Baaghi TV

Tag: PMLN

  • پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف  جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ مقدمے کے متن کے مطابق برطانیہ میں شایان علی نے جوڈیشل آفیسرکو ہراساں کیا تھا اور شایان علی پر جوڈیشل آفیسر کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکن کے خلاف مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے جوڈیشل آفیسر سے متعلق ویڈیو بنا کر وائرل کی تھی۔


    تاہم واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنانے والے اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور ”ہیومن رائٹس اینڈ رول آف لا“ پر جوڈیشل ٹریننگ کیلئے انگلینڈ کے شہر لندن گئے تھے۔ جج ہمایوں دلاور 13 اگست تک لندن کی یونیورسٹی آف ہل میں ہونے والی ٹریننگ میں شریک ہوئے تھے۔ جبکہ جج ہمایوں دلاور کی انگلینڈ روانگی کی خبر سامنے آئی تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے لندن میں ان کے استقبال کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم ان حامیوں میں پیش پیش شایان علی اور ان کی فیملی بھی تھی جو جج ہمایوں دلاور کے استقبال کیلئے لندن کے ائرپورٹ پہنچے، لیکن وہاں پانچ گھنٹے انتظار کے باوجود ان کا سامنا جج ہمایوں دلاور سے نہ ہوسکا اور وہاں سے انہیں مایوس ہونا پڑا جبکہ اس کے بعد انہوں نے لندن کی ہل یونیورسٹی کا رُخ کیا، جہاں جج ہمایوں دلاور کو جوڈیشل ٹریننگ کیلئے جانا تھا، لیکن وہاں بھی وہ جج ہمایوں دلاور سے نہ مل سکے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرا مقابلہ ہل یونیورسٹی میں دلاور سے ہوا اور میری ٹیم پر حملہ کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شایان علی یونیورسٹی کے دروازے کی جانب بڑھتے ہیں تو ایک شخص ان کے پاس آتا ہے اور ویڈیو بنانے والے کا فون چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ اور پھر مذکورہ بالا ویڈیو میں یہ واضح نہیں کہ جج ہمایوں دلاور وہاں موجود تھے، یا نہیں۔ لیکن اس کے بعد شایان علی نے بتایا کہ انہوں نے حملہ کرنے والے شخص کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرادی ہے۔ علاوہ ازیں شایان علی نے اپنے دعوے میں لکھا کہ پولیس نے دلاور اور یونیورسٹی آف ہل کے پروفیسر کے خلاف رپورٹ درج کر لی ہے جنہوں نے دلاور کی ریکارڈنگ کرنے پر میری ٹیم پر حملہ کیا ہے.

  • سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا نگران وفاقی کابینہ کے ممبران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ہے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نگران وفاقی کابینہ ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنا آئینی کردار احسن طریقہ سے ادا کرے گی.

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ملکی بقاء و سلامتی کیلئے جمہوری نظام کا تسلسل اور جمہوری اقدار کا فروغ ضروری ہے جبکہ ملکی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے، جبکہ اس کے علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بھی نگران کابینہ کے اراکین کو کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نگران کابینہ ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے اپنی تمام ترتوانائیاں بروئے کار لائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں شامل وزرا قابل، باصلاحیت، تجربہ کار اور ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ان کی کاوشوں سے ملک کے مسائل کےحل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جبکہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے پر بھی مبارکباد دی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    اعلامیہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے جسٹس (ر) مقبول باقر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس (ر) مقبول باقر ایک قابل، محنتی اور دیانتدار انسان ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ بطور نگران وزیراعلیٰ سندھ اپنی تمام ترکاوشوں سے صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا عمل جب شروع ہوا تو روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا کہ کوئی ایسا شخص وزیراعظم نہ بن جائے کہ جس سے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ جائے اور الزامات لگیں کہ ان کا کسی پارٹی سے تعلق ہے۔ احتیاط کی گئی کہ پی ڈی ایم سے جڑی کسی پارٹی پر یہ الزام نہ لگے۔ جبکہ نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم جو ہیں، میرا نہیں خیال کہ انہوں نے وابستگی کا ایسا کوئی بوجھ اٹھایا ہوا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ان کا تعلق ضرور ہے لیکن اس پارٹی کا اتنا زور نہیں کہ وہ پورے پاکستان یا انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔

