Baaghi TV

Tag: PML-N

  • اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کئی روز سے جاری بحران آج ختم ہوا ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کی کہانی کا سلسلہ ایک بار پھر آج ختم ہوا تا ہم دوبارہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،عدالت نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پرویز الہی نے حلف دیا تھا وہ کیس کی سماعت تک تھا ،یہ سب کو سمجھ آجانی چاہیئے کہ آئین سب سے اوپر ہے پرسنل سکورنگ نہیں ہونی چاہیئے ، وزیر اعلی اور کیبنٹ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن سیٹ آسائیڈ کردیا گیا ہے گورنر پنجاب کو ان کی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنا حکم واپس لیا جو اچھی بات ہے سیاسی معاملات ایوانوں میں ہی حل ہونے چاہییے وزیر اعلی کا حق ہے کہ جب مرضی اسمبلی توڑ سکتا ہے اگر اعتماد کے ووٹ کی تحریک آجائے تو اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوگا،

    وزیراعلی پرویزالہی کے وکیل علی ظفرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وزیر اعلی اور ان کی کابینہ آگئی ہے اسمبلیاں توڑنے کا جو حلف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ۔گورنر نے اچھا کیا کہ غلطی مان لی پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آج آئین کی جیت ہوئی ہے عدالت نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہوگیا ہے تو وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے گورنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا عدالت فیصلہ کرنے والی تھی گورنر نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے اس کا مطلب گورنر نے غلطی مان لی ہے ،چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ دوبارہ اپنی جگہ بحال ہوگئی ہے،اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،جب اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹ نہیں تھے تو انہوں نے عدم اعتماد واپس لی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کے نتائج پر مشتمل جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائیڈ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلہ حل ہوگیا، 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ نے رات گئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کتنے ارکان تھے رات کو پنجاب اسمبلی میں؟جس پر علی ظفرنے بتایا کہ 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی نےاعتمادکےووٹ کےنتائج پرمشتمل جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزرااسلم اقبال اور راجہ بشارت نےاعتمادکےووٹ کی قرار داد پیش کی ، بطوراسپیکر اعتماد کے ووٹ کے لئے نیا اجلاس بلاکر کارروائی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو 186 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا، اکثریتی ووٹ لینے پر چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرارہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا، گورنر پنجاب کا اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اسمبلی کے معاملات میں گورنر مداخلت نہیں کرسکتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 19 دسمبر کے گورنر کے حکم کو پورا کر دیا ہے، اس پر نہیں جاتا کہ وہ حکم درست تھا یا نہیں۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہوتا، ٹی وی میں رات 8 سے 9 بجے میں بتا دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ طریقہ بہت اسٹرینج ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ لے لیتے ہیں تو گراؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ نے اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا، پھر آپ نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے ہی چاہتے تھے اسمبلی کا مسئلہ وہیں پر حل ہو، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اب دوسرے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں، پہلے حکم پر نہیں جاتے، دوسرے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے تین سوال ہیں، پہلا گورنر کی تسلی، دوسرا ووٹنگ کے لئے مناسب وقت اور تیسرا سوال کیا رولز 22 کے تحت سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔

  • نیب نے ایک اور بڑا سراغ لگا لیا،کئی بے نامی اکاؤنٹس پکڑے گئے.

    نیب نے ایک اور بڑا سراغ لگا لیا،کئی بے نامی اکاؤنٹس پکڑے گئے.

    نیب لاہور نے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے 48 بینک اکاونٹس کاسراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آمدن سے زائداثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس میں سامنے آنے والے 48 بینک اکاؤنٹس خواجہ آصف، فیملی ممبران اور بے نامی داروں کے نام پر کھلوائےگئے جن میں ایک ارب 45 کروڑ روپےکی رقم جمع ہوئی۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ خواجہ آصف اور فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں 22کروڑ 30 لاکھ روپے جمع ہوئے۔

  • نیب کی گرفتاریاں، ن لیگ نے حکمت عملی اپنا لی.

    نیب کی گرفتاریاں، ن لیگ نے حکمت عملی اپنا لی.

    نیب گرفتاریوں کیخلاف ن لیگی رہنمائوں کی جارحانہ حکمت عملی

    مسلم لیگ ن نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے اپنے رہنمائوں کی گرفتاریوں کیخلاف سختردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے،

    کارکنان کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ سامنے آیا ہے اس حوالے سے ن لیگ نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی لیگی رہنما کی نیب گرفتاری کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔

    ن لیگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی رہنما کی گرفتاری پر نیب دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا، ن لیگ نے پارٹی کارکنوں اور شیر جوان فورس کو تیاریوں کی ہدایت جاری کردی.

    ن لیگ لاہور کے ہر صوبائی حلقے سے کم ازکم200کارکنوں کوالرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، ہر ایم پی اے اور ٹکٹ ہولڈر200کارکنوں اور20خواتین کو لانے کا ذمہ دار ہوگا,زرائع