گریز نہیں کروں گا۔ عبدالقدوس بزنجو نے مزید کہا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کون مجھ پر کیا الزامات لگاتا ہے، میں صرف اللہ کو جوابدہ ہوں، ہم چیزوں کو بہتر کررہے ہیں اللہ ہماری مدد کرے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    میر عبدالقدوس بزنجومزید بولے کہ بطور وزیر اعلیٰ میرٹ پر فیصلے کئے، خواہ ریکوڈک معاہدہ ہو، بھرتیاں یا افسران کی تقرری۔ سیاست میں مخالف کو نیچا دکھانے کی روایت ختم ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بنا تو شہباز شریف کو نیب میں گھسیٹا گیا، شہباز شریف اللہ کا بندہ، اللہ جانے شہباز شریف جانے، اللہ نے شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کو عمران خان کے سر پر بٹھا دیا۔

  • آڈیو لیک؛ پرویز الہی دیدہ دلیری سے عدالت کو مینیج کررہے. رانا ثناءاللہ

    آڈیو لیک؛ پرویز الہی دیدہ دلیری سے عدالت کو مینیج کررہے. رانا ثناءاللہ

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ نے پرویز الہی کی لیک آڈیو چلائی جبکہ آڈیو مکمل ہونے کے بعد انہوں نے کہا کہ پرویز الہیٰ بڑی دیدہ دلیری سے سپریم کورٹ کو مینیج کررہے ہیں، میں چیف جسٹس پاکستان سے گزارش کروں گا کہ اس آڈیو کا نوٹس لیں علاوہ ازیں وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کی آڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کروایا جائے، اگر چیف جسٹس مناسب سمجھیں تو چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف کیس داخل کریں۔


    انہوں نے مزید کہا کہ درخواست ضمانت خارج ہونے بعد عدالت عمران خان کے خلاف کاروائی کرے، عمرانی ٹولے نے عدلیہ اور قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے، عدلیہ کا احترام سب سے بڑھ کر ہے، پوری قوم دو دن سے تماشہ دیکھتی رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت کے خلاف ایسا رویہ ناقابل قبول ہے، عدالت کو قانون کے حساب سے ڈیل کرنا چاہیے، ملک میں عدالتی سسٹم کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری بنتی ہے، میں حکومت کے سامنے رکھنے والا ہوں کہ اس سے زیادہ عمران خان کو باہر نہیں رکھنا چاہیے۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اس آڈیو میں ایک دوسری آواز بھی سنائی دے رہی ہے جو کہ ہم نے ریلیز نہیں کی، حکومت بھی ان آڈیوز کی فرانزک کرائے گی، فرزنزک ٹیسٹ کے بعد پرویز الہیٰ کی آواز سے میچ کیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    احمد خان بھٹی اور فرح گوگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں کا موازنہ کیا جائے تو اھمد خان بھٹی نے پنجاب کو بڑی بے دردی سے لوٹا ہے۔ جبکہ فرح گوگی نے اپنے گھرمیں نوٹ گننے کی مشین لگائی ہوئی تھی تاکہ زیادہ وقت نہ لگے، یہ لوگ ڈالروں سے جہاز بھر کر ملک سے بھاگ گئے ہیں۔

  • نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا  ہماری اولین ترجیح ہے. وفاقی وزیر شازیہ مری

    نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے. وفاقی وزیر شازیہ مری

    نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے. وفاقی وزیر شازیہ مری

    وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ اور چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام محترمہ شازیہ مری نے کہا کہ نوجوان ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں جن کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں ’’ٹرن اراؤنڈ پاکستان: ری شیپنگ دی فیوچر آف پاکستان‘‘ کے عنوان پر سی ای او سمٹ میں شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جبکہ محترمہ شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ تاہم، اس ملک میں تمام ابھرتے ہوئے کاروبار کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملک کو ڈیجیٹل بنانے میں سی ای او کلب کے کردار کی تعریف کی۔

