Baaghi TV

Tag: PMLN

  • اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    لاہور: لاہور کے عوام نے اسموگ کے تدارک کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :پنجاب میں اسموگ کے حوالے سے نجی ادارے نے سروے رپورٹ شائع کردی، سروے انوائرنمنٹل ریسرچ کے نجی ادارے ارتھ پیپل گلوبل کی جانب سے لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ پر عوامی رائے جاننے کیلئے کیا گیا، جس میں لاہور میں رہائش پذیر 1500 نوجوان لڑکے لڑکیوں کی رائے ریکارڈ کی گئی۔
    lahore
    lahore
    سروے کے مطابق اسموگ کا پھیلاؤ 3 چیزوں حکومتی اقدامات، عوامی اقدامات اور ہوا کا رخ پر منحصر ہے،63 فیصد لاہوریوں کی رائے ہے کہ بطور وزیر اعلٰی مریم نواز نے گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں بہتر انداز میں ماحول دوست اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، حکومتی اقدا ما ت سے لاہور کے نوجوان بخوبی آگاہ ہیں، 69 فیصد لوگ اسموگ کے خلاف حکومت اقدامات کی آگاہی رکھتے ہیں، جو حکومت کی جا نب سے مؤثر آگاہی مہم کا نتیجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    lahore
    90 فیصد نوجوان اسموگ سے ہونے والی بیماریوں سے واقف ہیں سروے میں 88 فیصد شہریوں نے صنعتوں کی رہائشی علاقوں سے منتقلی کے اقدام کو سپورٹ کیانوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد یعنی 44 فیصد کا ماننا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    40 فیصد نوجوانوں نے آج تک اپنی گاڑی یا موٹر بائیک کا سائلنسر یا انجن ٹھیک/ چیک نہیں کروایا 44 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسموگ کم کرنے کیلئے یا درخت لگانے کیلئے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے 82 فیصد شہریوں نے اسموگ میں کمی کے لیے گاڑیوں اور صنعتوں کی سخت نگرانی کی حمایت کردی۔
    lahore
    سروے میں ہوا کے رخ کو فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کا اہم سبب قرار دیا گیا بھارتی پنجاب میں دھان کی باقیات کو جلانے سے آلودگی ہوائی رُخ کے باعث پاکستان میں داخل ہوتی ہے بارڈر کے ایک طرف حکومتی اور عوامی اقدامات کا فائدہ تب تک نہیں ہوگا جب تک دوسری جانب بھی حکومت اور عوام اسموگ کے تدارک پر عملدرآمد نہ کرے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مصروف عمل ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شاہراہوں، انڈسٹریل ایریاز، زرعی سمیت دیگر مقامات پر انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن جا ری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران 06 مقدمات درج اور ملزمان گرفتار کرلیے گئے، 479 افراد کو 09 لاکھ 62 ہزار روپے جرمانے عائد جبکہ 40 کو وارننگ جاری کی گئی ہے، فصلوں کی باقیات جلانے کی 15، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 387 کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 04، اینٹوں کے بھٹوں کی 05، دیگر مقامات کی 13 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    رواں برس انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں مجموعی طور پر 3735 ملزمان گرفتار اور 3176 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 7380 افراد کو وارننگ جاری، 37975 افراد کو 09 کروڑ اور 56 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کیے گئے فصلوں کی باقیات جلانے کی 2049، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 33001 خلاف ورزیاں ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 364، اینٹوں کے بھٹوں کی 1395 اور دیگر مقامات کی 360 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ دھواں چھوڑنے والی 5232 گاڑیوں کے چالان، 405 کو تھانوں میں بند، 05 کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کئے گئے،رواں برس شاہرات پر زیادہ دھواں چھوڑنے والی 08 لاکھ ، 59 ہزار 528 گاڑیوں کے چالان کئے گئے، 01 لاکھ 69 ہزار 881 گاڑیوں کو بند اور 10 ہزار 94 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کیے گئے۔

  • نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے  ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا

    نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں،ن لیگ نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا

    لاہور: سابق وزیراعظم نوازشریف کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں آج مسلم لیگ ن نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا ہے-

    باغی ٹی وی : نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں کے سلسلے میں آج لاہور کے حلقہ 135میں جلسہ ہوگا، مسلم لیگ ن نے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب پنڈال سجا لیا ہےجلسے سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز خطاب کریں گی،مریم نواز شریف 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی اور ان کے ایجنڈے کے بارے میں اظہار خیال کریں گی اور پارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ میں 10 ہزار کرسیاں لگادی گئی ہیں اور پنڈال میں لائٹنگ اور ساؤنڈ سسٹم کے انتظامات بھی مکمل ہیں۔

