Baaghi TV

Tag: PMLN

  • احسن اقبال نے جڑانوالہ واقعہ کو  سازش قرار دے دیا

    احسن اقبال نے جڑانوالہ واقعہ کو سازش قرار دے دیا

    سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے جبکہ ہمارے نبیﷺ امت کو امن کی تعلیم دی ہے لہذا جڑانوالہ کا دلخراش واقعہ یقیناً ایک سازش ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے نارووال کے سینٹ پال کاتھولک چرچ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کریشن کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے ۔ ہمارے نبیؐ نے امت کو امن کی تعلیم دی اور خاص طور پر ہر اسلامی ممالک میں جو غیر مسلم ہیں انکے حقوق کی بھی اسی طرح پاسداری کرنے کی تلقین کی ۔ جیسا کہ ریاست مسلمانوں کے جان ومال کی ذمہ درار ہے ۔

    علاوہ ازیں احسن اقبال نے کہا کہ یہ دلخراش واقعہ یقینا سازش کا حصہ ہے ۔جس نے ہمارے لوگوں میں ایسے مذہبی جذبات بڑکاے جس کے نتیجہ میں اسطرح کا واقعہ پیش آیا جبکہ احسن اقبال نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایسی سازشوں سے باخبر رہنا چاہے ۔ اب پاکستان کے اندر قانون موجود ہے اور وہ قانون صرف مسلمانوں کے عقیدوں کے تحفظ کا دفاع نہیں کرتا بلکہ دیگر عقیدوں کے تحفظ کا بھی دفاع کرتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    واضح رہے کہ لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تم دوسروں کے مقدس عقیدے کو برا نہ کہو چونکہ اگر ایسا کرو گے اور وہ تمہارے مقدس عقیدے کی توہین کرے گا ۔اسلام ہمیں بقائے باہمی اور امن کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ بھائی چارہ مذہبی ہم آہنگی اور مسلکی ہم آہنگی ہر سطح پر ایسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک جس کے اندر مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف زبانوں کے بولنے والے بستے ہیں ہرلحاظ سے محفوظ رہ سکیں ۔

  • زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا. عطاء تارڑ

    زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا. عطاء تارڑ

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ بل کے اوپر صدر نے دستخط اور لکھ کر اعتراض لگانا ہوتا ہے اور صدر مملکت نے جو بل دستخط کر کے واپس بھیجے وہ سب کے سامنے ہیں، بل کو واپس کیا گیا اور نہ پاس کیا گیا تو 10دن میں خود بخود پاس ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا جبکہ بل صدر کے دستخط سے واپس ہوتا ہے ، سیکریٹری کے دستخط سے نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صدرمملکت نے دونوں طرف سے کھیلا ہے، صدر نے اپنی پارٹی کو بھی خوش کیا باقی کو بھی خوش کیا۔ ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت منافقت کرتے ہوئے بے نقاب ہوئے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تاہم واضح رہے کہ اس سے قبل مزمل سہروردی نے کہا تھا کہ صدر مملکت نومئی کے واقعہ کے بعد تو بالکل ہی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے تھے، انہوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سمیت بہت سارے بل ایسے ہیں جن پر پی ٹی آئی کی حمایت شامل نہیں تھی لیکن وہ سائن کیے ہیں.

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ صدر مملکت جھوٹ بولے ہیں، جو بل ان کے پاس آیا ہے انہوں نے اس پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں لکھا اور قانون یہی ہے کہ اگر وہ اختلافی نوٹ نہیں لکھتے یا وہ کوئی ہدایات نہیں کرتےکیونکہ وجہ تو صدر نے بتانی ہے کہ میں ان پوائنٹس پر ایگری نہیں کرتا، اس کو بعد میں لا ڈیژون نے نوٹیفائی کرنا ہے۔

  • صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    سابق وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ ہاؤس پہنچے ہیں، جبکہ اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو بیان دیا ہے اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیئے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جس بل کو چیک کرتے ہیں اس پر دستخط بھی کرتے ہیں، اس میں زبانی کلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو زبانی کلامی بات نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت صاحب نے اتنے دن انتظار کیوں کیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلوں پر دستخط نہ کرنے والا معاملہ اتنا آسان نہیں، اس پر صدر عارف علوی کو جواب دینا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آرمی اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی۔ اور پھر آج صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے.  خرم دستگیر

    صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے. خرم دستگیر

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بل سے متعلق آئین بہت واضح ہے اور صدر بل کو کسی بھی وجوہات کے ساتھ واپس کریں گے، صدرمملکت کے پاس کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر نے رضا مندی دینی یا وجوہات کے ساتھ واپس کرنا ہے، صدر مملکت نے تیسرا آپشن ڈھوندنے کی کوشش کی ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت سی چیزوں کی بے توقیری ہوچکی ہے، عوام کے نمائندوں کا پاس کیا ہوا بل کوئی کاغذ کا ٹکرا نہیں ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ صدر نے پارلیمنٹ کو توقیر کرنا ہوتی ہے، اس معاملے پر آئینی اور قانونی ماہرین رائے دے سکتے ہیں، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ صدر بل بغیر ریمارکس کے واپس نہیں کرسکتے، صدر اگر بل سے متفق نہ تھے تو یہ ریمارکس ڈالنے چاہیے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ بل پر کوئی دستخط ضرور موجود تھا جس کی بنیاد پر قانون بنایا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سے دستخط تھے، بغیر دستخط کے قانون کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعجب کی بات ہے صدر کہتے ہیں میں نے دستخط نہیں کیا، لیکن یہ بل دستخط کے ساتھ پہنچ گیا اس میں اسٹاف کا کیا قصور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ صدر کہتے ہیں میرے دستخط نہیں تو اس کا ثبوت ہونا چاہیے، صدر کے دستخط کی تصدیق ہونی چاہیے، یہ ایکسپرٹ ہی کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ثابت ہو جاتا کہ دستخط جعلی ہے تو آگے قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، جب تک دستخط کے حوالے سے کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تو یہ قانون رہے گا۔

    قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے آرٹیکل 75 کے تقاضے پورے نہیں کیے، سب سے اہم بات یہ ہے صدر بغیر ریمارکس کے بل واپس نہیں بھیج سکتے۔ جبکہ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر نے پارٹی کے فائدے کے لیے یہ قدم اٹھایا، کسی نے صدر کو یہ غلط ایڈوائس دی، صدر نے اس ٹوئٹ سے اپنی پوزیشن کو متنازع بنایا ہے۔

  • سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے  ملاقات متوقع

    سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے ملاقات متوقع

    مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے اور وہاں قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے مشاورت کے لئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے جبکہ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی لندن طلب کیا ہے جو آئندہ دنوں میں پہنچیں گے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں قائدین کی ملاقات میں نواز شریف کی وطن واپسی سمیت دیگر ملکی سیاسی امور پرتبادلہ خیال کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں اتحادی جماعتوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف پرائیوٹ ائیر لائن کے ذریعےلندن چلے تھے شہباز شریف کی نواز شریف سے آج رات لندن میں ملاقات متوقع ہے۔ جبکہ اس سے قبل نجی ٹی وی نے فیملی ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اہل خانہ میں سلیمان شہباز بھی شامل ہیں، سابق وزیراعظم شہباز شریف براستہ قطر لندن روانہ ہوئے ہیں۔

    فیملی ذرائع نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو تصدیق کرائی ہے کہ سابق وزیراعظم ستمبرکے وسط تک برطانیہ میں قیام کرینگے۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شہبازشریف اپنے اوراہلیہ کےعلاج کیلئے لندن جارہے ہیں، شہباز شریف لندن میں اپنا پہلے سے شیڈول چیک اپ کرائیں گے، شہباز شریف لندن قیام کے دوران پارٹی کی معمول کی سیاسی سرگرمیاں بھی دیکھیں گے۔

    پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سینئر نائب صدر ن لیگ مریم نواز پارٹی کی سیاسی مہم جاری رکھیں گی، نوازشریف کی وطن واپسی کا فیصلہ شہباز شریف اور سینئرقیادت ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریگی۔ جبکہ نواز شریف کی وطن واپسی تک مریم نواز پارٹی کی انتخابی مہم چلائیں گی، ستمبر کے پہلے ہفتے میں ن لیگ کی سینئر رہنما بھی نواز شریف سے ملنے لندن روانہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، عطاتارڑ اور ایاز صادق کی لندن روانگی متوقع ہے۔

  • پی ٹی آئی  نے غیرملکی سفیروں سے عمران خان کیلئے مدد مانگی. عبدالقادر

    پی ٹی آئی نے غیرملکی سفیروں سے عمران خان کیلئے مدد مانگی. عبدالقادر

    سابق گورنر بلوچستان عبدالقادربلوچ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نےغیر ملکی سفیروں سے ملاقات کرکے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے لیے مدد مانگی ہے جبکہ عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز ہیں اور ممکن ہے خصوصی عدالت میں ان کا بھی ٹرائل ہو جبکہ عسکری نتصیبات پر حملے کا کیس خصوصی عدالت میں چلے گا اور حسان نیازی جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھےاور وہ ا س میں ملزم ہیں۔

    9 مئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق گورنر بلوچستان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز ہیں، ممکن ہے خصوصی عدالت میں ان کا بھی ٹرائل ہو، سابق وزیراعظم کے ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔ جبکہ 9 مئی کے کسی کیس کا ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا، 9 مئی کے کیسز کی ابھی تحقیقات ہورہی ہیں، عوام کے خلاف غیر ضروری طور پر طاقت استعمال نہیں ہوتی، کم سے کم پاور استعمال کرکے صورتحال کنٹرول کرسکتے ہیں، پی ٹی آئی کے فوج کے خلاف سازش کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق عبدالقادر بلوچ نے انتخاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کا بنیادی کام شفاف الیکشن کرانا ہے، نگراں حکومت کا کام الیکشن کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے غیرملکی سفیروں سے ملاقات کی، غیر ملکی سفیروں سے چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے مدد مانگی، کیا یہ عدالتی نظام میں غیرملکیوں کی مداخلت چاہتے ہیں۔

    جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ سائفر جیسی معلومات دفتر سے باہر شیئر نہیں کی جاسکتیں، پی ٹی آئی دور میں فیصلہ ہوا انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے، آبادی اگر دگنی ہوگئی ہو تو کیا پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن کرائیں۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ میرا حلقہ خیبرپختونخوا کے رقبے سے بڑا ہے، میرے حلقے کا رقبہ 98 ہزار مربہ کلو میٹر ہے، ژوب، خاران، واشک، نوشکی اور چاغی کو ملاکر ایک حلقہ بنایا گیا، خیبرپختونخوا کا رقبہ 72 ہزار مربہ کلو میٹر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    سابق گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو عدالت سے سزا ہوچکی ہے، نوازشریف کا کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہے، وہ جیل چلے جائیں تو سیاسی طور پر زیادہ مضبوط ہوں گے، نوازشریف ڈرنے والے آدمی نہیں۔

  • نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان  نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں علی مردان ڈومکی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگراں وزیراعلیٰ علی مردان ڈمکی سے حلف لیا۔

    تقریب حلف برداری میں نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، سابق صوبائی وزیر اور اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی جبکہ اس کے علاوہ آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت اعلیٰ سرکاری افسران بھی تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    خیال رہے کہ علی مردان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کے علاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں جبکہ علی مردان خان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور علی مردان ڈومکی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں علی مردان ڈومکی تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ علی مردان ڈومکی کے بھائی دوستن ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • عمران خان نے نوجوانوں کے دماغ میں نفرت بھری. مریم نواز شریف

    عمران خان نے نوجوانوں کے دماغ میں نفرت بھری. مریم نواز شریف

    عمران خان نے نوجوانوں کے دماغ میں نفرت بھری. مریم نواز شریف

    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزرمریم نواز شریف نے کہاہے کہ عمران خان نے نوجوانوں کے ذہنوں میں صرف نفرت اورانتشار پیدا کیا ہے جبکہ ملک میں ڈنڈے اور گالی کی سیاست کو بھی فروغ دیا ہے اور جتنا بھی اس وقت سوشل میڈیا پر گند نظر آتا ہے وہ صرف اور صرف تحریک انصاف کی دین ہے کیونکہ انہوں نے ہی نوجوان نسل کے ذہنوں کو خراب کیا ہے.

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف کی پنجاب کے صوبائی حلقوں کے یوتھ کوآرڈینیٹرز سے ملاقات کی ہوئی ہے جس میں مریم نواز نے پنجاب کے صوبائی حلقوں کے یوتھ کواڈینیٹرزکو نوٹیفکیشن بھی تقسیم کیے۔ جبکہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی اصل طاقت نوجوان ہیں اور پارٹی کا مستقبل نوجوان ہیں جبکہ زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ان کا حق ہے اور اب کا دور صرف اور صرف نوجوانوں کا ہے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی ہرسطح پر نوجوان اور اس کے نمائندوں کو آگے بڑھنے کا موقع دے گی اور آپ نے پارٹی کا پیغام گھرگھر پہنچانا ہے جبکہ مسلم لیگ ن نےکھیلوں کے میدانوں میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے ہیں مسلم لیگ ن کے شیروں نے ہرواقع پرفرنٹ لائن واریئرزکا اپنا رول ادا کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    مسلم لیگ کی رہنماء یہ بھی کہا کہ نواز شریف نے جب بھی نوجوانوں کوکال دی انہوں نے لبیک کہا اور نوجوان تیاری کرلیں کیونکہ اب میاں نوازشریف بہت جلد آپ کے درمیان ہوں گے۔ اور آپ کی تمام امنگوں پر پورا اتریں گے جیسے کہ وہ پہلے بھی آپ ہی کی ترجمانی کرچکے ہیں.

  • آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حلقہ بندیوں کی وجہ سے انتخابات کو آئینی حد سے زیادہ ملتوی کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ جاری اعلامیہ میں انہوں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حلقہ بندیوں کا شیڈول انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے اور اس بات کا بھی اظہار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 224 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نوے (90) دن کے اندر عام انتخابات کرانے کا پابند بناتا ہے۔


    واضح رہے کہ وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مذکورہ فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے مطابق مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    جبکہ جاری اعلامیہ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور قانونی برادری نے ہمیشہ ملک کے جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے جبکہ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی بہتر مستقبل حاصل کیا جاسکتا ہے اور اسی میں ہی ملک کی موجودہ بدترین معاشی صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