    جاری اعلامیہ کے مطابق سمٹ میں مختلف ممالک کے سفراء ، وفاقی وزراء ، تاجروں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات جناب احسن اقبال نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔ اور محترمہ شازیہ مری نے کہا کہ پرامن اور سازگار ماحول کاروبار کے فروغ کے لیے لازم ہے۔ "تاہم، بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں پاکستان میں ناسازگار ماحول کی وجہ سے کاروباری برادری بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے جمہوریت کا تسلسل ناگزیر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    ترجمان مہران عطاء کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف پھیلائی جانے والی ڈس انفارمیشن کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس بیانیہ کی تشکیل کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ جبکہ محترمہ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات جناب احسن اقبال کی تائید کی کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا براہ راست تعلق ملکی سلامتی سے ہوتا ہے۔

    ترجمان مہران عطاء نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے سیلاب زدگان کی 25 ہزارفی خاندان مالی امداد کی۔ تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ 9 ملین مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ساتھ ہاتھ بٹائیں۔ جبکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحران میں موجودہ حکومت کے حوالے کیا گیا ۔ محترمہ نے مزید کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے مشکل فیصلے کرنا ضروری تھے۔ تاہم، موجودہ حکومت نے تاحد الامکان ہر وہ اقدامات کئے جس سے غریب عوام پر کم سے کم بوجھ ڈلے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام معاشی استحکام سے منسلک ہے۔

  • ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے فرح گوگی اور ان کے شوہر کو منی لانڈرنگ پر طلب کرلیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں احسن جمیل گجر اور ان کی اہلیہ فرح گوگی کو طلبی کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف آئی اے نوٹس کے مطابق دونوں کو 17 فروری کو طلب کیا گیا ہے۔

    جبکہ خیال رہے کہ فرح خان سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ خان کی دوست ہیں اور موجودہ حکمراں جماعتوں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جبکہ ان پر الزام ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان نے اپریل 2019 میں تقریباً 28 کروڑ روپے کے تحائف بیچے، پھر ایک مہینے بعد مئی 2019 میں شروع ہوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے تقریباً 33 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا تھا.

    معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ کے مطابق فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کا کہنا تھا کہ فرح خان نے عمران خان کے دور میں نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی کے دور میں ایمنسٹی لی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے 28 اپریل 2022 کو پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں ہی احسن جمیل یہ اقرار کرچکے ہیں کہ فرح نے 2019 میں عمران خان کے دور میں ایمنسٹی لی تھی۔

    فرح گوگی کےشوہر احسن جمیل گجر نے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کےساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ عمرفاروق کو فرح نہیں جانتی، نہ کبھی ان سے رابطہ ہوا، فرح دبئی گئی بھی ہے تو گھڑی کی فروخت سےتعلق نہیں، سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی گھڑی، زیورات کی شوقین نہیں، فرح نےکبھی یہ گھڑی عمران خان کے گھر یا بشریٰ کے پاس نہیں دیکھی۔

    احسن جمیل گجر نے نجی ٹی وی کو بتایا تھا کہ دو ملین ڈالر لے کر ایک خاتون خود کو کیسے محفوظ سمجھ سکتی ہے؟ فرح کی شہزاد اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، نہ میری ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم سے متعلق ہماری ٹیم مؤقف دے چکی ہے، عمران خان کے دور حکومت میں ہم نےکوئی ایمنسٹی نہیں لی، ہم نے شاہد خاقان عباسی کے دور میں 33 کروڑ روپےکی ایمنسٹی لی، شاہدخاقان کے دور میں ایمنسٹی لینےکی دستاویزات موجود ہیں۔

    احسن جمیل گجر نے یہ بھی کہا تھا کہ فرح کی بہن برطانیہ میں مستقل رہائش پذیر ہے، ہمارا ان سےکوئی لینا دینا نہیں، ملک میں زیادتیاں ہورہی ہیں، میں پاگل ہوں کہ اس حکومت کے دوران پاکستان آؤں، جب موجودہ وزیراعظم جائےگا ہم پاکستان آجائیں گے، ہم نے عمران خان سے کوئی مالی فائدہ نہیں لیا۔

  • نیب ترامیم؛ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تمام نیب کیسزکیلیےلارجر بنچ بنانے کا حکم

    نیب ترامیم؛ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تمام نیب کیسزکیلیےلارجر بنچ بنانے کا حکم