    خواتین کارکنان نے تانگہ ریلی بھی نکالی ،جس کی قیادت سابق ایم پی اے کنول لیاقت نے کی ریلی میں لیگی خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے پارٹی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھےریلی میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کا تاریخی استقبال کریں گے،عوام نے جب بھی نواز شریف پر اعتماد کیا تو انہوں نے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مثالی اقدامات کئے۔

    نجکاری کمیشن کل سے پی آئی اے کے مالی معاملات کا کنٹرول سنبھالے گا

    https://x.com/pmln_org/status/1710946745453297787?s=20
    دوسری جانب پریس کانفرنس میں ترجمان مسلم لیگ ن پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 21 اکتوبر کو صرف میاں صاحب کی واپسی نہیں ہے یہ پاکستان کی خوشحالی کی واپسی ہے مشکلات میں گھری عوام کیلیے ایک امید کی واپسی ہےمسلم لیگ ن خیالی پلاؤ پکانے والی جماعت نہیں ہے مسلم لیگ ن جو وعدے قوم سے کیے اسے ہمیشہ پورا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2018 میں جو پاکستان کی ترقی کا ڈراپ سین تھا یہ میاں نوازشریف صاحب کو نہیں نکالا گیا تھا یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف سازش تھی اور آج میاں صاحب کی واپسی پر ایک پروپیگنڈہ سیل پھر سے متحرک ہوچکا ہے-

    50 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس

  • الیکشن کمیشن نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے ہیں اور ان کیسز میں توہین الیکشن کمیشن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز بھی جاری کیے گئے تھے جبکہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کیخلاف 5 ستمبر کو مقرر کیے گئے توہین الیکشن کمیشن کیسز ڈی لسٹ کر دیے گئے۔

    جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ کیسز ڈی لسٹ کئے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 5 کیسز ہیں اور ان میں دو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، دو فواد چوہدری اور ایک کیس اسد عمر کے خلاف ہے، جبکہ ان کیسز میں ملزمان پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز رویہ اورغیراخلاقی زبان کے استعمال کے الزمات ہیں۔

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز میں الیکشن کمیشن نے عمران خان اور اسد عمر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پہلے ہی منظور کرلی تھی تاہم انہیں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا تاہم چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگا تھا اور کہا گیا تھا کہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔

    علاوہ ازیں یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کی تھی دوسری جانب ریحان شیخ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو تجاویز پیش کردیں۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہدہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کیجانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا، جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی، پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے مردم شماری کے رزلٹ اور اُسکی اشاعت اتفاق رائے سے منظور کی ہے، جبکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہد ہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہونگے۔

    مسلم لیگ کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کے طرف سے جاری کردہ حلقہ بندی کا شیڈول آئین اور قانون کے عین مطابق ہے، انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل بھی حلقہ بندی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تاہم ن لیگ کے مطابق حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل ایک ہی مرحلے میں مکمل ہو جائے اور انتخابات کے انعقاد میں تاخیر نہ ہو۔

    علاوہ ازیں لیگی وفد نے مطالبہ کیا کہ ضابطہ اخلاق پر مشاورتی عمل دوبارہ ہونا چاہیے، نفرت انگیز تقریروں پر پابندی ہونی چاہیے جبکہ امیدواروں کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے صرف پوسٹر اور اسٹیکر کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کروائی کہ الیکشن کمیشن جتنے مختصر وقت میں ممکن ہوا حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا کام ایک ساتھ مکمل کرے گا جبکہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گا اور اُسکے بعد ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی کہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونگے اور تمام پارٹیوں کو یکساں مواقع میسر ہوں گے اور ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری جبکہ چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان،بیرسٹر علی ظفر،عمیر نیازی اور علی محمد خان بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے.

    اعلامیہ کے مطابق جے یو آئی ف کے وفد میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،جلال الدین،مولانا درویش اور سینیٹر کامران مرتضی بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے، اور الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا، پی ٹی آئی نے90دن میں انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا.

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے بتایا کہ اسوقت حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی وفدنے بتایاکہ گرفتار رہنماؤں و کارکنان کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے ، پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارٹی کو سیاسی ریلیوں کی اجازات اور لیول پلئنگ مہیا کئےجائیں، جبکہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ کوئی شک نہیں کہ انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے،
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    جے یو آئی ف کے مطابق مردم شماری کے گزٹ نوٹیفیکشن کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنا چاہیے، آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں،امیدواروں اور ووٹرز کو سہولت میسر ہو، اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلدازجلد ہو، الیکشن کمیشن اس بات کویقینی بنائےگاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہونگے، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رہےگا.