    انہوں نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا 48 گھنٹے پہلے سے ہی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا اور اس سلسلے میں مشاورت بھی ہوگئی تھی۔ ان کی تعیناتی بلوچستان کے عوام پر اچھا اثر ڈالے گی۔ چاہے وہ نگراں ہی صحیح لیکن تاثر جائے گا کہ صوبے پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آپ بھی قومی دھارے کا حصہ ہیں ایک اہم حصہ ہیں اور برابر کے حصہ دار ہیں‘۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں ڈاکٹر مالک سمیت متعدد ناموں پر بحث ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیبرپختونخوا اور سندھ سے ایک ایک نام اور جنوبی پنجاب سے دو نام فائنل کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی پسند ہیں۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں کے تجویز کردہ بہت سے ناموں پر شدید تحفظات تھے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا آنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا، ان کی آمد سے عوامی نظریہ ہمارے لیے بہتر ہوگا، میرے حساب سے الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد میاں صاحب کو آنا چاہیے۔ نو مئی سے متعلق مقدمات میں جیلوں میں قید خواتین سے سلوک کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے جو خواتین قید ہیں انہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا اور سیاست میں جب ہم آجاتے ہیں تو پھر جینڈر ایکوالٹی (صنفی برابری) ہونی چاہیے جینڈر پریفرنس (صنفی ترجیح) نہیں ہونی چاہیے۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے

  • میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان خان ڈومکی کو نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ ہو گیا ہے اور میرعلی مردان خان ڈومکی کا نام نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے فائنل کرلیا گیا ہے، تاہم خیال رہے کہ آج سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور بلوچستان کے سیاستدان علی مردان ڈومکی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کی تھی ، اور ان کو نگران وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔

    بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے مشاورت کا آج آخری روز تھا اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کے درمیان گزشتہ روز بھی ملاقات ہوئی تھی۔ جبکہ آج آخری مرحلے میں ڈومکی کا نام طے کرلیا گیا ہے اور اب بتایا جارہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ ڈومکی ہی ہوں گے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تایم واضح رہے کہ میر علی مردان خان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کےعلاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں۔ جبکہ علی مردان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد حضور بخش ڈومکی 1975 سے 1977 تک سینیٹر رہے علاوہ ازیںڈومکی نے علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا اور وہ تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ علی مردان کے بھائی دوستین ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام کی منظوری قائد مسلم لیگ ن، میاں محمد نواز شریف نے دی ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر نوازشریف نگران وزیراعظم کی منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف کبھی بھی اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔

    سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے لئے زیر غور دیگر نام زیادہ معتبر اور پسندیدہ تھے مگر کسی وجہ سے ایک غیر اہم نام پہلے درجے پر آگیا۔ تاہم خیال رہے کہ نگران وزیراعظم کے تقررکا فیصلہ سابق وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان ملاقات میں کیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے نگران وزیراعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام پراتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ( نواز ) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف رواں ہفتے لندن روانہ ہوں گے۔ جبکہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نواز شریف کی وطن واپسی کا پلان ترتیب دے دیا گیا ہے جبکہ اسی سلسلے میں شہباز شریف آئندہ تین روز میں لندن روانہ ہوں گے جہاں ان کی نواز شریف سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں نواز شریف کی واپسی اور پارٹی ٹکٹوں کے حوالے سے اہم مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے شریف خاندان کے وکلا سیاسی رفقا نے نواز شریف کے دورہ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای )، سعودی عرب اور یورپ کے فوراً بعد وطن واپس آنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے ستمبر کے وسط میں آنے پراصرار کیا ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے لئے آئندہ تین ہفتوں میں رانا ثناء اللّٰہ، خواجہ آصف، پرویزرشید و دیگر بھی لندن جائیں گے۔

  • 397 شخصیات اعلیٰ سول اعزازات کیلئے نامزد، تقریب 23 مارچ کو ہوگی

    397 شخصیات اعلیٰ سول اعزازات کیلئے نامزد، تقریب 23 مارچ کو ہوگی

    یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت کی جانب سے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے 397 پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سمیت مختلف اعلیٰ سول اعزازات کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ یاد رہے کہ متعلقہ شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے پر اعزاز دینے کی تقریب 23 مارچ 2024 کو ہوگی۔

    سعودی پرنس خالد بن سلمان اور چینی نائب وزیراعظم ہی لی فنگ کو ہلال پاکستان کے ایوارڈز سے نوازا جائے گا جبکہ 26 شخصات کو ہلال امتیاز ، 18 کو ہلال قائداعظم ، 19 شخصیات کو ستارہ شجاعت ، 50 کو ستارہ امتیاز اور 69 شخصیات کو حسن کارکردگی ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    مختلف ایوارڈز کیلئے دیگر نامزد شخصیات میں مرحوم نیوکلئیر سائنسدان حفیظ قریشی ، ادیب افتخار عارف اور ہاکی کھلاڑی صلاح الدین صدیقی بھی شامل ہیں۔ سول اعزازات کیلئے کورونا وباء میں دوران ڈیوٹی جانیں قربان کرنے والے 299 ہیلتھ ورکرز کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ کچھ صحافیوں اور سیاستدانوں کو بھی اعزازات سے نوازا جائے گا.