    اسلام آباد: نیب ترمیمی ایکٹ چیلنج کرنے کی اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ نیب ترامیم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تمام نیب کیسز لارجر بینچ سنے گا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق نیب ترامیم کے بعد کیسز کے مستقبل سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل، سردار مظفر، ڈپٹی پراسیکوٹر نیب، محمد رافع اور یاسر راٹھور پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب کی ترمیم کے بعد کے اثرات کو دیکھنا ہے، کون سا کیس کس عدالت میں جائے گا یا ختم ہو گا یہ فیصلہ بھی ہونا ہے، نیب کے اس نوعیت کے تمام کیسز کو یکجا کر کے لارجر بینچ بنا کر سن لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے عدالت کے رجسٹرار آفس کو تمام کیس یکجا کر کے لارجر بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کردی۔

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کو نیب قانون میں ترمیم سے ریلیف مل گیا۔ احتساب عدالت نے نوازشریف کیخلاف نیب ریفرنس واپس بھجوا دیا، عدالت نے ریفرنس نیب ترمیمی ایکٹ کی بنیاد پر واپس بھجوایا۔نیب ترمیم سے پہلےعدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس میں نوازشریف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے جائیداد قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ نیب نے جون2020 میں نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایل ڈی اے) فیض رسول اور میاں بشیر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

  • طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی

    طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی

    ڈیرہ اسمٰعیل خان: گومل یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی کے حوالے سے جاری خبروں کی تصدیق ہوگئی ہے،اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کی گومل یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلباء و طالبات کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی سے متعلق نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹی فکیشن میں چیف پروکٹر، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز اور سیکیورٹی آفیسر کے دستخط ہیں۔

    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے گراونڈ سمیت کسی بھی جگہ طلبا وطالبات ایک ساتھ نہ بیٹھیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبات صرف کلاس روم اور کامن رومز تک محدود رہیں ، خلاف ورزی کرنے والے طلباء کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    کراچی: پاکستان کے مشہور گلوکار اور اداکار علی ظفر نے پی ایس ایل 8 کے ترانے پر اپنا ردِعمل دے دیا۔پی ایس ایل کےمشہور ترانے’سیٹی بجے گی اسٹیج سجے گا‘ کے گلوکار علی ظفر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہےجس میں انہیں پی ایس ایل 8 کےترانے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    علی ظفر سے سوال کیا گیا کہ ہر پی ایس ایل ترانے کے بعد لوگ علی ظفر کو کیوں یاد کرتےہیں؟ جس کے جواب میں گلوکار کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کا پیار ہے، پی ایس ایل 8 کا ترانہ ابھی ریلیز ہی ہوا ہے، ہمیں اسے کچھ وقت دینا چاہیے۔

    علی ظفرنے پی ایس ایل 8 کے ترانے کے گلوکاروں عاصم اظہر، شے گل اور فارس شفی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان تینوں کے مداح ہیں وہ جو بھی چیز کرتے ہیں اچھی ہوتی ہے۔پی ایس ایل 8 کے ترانے کے بارے میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر سُنا نہیں ہے مگر انہیں اُمید ہے کہ اچھا ہی ہوگا۔

    ساتھ ہی علی ظفر نے عوام کی محبت اور ترانے کیلئے ان کی خواہش پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سُپر لیگ کے آٹھویں سیزن کا آغاز ہو چکا ہے اور اس مرتبہ سپر لیگ کا آفیشل ترانہ پسوڑی گرل شے گل، عاصم اظہر اور فارس شفی نے گایا ہے جو مداحوں کو خاص متاثر نہیں کر سکے تاہم مداح اب بھی علی ظفر کے گائے ہوئے ترانے کو پسند کرتے ہیں۔

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

  • طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    لاہور: حفاظتی ضمانت کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کے لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ طاقتور کوقانون کے نیچے لانے کی بڑھکیں مارنے والا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے ٹوئٹر پربیان میں کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کا عدالت میں قانون کے سامنے پیش نہ ہونا اس ملک کے نظام عدل اور انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔


    اپنے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے، طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا کی بڑھکیں لگانے والا اس ملک کی عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