Baaghi TV

Tag: PMLN

  • عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے. الیکشن کمیشن

    عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے. الیکشن کمیشن

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے عام انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کا کہنا تھا آئین کے تحت الیکشن کمیشن 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے لیکن مردم شماری کے نوٹیفکیشن کے بعد ہم نئی حلقہ بندیاں کرانے کے بھی پابند ہیں۔

    جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں میں 4 ماہ سے زیادہ وقت لگے گا جس کے باعث انتخابات زیادہ سے زیادہ ساڑھے 4 ماہ تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ عمر حمید کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے حوالے سے باقی تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

    یاد رہے کہ ملک میں نئی مردم شماری کی حتمی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرتا ہے۔ جبکہ اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے لیے حلقہ بندی کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں۔ اور قومی اسمبلی کے 266 حلقے ہیں اور صوبائی اسمبلیوں کے 593 حلقے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے لیے شیڈول کا اعلان کرے گا جس کے بعد کوئی نیا انتظامی یونٹ نہیں بنایا جا سکتا۔

    جبکہ گزشتہ حلقہ بندی شیڈول کے اعلان کے بعد تقریباً چار ماہ میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام مکمل کیا تھا۔ حلقہ بندیوں کے لیے ملک کو آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے انتخابی حلقہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حلقے میں آبادی کا فرق 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہوناچاہیے۔ حلقہ بندی کے بعد الیکشن کمیشن ووٹر لسٹوں کا کام مکمل کرکے انہیں منجمد کر دیتا ہے اور اس کے بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ اسمبلی قبل از وقت تحلیل ہونے پر الیکشن 90 روز کے اندر کرانا ہوتے ہیں، اگر مدت پوری ہوجائے تو 60 دن میں اور یوں اب الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کرانے میں کم و بیش 6 سے7 ماہ درکار ہوں گے۔

  • نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن یعنی حزب اختلاف نے فروری میں الیکشن کا کہا ہے، الیکشن ڈیڑھ دو ماہ آگے جاسکتے ہیں لیکن الیکشن فروری سے آگے نہیں جائیں گے اور ہم سب چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے ہوجائیں اور جو بھی ملک کے لیئے بہتر وہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اس ملک پر حکمرانی کرے جبکہ ان کا کہنا تھا نواز شریف اپنے ملک آکر سب کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں.

  • ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا

    ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا

    معروف تجزیہ کار ریحام خان نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ نئے جذبے اور نیت سے پاکستان واپس آئی ہوں اور اس بار میں پاکستانی سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہوں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ زندگی میں ہمیشہ وہ کیا جو کرنا چاہتی تھی کبھی لوگوں کی پرواہ بھی نہیں کی اگر پرواہ کرتی تو سب کچھ چھوڑ کر پاکستان نہ آتی۔

    ریحام خان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں کافی مشکل فیصلے کیے ہیں خاص طور پر اپنے پروفیشن سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں، جیسے کہ میں بی بی سی کو چھوڑ کر پاکستان آئی ہوں، انسان کو اپنا راستہ خود بنانا چاہیے جبکہ سب سے ضروری یہ بات ہے کہ انسان جو بھی کرے اس کا ضمیر مطمئن ہونا چاہیے۔ ریحام خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کل نئے جذبے نئی نیت کے ساتھ پاکستان آئی ہوں اور پاکستان کے ساتھ میرا لگاؤ ہے جو سیکھا ہے وہ واپس دینا بھی چاہتی ہوں جبکہ سیاست میں حصہ ڈالنا چاہتی ہوں، صحافت میں موقع نہیں ملتا ورنہ صحافت میں بھی حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    عمران خان بارے ریحام خان نے کہا کہ اپنا مقصد حاصل کرنے یا اپنے مطالبات منوانے کیلئے پہلے جنگ ہوتی تھی اس کے بعد قتل و غارت کی جانے لگی اور آج کے جدید دور میں ماڈرن وار فیئر یہ ہے کہ خانہ جنگی کرادی جائے علاوہ ازیں انھوں نے مزید کہا کہ نو مئی کو جو ہوا اسے مجھ جیسے لوگ دیکھ رہے تھے، ایک سال سے یعنی 25 مئی سے، 2022 سے پہلے سے کہا جارہا تھا کہ یہ ہوگا ہونے جارہا ہے، ٹوئٹس میں انٹرویوز میں، میں نے باجوہ صاحب کو مخاطب کرکے یہ بات کہی کہ آپ دیکھیں گے کہ ہونے کیا جارہا ہے۔ ”9 مئی کو جو ہوا وہ ایک سوچی سمجھی سازش کےتحت ہوا، اس میں عوام آلہ کار بنے اور یہ اتنی خطرناک سازش ہے کہ اور میں نہیں سمجھتی کے خطرہ پوری طرح سے ٹل گیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ابھی بھی خطرہ موجود ہے“۔

  • آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    آئین کے راستے سے آئے تھے، اسی راستے سے واپس جا رہے. وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم آئین کے راستے سے آئے تھے اور اسی راستے سے واپس جا رہے ہیں، قوم کے اختیارات، وسائل کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی ہے، 16 ماہ کا سفر کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، اور اپنی سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا ہے۔ جبکہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئینی راستے سے اقتدار میں آئے اسی راستے سے واپس جارہے ہیں، آئینی طریقے سے نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق ہوا ہے ملک کی باگ دوڑ نگراں وزیراعظم کے حوالے کررہا ہوں اور نگراں وزیراعظم کا تعلق ملک کے عظیم صوبے سے ہے۔

    شہبازشریف نے مزید کہا کہ ارض پاک اور عوام کی نگہبانی کی، 16 ماہ کا سفر بہت کٹھن تھا، 16 ماہ کانٹوں اور انگاروں کا سفر تھا، الحمد اللہ قوم کی امانت میں کوئی خیانت نہ کی، مختصر مدت میں ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، قومی مفاد پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عظیم دوستوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، سیاست قربان کرکے ریاست کو بچایا، مہنگائی اس رفتار سے کم نہ ہوئی جس کی توقع تھی، قرض لینا کوئی کامیابی نہیں ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا، سابق حکومت ڈیفالٹ کی شکل میں مشکل سرنگ بچھا کرگئی، ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو ایک تباہ کن صورتحال ہوتی۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی آزادی اور ورکرز کو حقوق دیے، 9 مئی کا سیاہ دن قوم کبھی نہیں بھلا سکتی، 5 ہزارمیگا واڑ بجلی نیئشنل گرڈ میں شامل کی، 2 ہزار ارب کا رمضان پیکج دیا، نواجوانوں کو 80 ارب کا وزیراعظم پیکج مہیا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دانش اسکول کا دائرہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک بڑھا رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینش میں اضافہ کیا، صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے اربوں روپے خرچ کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کا ہرافسراورسپاہی ہمارے لیے فخر ہے، آنے والے وقت میں اربوں روپے کے غیرملکی منصوبے شروع ہونے والے ہیں، محنت اور دیانت سے مشکل سے نکل سکتے ہیں۔ تاہم اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ معدنی خزانوں سے ملک کی تقدیربدلیں گے، پاکستان دنیا میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، قرضوں کی دلدل سے نکل کر خود انحصاری کی جانب جانا ہوگا۔

  • تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا ہے اور نگران حکومت کے قیام پر بات چیت کی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی اور میر خالد خان مگسی بھی سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی سینئر سیاسی قیادت سے بھی رابطے کیے ہیں ، بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کے لیئے جمیعت علماء اسلام ف کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی کا نام دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے گودار سے رکن اسمبلی حمل کلمتی کو نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میرعلی حسن زہری، سینیٹر کہدہ بابر اورسابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی اور وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے رشتے دار نصیر بزنجو بھی بھی نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں شامل ہیں۔

  • حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    جمعیت علماء اسلام ( فضل گروپ ) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل کا نتیجہ ہے۔ جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جے یو آئی ایف حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت جادو ٹونے کے اثر میں تھی اور یہ ڈائری سے ثابت ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت کی خاتون اول چلاتی تھیں.

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں درج ہے ویسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو اس کی حقیقت کا ثبوت ہیں اور 9 مئی کو سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا تھا پی ٹی آئی حکومت میں مخالفین پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ان کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ٹرسٹ کی زمین اور 190 ملین پاؤنڈ کی حقیقت سامنے آنی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں اب معلوم ہونا چاہئے علاوہ ازیں نگران وزیراعظم بارے کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعظم وہی اچھا ہے جوایک بیگ میں آئے اور وہی لے کر جائے یعنی یہاں پر ان کا اشارہ بدعنوانی کی طرف تھا کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ کرے.

  • نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ آج رات یا کل تک ہو جائے گا جبکہ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ صدرمملکت کو کس بات کی جلدی ہے جو خط لکھ دیا ہے، خط لکھنے سے قبل صدر مملکت کو آئین پڑھ لینا چاہیے تھا، میرے پورے 8 دن ابھی باقی ہیں، لہذا صدر مملکت عارف علوی کو چاہئے آئین پڑھیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں فیصلہ نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی تین دن میں فیصلہ کرے گی اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے گا۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج رات اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، تمام اتحادیوں کو مشاورت کیلئے آج بلایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت مشکل ترین حکومت تھی، سابق حکومت نے معیشت کے ساتھ خارجہ تعلقات کوبھی نقصان پہنچایا، امریکہ کے ساتھ گزشتہ دورمیں تقریبا تعلقات ختم ہو چکے تھے، اب تعلقات بہتری کی طرف آئے ہیں اور انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو پھر ترقی کی راہ پرگامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کےساتھ محاذ آرائی کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کےدورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانےکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔

    جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلےمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوںگے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

  • صدر مملکت  خط؛  12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام دینے کا کہہ دیا جبکہ صدر مملکت کا وزیراعظم میاں محمد شہبار شریف اور تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ریاض احمد کو خط میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں.


    جاری اعلامیہ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے۔

    صدرمملکت کا خط میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں، اور آئین کے تحت وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی ، 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے اور وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف 12 اگست تک موزوں نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کریں.

  • غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ

    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنماء عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کے سوا سال میں کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا گیا، نہ کسی پر منشیات ڈالی نہ کسی کو بلاوجہ جیل میں ڈالا۔ جبکہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بارے کہا آپ کو چوری کے اوپر تین سال قید ہوئی اور واویلا کیا جا رہا ہے، بڑے بڑے وکلاء کو فیس آفر کی جا رہی ہے کہ آکر اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کروائیں۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ پیرنی صاحبہ نے کوئی منتر پڑھا اور سامنے مائیکس گرگئے جبکہ توشہ خانہ کیس میں ایک نہیں دو جج تبدیل کیے گئے، ٹرائل کئی مہینے تک چلا اور اس میں تاخیر ہوئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی رقوم کو ذاتی استعمال میں لایا گیا، اور جب آپ غیر قانونی کام کریں تو اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔

    لیگی رہنما عطاء یہ بھی کہنا تھا کہ تحفوں سے آنے والی رقوم کو ڈکلیئر کیوں نہیں کیا گیا، کچھ بد نصیب ہیں جو گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے کے عادی ہیں،جبکہ نو مئی کے روز اپنے ہی ملک میں اپنی ہی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل

    خیال رہے کہ عطاءاللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ایک جج کیخلاف بین الاقوامی مہم چلائی گئی جبکہ چوری کی ہے تو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، سابق وزیراعظم منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتے تھے اے سی اتار دوں گا۔ جبکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، سائفر کے معاملے پر من گھڑت کہانیاں گھڑی گئیں جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

  • نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

    نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

    رہنماء مسلم لیگ ن خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے لیے باقاعدہ کوئی نام سامنے نہیں آیا ہے تاہم اسحاق ڈار بھی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ جلیل عباس جیلانی کے نام پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے، نگراں وزیراعظم کا سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں اور امید ہے پہلے مرحلے میں معاملات طے پاجائیں گے جبکہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے باقاعدہ کوئی نام سامنے نہیں آیا،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر 3،3 نام پیش کریں گے، امید ہے پہلے مرحلے میں معاملات طے پاجائیں گے۔

    خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے نگراں سیٹ اپ ایسا ہونا چاہیئے جو معاشی استحکام آگے لے کر چلے، غیرملکی سرمایہ کاری متاثر نہیں ہونی چاہیئے، اور ترقی کے سفر میں تعطل نہیں آنا چاہیئے۔ نواز لیگ کے رہنما نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار سینیٹر ہیں، انہوں نے قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا اس لیے ان پر نگراں وزیراعظم بننے کے لیے کوئی قدغن نہیں، الیکشن میں حصہ لینے والا نگراں سیٹ اپ میں نہیں ہوسکتا، اسحاق ڈار بھی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں، ضروری ہے کہ اتحادی جماعتیں بھی ایک نام پر متفق ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ کیا ایساشخص لاسکتے ہیں جو کبھی کسی پارٹی سے منسلک نہ رہا ہو، نگراں وزیراعظم کا سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں، نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت آج شروع ہوجائے گی، جلیل عباس جیلانی کے نام پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عہدے کے لیے نام آنا بھی اعزاز کی بات ہوتی ہے، ن لیگ کی خواہش ہے کہ شاہد خاقان عباسی پارلیمنٹ میں آئیں، خواہش ہے شاہد خاقان پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوں۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اداروں کی نجکاری قانونی عمل ہے، سرمایہ کاری پر نگراں حکومت کام کرسکتی ہے، پی آئی اے اور اسٹیل مل کی نجکاری منتخب حکومت کرےگی، 1990میں لگے بجلی گھروں کے معاہدے جلد ختم ہونے والے ہیں، کوشش ہوگی بجلی کے ایسے منصوبے لگائیں جو مقامی توانائی سے بجلی بنائیں۔