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

    انہوں نے کہا 2018 کے الیکشن پاکستان میں سیاہ ترین الیکشن کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت آئی انہوں نے معاشی بدحالی ، بیروزگاری اور لاقانونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا ہر طرف لوٹ مار اور کوئی کسی کو قانون کا پابند نہیں سمجھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قومی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا ۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آنے والے انتخابات میں 2018 کی تاریخ دھرائی گئی تو ملک کو نقصان سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں جس سے پوری قوم کا اتفاق ہو ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ تجویز دی کہ ہر ضلع کے الیکشن کمیشن چئیرمن کو ڈی ۔آر ۔او بنایا جائے اور الیکشن کا پورا سسٹم الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہو تب انتخابات کی شفافیت کسی حد تک ممکن ہے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان کے 63 لاکھ آبادی کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو بالکل ناانصافی ہے ۔

    مولانا عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو جواب دیا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے آپ ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں اور الیکشن کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ مردم شماری کی روشنی میں مربوط حلقہ بندیاں تشکیل دیکر فوری طور پر انتخابات کرایا جائے۔

  • عمران خان کو عدالت سے ریلیف مل بھی جائے تو 3 اور کیسز تیار. اعزاز سید

    عمران خان کو عدالت سے ریلیف مل بھی جائے تو 3 اور کیسز تیار. اعزاز سید

    سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کواسلام آباد ہائی کورٹ ریلیف ملتا ہے تو یہ ان کا بنیادی حق ہے جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عزاز سید نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوعدالت سے ریلیف مل بھی جائے تو ان کیخلاف 3 کیسز تیار ہیں اور ایک سائفر کیس جس کی تحقیقات ایف آئی اے کر رہی ہے،اس میں چیئرمین پی ٹی آئی مرکزی ملزم ہیں.

    انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا 190 ملین پائونڈ کا کیس ہےاس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو بڑی مشکلا ت درپیش آسکتی ہے، نیب انہیں گرفتار کر سکتی ہے اگر نیب نے انہیں گرفتار کیا تو یہ ناقابل ضمانت کیس ہےجبکہ تیسرا کیس نومئی کا ہے۔

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل انصار عباسی نے دعویٰ کیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سائفر کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق بتایا تھا ایف آئی اے کی جانب سے چند روز قبل سابق وزیراعظم کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کی شق نمبر پانچ کا استعمال کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیقڈی سی لاہور نے اوقات کار تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

    جبکہ میڈیا کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے عمران خان کے خلاف مقدمہ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد درج کیا کہ عمران خان دانستہ خفیہ دستاویز کے غلط استعمال میں ملوث تھے۔ جمعرات کو سرکاری ذرائع نے اس نمائندے کے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ عمران خان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

  • وکیل قتل کیس؛ سماعت کرنے والا  بینچ تبدیل

    وکیل قتل کیس؛ سماعت کرنے والا بینچ تبدیل

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف وکیل قتل کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ تبدیل کردیا گیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سربراہ، اس کے علاوہ جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل بھی 3 رکنی بینچ میں شامل۔

    تاہم یاد رہے کہ گزشتہ سماعت جسٹس یحیحی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی تھی اور عدالت نے دستیاب بینچ کے سامنے 24 اگست کو سماعت مقرر کرنے کا حکم دیا تھا اور سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار اور شامل تفتیش کرنے سے روک رکھا ہے۔

    جبکہ واضح رہے کہ چند ماہ قبل کوئٹہ میں ائیر پورٹ روڈ پر عالمو چوک کے قریب فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر جاں بحق ہوگئے تھے، وہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سنگین غداری کیس کے درخواست گزار تھے جس کے بعد 7 جون 2023 کو سنگین غداری کیس کے پٹیشنر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ میں پی ٹی آئی چئیرمین کیخلاف درج کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    یاد رہے کہ مقدمہ مقتول وکیل کے بیٹے کی مدعیت میں شہید جمیل کاکڑ تھانہ میں درج کیا گیا، پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف جمیل شہید پولیس تھانے میں زیر تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109، 34 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 6 اور 7 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 15 جون کو وکیل ایڈووکیٹ عبدالرزاق شر قتل کیس میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت (ون) نے چیئرمین تحریک انصاف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے وکلاء نے وان ارنٹ گرفتاری بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا،
    21 جون کو لاہور ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

  • چیف جسٹس عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا. نواز شریف

    چیف جسٹس عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا. نواز شریف

    چیف جسٹس چیئرمین عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا ہے اور اس کے لئے وہ اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگارہے ہیں جبکہ لندن میں میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف نے کہا سب جانتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کرپٹ ہیں اور انہوں نے پاکستان کو تباہ کیا ہے جس میں دستور کی بار بار خلاف ورزی کی گئی اور کون نہیں جانتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو لانے والے جنرل باجوہ اورجنرل فیض ہی تھے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ اس شخص یعنی عمران خان نےپاکستانی قوم کے اخلاقیات کو تباہ کیا ان کو غنڈہ گردی سکھائی، اوراپوزیشن میں سوائے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے سوا کچھ نہیں کیا،اس کے باوجود ہم نے قوم کی خدمت کی جبکہ اقتدار میں آکر اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    پشاور،نگران وزیر اعلی کےپی کے کا صحت کارڈ سہولت بند کرنے کا نوٹس
    ائی جی پی خیبر پختونخوا کا نوشہرہ اور مردان میں پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح
    نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص دھرنوں کے وقت کہتا تھاکہ نواز شریف کو پرائم منسٹر ہاؤس سے گھسیٹ کر نکالوں گا،اور نواز شریف کے جیل میں کمرے سے پنکھا اور اے سی اتروادوں گا ،اورثاقب نثار رکارڈ پر ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالنا ہے اور عمران کو لانا ہے۔

  • ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ عطا تارڑ میرے لیے بہت محترم ہیں وہ صحیح بول رہے ہیں ہونگے جوکچھ ان کے کیساتھ ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہیں نہیں کہا بلکہ ایک ڈیوٹی جج گئے انہوں نے کہا کہ واش روم جو اڑھائی تین فٹ کا ہے اس کے بالکل اوپر 6 فٹ پر کیمرہ لگا ہوا ہے، اگر وہ واش روم استعمال بھی کریں تو ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ جج صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا کہ میں جوں ہی گیا تو چیئرمین پی ٹی آئی میرے پائوں پڑ گئےاور کہنا شروع کر دیا کہ مجھے مٹن اور انواع واقسام کے کھانے دو ، میری سپیشل ٹائلیں لگائو، مجھے ڈرائنگ یا فرسٹ کلاس لائونج میں لے جائو، یا میں بہت بڑا کارنامہ کر کے آیا ہوں مجھے اس کا صلہ دو، یا مجھے 3 ہسپتالوں میں لے جائواورمیری تیرہ میڈیکل رپورٹس بنائو۔

    انہوں نے مزید کہا مجھے نواز شریف کی طرح جاتی امرا 8 ہفتوں کیلئے بھیجو، نواز شریف کی طرح لندن بھیجو، انہوں نے شہباز شریف کی طرح جج کے سامنے نہیں کہا کہ میری دو شکائتیں ہیں، یا پھر سعد رفیق طرح نہیں کہا کہ انڈہ کچا تھا، سلائس ٹھنڈا تھا، اور نہ ہی انہوں نے آصف علی زرداری کی طرح مساجر چیئر مانگی ہے جبکہ ہم نے پھر بھی سیکھنا نہیں ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جو کیا وہ بھگتیں،اگر انہیں سزا ہوئی ہے تو عدالتیں سزا کو ختم کریں گی۔

    ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ نے جو کہا کہ ان کیساتھ غلط ہوا، میں ان کیساتھ ہوں بالکل نہیں ہونا چاہیےتھا لیکن مجھے بتائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا کہا تھا؟ میں اے سی اور ٹی وی اتروا دوں گا اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں اے سی اور ٹی وی لگے ہوئے تھے، گھر سے طرح طرح کے کھانے آرہے تھے۔ جبکہ سینئر تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس ملک میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جن کے بدتر حالات ہیں، انہیں سردرد کی گولی تک نہیں ملتی، میں نہیں کہتا چیئرمین پی ٹی آئی کو سہولیات دیں لیکن اتنا تو کریں کہ جب وہ کسی واش روم میں جائیں تو سامنے کیمرا لگا ہوا نہ ہو۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    نجی ٹی وی کے مطابق سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ میں عطا تارڑ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کے کی طرف سے کہ ان کے فائدہ کیلئے آپ نے نیب قوانین میں ترمیم کی، شکریہ آپ نے اپنے گھر کے سارے پیسے لگا کر موٹرویز بنائیں، شکریہ اس کیلئے بھی کہ آپ نہ ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو ،غلام اسحاق خان، ڈاکٹر عبد القدیر، ثمر مند مبارک اور باقی ہزاروں خاموش مجاہدین ہیں ان کا تو کوئی کام ہی نہیں تھا اصل کام تو آپ نے کیا ہے، آپ نے دھماکے کیے آج ہم ناقابل تسخیر ہو گئے ہیں۔ جبکہ ارشا بھٹی نے مزید کہا کہ اس کیلئے بھی شکریہ ہے کہ آپ نے نیب ختم کیا جلد ہی آپ بزنس کی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، آپ نے بہت اچھا سسٹم سیٹ کیا،زرداری ،مولانا صاحب اور آپ سارے ملے، اور اس ملک کو آپ نے بدترین حکومت دے کر ریکارڈ مہنگائی اور ریکارڈ بیروزگاری،ریکارڈ غربت دے کرآج آپ لندن میں بیٹھے ہیں اور یقینا ہمارے لیے سوچ رہے ہوں گے، شکریہ اس کیلئے بھی آپ نے نااہلی ختم کروائی اور آئین کو دھوکہ دیا،سپریم کورٹ کے فیصلوں کو دھوکہ دیا،پارلیمنٹ اور عوام کو دھوکہ دیا۔

  • ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے اور اسمبلیوں میں سیٹیں دی جائیں جبکہ آئین یہ بھی کہتا ہے نئی مردم شماری پر انتخابات ہوں گے، پچھلی مردم شماری میں گجرانوالہ میں ایک قومی اسمبلی کی سیٹ کم ہوئی تھی اور انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کی حتمی اور آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی معاونت کیلئے ہوتی ہیں۔

    تاہم آئند عام انتخابات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اگلے سال کے شروع میں الیکشن ہو جائیں گے، ہم کہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی پاسداری ہونی چاہیے جبکہ انکا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سیکیورٹی اور مالی حالات کا سامنا تھا، پنجاب اسمبلی کے الیکشن پر چھوٹے صوبوں نے اعتراض کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر
    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا ریکارڈ پہلے سے ہی خراب ہے ، صدر مملکت نے بہت سارے معاملات پر آئین پر عمل نہیں کیا ، صدر مملکت نے نیشنل فنانس کمیشن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کے ممبران کو خود لگانے کی کوشش کی جبکہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو آئین تیسرا کوئی آپشن نہیں دیتا، پارلیمنٹ دوبارہ بل کو منظور کر ے تو صدر مملکت نہیں روک سکتے، صدر اپنے ٹوئٹ میں اعتراف جرم کر رہے ہیں ، صدر مملکت پارلیمان کے پاس کئے گئے بل غیر موثر نہیں کر سکتے۔

  • صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ صدر مملکت ایکس پوسٹ نہ کرتے تو بہتر ہوتا کیونکہ انہیں معاملہ قانونی طریقے سے اٹھانا چاہئے تھا جبکہ صدر مملکت کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے اور دیکھنا ہوگا کہ صدر مملکت ردعمل نہ دیں تو کیا ہوگا، بل پر صدر کے ردعمل نہ دینے پر آئین بھی خاموش ہے اور صدر مملکت اپنے عملے کو تبدیل کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عارف علوی نئے صدر کے آنے تک عہدے پر رہ سکتے ہیں، صدر مملکت کی مدت میں توسیع کی نظیر نہیں ملتی جبکہ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بحث نہیں ہوئی، بہت سے بلز عجلت میں پاس کرائے گئے، بلز کی منظوری کیلئے کوئی دباؤ یا مخالفت نظر نہیں آئی۔ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عجلت میں قانون سازی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات 90 دن میں نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے کہ ساڑھے 4 ماہ درکار ہیں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حلقوں میں وسیع تبدیلیاں آئیں گی، اصل مسئلہ حلقہ بندیوں کا ہے، دسمبر میں الیکشن ہوئے تو 35 نشستیں سردی سے متاثر ہوں گی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پرانی مردم شماری پر الیکشن کرنا بھی درست نہیں تھا، 5 سال بعد نئی مردم شماری کرانے کا وقت آجائے گا، مردم شماری کی تاخیر سے منظوری میں بدنیتی نہیں ہے، پی ٹی آئی دورمیں نئی مردم شماری پر الیکشن کا فیصلہ ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن کے قریب واپس آنا چاہئے، ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ اپنا جگہ قائم ہے، شہباز شریف بتائیں گے کہ الیکشن مہم میں بیانیہ کیا ہوگا، مہنگائی کا بوجھ ن لیگ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر کیمروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرک میں کیمرے لگانا زیب نہیں دیتا، بیرک میں سیکیورٹی دینی ہوتی ہے، جیل مینول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں، سہولیات کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